LIVE
اہم خبر
کاپ 31 صدارت: انطالیہ اے آئی توانائی عہد اور 35×35 برقی کاری کلائمٹ ویک میں پیشآئی رینا: 2025 میں ریکارڈ 693 گیگاواٹ صاف توانائی، مگر 2030 کے لیے سالانہ رفتار تقریباً دوگنی درکارنائجیریا کے 2026 پلاسٹک فضلہ قوانین: پروڈیوسرز پر ای پی آر — مکمل پابندی نہیںموسمی ہفتہ تحقیق: اے آئی والے عمارتوں میں توانائی کا استعمال 22 فیصد تک کم ہو سکتا ہے—شنائیڈر ماڈلآؤٹیاروا یوتھ سی او پی: رنگاتاہی سی او پی 31 کے لیے موسمیاتی بیان تیار کر رہے ہیںجی کیش اور ابوئٹز: سیبو کے بلمبن میں دس لاکھ درختوں کی بحالی مہم کا آغازکورنگ کلائمیٹ ناؤ 2026 ایوارڈز: ہاروے لائف ٹائم، تین جرنلسٹس آف دی ایئرسنگاپور میں ایس اے ایف لیوی یکم اکتوبر 2026 سے: 2027 کی پروازوں پر مسافروں سے وصولیکینیڈا نے ڈیانا فاکس کارنی کو پہلا اوشن اینووائے نامزد کیا؛ آور اوشن 2027 ہیلی فیکسیو این ای پی نے سنگاپور، یو اے ای اور ڈونگ منگ جو کو افتتاحی کول لیڈرز نامزد کیاکلائمیٹ ویک نیویارک 2026: یو این جی اے کے ساتھ 1,500+ تقریبات کا آغازیو این ای پی: دنیا 1.5°C عبور کرے گی مگر اوورشٹ–چوٹی–کمی اب بھی ممکنسنگاپور کولنگ اسمبلی: ہیٹ ریزیلینس روڈ میپ اور نیچر فار کولنگ چیلنج آگےپاکستان میں سود سے پاک قرضہ سکیم: عوام کے لیے بڑی ریلیفلندن فیشن ویک ایس ایس 27: الیگزینڈر مک کوئین شہرِ وطن واپس، سیان مک گر کا شوفلائے دبئی: 23 ستمبر سے دبئی–پکھرہ روزانہ پروازیں؛ امارات کوڈ شیئر سے نیا سفر گیٹ وےپروٹین میکسینگ: لاس اینجلس ریستورانوں میں پروٹین بولز کی مانگ، چھوٹے کاروبار لاگت کے دباؤ میںسی پی ایل 2026: اینٹیگوا اینڈ باربوڈا فالکنز نے پہلا ٹائٹل جیت لیالائٹ اوریجنز کا Light-O1: انٹرنیٹ ویڈیو سے روبوٹ کے حرکات سکھانے والا ماڈلہانیہ عامر: ’خواتین عوامی جائیداد نہیں‘—باڈی شیمِنگ اور آن لائن تمسخر کے خلاف موقفکاپ 31 صدارت: انطالیہ اے آئی توانائی عہد اور 35×35 برقی کاری کلائمٹ ویک میں پیشآئی رینا: 2025 میں ریکارڈ 693 گیگاواٹ صاف توانائی، مگر 2030 کے لیے سالانہ رفتار تقریباً دوگنی درکارنائجیریا کے 2026 پلاسٹک فضلہ قوانین: پروڈیوسرز پر ای پی آر — مکمل پابندی نہیںموسمی ہفتہ تحقیق: اے آئی والے عمارتوں میں توانائی کا استعمال 22 فیصد تک کم ہو سکتا ہے—شنائیڈر ماڈلآؤٹیاروا یوتھ سی او پی: رنگاتاہی سی او پی 31 کے لیے موسمیاتی بیان تیار کر رہے ہیںجی کیش اور ابوئٹز: سیبو کے بلمبن میں دس لاکھ درختوں کی بحالی مہم کا آغازکورنگ کلائمیٹ ناؤ 2026 ایوارڈز: ہاروے لائف ٹائم، تین جرنلسٹس آف دی ایئرسنگاپور میں ایس اے ایف لیوی یکم اکتوبر 2026 سے: 2027 کی پروازوں پر مسافروں سے وصولیکینیڈا نے ڈیانا فاکس کارنی کو پہلا اوشن اینووائے نامزد کیا؛ آور اوشن 2027 ہیلی فیکسیو این ای پی نے سنگاپور، یو اے ای اور ڈونگ منگ جو کو افتتاحی کول لیڈرز نامزد کیاکلائمیٹ ویک نیویارک 2026: یو این جی اے کے ساتھ 1,500+ تقریبات کا آغازیو این ای پی: دنیا 1.5°C عبور کرے گی مگر اوورشٹ–چوٹی–کمی اب بھی ممکنسنگاپور کولنگ اسمبلی: ہیٹ ریزیلینس روڈ میپ اور نیچر فار کولنگ چیلنج آگےپاکستان میں سود سے پاک قرضہ سکیم: عوام کے لیے بڑی ریلیفلندن فیشن ویک ایس ایس 27: الیگزینڈر مک کوئین شہرِ وطن واپس، سیان مک گر کا شوفلائے دبئی: 23 ستمبر سے دبئی–پکھرہ روزانہ پروازیں؛ امارات کوڈ شیئر سے نیا سفر گیٹ وےپروٹین میکسینگ: لاس اینجلس ریستورانوں میں پروٹین بولز کی مانگ، چھوٹے کاروبار لاگت کے دباؤ میںسی پی ایل 2026: اینٹیگوا اینڈ باربوڈا فالکنز نے پہلا ٹائٹل جیت لیالائٹ اوریجنز کا Light-O1: انٹرنیٹ ویڈیو سے روبوٹ کے حرکات سکھانے والا ماڈلہانیہ عامر: ’خواتین عوامی جائیداد نہیں‘—باڈی شیمِنگ اور آن لائن تمسخر کے خلاف موقف
(Edition 2) ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک

پاکستان اور ڈنمارک کے سفارتی تعلقات

Ch Usmanشائع شدہ 21 ستمبر، 2026
پاکستان اور ڈنمارک کے سفارتی تعلقات
خصوصی کوریج: پاکستان اور ڈنمارک کے سفارتی تعلقات / وطن نیوز آرکائیو
Share this story

پاکستان اور ڈنمارک کے سفارتی تعلقات

جب میں 1970 کے بعد سے ڈنمارک میں مقیم ہوں، تو تعلقات کی بات صرف وزارتِ خارجہ کے نوٹوں یا سفارت خانے کے پرچم سے نہیں بنتی میرے سامنے۔ وہ بازار کی آواز سے بنتی ہے، اسکول کے بیگ سے، اور اس لمحے سے جب کوئی مہمان دور سے آتا ہے اور میزبان اسے گھر کی چائے دیتا ہے۔ پاکستان اور ڈنمارک کے سفارتی تعلقات بھی میری نظر میں اسی مرکب سے چلتے ہیں: حکومت سے حکومت، کاروبار سے کاروبار، اور سب سے زیادہ عوام سے عوام۔ اس باب میں میں اسی سفر کو اپنی آنکھوں اور یادوں کے ساتھ لکھ رہا ہوں — نہ محض سرکاری فہرست، نہ صرف خبروں کا انداز، بلکہ جیسے میں نے ان برسوں کو دیکھا اور جیا ہے۔

