جنوبی امریکی ملک پیراگوئے میں ایک بڑے بینک کے بحران نے سیاسی بھونچال پیدا کر دیا ہے۔ پارلیمنٹ نے صدر سینتیاگو پینا کو مواخذے کے ذریعے عہدے سے ہٹا دیا جبکہ چند گھنٹوں بعد حکام نے انہیں ان کے گھر میں نظر بند کر دیا۔ یہ واقعہ ملک کی تاریخ میں ایک غیر معمولی سیاسی اور مالیاتی بحران کی شکل اختیار کر گیا ہے جس نے لاکھوں شہریوں کی بچتوں کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔
اہم نکات
- سینیٹ نے جمعہ 6 نومبر کو 44 ووٹوں سے مواخذے کی منظوری دی؛ ایک سینیٹر اجلاس میں شریک نہیں ہوا۔
- ایوان زیریں نے اس سے قبل 78 ووٹوں سے مواخذے کی منظوری دی تھی۔
- ڈیجیٹل بینک یوئینو کے بحران سے تقریباً 30 لاکھ صارفین اپنے اکاؤنٹس تک رسائی سے محروم ہو گئے۔
- بینک میں تقریباً 85 کروڑ ڈالر کی سرکاری رقم موجود تھی، جن میں پنشن اور صحت فنڈ کے 38 کروڑ ڈالر بھی شامل ہیں۔
- نائب صدر پیڈرو آلیانا نے نئے صدر کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا ہے اور اگست 2028 تک عہدے پر رہیں گے۔
- سابق صدر کو ہفتہ 7 نومبر کی صبح پراسیکیوٹر کے سامنے پیش ہونا ہے؛ الزامات ابھی حتمی نہیں ہوئے۔
بینک کا بحران کیسے پیدا ہوا
یوئینو بینک ملک کے تیزی سے بڑھنے والے ڈیجیٹل بینکوں میں سے ایک تھا جس نے 2021 میں کام شروع کیا تھا۔ مرکزی بینک نے 3 نومبر کو اس کا انتظامی کنٹرول سنبھال لیا کیونکہ بینک کی سرمایہ جاتی حالت قانونی حد سے نصف سے بھی کم رہ گئی تھی۔ اس اقدام کے بعد تقریباً 30 لاکھ صارفین اپنے اکاؤنٹس، بچتوں اور بینک کارڈز تک رسائی سے محروم ہو گئے۔ یہ تعداد ملک کے تقریباً 60 فیصد بالغ شہریوں کے برابر ہے۔
بینک میں سرکاری اداروں اور پنشن فنڈز کی بھی سینکڑوں ملین ڈالر کی رقوم موجود تھیں۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق بینک میں تقریباً 85 کروڑ ڈالر کی سرکاری رقم تھی، جن میں سے تقریباً 38 کروڑ ڈالر ریاستی پنشن اور صحت فنڈ کے تھے۔ مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ جمع کنندگان کی رقوم کی ضمانت تقریباً 38 ہزار ڈالر فی کھاتہ دار تک ہے اور 97 فیصد کھاتہ دار اس حد کے اندر آتے ہیں۔ قانون کے مطابق ضمانت شدہ رقوم 15 دن کے اندر ادا کی جانی ہیں۔

مواخذے کی کارروائی اور نظر بندی
صدر پینا نے جمعرات کو استعفیٰ دے دیا تھا، مگر ارکان پارلیمنٹ نے اسے قبول نہیں کیا اور مواخذے کی کارروائی جاری رکھی۔ ایوان زیریں نے 78 ووٹوں سے مواخذے کی منظوری دی اور پھر سینیٹ نے جمعہ کو 44 ووٹوں سے انہیں عہدے سے ہٹا دیا۔ اس طرح وہ 1989 کے بعد مواخذے کے ذریعے ہٹائے جانے والے ملک کے دوسرے صدر بن گئے ہیں۔
مواخذے کے الزامات میں اعتماد کی خلاف ورزی، اثر و رسوخ کا ناجائز استعمال، پنشن فنڈ کی منتقلی، مرکزی بینک کی نگرانی میں مداخلت اور ادارہ جاتی پردہ پوشی شامل ہیں۔ سابق صدر نے غلط کام سے انکار کیا ہے اور پراسیکیوٹر کے مطابق ان کے خلاف الزامات ابھی حتمی نہیں ہوئے، تاہم ان میں اعتماد کی خلاف ورزی اور اثر و رسوخ کا ناجائز استعمال شامل ہو سکتے ہیں۔ ان کی نظر بندی کے حکم کے ساتھ مرکزی بینک کے سربراہ کارلوس کاروالیو کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیے گئے ہیں۔
نیا صدر اور آگے کیا ہوگا
نائب صدر پیڈرو آلیانا نے چند گھنٹوں بعد نئے صدر کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا اور وہ اگست 2028 تک مدت پوری کریں گے۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق وہ بھی بینک سے متعلق تحقیقات کی زد میں ہیں۔ اٹارنی جنرل ایمیلیانو رولون فرنینڈیز نے بحران پر تین الگ تحقیقات شروع کر دی ہیں — ایک سابق صدر اور دیگر حکام کے خلاف، دوسری بینک کی نگرانی کرنے والے اداروں کے خلاف اور تیسری سرکاری رقم کے بینک میں جمع ہونے کے طریقہ کار پر۔
بینک کے بحران سے متاثرہ جمع کنندگان نے احتجاج کیا ہے اور ملک کے مالیاتی نظام کے استحکام پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ سابق صدر کو ہفتہ کی صبح پراسیکیوٹر کے سامنے پیش ہونا ہے، جہاں ان سے پوچھ گچھ کی جائے گی۔ آنے والے دنوں میں تحقیقات اور عدالتی کارروائی اس بحران کی سمت طے کرے گی۔
مزید عالمی خبریں وطن نیوز پر پڑھیں۔
































