ماحول کے ہیرو وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنی سانسوں کی قیمت پر بھی آنے والی نسلوں کی ہوا صاف رکھنے کی جنگ لڑتے ہیں۔ جنوبی افریقہ کی ماحولیاتی کارکن پرامس مابیلو ایسی ہی ایک ہیرو ہیں، جنہیں کوئلے کی آلودگی کے خلاف برسوں کی جدوجہد پر اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے 2026 کے برائٹ ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔ یہ ایوارڈ اسٹینفورڈ کا سب سے بڑا ماحولیاتی اعزاز ہے، اور 28 ستمبر 2026 کو اسٹینفورڈ لا اسکول کی تقریب میں ان کے نام کا اعلان ہوا۔
اہم نکات
- پرامس مابیلو کو 2026 کا برائٹ ایوارڈ برائے ماحولیاتی پائیداری دیا گیا ہے۔
- وہ ایمالاہلینی، امپومالانگا ہائی ویلڈ کی رہائشی ہیں، جو جنوبی افریقہ کا سب سے آلودہ کوئلے کا خطہ ہے۔
- 2016 میں انہوں نے وکانی انوائرنمینٹل جسٹس موومنٹ ان ایکشن (وی ای ایم) کی بنیاد رکھی۔
- 2019 کے ڈیڈلی ایئر مقدمے میں ان کی تنظیم نے حکومت کو عدالت میں چیلنج کیا اور صاف ہوا کو آئینی حق تسلیم کرایا۔
- 2022 میں پریٹوریا ہائی کورٹ اور اپریل 2025 میں سپریم کورٹ آف اپیل نے ان کے حق میں فیصلہ دیا۔
بیٹے کی سانس سے شروع ہونے والی جدوجہد
پرامس مابیلو دو دہائیوں سے زائد عرصے سے ایمالاہلینی میں رہ رہی ہیں۔ وہ ایک نوجوان ماں کی حیثیت سے روزگار کی تلاش میں یہاں آئی تھیں، جہاں انہیں کوئلے کی کانیں، بجلی گھر اور بیمار کر دینے والی ہوا ملی۔ 2008 میں ان کے چھوٹے بیٹے کو سانس کی شدید تکلیف شروع ہوئی اور بعد میں دمے کی تشخیص ہوئی۔ یہی وہ لمحہ تھا جب ان کی ذاتی تکلیف ایک عوامی تحریک میں بدل گئی۔
انہوں نے بتایا کہ بدترین دنوں میں آسمان بھورا ہو جاتا ہے، کوئلے کے بجلی گھروں اور کانوں کے اخراج سے ہوا ناک اور گلے کو جلاتی ہے اور لوگوں کو سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے۔ ان کے اپنے الفاظ میں، بعض اوقات ایسا لگتا ہے جیسے انسان جلتے ہوئے ٹائر کی بو سانس میں لے رہا ہو۔ ماحولیاتی انصاف کی تنظیموں نے جب کمیونٹی میں فضائی آلودگی اور صحت پر ورکشاپ منعقد کیں تو پرامس کو معلوم ہوا کہ وہ کس قدر آلودہ علاقے میں رہ رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سچ جاننے کے بعد خاموش بیٹھنا آنے والی نسل کے ساتھ ناانصافی ہوتی۔

وکانی تحریک کی بنیاد
2016 میں پرامس مابیلو نے وکانی انوائرنمینٹل جسٹس موومنٹ ان ایکشن قائم کی، جو مقامی طور پر وی ای ایم کے نام سے جانی جاتی ہے۔ یہ تنظیم ایمالاہلینی میں جیواشم ایندھن کی آلودگی سے لڑنے اور علاقے کے لوگوں کی صحت کے تحفظ کے لیے کام کرتی ہے۔ کوئلے پر معاشی انحصار رکھنے والے خطے میں انہیں اور ان کے ساتھیوں کو کبھی کبھی ترقی مخالف قرار دیا گیا، لیکن پرامس نے اس سوچ کو مسترد کر دیا۔ ان کا مؤقف ہے کہ ان کا مقصد ایمالاہلینی اور ہائی ویلڈ کے ترجیحی علاقے کو لوگوں کے رہنے کے لیے ایک اچھی جگہ بنانا ہے۔