ڈنمارک میں رہتے ہوئے میں نے پاکستانی سفیروں سے ملاقاتیں کیں، سفارتخانے کے پروگراموں میں شریک ہوا، اور وطن نیوز کے بینر کے تحت کمیونٹی کے کئی پروگرام دیکھے۔ کبھی ہال میں قومی گانوں کی گونج ہوتی، کبھی باہر سرد ہوا دروازے سے اندر آتی — اور لوگ پھر بھی اکٹھے رہتے۔ کاغذ پر تعلقات شروع ہوتے ہیں، مگر ان کی اصل زندگی لوگوں کے درمیان ہی چلتی ہے۔ جب 2024 کے آس پاس دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات کی پچھتر سالہ یاد منائی جا رہی تھی، دل میں ایک پرانا سوال پھر جاگا: یہ تعلقات کہاں سے شروع ہوئے، کن معاہدوں سے مضبوط ہوئے، اور کن سفیروں نے کوپن ہیگن میں پاکستان کا چہرہ بنایا؟ یہ باب انہی سوالوں کا جواب ہے — سرکاری حقیقت بنیاد، میری موجودگی رنگ۔ «نگریاں سے کوپن ہیگن تک» کی روح بھی یہی ہے کہ دور دراز کا منظر قاری کے دل کے قریب آ جائے۔

(الف) سفارتی تعلقات — عوام، حکومتیں اور کاروبار

پاکستان کی آزادی کے ابتدائی سالوں میں دنیا بھر میں نئی سفارت کاری کا جال بچھ رہا تھا۔ چھوٹے یورپی ممالک بھی دور دراز کے نئے آزاد ریاستوں سے تعلق جوڑ رہے تھے۔ ڈنمارک اور پاکستان کے تعلقات کی باضابطہ شروعات بھی انہی ابتدائی برسوں میں ہوئی۔ ڈنمارک کی طرف سے تہران میں تعینات نمائندے Axel Caspar Frederik Sporon-Fridler کو 13 October 1949 کو کراچی کے لیے تسلیم کیا گیا، اور انہوں نے 3 November 1949 کو اسنادِ نمایندگی پیش کیں۔ اس وقت پاکستان کا دارالحکومت کراچی تھا، اور دنیا کے کئی ممالک اپنی موجودگی وہیں سے قائم کر رہے تھے۔ یہ تاریخ صرف ایک سرکاری اندراج نہیں؛ یہ اس لمحے کی نشانی ہے جب دو بہت مختلف جغرافیہ والے ممالک نے ایک دوسرے کو باضابطہ طور پر پہچانا۔

(پاکستان اور ڈنمارک کے سفارتی تعلقات)

1

شروع میں دونوں اطراف کی موجودگی محدود تھی۔ پاکستان کی طرف سے ڈنمارک کا احاطہ اکثر The Hague میں پاکستانی سفارت خانے سے ہوتا رہا۔ پھر وقت بدلا۔ November 1976 میں پاکستان نے کوپن ہیگن میں سفیر کی سطح پر مقیم مشن کھولا۔ اس کے بعد پاکستانی کمیونٹی اور سرکاری تعلقات دونوں کو ایک مقامی پتہ اور ایک مقامی چہرہ مل گیا — اور یہ موڑ صرف نقشے پر نہیں، لوگوں کے احساس میں بھی آیا۔ ڈنمارک نے اپنی جانب سے اسلام آباد میں مشن کو September 2004 میں سفیر کی سطح تک بلند کیا۔ یوں دونوں دارالحکومتوں میں سفارت کاری ایک دوسرے کے برابر کی سطح پر کھڑی ہو گئی۔

سفارتی تعلقات کی عمارت اینٹوں کی طرح برسوں میں بنتی ہے: ایک سال اسنادِ نمایندگی، پھر کئی سال غیر مقیم احاطہ، پھر مقیم مشن، پھر سطح کی بلندی۔ اس کے متوازی ایک اور کہانی چل رہی تھی — لوگوں کی نقل مکانی۔ 1970 کی دہائی کے اوائل میں کئی پاکستانی بطور guest workers ڈنمارک آئے۔ ان میں اکثریت وسطی اور شمالی پنجاب سے تعلق رکھتی تھی۔ آج ڈنمارک میں پاکستانی نژاد کمیونٹی تقریباً 30,000 کے قریب بتائی جاتی ہے۔ بعد میں 2008 سے 2016 تک Green Card Scheme کے تحت دو ہزار سے زائد لوگ بھی آئے۔ دوسری اور تیسری نسل اب طب، قانون، معلوماتی ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں میں نظر آتی ہے۔ پارلیمان میں پاکستانی نژاد رکنِ پارلیمان کی موجودگی اور نو کے قریب مقامی کونسلرز کی شرکت اس بات کی نشانی ہے کہ کمیونٹی صرف «مہمان» نہیں رہی؛ وہ معاشرے کا حصہ بن چکی ہے۔

میں خود 1970 کے بعد سے یہاں ہوں۔ صبح کی ٹرین میں جاتے ہوئے کئی چہرے دیکھے ہیں — تھکے ہوئے، پر امید، اور کبھی خاموش۔ پہلی نسل نے فیکٹریوں اور سخت موسم میں محنت سے بنیاد رکھی، دوسری نسل نے تعلیم سے نئی راہیں کھولیں، اور تیسری نسل نے زبان، ثقافت اور پیشے میں ایک نیا توازن بنایا۔ سردیوں کی لمبی راتوں میں جب برف گرتی تھی تو کئی گھروں میں اردو اور پنجابی کی آوازیں سنائی دیتی تھیں؛ گرمیوں میں جب دن لمبے ہوتے تھے تو لوگ پارکوں میں بیٹھ کر وطن کی بات کرتے تھے۔ سفارتی تعلقات جب مضبوط ہوتے ہیں تو انہی گھروں، اسکولوں اور دفاتر میں ان کا عکس دکھائی دیتا ہے۔ سفارتخانے کے پروگرام — قومی دن، ثقافتی شامیں، تعلیمی مشاورت، اور کمیونٹی کی مجلس — اسی عوامی تہ میں سانس لیتے ہیں۔

(پاکستان اور ڈنمارک کے سفارتی تعلقات)

2

کمیونٹی صرف «تعداد» نہیں ہوتی؛ وہ کہانیوں کا مجموعہ ہوتی ہے۔ کوئی شخص فیکٹری سے ریٹائر ہو کر اب پوتے پوتیوں کو اسکول چھوڑنے جاتا ہے؛ کوئی نوجوان ڈاکٹر بن کر ہسپتال میں ڈینش اور انگریزی دونوں بولتا ہے؛ کوئی وکیل مقامی کونسل میں بیٹھ کر بجٹ کی بات کرتا ہے۔ جب ایسے لوگ سفارت خانے کی تقریب میں آتے ہیں — حال کی چائے کی خوشبو، بچوں کے اسکول کے بیگ دروازے کے پاس، پرچم ہال میں — تو پرچم صرف کپڑے کا ٹکڑا نہیں رہتا؛ وہ یاد بن جاتا ہے۔ میں نے کئی پروگراموں میں یہ منظر دیکھا ہے، اور ہر بار محسوس کیا ہے کہ سفارتی تعلقات کی سب سے نرم اور سب سے مضبوط اینٹ یہی لوگ ہیں۔

ترقیاتی تعاون کی کہانی بھی انھی برسوں سے جڑی ہوئی ہے۔ 1969 سے پاکستان اور ڈنمارک ترقیاتی شراکت داری کے راستے پر رہے۔ اس راستے میں کبھی تیز رفتاری رہی، کبھی رکاوٹ۔ 2017 کے بعد on-budget تعاون میں ایک وقفہ آیا، پھر 2022 کے فریم ورک معاہدوں کے ذریعے احیا کی کوشش نظر آئی۔ جب حکومتیں سبز توانائی، پانی اور صفائی ستھرائی جیسے موضوعات پر بات کرتی ہیں تو کمیونٹی میں بھی گفتگو بدل جاتی ہے: لوگ صرف پرانی یادوں کی بات نہیں کرتے، بلکہ مستقبل کے مشترکہ کام کی بات کرتے ہیں۔ ترقیاتی تعاون صرف «امداد» کا نام نہیں؛ یہ سیکھنے اور سکھانے کا تبادلہ بھی ہے — بشرطیکہ احترام برابر ہو۔

