ماحولیاتی صحافت کی عالمی تحریک «کاورنگ کلائمیٹ ناؤ» نے 2026 کے صحافتی ایوارڈز کا اعلان کر دیا ہے۔ سترہ ستمبر کو جاری ہونے والی فہرست میں دنیا بھر کے 49 صحافی اور نیوز ٹیمیں بہترین موسمیاتی رپورٹنگ پر اعزاز یافتہ قرار پائی ہیں۔ ایک ہزار دو سو سے زائد تحقیقی رپورٹوں میں سے فاتحین کا انتخاب تیس سے زائد ممالک کے 120 سینئر صحافیوں پر مشتمل منصفین کے پینل نے کیا۔ دی گارڈین کی فیونا ہاروی کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ دیا گیا ہے۔
اہم نکات
- چھٹے سالانہ «کاورنگ کلائمیٹ ناؤ» صحافتی ایوارڈز کا اعلان سترہ ستمبر 2026 کو کیا گیا۔
- دنیا بھر سے ایک ہزار دو سو سے زائد رپورٹیں موصول ہوئیں؛ 49 فاتحین کا انتخاب 120 منصفین نے کیا۔
- دی گارڈین کی فیونا ہاروی لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ کی حقدار ٹھہریں؛ وہ انیس موسمیاتی سربراہی اجلاسوں کی کوریج کر چکی ہیں۔
- کِم مِن وُک، رولی سریواستو اور سیمی روتھ «صحافی آف دی ایئر» قرار پائے۔
- ایشیا کی ڈیجیٹل معیشت کے ماحولیاتی اثرات پر مشترکہ تحقیق «ڈارک سائیڈ آف دی بوم» کو بھی اعزاز ملا۔
- بنگلہ دیش کے عسرت فہمیدہ اور رفعت انیق نے انتہائی موسمیاتی واقعات کی رپورٹنگ پر ایوارڈ جیتا۔
ماحولیاتی صحافت کے تین سرکردہ نام
اس سال «صحافی آف دی ایئر» کا اعزاز تین صحافیوں کے نام رہا: جنوبی کوریا کے ایم بی سی نیوز سے وابستہ کِم مِن وُک، بھارت کی رولی سریواستو اور امریکہ کے سیمی روتھ۔
کِم مِن وُک نے 2025 کے آغاز پر «زیرو پیریڈ: کلائمیٹ کرائسس» کے نام سے ایک گھنٹے کی دستاویزی فلم نشر کی جس میں ایشیا کے ان نوجوانوں کی کہانیاں بیان کی گئیں جو موسمیاتی تبدیلی سے بدلے ماحول میں زندگی بسر کر رہے ہیں: نیپال کی وہ طالبہ جس کا اسکول لینڈ سلائیڈنگ سے کٹ گیا، بنگلہ دیش کا وہ لڑکا جو سیلاب کی توقع میں روزانہ اضافی یونیفارم ساتھ رکھتا ہے، اور منگولیا کا وہ نوجوان جس کا خانہ بدوش خاندان شدید سردی کے باعث نقل مکانی پر مجبور ہوا۔ منصفین کے مطابق ان کی رپورٹنگ کا دائرہ اور تازہ زاویے غیر معمولی ہیں۔
رولی سریواستو ممبئی سے تعلق رکھتی ہیں اور 2024 میں انہوں نے «دی مائیگریشن اسٹوری» کی بنیاد رکھی جو موسمیاتی تبدیلی کے تناظر میں بھارت کے مزدوروں کی نقل مکانی کی خبریں دیتی ہے۔ وہ بھارت بھر میں صحافیوں کو موسمیاتی اور حل پر مبنی رپورٹنگ کی تربیت بھی دیتی ہیں، اور دی گارڈین، کلین انرجی وائر اور فرنٹ لائن جیسے اداروں کے ساتھ اشتراک میں کام کرتی ہیں۔