ان کی کوششوں نے انہیں جنوبی افریقہ کے اہم ترین ماحولیاتی حقوق کے مقدمات میں سے ایک تک پہنچایا۔ اس جدوجہد نے انہیں آج ماحول کے ہیرو کے مقام پر لا کھڑا کیا ہے۔
ڈیڈلی ایئر مقدمہ: تاریخ ساز فیصلہ
2019 میں وی ای ایم اور جنوبی افریقہ کی ماحولیاتی انصاف کی تنظیم گراؤنڈ ورک نے سینٹر فار انوائرنمینٹل رائٹس کی قانونی معاونت سے حکومت کو عدالت میں چیلنج کیا۔ یہ مقدمہ امپومالانگا ہائی ویلڈ میں زہریلی فضائی آلودگی پر حکومت کی ناکامی کے خلاف تھا۔ اس خطے کو 2007 میں آلودگی کا ہاٹ اسپاٹ قرار دیا گیا تھا اور حکومت نے ہوا صاف کرنے کا منصوبہ بھی اپنایا تھا، لیکن رہائشیوں اور کارکنوں کا مؤقف تھا کہ حکومت نے اس منصوبے پر عمل درآمد میں ناکامی دکھائی۔
مدعیوں نے دلیل دی کہ حکومت کی یہ ناکامی جنوبی افریقہ کے آئین کی دفعہ 24 کی خلاف ورزی ہے، جو صحت اور تندرستی کے لیے مضر نہ ہو ایسے ماحول کے حق کی ضمانت دیتی ہے۔ 2022 میں پریٹوریا ہائی کورٹ نے اتفاق کیا اور قرار دیا کہ ہائی ویلڈ میں فضائی معیار کو منظم کرنے میں حکومت کی ناکامی غیر آئینی ہے، اور حکومت کو فضائی معیار کے انتظامی منصوبے پر عمل درآمد کے لیے ضوابط اپنانے کا حکم دیا۔ اپریل 2025 میں سپریم کورٹ آف اپیل نے وزیر کی اپیل مسترد کر دی، جس سے حکومت کی قانونی ذمہ داری مزید مستحکم ہوئی۔

ابھی فتح کا سفر باقی ہے
عدالتی کامیابی کے باوجود پرامس مابیلو کا کہنا ہے کہ فیصلے کے ثمرات ابھی زمین پر نظر نہیں آ رہے۔ ان کے مطابق ہائی ویلڈ کے لوگوں کو مارنے والے اخراج میں کمی کا کوئی عملی ثبوت موجود نہیں، اور اکثر ہوا پہلے سے بھی بدتر محسوس ہوتی ہے۔ وہ ہوا کی نگرانی کے مزید اسٹیشن، مقامی رہائشیوں کی تربیت، صحت کی جانچ کے لیے موبائل کلینک اور آلودگی پھیلانے والوں کے خلاف سخت نفاذ چاہتی ہیں۔
ان کا پیغام واضح ہے: کوئلہ، تیل اور گیس کو صرف اپنے آنگن میں نہیں بلکہ پورے ملک، خطے اور دنیا بھر میں روکنا ہوگا۔ ماحولیاتی انصاف کو وہ صحت، خوراک، پانی، تعلیم، بنیادی سہولتوں اور صنفی انصاف سے الگ نہیں سمجھتیں۔ ان کے نزدیک یہ کام کوئی ایک شخص تنہا نہیں کر سکتا؛ کمیونٹیاں، سول سوسائٹی اور بڑی تحریکیں مل کر ہی یہ جنگ جیت سکتی ہیں۔ اسی اجتماعی جذبے کی وجہ سے دنیا بھر میں موسمیاتی آگاہی کی تحریکیں زور پکڑ رہی ہیں۔ مزید پڑھیے: سی این این کا یومِ ارض 2026: سمندروں پر توجہ۔
نتیجہ
پرامس مابیلو کی کہانی ثابت کرتی ہے کہ ماحول کے ہیرو کسی دور دراز کے ستارے نہیں ہوتے؛ وہ انہی گلیوں سے اٹھتے ہیں جہاں ہوا زہریلی ہو۔ ایک ماں کی فکر سے شروع ہونے والی یہ جدوجہد آج آئینی تاریخ کا حصہ ہے۔ ان کا برائٹ ایوارڈ صرف ایک اعزاز نہیں بلکہ دنیا بھر کی ان کمیونٹیوں کے لیے امید کی کرن ہے جو صاف ہوا کے بنیادی حق کے لیے لڑ رہی ہیں۔






