تاہم تعلقات ہمیشہ ایک سیدھی لکیر پر نہیں چلتے۔ 2000 کی دہائی کے وسط میں خاکہ متنازعے نے مسلم دنیا سمیت پاکستان میں بھی احتجاج اور تشویش پیدا کی۔ 2005–06 کے اس دور میں پاکستان اور ڈنمارک کے تعلقات پر دباؤ پڑا؛ سفیر کی واپسی اور سفارت خانے کی عارضی بندش جیسے اقدامات بھی سامنے آئے۔ میں اس واقعے کو سنسنی کے لیے نہیں لکھ رہا۔ دو معاشرے جب میڈیا، مذہب اور آزادیِ اظہار کے مختلف فریم میں ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں تو سفارتی میز پر بھی لرزش آتی ہے۔ ان دنوں کمیونٹی میں بھی بے چینی تھی: کچھ لوگ غمگین تھے، کچھ پریشان، کچھ گفتگو کے لیے جگہ مانگتے تھے — اور کئی گھر کی میز پر چائے ٹھنڈی پڑ جاتی تھی کیونکہ بات ادھوری رہ جاتی تھی۔ بعد کے سالوں میں سیاسی مشاورت، سبز تعاون اور تجارت کے ذریعے تعلقات دوبارہ تعمیر ہوئے۔ عقل اور صبر ہو تو تعلقات ٹوٹنے کے بعد بھی دوبارہ جوڑے جا سکتے ہیں۔

(پاکستان اور ڈنمارک کے سفارتی تعلقات)

3

سیاسی سطح پر اعلیٰ سطح کے دورے اور مشاورتیں اسی تعمیر کا حصہ رہی ہیں۔ ڈنمارک کے وزیر خارجہ Jeppe Kofod نے 1 October 2021 کو پاکستان کا دورہ کیا۔ اس سے پہلے COP-15 دسمبر 2009 میں کوپن ہیگن نے عالمی ماحولیاتی گفتگو کا ایک بڑا منظر پیش کیا تھا، اور پاکستان بھی ان عالمی میزوں پر موجود رہا۔ ترقیاتی وزراء کے دورے اور سیاسی مشاورت کے ادوار نے دونوں اطراف کو باقاعدہ بات چیت کا طریقہ دیا۔ چوتھی سیاسی مشاورت 11 November 2024 کو اسلام آباد میں ہوئی۔ اس سے پہلے بھی 2 March 2018، 25 November 2020 اور 21 November 2023 جیسے ادوار اسی میکانزم کا حصہ رہے۔ تعلقات کی صحت اکثر «کتنے دورے ہوئے» سے نہیں، بلکہ «کتنی باقاعدگی سے بات ہوئی» سے ناپی جاتی ہے۔

تجارت کا رنگ بھی ان تعلقات کا ایک اہم حصہ ہے۔ سرکاری اور تجارتی حوالوں سے دیکھا جائے تو پاکستان کی ڈنمارک کو برآمدات چند سو ملین امریکی ڈالر کے قریب رہی ہیں، جن میں کپڑے، سوٹ اور لینن جیسے ٹیکسٹائل مضبوط رہتے ہیں۔ ڈنمارک سے پاکستان کو درآمدات کا حجم اس سے کم رہتا ہے۔ میں یہاں کسی ایک مالی سال کے غیر مصدقہ نمبر نہیں گھڑتا؛ عمومی نقشہ یہی ہے کہ ٹیکسٹائل مضبوط ہے اور دو طرفہ حجم معتدل۔ کاروباری تعلقات میں جہاز رانی، لاجسٹکس، سبز توانائی اور زراعت جیسے شعبے بھی دلچسپی کے موضوعات بنے ہیں۔ جب کوئی ڈینش کمپنی پاکستان میں ممکنہ سرمایہ کاری کی بات کرتی ہے، یا کوئی پاکستانی برآمد کنندہ کوپن ہیگن کے بازار میں جگہ تلاش کرتا ہے، تو سفارتی تعلقات کی کامیابی بازار کی زبان میں ترجمہ ہو جاتی ہے۔

بازاروں میں دیکھا ہے کہ پاکستانی کپڑا اور ڈینش ڈیزائن ایک دوسرے کے قریب آ سکتے ہیں۔ ایک دکاندار اگر اچھا سودا کرے تو دو خاندانوں کا رابطہ بنتا ہے؛ ایک برآمد کنندہ اگر معیاری مال بھیجے تو ملک کا نام بھی بنتا ہے۔ تجارت صرف اعداد نہیں؛ یہ اعتماد کی مشق بھی ہے — روزی کا پل، جو لوگوں کے درمیان بنتا ہے۔ کبھی بازار کی گلی میں کپڑے کا رول دیکھ کر وطن یاد آتا ہے؛ کبھی ڈینش دکان کی صفائی دیکھ کر نظم سکھاتی ہے۔ دونوں تصویریں ایک ہی تعلق کا حصہ ہیں۔

(پاکستان اور ڈنمارک کے سفارتی تعلقات)

4

عوام، حکومتیں اور کاروبار — یہ تین دائرے الگ الگ نہیں چلتے۔ سفارت خانے کے پروگراموں میں جب سفیر کمیونٹی سے ملتا ہے تو وہ صرف پاسپورٹ کی بات نہیں کرتا؛ وہ تعلیم، روزگار، ثقافت اور وطن سے رابطے کی بات بھی کرتا ہے۔ جب حکومتیں معاہدے کرتی ہیں تو ان کا اثر یونیورسٹیوں، واٹر بورڈز اور کاروباری چیمبرز تک پہنچتا ہے۔ اور جب کاروبار چلتا ہے تو لوگ روزی کماتے ہیں، خاندان بناتے ہیں، اور دونوں ممالک کے درمیان ایک زندہ پل کھڑا کرتے ہیں۔ تعلقات کی اصل خوبصورتی اسی پل میں ہے — جو کبھی کاغذ پر لکھا جاتا ہے، اور کبھی چائے کی پیالی کے گرد بول جاتا ہے۔

ڈنمارک جیسا چھوٹا مگر منظم معاشرہ اور پاکستان جیسا بڑا مگر پیچیدہ معاشرہ ایک دوسرے سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟ ڈنمارک سے پانی کے انتظام، سبز توانائی، تعلیم اور سماجی تحفظ کے تجربات آتے ہیں؛ پاکستان سے ثقافت، انسانی وسائل، زراعت اور علاقائی اہمیت کا احساس جاتا ہے۔ سفارتی تعلقات اس تبادلے کا دروازہ کھولتے ہیں۔ دروازہ کھلا رہے تو دونوں طرف فائدہ؛ بند ہونے لگے تو غلط فہمیاں بڑھتی ہیں۔

سفارتی تعلقات کی صحت کا ایک پیمائش یہ بھی ہے کہ عام آدمی سفارت خانے سے کتنا مانوس محسوس کرتا ہے۔ اگر لوگ صرف مشکل کے وقت جائیں تو تعلق رسمی رہتا ہے؛ اگر خوشی کے وقت بھی شریک ہوں تو تعلق زندگی بن جاتا ہے۔ قومی دن، آزادی کی تقریبات، ثقافتی شامیں، اور تعلیمی مشاورتیں اسی مانوسیت کو بڑھاتی ہیں۔ ان پروگراموں میں ایک پرانا مہاجر اور ایک نوجوان طالب علم ایک ہی صف میں بیٹھ کر پاکستان کی بات کرتے ہیں — اور اس لمحے ڈنمارک ان کا دشمن نہیں، ان کا دوسرا گھر لگتا ہے۔

