بلوچستان کے ضلع نوشکی میں گرلز ڈگری کالج میں تین مسلح افراد نے فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں تین طالبات زخمی ہو گئیں۔ زخمی طالبات کو میر گل خان نصیر ٹیچنگ اسپتال نوشکی منتقل کر دیا گیا ہے جہاں انہیں طبی امداد دی جا رہی ہے اور ایک طالبہ کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔
اہم نکات
- واقعہ نوشکی کے گرلز ڈگری کالج میں پیش آیا جہاں تین مسلح نقاب پوش افراد داخل ہوئے۔
- حملہ آوروں نے پرنسپل کے دفتر اور سی سی ٹی وی کیمروں میں توڑ پھوڑ کی اور پھر طالبات پر فائرنگ کر دی۔
- فائرنگ سے تین طالبات زخمی ہوئیں جن میں سے ایک کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔
- زخمی طالبات کو میر گل خان نصیر ٹیچنگ اسپتال نوشکی منتقل کر دیا گیا ہے۔
- پولیس نے واقعے کا نوٹس لے لیا ہے جبکہ حملے کے محرکات اور ملزمان کے بارے میں تاحال مزید تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
نوشکی گرلز کالج فائرنگ کا واقعہ
کالج انتظامیہ کے مطابق تین مسلح نقاب پوش افراد کالج کے مرکزی دروازے سے اندر داخل ہوئے اور پرنسپل کے دفتر میں پہنچ گئے۔ وہاں انہوں نے توڑ پھوڑ کی اور سی سی ٹی وی کیمروں کو نقصان پہنچایا۔ اس کے بعد حملہ آوروں نے طالبات پر فائرنگ شروع کر دی اور موقع سے فرار ہو گئے۔
کالج کے انتظامی افسر عبداللہ مینگل کے مطابق حملہ آور مرکزی دروازے سے داخل ہو کر پرنسپل کے دفتر میں گھس آئے تھے۔ نوشکی سٹی پولیس کے مطابق مسلح افراد نے کالج میں داخل ہو کر فائرنگ کی جس سے تین طالبات زخمی ہوئیں۔
زخمی طالبات کی حالت
اسپتال انتظامیہ کے مطابق زخمی طالبات کو فوری طور پر میر گل خان نصیر ٹیچنگ اسپتال نوشکی منتقل کیا گیا جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ زخمی طالبات کی شناخت مہمونہ اور مریم، ساکنان قاضی آباد، اور رخسانہ، ساکن کلی مینگل، کے ناموں سے ہوئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایک طالبہ کی حالت تشویشناک ہے۔

تحقیقات جاری
واقعے کے بعد پولیس نے صورتحال کا نوٹس لے لیا ہے اور تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ تاحال یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ حملے کے پیچھے کیا محرکات تھے اور حملہ آور کون تھے۔ کالج میں پیش آنے والے اس واقعے نے علاقے میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے اور والدین نے طالبات کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
مزید قومی خبریں وطن نیوز اردو پر پڑھیں۔