سیمی روتھ لاس اینجلس ٹائمز میں موسمیاتی رپورٹر رہنے کے بعد 2025 میں آزاد ہوئے اور «کلائمیٹ کلرڈ گوگلز» کے نام سے نیوز لیٹر شروع کیا جو ثقافت کے زاویے سے موسمیاتی کہانی بیان کرتا ہے۔ معروف سائنسدان کیتھرین ہیہو کے مطابق روتھ کا کام واضح کرتا ہے کہ موسمیاتی عمل صرف بڑے مظاہروں یا سائنسی رپورٹوں تک محدود نہیں، بلکہ کھیل کے میدانوں، کہانیوں، گیتوں اور مشترکہ لمحوں میں بھی زندہ ہے۔
فیونا ہاروی کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ
دی گارڈین کی ماحولیاتی ایڈیٹر فیونا ہاروی کو پروگرام کا دوسرا لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ دیا گیا۔ انہوں نے پندرہ برس سے دی گارڈین میں اور اس سے قبل فنانشل ٹائمز میں موسمیاتی رپورٹنگ کی ہے۔ وہ موسمیاتی سربراہی اجلاسوں کی مستند ترین مبصر سمجھی جاتی ہیں اور انیس اجلاسوں کی کوریج کر چکی ہیں۔
ہاروی کا کہنا ہے کہ جب لوگ پوچھتے ہیں کہ وہ کیا کرتی ہیں تو وہ جواب دیتی ہیں کہ وہ «دنیا کے خاتمے» کے بارے میں لکھتی ہیں، لیکن دراصل وہ اس بارے میں لکھتی ہیں کہ دنیا کے خاتمے سے کیسے بچا جائے۔ 2005 تک فنانشل ٹائمز میں انہوں نے اور ان کے ساتھیوں نے موسمیاتی تبدیلی کے منکرین کو «دونوں پہلو» کے نام پر جگہ دینا بند کر دیا تھا، کیونکہ ان کے نزدیک سائنس سے خالی اقلیت کو برابر اہمیت دینا غیر متوازن رویہ ہے۔
«ڈارک سائیڈ آف دی بوم» کو بڑے اشتراک کا اعزاز
بڑے منصوبوں اور اشتراک کے زمرے میں انٹرنیوز کے ارتھ جرنلزم نیٹ ورک کی سربراہی میں تیار کردہ مشترکہ تحقیق «ڈارک سائیڈ آف دی بوم» کو اعزاز ملا۔ گیارہ ممالک کے چودہ نیوز رومز نے مل کر ایشیا کی پھیلتی ہوئی ڈیجیٹل معیشت کے ماحولیاتی نتائج کی تحقیقات کیں۔

اس تحقیق میں مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور ڈیٹا سینٹرز کے بجلی اور پانی کے استعمال اور مقامی آبادیوں پر پڑنے والے دباؤ کا جائزہ لیا گیا۔ بنگلہ دیش کی رپورٹنگ شمس الدین الیاس نے دی کلائمیٹ واچ کے لیے کی جس میں کالیاکور کے ہائی ٹیک پارک میں ڈیٹا سینٹرز کے باعث بجلی اور زیر زمین پانی کی بڑھتی طلب کو بے نقاب کیا گیا۔ منصفین نے اس تحقیق کو «شاندار» اور «نہایت منفرد» قرار دیا۔ اسی اشتراک کو جون میں سوپا 2026 ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔
اہم اعزازات ایک نظر میں
| شعبہ | فاتح |
|---|---|
| صحافی آف دی ایئر | کِم مِن وُک (جنوبی کوریا)، رولی سریواستو (بھارت)، سیمی روتھ |
| لائف ٹائم اچیومنٹ | فیونا ہاروی (دی گارڈین) |
| بڑے منصوبے و اشتراک | «ڈارک سائیڈ آف دی بوم» (ارتھ جرنلزم نیٹ ورک) |
| انتہائی موسمیاتی صورتحال | عسرت فہمیدہ اور رفعت انیق (بنگلہ دیش) |