کبھی پرانی تصویریں دیکھتا ہوں — پہلی نسل کے مردوں کے کوٹ، عورتوں کے دوپٹے، بچوں کے اسکول کے بیگ — تو لگتا ہے کہ سفارتی تعلقات کی سب سے لمبی دستاویز انھی گھروں میں لکھی گئی۔ کوئی شخص فیکٹری سے تھک کر گھر آیا اور اگلے دن پھر گیا؛ اسی استقامت نے کمیونٹی کو کھڑا کیا۔ حکومتوں نے معاہدے کیے، مگر لوگوں نے زندگی گزاری۔ حکومتوں کا ذکر سیاق کے لیے، لوگوں کا ذکر روح کے لیے۔

ڈنمارک میں موسم سکھاتا ہے کہ صبر ضروری ہے۔ لمبی سردی کے بعد بہار آتی ہے؛ تعلقات بھی کبھی ایسے ہی ہوتے ہیں۔ 2005–06 کے تناؤ کے بعد جب مشاورت اور سبز تعاون نے راستہ کھولا تو وہی موسم یاد آیا۔ سب کچھ ٹھیک ہو گیا — یہ دعویٰ نہیں؛ بات چیت دوبارہ ممکن ہوئی — یہ حقیقت ہے۔ ممکن ہونا ہی کامیابی کی پہلی سیڑھی ہے۔

(پاکستان اور ڈنمارک کے سفارتی تعلقات)

5

آگے کے لیے میری چند عملی تجاویز ہیں — پرانے تعلقات کی بنیاد پر، نہ کہ ہوائی قلعوں پر۔ پہلی، سبز توانائی، پانی اور ویسٹ واٹر کے فریم ورک کو کاغذ سے فیلڈ تک لے جایا جائے؛ فیصل آباد اور لاہور جیسے شہروں میں نظر آنے والے نتائج ہی اصل سفارت کاری ہیں۔ دوسری، سمندری اور لاجسٹکس تعاون کو تربیت اور بندرگاہی جدیدکاری سے جوڑا جائے، تاکہ «امکان» بتدریج «سرمایہ کاری» بنے۔ تیسری، ٹیکسٹائل اور متعلقہ برآمدات میں معیار، برانڈنگ اور ڈینش ریٹیل زنجیروں کے ساتھ براہِ راست روابط بڑھائے جائیں۔ چوتھی، UVAS اور ڈینش زرعی اداروں والے خطوطِ ارادہ کو طلبہ کے تبادلے اور عملی تربیت میں تبدیل کیا جائے۔ پانچویں، سیاسی مشاورت کے ادوار باقاعدہ رہیں، تاکہ اختلاف کے لمحوں میں بھی میز خالی نہ ہو۔ چھٹی، تقریباً 30,000 پاکستانی نژاد کمیونٹی کو پل بنایا جائے — زبان، ثقافت، کاروبار اور مقامی سیاست میں جو صلاحیت موجود ہے اسے دونوں حکومتیں سنجیدگی سے اپنی قوت سمجھیں۔ ساتویں، میڈیا اور کمیونٹی پلیٹ فارم جیسے فخرِ پاکستان پروگرام احترام اور مثبت تصویر کے لیے جاری رہیں، مگر تعریف کے ساتھ دیانت بھی ہو۔ اگر یہ سات راستے صبر سے چلیں تو دونوں ممالک ایک دوسرے سے زیادہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں — ڈنمارک اپنی ٹیکنالوجی اور نظم سے، پاکستان اپنے انسانی وسائل، منڈی اور علاقائی اہمیت سے۔

(ب) معاہدے اور مفاہمت نامے

معاہدے سفارتی تعلقات کی ہڈیاں ہوتے ہیں۔ بغیر ان کے تعلقات صرف نیک خواہشات رہ جاتے ہیں۔ یہاں میں ان اہم اور معروف شائع شدہ معاہدوں اور مفاہمت ناموں کا ذکر کرتا ہوں جو پاکستان اور ڈنمارک کے درمیان سامنے آئے۔ ہر چھوٹے MoU کی کوئی واحد شائع شدہ «ماسٹر فہرست» دستیاب نہیں؛ یہ مکمل انسائیکلوپیڈیا نہیں، اہم مجموعہ ہے۔

سب سے پرانے مراحل میں سے ایک Visa Abolition for Diplomatic and Official Passports کا معاہدہ 1954 کا ہے۔ سفارتی اور سرکاری پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا میں نرمی باہمی اعتماد کی ابتدائی علامت ہوتی ہے — جیسے دروازہ تھوڑا کھلا ہو، تاکہ بات چیت آسان رہے۔ اس کے بعد Convention on Social Security 1982 میں سامنے آیا — خاص طور پر ان لوگوں کے لیے معنی رکھتا ہے جو ایک ملک میں محنت کرتے ہیں اور دوسرے ملک میں خاندان یا مستقبل جوڑتے ہیں۔ جب لوگ ایک سے دوسرے معاشرے میں منتقل ہوتے ہیں تو پنشن، فوائد اور حقوق کے سوالات اٹھتے ہیں؛ ایسے معاہدے ان سوالات کو قانونی زبان دیتے ہیں۔ کمیونٹی میں جب کوئی بزرگ پنشن یا سماجی حقوق کی بات کرتا ہے — کبھی چائے کی پیالی ہاتھ میں، کبھی کاغذات کی فائل سامنے — تو اس کی زبان میں صرف قانون نہیں ہوتا؛ اس میں عمر بھر کی محنت کی آواز ہوتی ہے۔

(پاکستان اور ڈنمارک کے سفارتی تعلقات)

6

پھر سرمایہ کاری کا باب آیا۔ Agreement on Promotion and Protection of Investment 18 July 1996 کو طے پایا — کاروباری حلقوں کے لیے یہ بنیاد کہ سرمایہ محفوظ رہے گا اور تنازعات کے حل کا کوئی فریم ورک ہوگا۔ Avoidance of Double Taxation بھی اہم رہا: بنیادی معاہدہ 1987 کا بتایا جاتا ہے، اور 2002 میں پروٹوکول کے ذریعے اسے اپ ڈیٹ کیا گیا۔ دوہرے ٹیکس سے بچاؤ کی بات عام آدمی کو خشک لگ سکتی ہے، مگر جو شخص دونوں ممالک میں آمدنی، کاروبار یا خاندانی ذمہ داریاں رکھتا ہے وہ جانتا ہے کہ یہ کاغذ کتنا عملی اثر رکھتا ہے۔ تاجروں کو کہتے سنا ہے کہ واضح ٹیکس قواعد اعتماد بڑھاتے ہیں؛ ابہام کاروبار کو ہچکچاہٹ دیتا ہے۔

پانی اور صفائی ستھرائی کے شعبے میں MoU Wastewater Treatment Faisalabad بھی اہم ہے۔ پنجاب اور WASA Faisalabad کے ساتھ ڈنمارک کی شراکت بتاتی ہے کہ سفارتی تعلقات صرف دارالحکومتوں تک محدود نہیں رہتے۔ فیصل آباد جیسے صنعتی شہر میں گندے پانی کا علاج ماحول، صحت اور صنعت تینوں سے جڑا ہوا موضوع ہے۔ سفارت کاری تب کامیاب لگتی ہے جب اس کا فائدہ کسی محلے کے نالے کی صفائی یا کسی فیکٹری کے اخراج کے بہتر انتظام تک پہنچے۔ پاکستان کے کئی شہروں میں پانی کا بحران صرف «قدرتی» نہیں؛ وہ انتظام، ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کا بحران بھی ہے۔ ایسے میں ڈنمارک جیسے ملک کا تجربہ قیمتی ہو سکتا ہے — بشرطیکہ اسے مقامی حقیقتوں کے ساتھ ملایا جائے۔

