کراچی: سندھ ہائی کورٹ نے بھارتی خفیہ ادارے را سے مبینہ تعلق اور ریاست کے خلاف سازش کے مقدمے میں محمد سلیم کی اپیل پر فیصلہ سناتے ہوئے ان الزامات کے تحت عائد کی گئی عمر قید کی سزائیں کالعدم قرار دے دیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ ملزم کے بھارت کے سفر کی تاریخ کو کسی خفیہ ادارے سے تعلق یا ریاست مخالف سازش کا ثبوت نہیں مانا جا سکتا۔ یہ فیصلہ اسی مقدمے کی نئی پیش رفت ہے جس میں عدالت نے کچھ روز پہلے اپیل پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
فیصلے کے بعد محمد سلیم مکمل طور پر بری نہیں ہوئے۔ عدالت نے دھماکا خیز مواد رکھنے کے الزام میں عمر قید کی سزا کم کر کے دس سال قید میں بدل دی، جب کہ غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے الزام میں دس سال قید اور جرمانے کی سزا برقرار رکھی ہے۔ یوں ریاست مخالف سازش اور مسلح جارحیت کے الزامات ختم ہو گئے، مگر اسلحے اور دھماکا خیز مواد سے متعلق سزائیں اپنی جگہ قائم ہیں۔
اہم نکات
- سندھ ہائی کورٹ نے ریاست مخالف سازش اور مسلح جارحیت کے الزامات پر عمر قید کی سزائیں کالعدم قرار دے دیں۔
- دھماکا خیز مواد رکھنے کی عمر قید کم ہو کر دس سال قید رہ گئی۔
- غیر قانونی اسلحہ رکھنے پر دس سال قید اور جرمانے کی سزا برقرار ہے۔
- عدالت نے کہا کہ بھارت کے دوروں کی سفری تاریخ را سے تعلق کا ثبوت نہیں بنتی۔
- انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ملزم کو تین مرتبہ عمر قید اور دیگر الزامات میں چونتیس سال قید کی سزا سنائی تھی۔
- سرکاری وکیل کے مطابق ملزم کو سات اکتوبر دو ہزار چوبیس کو منوڑا میں گرفتار کیا گیا تھا۔
سندھ ہائی کورٹ فیصلہ: عدالت نے کیا حکم دیا
سندھ ہائی کورٹ نے اپیل کی سماعت کے بعد قرار دیا کہ استغاثہ مبینہ ساتھیوں سے رابطے، سازش یا ریاست کے خلاف جنگ کی تیاری کے قابل اعتماد شواہد پیش کرنے میں ناکام رہا۔ عدالت کے مطابق محض یہ کہ کوئی شخص بھارت گیا تھا، اس بنیاد پر اسے کسی خفیہ ادارے کا ایجنٹ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ثبوت کی کمی کے باعث ریاست مخالف سازش اور مسلح جارحیت کے الزامات پر سنائی گئی عمر قید کی سزائیں ختم کر دی گئیں۔
دھماکا خیز مواد کے معاملے میں عدالت نے سزا کی شدت میں کمی کی، جب کہ غیر قانونی اسلحے کے معاملے میں ماتحت عدالت کا فیصلہ برقرار رکھا۔ اس فرق سے ظاہر ہوتا ہے کہ عدالت نے ہر الزام کو الگ الگ پرکھا اور صرف وہی سزائیں برقرار رکھیں جن کی بنیاد ریکارڈ میں موجود تھی۔

فیصلے کی بنیاد کیا بنی
فیصلے میں ایک اہم قانونی نکتہ بھی سامنے آیا۔ عدالت نے کہا کہ دھماکا خیز مواد یا اسلحے کی برآمدگی سے خود بخود دہشت گردی کا جرم ثابت نہیں ہوتا۔ دہشت گردی کے جرم کے لیے یہ ثابت کرنا ضروری ہے کہ ملزم کا مخصوص ارادہ اور مقصد دہشت پھیلانا تھا۔ برآمدگی اور ارادے کے درمیان یہ فرق اس فیصلے کا مرکزی حصہ ہے۔
وکیل صفائی نے اپیل میں یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ ملزم پر عائد تمام الزامات بے بنیاد اور بے ثبوت ہیں۔ عدالت نے اس دلیل کو جزوی طور پر تسلیم کرتے ہوئے سنگین ترین الزامات کی سزائیں ختم کیں، جب کہ اسلحے سے متعلق سزائیں قائم رکھیں۔
مقدمے کا پس منظر
سرکاری وکیل کے مطابق خصوصی تحقیقاتی یونٹ نے سات اکتوبر دو ہزار چوبیس کو منوڑا میں کارروائی کے دوران محمد سلیم کو گرفتار کیا تھا۔ دعویٰ کیا گیا تھا کہ ملزم کے قبضے سے پستول، دھماکا خیز مواد، راکٹ لانچر اور دو پاسپورٹ برآمد ہوئے۔ اسی بنیاد پر انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ملزم کو تین مرتبہ عمر قید اور دیگر الزامات میں چونتیس سال قید کی سزا سنائی تھی۔
ملزم نے اس سزا کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔ اپیل پر دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کیا تھا اور اب سنائے گئے فیصلے میں ماتحت عدالت کی سزاؤں میں بڑی تبدیلی کر دی گئی ہے۔ یہ فیصلہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ سنگین الزامات میں بھی ہر الزام کے لیے الگ اور ٹھوس ثبوت درکار ہوتا ہے۔