بنگلہ دیش کے عسرت فہمیدہ اور رفعت انیق کو «وئیر لینڈ ڈسپیئرز» کے لیے اعزاز ملا جو جنوبی بنگلہ دیش کے علاقے بنیشانتا میں ساحلی کٹاؤ سے متاثرہ خواتین کی کہانی ہے۔ یہ رپورٹ ایشین ڈسپیچ میں شائع ہوئی اور انٹرنیوز کے ارتھ جرنلزم نیٹ ورک کی معاونت سے تیار کی گئی۔
انتخاب کا عمل اور کائل پوپ کا پیغام
چودہ موضوعاتی زمروں، جن میں حل، انصاف اور صحت شامل ہیں، ہر زمرے میں تین تک فاتحین منتخب کیے گئے۔ اس کے علاوہ تین ابھرتے ہوئے صحافیوں کو بھی اعزاز دیا گیا۔ ایوارڈز کو میشو فیملی فاؤنڈیشن اور ییل پروگرام آن کلائمیٹ چینج کمیونیکیشن کی معاونت حاصل رہی۔
کاورنگ کلائمیٹ ناؤ کے شریک بانی کائل پوپ کے مطابق اس سال بہترین موسمیاتی رپورٹنگ کو سراہنا اس لیے خاص اہمیت رکھتا ہے کہ دنیا بھر کے کئی نیوز روم موسمیاتی کوریج سے پیچھے ہٹ رہے ہیں، حالانکہ بدلتے موسم کے اثرات تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ ان کے بقول فاتح رپورٹیں موسمیاتی کہانی سے نئے سرے سے جڑنے کا خاکہ پیش کرتی ہیں۔
ماحولیاتی صحافت کی اہمیت کیوں بڑھ رہی ہے
یہ اعزازات ایک ایسے وقت میں دیے گئے ہیں جب ماحولیاتی صحافیوں کو بڑھتے خطرات کا سامنا ہے۔ یونیسکو کی ایک رپورٹ کے مطابق پچھلے پندرہ برسوں میں دنیا بھر میں ماحولیاتی صحافیوں پر 749 حملے ہوئے جن میں 44 قتل شامل تھے اور صرف پانچ مقدمات میں سزا ہوئی۔ نو سو سے زائد ماحولیاتی صحافیوں کے ایک عالمی سروے میں ستر فیصد نے بتایا کہ انہیں رپورٹنگ کی وجہ سے حملے، دھمکیوں یا دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔
ماہرین کے مطابق قابل اعتماد سائنسی معلومات کے بغیر جاری ماحولیاتی بحران پر قابو پانا ممکن نہیں، اور یہی معلومات عوام تک پہنچانے کا کام ماحولیاتی صحافی کرتے ہیں۔ اسی لیے ان کی حفاظت اور ان کے کام کی پذیرائی دونوں ناگزیر ہیں۔ اس موضوع پر مزید خبریں وطن نیوز کے ماحولیات سیکشن میں پڑھی جا سکتی ہیں۔
عام سوالات
کاورنگ کلائمیٹ ناؤ کیا ہے؟
یہ صحافیوں اور نیوز رومز کا عالمی اشتراک ہے جو موسمیاتی تبدیلی کی بہتر اور سنجیدہ کوریج کے لیے کام کرتا ہے۔ اس کے صحافتی ایوارڈز کا یہ چھٹا سال تھا۔
2026 کے ایوارڈز میں کتنی رپورٹیں شامل تھیں؟
درجنوں ممالک کے صحافیوں کی ایک ہزار دو سو سے زائد رپورٹیں موصول ہوئیں جن میں سے 49 فاتحین کا انتخاب کیا گیا۔
لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ کسے ملا؟
دی گارڈین کی ماحولیاتی ایڈیٹر فیونا ہاروی کو؛ یہ پروگرام کا دوسرا لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ ہے۔

