ہوائی رابطے الگ کہانی بناتے ہیں۔ Air Services Agreement Denmark/Norway/Sweden–Pakistan 31 January 2014 کو Oslo میں طے پایا۔ اسکینڈینیویا اور پاکستان کے درمیان پروازوں کا فریم ورک لوگوں کی آمد و رفت، خاندانی ملاقاتوں اور کاروباری سفر کو آسان بناتا ہے۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ جب پروازوں کے راستے کھلتے یا بند ہوتے ہیں تو کمیونٹی کی زندگی پر فوراً اثر پڑتا ہے۔ ایئرپورٹ پر سامان کی قطار، بچوں کے ہاتھ میں پانی کی بوتلیں، اور والدہ کا وہ جملہ کہ «اب وطن قریب لگتا ہے» — یہ سب پرواز کے شیڈول سے جڑ جاتا ہے۔ شادی، جنازہ، بیمار رشتہ دار، کاروباری میٹنگ — سب کچھ۔ ہوائی معاہدہ صرف ایوی ایشن کی دستاویز نہیں؛ یہ انسانی رابطے کی دستاویز بھی ہے۔

(پاکستان اور ڈنمارک کے سفارتی تعلقات)

7

سیاسی سطح پر بات چیت کا باقاعدہ راستہ MoU Bilateral Political Consultations سے کھلا، جو 2 March 2018 کو طے پایا۔ اسی دن کوپن ہیگن میں پہلا دور ہوا۔ دوسرا دور مجازی شکل میں 25 November 2020 کو ہوا۔ اس کے بعد 21 November 2023 اور پھر 11 November 2024 اسلام آباد میں مزید ادوار سامنے آئے۔ یہ مشاورتیں بتاتی ہیں کہ دونوں ممالک باقاعدہ طور پر ایک میز پر بیٹھ کر علاقائی اور دو طرفہ موضوعات پر بات کرنا چاہتے ہیں۔ یہ میکانزم بحران کے لمحوں کا انتظار نہیں کرتا؛ معمول کی بات چیت کو جاری رکھتا ہے — اور معمول کی بات چیت ہی بحران کو کم کرنے کا بہترین طریقہ ہوتی ہے۔

تعلیم اور زراعت کے شعبے میں بھی روابط بڑھے۔ Letter of Intent UVAS Lahore اور Dalum Academy of Agricultural Business (DAAB), Odense کے درمیان 26 November 2020 کو طے پایا۔ اس کے جلد بعد 8 December 2020 کو UVAS اور KOLD College, Odense کے درمیان بھی Letter of Intent سامنے آیا۔ یہ صرف تعلیمی کاغذ نہیں۔ یونیورسٹی آف ویٹرنری اینیمل سائنسز جیسے ادارے جب ڈینش اکیڈمیوں سے جڑتے ہیں تو طلبہ، ٹیکنالوجی اور زرعی طریقوں کا تبادلہ ممکن ہوتا ہے۔ پاکستان کی زراعت اور ڈنمارک کی منظم زرعی تعلیم ایک دوسرے کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہیں۔ نوجوانوں کو کہتے سنا ہے کہ اگر تربیت عملی ہو اور زبان کا پل مضبوط ہو تو علم سرحد پار کر جاتا ہے۔ کلاس روم کی بورڈ پر لکھی ہوئی ایک اصطلاح، کھیت میں آزمائی ہوئی ایک ترکیب — یہی چھوٹی چیزیں معاہدے کو زندہ رکھتی ہیں۔

2022 میں تعلقات کے سبز اور توانائی والے باب نے نئی رفتار پکڑی۔ Inter-Governmental Framework Agreement 10 August 2022 کو سامنے آیا، جس میں قابل تجدید توانائی، توانائی کی کارکردگی، اور پانی و ویسٹ واٹر جیسے شعبے شامل رہے۔ سرکاری پریس میں تقریباً €100 million تک سود سے پاک tied loans کے امکان کا ذکر بھی ہوا۔ اس کے بعد Green Framework Engagement Agreement تقریباً 31 August 2022 کو کوپن ہیگن میں دستخط ہوا، جس پر پاکستان کی طرف سے سفیر احمد فاروق اور ڈنمارک کی طرف سے سفیر Lis Rosenholm نے دستخط کیے۔ احمد فاروق کے دور میں سبز تعاون اور کمیونٹی روابط دونوں نمایاں رہے۔ جب سفیر اور میزبان ملک کا سفیر ایک ہی میز پر سبز فریم ورک پر دستخط کرتے ہیں تو پیغام واضح ہوتا ہے: تعلقات صرف پرانی فہرستوں سے نہیں، نئے مشترکہ کام سے بھی بنتے ہیں۔

(پاکستان اور ڈنمارک کے سفارتی تعلقات)

8

اس کے بعد 2 October 2024 کو سمندری شعبے کا MoU سامنے آیا، جس میں بندرگاہیں، لاجسٹکس اور تربیت جیسے موضوعات شامل رہے۔ سرکاری بیانات میں بڑی ممکنہ ڈینش اور Maersk سے جڑی سرمایہ کاری کے امکانات کا ذکر ہوا۔ احتیاط سے لکھتا ہوں: یہ مکمل ہو چکی نقد سرمایہ کاری کا اعلان نہیں، بلکہ سرکاری سطح پر بیان کردہ امکانات اور دلچسپی ہے۔ امکانات اہم ہوتے ہیں، مگر انہیں حقیقت بنانے کے لیے معاہدوں کے بعد عمل درآمد چاہیے۔ بندرگاہیں اور لاجسٹکس پاکستان کی معیشت کی رگوں کی مانند ہیں؛ اگر تربیت اور جدید انتظام آئے تو فائدہ دور تک پہنچ سکتا ہے۔

ان سب معاہدوں کو ایک نظر میں دیکھوں تو چند دھارے نظر آتے ہیں: لوگوں کی نقل و حرکت اور سماجی تحفظ؛ سرمایہ کاری اور ٹیکس؛ پانی، سبز توانائی اور ماحول؛ تعلیم اور زراعت؛ سیاسی مشاورت اور سمندری تعاون۔ یہ دھارے الگ الگ نہیں؛ ایک دوسرے کو سہارا دیتے ہیں۔ سیاسی مشاورت باقاعدہ ہو تو نئے شعبہ جاتی معاہدے آسان ہوتے ہیں۔ سبز فریم ورک ہو تو پانی اور توانائی کے پروجیکٹ میز پر آتے ہیں۔ ہوائی اور سمندری روابط بہتر ہوں تو تجارت سانس لیتی ہے۔

معاہدے تب زندہ رہتے ہیں جب دونوں اطراف میں عمل درآمد کی صلاحیت ہو۔ کاغذ پر دستخط ایک دن کا کام ہے؛ برسوں تک تعاون چلانا الگ محنت۔ پاکستان اور ڈنمارک کے تعلقات میں کبھی ترقیاتی وقفہ آیا، کبھی بحالی؛ کبھی تناؤ، کبھی مشاورت۔ اسی اتار چڑھاؤ میں معاہدوں کی فہرست بتدریج بڑی ہوئی۔ دعا ہے کہ آنے والے برسوں میں نئے مفاہمت نامے صرف دستخط کی تقاریب تک محدود نہ رہیں، بلکہ کلاس روم، بندرگاہ، پانی کے پلانٹ اور کاروباری دفاتر تک پہنچیں۔

ایک قاری شاید پوچھے: اتنے معاہدوں کے بعد بھی تعلقات مکمل کیوں نہیں لگتے۔ جواب سادہ ہے — تعلقات کبھی «مکمل» نہیں ہوتے؛ وہ ہمیشہ جاری رہتے ہیں۔ ہر نئی نسل نئے سوال لے کر آتی ہے، ہر نیا بحران نئی آزمائش بناتا ہے، اور ہر نیا موقع نئی محنت مانگتا ہے۔ معاہدے راستہ دکھاتے ہیں؛ چلنا لوگوں اور اداروں پر منحصر ہوتا ہے۔ قیمت تب بنتی ہے جب کوئی طالب علم تربیت پائے، کوئی شہر پانی بہتر کرے، کوئی تاجر واضح قواعد کے ساتھ کاروبار بڑھائے، اور کوئی خاندان سماجی تحفظ کے حق میں سکون محسوس کرے۔ دستخط خوشی کا لمحہ ہے؛ نتیجہ برسوں کا امتحان ہے۔

