اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرصدارت 2 اکتوبر 2026ء کو ریگولیٹری اصلاحات پر ہونے والے اجلاس میں صحت اور ادویات کے شعبے نمایاں رہے۔ وزیراعظم نے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کی جدیدکاری کی تعریف کرتے ہوئے اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کو ہدایت کی کہ SIFC صحت اصلاحات کو مؤثر انداز میں اجاگر کرے تاکہ تاجر برادری ان سہولیات سے بھرپور فائدہ اٹھا سکے۔
اسی ہفتے وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال کی زیرصدارت DRAP کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں میڈیکل ڈیوائسز کے ریگولیٹری نظام کی ڈیجیٹلائزیشن کی تیاریوں کا جائزہ بھی لیا گیا۔ ان پیش رفتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ صحت اور ادویات کے شعبوں میں اصلاحات حکومت کی ترجیحات میں سرفہرست ہیں۔ اسی موضوع پر مزید تفصیل وطن نیوز کے مرکزی اردو صفحے پر بھی دیکھی جا سکتی ہے۔
اہم نکات
- اجلاس: وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت ریگولیٹری اصلاحات کا اجلاس، 2 اکتوبر 2026ء، اسلام آباد
- اہم ہدایت: SIFC اصلاحات کو اجاگر کرے؛ SIFC کا وفد تمام صوبوں کا دورہ کرے گا
- DRAP: میڈیکل ڈیوائسز کے نظام کی ڈیجیٹلائزیشن؛ ادارے کو جدید، شفاف اور شہری دوست بنانے کا عزم
- فارما سیکٹر: ڈی ریگولیشن کے بعد برآمدات میں 34 فیصد اضافہ، ادویات کی قلت کا خاتمہ (PPMA)
- جعلی ادویات: ہر دوا پر منفرد بار کوڈ والا ٹریس اینڈ ٹریک نظام متعارف کرایا جا رہا ہے
وزیراعظم کے اجلاس میں SIFC کو اہم ہدایات
وزیراعظم نے اجلاس میں کہا کہ کاروباری سرگرمیوں میں آسانی اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ریگولیٹری اصلاحات ناگزیر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ DRAP کو اصلاحات کے ذریعے جدید بنایا گیا ہے اور دیگر ریگولیٹری اداروں میں بھی اسی طرز کی اصلاحات لائی جائیں۔ (Sabah News)
اجلاس میں ریگولیٹری رجسٹری کے قیام کی ہدایت کی گئی تاکہ ملک میں موجود تمام ریگولیٹری تقاضوں اور قوانین کو ایک جامع نظام کے تحت یکجا کیا جا سکے۔ وزیراعظم نے ایز آف ڈوئنگ بزنس ایکٹ کے ملک گیر نفاذ اور اصلاحات کے اثرات کی غیرجانبدار جانچ کے لیے تھرڈ پارٹی توثیق کا حکم بھی دیا۔ وزیراعظم کے دفتر کے مطابق SIFC کا ایک وفد تمام صوبوں کا دورہ کرے گا اور صوبائی حکومتوں کو ریگولیٹری اصلاحات کے عمل میں شامل کرے گا۔

DRAP کی جدیدکاری اور میڈیکل ڈیوائسز کی ڈیجیٹلائزیشن
وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال کی زیرصدارت DRAP کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں میڈیکل ڈیوائسز کے ریگولیٹری نظام کی ڈیجیٹلائزیشن کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔ وزیر صحت نے کہا کہ پاکستانی عوام کی صحت اور ادویات کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ (PID)
اجلاس میں بتایا گیا کہ میڈیکل ڈیوائسز کی رجسٹریشن اور لائسنسنگ کے لیے آن لائن نظام کی طرف منتقلی جاری ہے، جو ریگولیٹری فریم ورک کی جدیدکاری کی سمت ایک اہم قدم ہے۔ DRAP کو جدید، مؤثر، شفاف اور شہری دوست ادارہ بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا، ساتھ ہی فارماسیوٹیکل برآمدات بڑھانے کی مربوط حکمت عملی پر بھی زور دیا گیا۔
ڈی ریگولیشن کے بعد فارما سیکٹر: پہلے اور اب
پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (PPMA) کے SIFC کے ساتھ ہونے والے اجلاس کے مطابق ادویات کے شعبے میں ڈی ریگولیشن کے واضح نتائج سامنے آئے ہیں۔ (The News، TechJuice)
| پہلو | ڈی ریگولیشن سے پہلے | ڈی ریگولیشن کے بعد |
|---|---|---|
| ادویات کی دستیابی | قلت کی شکایات | قلت کا خاتمہ، فارمیسیوں میں مستحکم فراہمی |
| فارماسیوٹیکل برآمدات | سست روی | 34 فیصد اضافہ (PPMA کے مطابق) |
| پالیسی کا تسلسل | اصلاحات پر تحفظات | SIFC کی اصلاحات جاری رکھنے کی یقین دہانی |
PPMA نے SIFC کی جانب سے ڈائریکٹرز کی ذمہ داری سے متعلق ڈرگ قوانین میں ترامیم کی توثیق پر شکریہ ادا کیا، جبکہ ازبکستان اور آذربائیجان میں برآمدی مواقع پر مبنی پوزیشن پیپر بھی پیش کیا۔
ادویات کی قیمتیں، جعلی ادویات اور مقامی پیداوار
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیرصدارت ڈرگ پرائسنگ کمیٹی اور DRAP پالیسی بورڈ کی سفارشات پر غور کے لیے قائم کابینہ کمیٹی کے اجلاس میں نئی ادویات کی قیمتوں کے تعین، مشکلات کی درخواستوں اور ضروری ادویات کی دستیابی کا جائزہ لیا گیا۔ وزیر خزانہ نے زور دیا کہ ادویات کی قیمتوں کے فیصلے شفاف، ثبوت پر مبنی اور مشاورتی عمل سے ہونے چاہئیں۔ (PID)
دوسری جانب وزیر صحت اور PPMA کے اجلاس میں ادویات کے خام مال (APIs) کی مقامی پیداوار پر اتفاق ہوا۔ DRAP کو نیفتھا کریکر کی تنصیب کے لیے جامع کانسیپٹ نوٹ تیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ جعلی ادویات کے خاتمے کے لیے جدید ٹریس اینڈ ٹریک نظام متعارف کرایا جا رہا ہے جس کے تحت ہر دوا پر ایک منفرد بار کوڈ چھپا ہوگا اور مریض موبائل فون سے دوا کی اصلیت اور قیمت کی تصدیق کر سکیں گے۔ (PID)

نتیجہ
وزیراعظم کے حالیہ اجلاس، DRAP کی ڈیجیٹلائزیشن، ڈی ریگولیشن کے مثبت نتائج اور ٹریس اینڈ ٹریک جیسے اقدامات مل کر ظاہر کرتے ہیں کہ صحت اور ادویات کے شعبوں میں اصلاحات کا عمل تیز ہو رہا ہے۔ SIFC کو ان اصلاحات کو اجاگر کرنے کی ہدایت اس بات کی علامت ہے کہ حکومت ان شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھانا چاہتی ہے۔ ان اقدامات کی بروقت تکمیل سے عوام کو سستی، معیاری اور اصل ادویات کی فراہمی بہتر ہوگی۔

























