لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کی ترقی کے لیے پالیسی تسلسل ناگزیر ہے اور اچھی کارکردگی دکھانے والی حکومتوں کو اپنی مدت پوری کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔ سینئر افسران لیڈرشپ کورس کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پالیسیوں کے تسلسل کا خاتمہ ہی ملک کے زوال کا سبب بنا ہے۔
اہم نکات
- خطاب کا مقام: لاہور میں سینئر افسران لیڈرشپ کورس کے شرکا سے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا خطاب۔
- مرکزی پیغام: پالیسی تسلسل کے بغیر ملک ترقی نہیں کر سکتا — اچھی کارکردگی والی حکومتوں کو مدت پوری کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔
- سلامتی: وزیراعلیٰ کے مطابق پنجاب میں دہشت گردی پر قابو پا لیا گیا ہے اور سابق “نو گو ایریاز” ختم کر دیے گئے ہیں۔
- کرپشن کے خلاف کارروائی: رشوت کے الزامات پر تقریباً 1000 پولیس اور ریونیو اہلکار برطرف کیے گئے۔
- ٹیکنالوجی: سیف سٹی اتھارٹی اب 40 اضلاع میں کام کر رہی ہے؛ کیمرے شہری مسائل کی نشاندہی میں بھی استعمال ہو رہے ہیں۔
- خواتین: ورچوئل پولیس اسٹیشنز کے ذریعے 5 سے 6 لاکھ کیسز نمٹائے گئے۔
- ہاؤسنگ: “اپنی چھت، اپنا گھر” — 130,000 گھر مکمل، 100,000 زیر تعمیر، پانچ سال میں 500,000 گھروں کا ہدف۔
پالیسی تسلسل: ترقی کی بنیاد
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ پاکستان کا دنیا میں ایک نیا اور بہتر تشخص ابھرا ہے، جس میں مسلح افواج اور سلامتی کے ادارے اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ قومی پالیسیوں میں تسلسل کی کمی ملک کی ترقی میں بڑی رکاوٹ ہے۔
انہوں نے کہا: “ہمارا زوال وہاں سے شروع ہوا جہاں ہمارا تسلسل ختم ہوا۔” ان کے مطابق جب تک اندرونی نظام درست نہیں ہوگا، داخلی سلامتی کو خطرات لاحق رہیں گے۔ خطاب کی تفصیلی رپورٹ کے مطابق انہوں نے کہا کہ ہم سب پہلے پاکستانی ہیں، خواہ کسی بھی صوبے سے تعلق رکھتے ہوں۔
قومی یکجہتی اور داخلی سلامتی
مریم نواز نے کہا کہ دہشت گرد جہاں سے بھی آئے وہ دہشت گرد ہی ہے، اس کی کوئی درجہ بندی نہیں ہوتی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ماضی میں صوبے میں تقریباً 70 علاقے “نو گو ایریاز” سمجھے جاتے تھے، لیکن اب ایسے کوئی علاقے موجود نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ 140 ملین افراد کی حفاظت کی ذمہ داری کے پیش نظر اہم فیصلے کیے گئے ہیں — بارڈر ایریاز میں سیکیورٹی انفراسٹرکچر مضبوط کیا گیا ہے، چیک پوسٹس قائم کی گئی ہیں اور جدید آلات فراہم کیے گئے ہیں۔ پنجاب میں دہشت گردی پر قابو پا لیا گیا ہے، تاہم اس کا مکمل خاتمہ نہیں ہوا اور صوبائی حکومت ممکنہ حملوں کے لیے تیار ہے۔
کرپشن کے خلاف جنگ
کرپشن کے خلاف اقدامات کے تحت تقریباً 1000 پولیس اور ریونیو اہلکاروں کو برطرف کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ رشوت لینے یا دینے والے اہلکاروں میں اب قانون کا خوف پیدا ہوا ہے۔ صوبائی حکومت نے انتظامیہ اور امن و امان کے لیے الگ الگ گروپ قائم کیے ہیں، اور خواتین و بچوں کے خلاف جرائم پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
سیف سٹی اتھارٹی اور ٹیکنالوجی
سیف سٹی اتھارٹی، جو پہلے صرف لاہور تک محدود تھی، اب 40 اضلاع میں کام کر رہی ہے۔ کیمروں کا استعمال اب صرف سیکیورٹی مانیٹرنگ کے لیے نہیں بلکہ کچرے اور دیگر شہری مسائل کی نشاندہی کے لیے بھی کیا جا رہا ہے۔

سیف سٹی اتھارٹی کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر — ٹیکنالوجی کے ذریعے امن و امان اور شہری خدمات میں بہتری۔
خواتین کے لیے ورچوئل پولیس اسٹیشن
حکومت نے ایسی خواتین کے لیے ورچوئل پولیس اسٹیشن قائم کیے ہیں جو پولیس اسٹیشن جانے سے قاصر ہیں، خاص طور پر گھریلو تشدد کا شکار خواتین کے لیے۔ وزیراعلیٰ کے مطابق اس نظام کے ذریعے 5 سے 6 لاکھ کیسز نمٹائے گئے ہیں۔
ہاؤسنگ پروگرام “اپنی چھت، اپنا گھر”
وزیراعلیٰ نے “اپنی چھت، اپنا گھر” ہاؤسنگ پروگرام کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق اب تک 130,000 گھر مکمل ہو چکے ہیں، مزید 100,000 گھر زیر تعمیر ہیں اور پانچ سال میں 500,000 گھر بنانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اقوام متحدہ کے ہیبی ٹیٹ نے اس منصوبے کو دنیا کے پانچ بہترین ہاؤسنگ منصوبوں میں شامل کیا ہے۔

“اپنی چھت، اپنا گھر” پروگرام کے تحت سستے مکانات کی تعمیر — ہدف پانچ سال میں 500,000 گھر۔
نتیجہ
وزیراعلیٰ پنجاب نے پالیسی تسلسل کو ملک کی ترقی کے لیے انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اچھی کارکردگی دکھانے والی حکومتوں کو اپنی مدت پوری کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ سلامتی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے قومی یکجہتی اور مضبوط حکمرانی ناگزیر ہے۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جاری کوششوں، کرپشن کے خاتمے اور ٹیکنالوجی کے استعمال سے امن و امان کی بہتری کے اقدامات پر روشنی ڈالی۔ اس خبر کا مین ڈومین پر مکمل اردو ورژن بھی دیکھیں۔

