(پاکستان اور ڈنمارک کے سفارتی تعلقات)

9

ایمانداری بھی ضروری ہے۔ سرکاری بیانات میں جب «امکان» لکھا ہو تو اسے «مکمل حقیقت» بنا کر پیش کرنا درست نہیں۔ سمندری MoU اور ممکنہ سرمایہ کاری کے حوالے سے میں نے جان بوجھ کر احتیاط برتی ہے، تاکہ قاری امید تو رکھے مگر مبالغہ نہ کرے۔ سفارتی لکھائی میں بھی دیانت وہی قیمت رکھتی ہے جو صحافت میں رکھتی ہے۔

(ج) پاکستان کے سفیر — تعارف اور خدمات

کوپن ہیگن میں پاکستان کی نمایندگی کی کہانی سفیروں اور چارج ڈے افیئرز کے چہروں سے جڑی ہوئی ہے۔ میں نے خود 1970 کے بعد سے کئی سفیروں سے ملاقات کی اور سفارت خانے کے پروگراموں میں حصہ لیا۔ اس حصے میں میں انہیں ادب اور حقیقت کے ساتھ پیش کرتا ہوں۔ جہاں عوامی سوانح تفصیلی دستیاب نہیں، وہاں صرف دورِ خدمت اور نمایندگی کے کردار تک محدود رہتا ہوں؛ خیالی کامیابیاں نہیں گھڑتا۔

ابتدائی دور میں پاکستان کی ڈنمارک میں موجودگی اکثر The Hague سے چلتی رہی۔ بیگم رعنا لیاقت علی خان September 1954 سے June 1961 تک اس فہرست میں اہم نام ہیں۔ تاریخی طور پر وہ پاکستان کی پہلی خاتون سفیر رہیں، اور نیدرلینڈز میں تعینات رہیں؛ اس دور میں ڈنمارک کا احاطہ بھی The Hague کے ذریعے ہوتا تھا۔ سفارتی تاریخ میں عورتوں کی اونچی نمایندگی کتنی کم اور کتنی قیمتی رہی ہے — بیگم رعنا لیاقت علی خان صرف ایک عہدے کا نام نہیں؛ وہ اس بات کی علامت بھی ہیں کہ پاکستان نے اپنی ابتدائی سفارت کاری میں بڑے فیصلے کیے تھے۔ سفارت کاری کبھی صرف مردانہ دائرے کی چیز نہیں رہی — چاہے راستہ کتنا ہی مشکل رہا ہو۔

ان کے بعد قدرت اللہ شاہ November 1963 سے September 1966 تک نظر آتے ہیں؛ ممتاز علی علوی November 1966 سے February 1969 تک؛ ایس ایم حسن February 1969 سے January 1971 تک؛ آر ایس چتاری (راحت سعید) April 1971 سے March 1972 تک؛ اور جے جی خراس June 1972 سے June 1975 تک۔ یہ وہ سال تھے جب دنیا سیاست کے بڑے موڑ دیکھ رہی تھی، اور پاکستان بھی اندرونی و بیرونی تبدیلیوں سے گزر رہا تھا۔ غیر مقیم یا محدود موجودگی والے ادوار میں بھی ان ناموں نے پاکستان کی نمایندگی کا سلسلہ جاری رکھا۔ تفصیلی عوامی سوانح میرے پاس نہیں، اس لیے مختصر لکھتا ہوں؛ مگر ناموں کا احترام تاریخ کا حصہ ہے۔ جو سفیر دور سے بھی نمایندگی کرتا ہے، وہ پل کی پہلی اینٹ رکھتا ہے۔

(پاکستان اور ڈنمارک کے سفارتی تعلقات)

10

November 1976 میں کوپن ہیگن میں مقیم مشن کے آغاز کے ساتھ سفارت کاری کا ایک نیا باب کھلا۔ نسیم احمد December 1976 سے September 1978 تک رہے؛ عبد الرؤف خان December 1978 سے September 1980 تک۔ مقیم مشن کا مطلب یہ تھا کہ اب کمیونٹی کو کوپن ہیگن میں ایک مستقل پتہ مل گیا تھا۔ یہ تبدیلی صرف انتظامی نہیں تھی؛ نفسیاتی بھی تھی۔ جب سفارت خانہ قریب ہو تو لوگ اپنے آپ کو کم اجنبی محسوس کرتے ہیں — سردی کی شام کو بھی راستہ معلوم ہوتا ہے، اور پاسپورٹ کی قطار میں بھی کوئی «اپنا» پتہ ہوتا ہے۔

اس کے بعد 1980 سے 1993 تک ایک طویل وقفہ ہے جس میں سفیر کی سطح پر مسلسل تعیناتی کی بجائے چارج ڈے افیئرز کا دور رہا۔ ان میں طارق عثمان حیدر، اشرف جہانگیر قاضی، مشتاق مہر اور قاضی ہمایوں جیسے نام شامل رہے۔ چارج ڈے افیئرز کا کام اکثر خاموش محنت ہوتا ہے: سفارت خانہ چلانا، کمیونٹی سے رابطہ رکھنا، اور دارالحکومت میں پاکستان کی موجودگی برقرار رکھنا۔ ان برسوں کو نظرانداز کرنا تاریخ کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔ خاموش محنت کا صلہ اکثر کتابوں میں کم لکھا جاتا ہے، مگر کمیونٹی کی یاد میں وہ رہ جاتا ہے۔

فروری 1993 میں ایڈمرل (ر) یستور الحق ملک February 1993 سے February 1995 تک سفیر رہے۔ بحریہ کے پس منظر والے سفیر اکثر نظم و ضبط اور ادارہ جاتی سوچ لاتے ہیں۔ آصف عزدی September 1995 سے January 1999 تک رہے۔ سلمان بشیر July 1999 سے February 2003 تک کوپن ہیگن میں رہے؛ بعد میں وہ Foreign Secretary بھی بنے — یہ عوامی طور پر معروف کیریئر ہے، اس لیے مختصر ذکر مناسب ہے۔ جاوید اے قریشی June 2003 سے September 2006 تک رہے۔ یہ وہ دور بھی تھا جب عالمی اور علاقائی سیاست میں نئی کشیدگیاں سامنے آ رہی تھیں، اور سفیر کا کام صرف تقاریب تک محدود نہیں رہتا تھا۔ ہر سفیر اپنے وقت کے سوالوں کا جواب دیتا ہے۔

(پاکستان اور ڈنمارک کے سفارتی تعلقات)

11

فوزیہ عباس November 2006 سے December 2013 تک ایک طویل عرصہ سفیر رہیں۔ سات سال سے زیادہ کا دورِ خدمت کمیونٹی کے لیے ایک تسلسل کا احساس پیدا کرتا ہے۔ جب کوئی سفیر طویل عرصہ رہتا ہے تو لوگ اسے صرف سرکاری چہرہ نہیں سمجھتے؛ وہ اسے پہچاننے لگتے ہیں، مسائل لے کر آتے ہیں، اور ثقافتی پروگراموں میں شریک ہوتے ہیں۔ قومی دن کی تقریب میں ہال بھرا ہو، یا سردی کی شام کو لوگ چائے کے کپ لے کر گفتگو کریں — طویل دورِ خدمت میں سفارت خانہ اور کمیونٹی ایک دوسرے کی زبان بہتر سمجھتے ہیں۔ مسرور اے جونیجو January 2014 سے May 2017 تک رہے؛ سید ذوالفقار گردیزی August 2017 سے January 2020 تک۔ یہ ادوار ترقیاتی تعاون کے اتار چڑھاؤ اور سیاسی مشاورت کے نئے فریم ورک سے بھی جڑے رہے۔ ان برسوں میں بھی سفارت خانے کے پروگراموں میں شرکت کی؛ ہر سفیر اپنی طرز رکھتا ہے — کوئی زیادہ رسمی، کوئی زیادہ کھلا — مگر سب کا مقصد پاکستان کی نمایندگی ہوتا ہے۔

