اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس منیب اختر نے قائم مقام چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔ وہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کے جنوبی کوریا کے دورے کے دوران یہ ذمہ داری نبھائیں گے، اور یہ دورہ 27 اکتوبر سے 4 نومبر تک جاری رہے گا۔
اہم نکات
- جسٹس منیب اختر نے قائم مقام چیف جسٹس کے عہدے کا حلف اٹھایا
- جسٹس محمد علی مظہر نے ان سے حلف لیا
- حلف برداری کی تقریب سپریم کورٹ کے ججز بلاک میں منعقد ہوئی
- چیف جسٹس یحییٰ آفریدی 27 اکتوبر سے 4 نومبر تک جنوبی کوریا کے دورے پر ہیں
- ان کی غیر موجودگی میں جسٹس منیب اختر قائم مقام چیف جسٹس کی ذمہ داریاں نبھائیں گے
حلف برداری کی تقریب
حلف برداری کی تقریب سپریم کورٹ کے ججز بلاک میں منعقد ہوئی، جس میں سپریم کورٹ کے ججز، قانون افسران اور عدالتی عملے نے شرکت کی۔ تقریب کے دوران جسٹس محمد علی مظہر نے جسٹس منیب اختر سے قائم مقام چیف جسٹس کے عہدے کا حلف لیا۔
تقریب سادگی کے ساتھ منعقد ہوئی اور اس موقع پر عدلیہ کے سینئر ارکان موجود تھے۔ حلف اٹھانے کے ساتھ ہی جسٹس منیب اختر نے بطور قائم مقام چیف جسٹس اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیں۔
چیف جسٹس کا کوریا کا دورہ
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی 27 اکتوبر سے 4 نومبر تک جنوبی کوریا کے دورے پر ہیں۔ ان کی اس غیر موجودگی کے دوران سپریم کورٹ کے کام کی نگرانی کے لیے قائم مقام چیف جسٹس کا تقرر عمل میں آیا ہے۔
رواں ماہ کے آغاز میں بھی چیف جسٹس کی بیرون ملک موجودگی کے دوران جسٹس منیب اختر نے قائم مقام چیف جسٹس کی ذمہ داری نبھائی تھی۔ اب کوریا کے دورے کے لیے ایک مرتبہ پھر ان سے حلف لیا گیا ہے، تاکہ اعلیٰ عدلیہ کی سربراہی میں کوئی خلا پیدا نہ ہو۔
قائم مقام چیف جسٹس کی ذمہ داریاں
جسٹس منیب اختر سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج ہیں، اور قائم مقام چیف جسٹس کی ذمہ داری اسی سینئرٹی کی بنیاد پر انہیں سونپی گئی ہے۔ چیف جسٹس کی واپسی تک وہ سپریم کورٹ کے عدالتی اور انتظامی امور کی نگرانی کریں گے۔

قائم مقام چیف جسٹس کا کردار اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ چیف جسٹس کی غیر موجودگی میں بھی عدالت عظمیٰ کا کام بلا تعطل جاری رہے۔ چیف جسٹس کی واپسی کے بعد وہ دوبارہ اپنے عہدے کی ذمہ داریاں سنبھال لیں گے۔
ملک کی اہم عدالتی خبروں کے لیے قارئین وطن نیوز کی اردو سروس ملاحظہ کر سکتے ہیں۔































