اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اعلیٰ سطحی مباحثے میں پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ تجارتی جہازوں پر حملے عالمی بحری سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن چکے ہیں، اور اہم سمندری گزرگاہوں میں خلل توانائی، خوراک اور معیشت کی سلامتی کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ پاکستان کے قائم مقام مستقل مندوب عثمان جدون نے کہا کہ عالمی تجارت کو تنازعات کی نذر نہیں ہونے دیا جا سکتا، اور بحری راستوں کو عالمی معیشت کے لیے محفوظ رکھنا ہوگا۔
اہم نکات
- سلامتی کونسل کا مباحثہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور بحری سلامتی کے موضوع پر ہوا، جس کی صدارت اکتوبر میں کونسل کے صدر ملک یونان نے کی۔
- پاکستان کے قائم مقام مستقل مندوب عثمان جدون نے باب المندب میں تجارتی جہازوں اور جہاز رانوں پر حملوں کی شدید مذمت کی۔
- پاکستان نے سعودی عرب کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔
- پاکستانی مندوب نے کہا کہ بحری گزرگاہوں میں خلل سے توانائی کی فراہمی، غذائی سلامتی اور معاشی استحکام کو خطرات لاحق ہیں۔
- پاکستان نے نئی ٹیکنالوجیز کے ذمہ دارانہ استعمال اور غلط استعمال کے راستے بند کرنے کے لیے اقوام متحدہ کے زیر اہتمام عالمی ضابطہ کاری کا مطالبہ کیا۔
سلامتی کونسل کا مباحثہ اور پاکستان کا موقف
سلامتی کونسل کا یہ مباحثہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور بحری سلامتی کے مضمرات پر منعقد ہوا۔ اس میں اس بات پر غور کیا گیا کہ نئی ٹیکنالوجیز سمندری تجارت اور عالمی امن و سلامتی کو کس طرح متاثر کر رہی ہیں۔ مباحثے کے آغاز میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے دفتر کے نمائندے نے کہا کہ نئی ٹیکنالوجیز بحری سلامتی کے لیے نئے خطرات بھی پیدا کر رہی ہیں اور نئے مواقع بھی فراہم کر رہی ہیں۔
عثمان جدون نے اپنے خطاب میں کہا کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب میں بحری آمد و رفت میں خلل اور تجارتی جہازوں پر حملوں نے واضح کر دیا ہے کہ اہم سمندری راستوں کی سلامتی کتنی جلد توانائی، خوراک اور معاشی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے کی اہم آبی گزرگاہوں میں عدم استحکام سے متاثرہ ممالک کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ پاکستان حوثی ملیشیا کی جانب سے باب المندب کو ہتھیار بنانے اور اس آبنائے سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور جہاز رانوں پر حملوں کے عزائم کی شدید مذمت کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ حملے بحری سلامتی کو نقصان پہنچاتے ہیں اور علاقائی ممالک، بالخصوص سعودی عرب، کے امن اور ترقی کے لیے خطرہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتا ہے اور اس کی قیادت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔

بحری گزرگاہوں پر حملوں کے اثرات
باب المندب اور آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہیں۔ ان راستوں سے روزانہ بڑی مقدار میں تیل، گیس، خوراک اور دیگر تجارتی سامان گزرتا ہے۔ ان گزرگاہوں میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ سے سپلائی چین متاثر ہوتی ہے، مال برداری کی لاگت بڑھتی ہے اور کئی ممالک میں توانائی اور خوراک کی قیمتوں پر دباؤ پڑتا ہے۔
عثمان جدون نے کہا کہ سمندری راستے عالمی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، اس لیے ان کی سلامتی کو تنازعات اور کشیدگی کی نذر نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے زور دیا کہ محفوظ گزرگاہوں، اہم سمندری بنیادی ڈھانچے کے تحفظ اور کمزور ترقی پذیر معیشتوں کو جغرافیائی سیاسی عدم استحکام کے اثرات سے بچانے کے لیے قانون پر مبنی اور باہمی تعاون کا نظام درکار ہے۔
پاکستانی مندوب نے یہ بھی کہا کہ سمندر کے قانون سے متعلق اقوام متحدہ کا کنونشن عالمی بحری نظم کی بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئی ٹیکنالوجیز اور مصنوعی ذہانت کو بحری سلامتی مضبوط کرنے کے لیے استعمال کیا جائے، لیکن ان کے غلط استعمال کے راستے بھی بند کیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نئی ٹیکنالوجیز کے سستے اور ذمہ دارانہ استعمال کے لیے اقوام متحدہ کے زیر اہتمام ایک جامع ضابطہ کاری کا نظام بننا چاہیے، جس میں جنوبی ممالک کی صلاحیت سازی بھی شامل ہو۔
یمن کا پس منظر اور علاقائی کشیدگی
بحیرہ احمر اور باب المندب میں تجارتی جہازوں پر حملوں میں حالیہ ہفتوں میں اضافہ ہوا ہے، جس سے ایک وسیع علاقائی تنازع کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ یمن کا تنازع دو ہزار چودہ کے اواخر میں شروع ہوا تھا اور اس نے جزیرہ نما عرب کے غریب ترین ملک کو دنیا کے بدترین انسانی بحرانوں میں سے ایک میں دھکیل دیا ہے۔
یمن میں بین الاقوامی حمایت یافتہ حکومت اور حوثی گروپ کے درمیان چار سال سے جاری غیر یقینی جنگ بندی رواں سال جولائی میں ختم ہو گئی تھی، جس کے بعد حملوں میں اضافہ دیکھا گیا۔ علاقائی کشیدگی میں اضافے نے سمندری تجارت کے تحفظ کے سوال کو سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر مزید نمایاں کر دیا ہے۔
پاکستان نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ بحری سلامتی کا مسئلہ کسی ایک ملک کا نہیں بلکہ پوری دنیا کا مشترکہ مسئلہ ہے۔ اس لیے تمام ممالک کو مل کر یہ یقینی بنانا ہوگا کہ عالمی تجارت کی شاہراہیں محفوظ رہیں اور سمندری راستے تنازعات کا شکار نہ ہوں۔ مزید عالمی خبریں وطن نیوز اردو پر پڑھیں۔