احمد فاروق April 2020 سے May 2023 تک سفیر رہے۔ ان کے دور میں Green Framework Engagement Agreement جیسے سبز تعاون کے دستخط سامنے آئے۔ کمیونٹی کے لیے بھی یہ دور یادگار رہا۔ وطن نیوز کے بینر کے تحت فخرِ پاکستان تقریب ہوئی، جس میں سفیر احمد فاروق کو Lifetime Fakhare Pakistan Achievement Award دیا گیا۔ اسی سلسلے میں سفیر نے مجھے — امانت علی چودھری — lifetime medal بھی عطا کیا۔ فخر اور شکر کے ساتھ لکھتا ہوں، مگر یہ سمجھتے ہوئے کہ اعزاز اصل میں کمیونٹی کے اجتماعی کام کا عکس ہوتا ہے۔ ایک صحافی یا کمیونٹی کارکن جب سفارت خانے کے ساتھ پروگرام کرتا ہے تو وہ تنہا نہیں ہوتا؛ اس کے پیچھے کئی رضاکار، کئی خاندان اور کئی برسوں کی محنت ہوتی ہے۔ احمد فاروق کے دور نے دکھایا کہ سفیر کمیونٹی کے نزدیک تب آتا ہے جب وہ صرف «تقریب کا مہمانِ خصوصی» نہیں بنتا، بلکہ لوگوں کی بات سنتا ہے۔ سبز فریم ورک کے دستخط اور کمیونٹی کے اعزاز ایک ہی تصویر کے دو رخ لگے — ایک سرکاری، ایک عوامی۔

(پاکستان اور ڈنمارک کے سفارتی تعلقات)

12

موجودہ سفیر شعیب سرور May 2023 سے اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ ان کی تعلیمی اور پیشہ ورانہ سیرت عوامی طور پر معروف ہے: MBA NYU؛ BA Hons Accounting & Finance University of Kent 1998؛ Indiana University سے وابستگی؛ Foreign Service میں شمولیت January 2001۔ تعیناتیوں میں Toronto 2004–2007، The Hague 2014–2017، اور Los Angeles 2017–2021 شامل رہیں۔ اس کے بعد June 2021 سے July 2023 تک وزیراعظم آفس میں Joint Secretary (Foreign Affairs) رہے۔ مختلف دارالحکومتوں اور بڑے شہروں کا تجربہ کسی سفیر کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ کمیونٹی، میزبان حکومت اور وطن تینوں زبانوں کو سمجھے — اور سفارت خانے کے ہال میں بیٹھا عام آدمی بھی یہ محسوس کرے کہ اسے سنا جا رہا ہے۔ کوپن ہیگن میں ان کا دور اس وقت شروع ہوا جب دونوں ممالک پچھتر سالہ سفارتی تعلقات کی یاد اور نئے شعبہ جاتی تعاون — بشمول سمندری MoU — کی طرف بڑھ رہے تھے۔ موجودہ دور میں بھی خواہش یہی ہے کہ سفارت خانہ اور کمیونٹی کا پل مزید مضبوط ہو۔

ہر سفیر کا وقت مختلف ہوتا ہے۔ کسی کے پاس طویل تسلسل ہوتا ہے، کسی کے پاس مختصر مگر اہم لمحے۔ کسی کے دور میں معاہدے دستخط ہوتے ہیں، کسی کے دور میں بحران سنبھالنا پڑتا ہے، کسی کے دور میں کمیونٹی کے روزمرہ مسائل زیادہ دکھائی دیتے ہیں۔ سفیر کی کامیابی صرف اس سے نہیں ناپی جاتی کہ کتنے دستخط ہوئے؛ اس سے بھی ناپی جاتی ہے کہ پاسپورٹ قطار میں کھڑا شخص کتنا احترام محسوس کرتا ہے، کہ قومی دن کی تقریب میں کتنا خلوص ہوتا ہے، اور کہ میزبان معاشرے میں پاکستان کا تاثر کتنا متوازن بنتا ہے۔

سفارت خانہ صرف سفیر نہیں ہوتا۔ وہاں سٹاف ہوتا ہے، محلی ملازمین ہوتے ہیں، اور کمیونٹی کے وہ لوگ ہوتے ہیں جو رضاکارانہ طور پر پل بنتے ہیں۔ میری اپنی زندگی میں سفارت خانے کے پروگرام — ثقافتی شامیں، قومی تقریبات، اور فخرِ پاکستان جیسے مواقع — اسی اجتماعی تصویر کا حصہ رہے۔ جب میں احمد فاروق کے ہاتھوں lifetime medal وصول کرتا ہوں، یا شعیب سرور کے دور میں کمیونٹی کی سرگرمیاں دیکھتا ہوں، تو لگتا ہے کہ سفارتی تعلقات کی کہانی دارالحکومتوں کے بیانات سے آگے جا کر لوگوں کے کندھوں پر چلتی ہے۔

(پاکستان اور ڈنمارک کے سفارتی تعلقات)

13

کبھی کبھی رات کو سوچتا ہوں کہ اگر بیگم رعنا لیاقت علی خان کے دور سے لے کر شعیب سرور کے دور تک کی پوری سیر کو ایک لمبی گلی سمجھا جائے تو ہر سفیر اس گلی کا ایک دروازہ ہے۔ کچھ دروازے زیادہ کھلے رہے، کچھ کم؛ مگر ہر دروازے نے کسی نہ کسی کو گزرنے دیا۔ میرا کام اس گلی کو یاد رکھنا ہے، تاکہ آنے والی نسلیں سمجھیں کہ کوپن ہیگن میں پاکستان کی نمایندگی محض ایک عمارت نہیں؛ یہ لوگوں کی محنت کا تسلسل ہے۔

مقصد سفیر کی تعریف نہیں؛ تاریخ کو انسانی چہرہ دینا ہے۔ بغیر ناموں کے سفارتی تعلقات خشک لگتے ہیں؛ ناموں کے ساتھ وہ زندہ ہو جاتے ہیں۔ جو نام میں نے لکھے ہیں وہ سرکاری فہرست سے آئے ہیں؛ جو جذبات میں نے لکھے ہیں وہ میری موجودگی سے آئے ہیں۔ دونوں کو ملا کر ہی یہ باب مکمل محسوس ہوتا ہے۔

سفارت خانے کے پروگراموں میں بیٹھ کر یہ بھی دیکھا کہ سفیر کی زبان کتنی اہم ہوتی ہے۔ اگر زبان صرف رسمی ہو تو لوگ دور رہتے ہیں؛ اگر زبان میں گرمجوشی ہو تو لوگ قریب آتے ہیں۔ پاکستانی کمیونٹی ڈنمارک میں کئی لہجوں اور کئی تجربوں کی حامل ہے — پنجابی، اردو، انگریزی، ڈینش۔ جو سفیر ان لہجوں کے درمیان پل بنتا ہے، وہ صرف نمائندہ نہیں رہتا؛ وہ میزبان بھی بن جاتا ہے۔

فخرِ پاکستان کی تقریب میرے لیے ذاتی طور پر اہم رہی، مگر میں اسے صرف اپنی کہانی نہیں بنانا چاہتا۔ اس تقریب نے یہ دکھایا کہ میڈیا، کمیونٹی اور سفارت خانہ ایک میز پر آ سکتے ہیں۔ احمد فاروق کو Lifetime Fakhare Pakistan Achievement Award ملا، اور انہوں نے مجھے lifetime medal دیا — یہ تبادلہ احترام کا تھا، مقابلے کا نہیں۔ چاہتا ہوں کہ آنے والے برسوں میں بھی ایسے پروگرام جاری رہیں، تاکہ نوجوان نسل کو لگے کہ پاکستان ان سے دور نہیں۔

شعیب سرور کے دور میں بھی میری نظر اسی پل پر رہتی ہے۔ نیا سفیر نئی توانائی لاتا ہے؛ کمیونٹی کو چاہیے کہ وہ توانائی کو شکایتوں کے بوجھ سے نہ دبا دے، بلکہ تعمیری مشورے سے سہارا دے۔ تنقید ضروری ہے، مگر صرف تنقید سے پل نہیں بنتا۔ شکر، صبر، اور واضح بات — تینوں چاہییں۔

(پاکستان اور ڈنمارک کے سفارتی تعلقات)

14

سفرنامہ لکھنے والے کی ذمہ داری صرف منظر دکھانا نہیں؛ سیاق دینا بھی ہے۔ پاکستان اور ڈنمارک کے تعلقات کو میں نے اس لیے تفصیل سے لکھا کہ قاری سمجھے کہ کوپن ہیگن میں رہنا صرف سرد موسم اور صاف سڑکوں کا نام نہیں۔ یہاں ایک سفارتی تاریخ بھی چلتی ہے، ایک کمیونٹی بھی سانس لیتی ہے، اور ایک مسلسل کوشش بھی جاری رہتی ہے کہ دو معاشرے ایک دوسرے کو بہتر سمجھیں۔ جو شخص صرف خبر پڑھے وہ اتار چڑھاؤ دیکھتا ہے؛ جو شخص برسوں یہاں رہے وہ تسلسل دیکھتا ہے۔ میں تسلسل کا گواہ بن کر لکھ رہا ہوں۔

کبھی کبھی لوگ پوچھتے ہیں کہ اتنے برسوں بعد بھی آپ اردو میں کیوں لکھتے ہیں۔ میرا جواب یہ ہے کہ زبان وطن کا ایک حصہ ہے جو سامان کے خانے میں نہیں آتی؛ وہ دل میں رہتی ہے۔ سردی کی رات کو جب باہر برف ہو اور اندر چراغ جلا ہو، اردو کا ایک جملہ گھر کو گرم کر دیتا ہے۔ ڈنمارک نے مجھے دوسرا گھر دیا، اور اردو نے مجھے پہلا گھر یاد رکھا۔ سفارتی تعلقات بھی کچھ ایسے ہی ہوتے ہیں — ایک پرچم باہر لہراتا ہے، دوسری زبان اندر بولتی ہے۔ جب دونوں احترام سے ساتھ رہیں تو گھر وسیع ہو جاتا ہے۔

پاکستان اور ڈنمارک کے سفارتی تعلقات کی یہ کہانی میرے لیے 1949 کی اسنادِ نمایندگی سے شروع ہو کر آج کی سیاسی مشاورتوں، سبز فریم ورک اور کمیونٹی کی زندگی تک پھیلی ہوئی ہے۔ تعلقات کبھی مٹی کی طرح نرم ہوتے ہیں، کبھی پتھر کی طرح سخت؛ مگر جو لوگ صبر سے سیراب کرتے رہتے ہیں، وہیں سبزہ آتا ہے۔ عوام نے محنت سے بنیاد رکھی، حکومتوں نے معاہدوں سے ڈھانچہ دیا، کاروبار نے روزی کا رنگ بھرا، اور سفیروں نے نمایندگی کا چراغ جلائے رکھا۔

آخر میں اپنے قاری سے صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ یہ باب کسی سرکاری رپورٹ کا اردو ترجمہ نہیں۔ یہ ایک رہنے والے کی نظر ہے — جس نے سفیروں سے ملاقات کی، پروگراموں میں حصہ لیا، اور دیکھا کہ تعلقات کبھی کاغذ پر، کبھی لوگوں کے چہروں پر لکھے جاتے ہیں۔ جو کچھ یہاں لکھا گیا وہ تصدیق شدہ حقائق اور میری اپنی موجودگی پر کھڑا ہے؛ جو کچھ میں نے نہیں جانا، اسے میں نے نہیں گڑھ۔ یہ احتیاط لکھائی کا ادب ہے۔

میں امانت علی چودھری، ڈنمارک میں رہتے ہوئے، اسی سبزے کا ایک چھوٹا سا گواہ ہوں — اور دعا گو ہوں کہ آنے والی نسلیں اس پل کو اور مضبوط کریں، تاکہ نگریاں سے کوپن ہیگن تک کا سفر صرف میری یاد نہ رہے، بلکہ ہمارے بچوں کی مشترکہ منزل بن جائے۔

(پاکستان اور ڈنمارک کے سفارتی تعلقات)

15

سیارہ اور ماحول

ماحولیات اور استحکام

مستقبل کی نسلوں کے لیے ایک سبز اور زیادہ پائیدار سیارے کی طرف تبدیلی لانے والی خبریں، کہانیاں اور حل۔

کاپ 31 صدارت: انطالیہ اے آئی توانائی عہد اور 35×35 برقی کاری کلائمٹ ویک میں پیش
نمایاں خبر

کاپ 31 صدارت: انطالیہ اے آئی توانائی عہد اور 35×35 برقی کاری کلائمٹ ویک میں پیش

کلائمٹ ویک این وائی سی (21 ستمبر) پر ترکیہ کی کاپ 31 صدارت نے انطالیہ اے آئی توانائی عہد (مسودہ زیر التوا) اور 2035 تک حتمی توانائی میں بجلی کا 35 فیصد حصہ پیش کیا۔

مکمل خبر پڑھیں
سب دیکھیں
نائجیریا کے 2026 پلاسٹک فضلہ قوانین: پروڈیوسرز پر ای پی آر — مکمل پابندی نہیں
گرین جرنلزم

نائجیریا کے 2026 پلاسٹک فضلہ قوانین: پروڈیوسرز پر ای پی آر — مکمل پابندی نہیں

نیسریا کے نیشنل انوائرنمنٹل (پلاسٹک ویسٹ کنٹرول) ریگولیشنز 2026 میں توسیعی پروڈیوسر ذمہ داری مرکز؛ پی ای ٹی میں 2028 سے 25 فیصد ری سائیکل مواد۔ 80 مائکرون والا حکم مکمل پلاسٹک پابندی نہیں۔

مکمل خبر پڑھیں
موسمی ہفتہ تحقیق: اے آئی والے عمارتوں میں توانائی کا استعمال 22 فیصد تک کم ہو سکتا ہے—شنائیڈر ماڈل
گرین جرنلزم

موسمی ہفتہ تحقیق: اے آئی والے عمارتوں میں توانائی کا استعمال 22 فیصد تک کم ہو سکتا ہے—شنائیڈر ماڈل

کلائمٹ ویک این وائی سی پر شنائیڈر الیکٹرک کی کمپنی تحقیق: موجودہ بلڈنگ مینجمنٹ سسٹمز پر اے آئی سے پورے عمارت کی توانائی کا استعمال ماڈل کے مطابق 22 فیصد تک کم؛ آزاد آڈٹ نہیں۔

مکمل خبر پڑھیں
جی کیش اور ابوئٹز: سیبو کے بلمبن میں دس لاکھ درختوں کی بحالی مہم کا آغاز
گرین جرنلزم

جی کیش اور ابوئٹز: سیبو کے بلمبن میں دس لاکھ درختوں کی بحالی مہم کا آغاز

19 ستمبر 2026 کو تین ہزار سے زائد رضاکاروں نے بلمبن، سیبو میں پانچ سالہ کاربن پی ایچ–جی فارسٹ بحالی کا آغاز کیا؛ ہدف تقریباً 1,000–1,200 ہیکٹر پر دس لاکھ درخت، ریج ٹو ریف مقامی آمیزہ اور 85 فیصد بقا۔

مکمل خبر پڑھیں

ہر قدم اہم ہے

آج کے چھوٹے اقدامات، کل کے بڑے اثرات۔

مزید کہانیاں دیکھیں