LIVE
اہم خبر
لانا نسیبہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی دوڑ میں شامل، پہلی خاتون سربراہ بننے کی امیدکاپ17 میں مالیات کی جنگ: فطرت بچانے کی قیمت کون ادا کرے گا؟لاہور ایک بار پھر دنیا کا آلودہ ترین بڑا شہر، ہوا خطرناک حد تک آلودہتبت میں زلزلہ: ناگکو میں 7 شدت کے جھٹکے، کم از کم 16 ہلاک، سینکڑوں مکانات منہدمپیٹرول سستا، ڈیزل مہنگا — 23 اکتوبر کے لیے نئی قیمتیں نافذیورومیڈ موسمیاتی تعلیم سروے کی مدت 30 اکتوبر تک بڑھا دی گئی، کاپ31 سے پہلے نقشہ مکمل ہوگاآئرین ڈینکلمین ینگ ایکو فیمنسٹ ایوارڈ 2026: کاپ17 میں تین نوجوان رہنماؤں کو اعزازبحرالکاہل سیاحت موسمیاتی ایکشن پلان ہونیارا میں آگے بڑھاکیامبو میں 10 ہزار درخت لگانے کی مہم شروع، پہلے مرحلے میں 5 ہزار پودے لگائے گئےجنوبی افریقہ 60 ملین ڈالر کے سرکلر الیکٹرانکس پروگرام میں شاملچین کا کاپ31 سے مطالبہ: عمل درآمد اور موسمیاتی مالیات کو پہلی ترجیح دی جائےہائیڈروجن کمپنی نیل نے مورٹن ہولم کو نیا سربراہ مقرر کر دیامصنوعی ذہانت کے اخراجات کی فکر نے امریکی اسٹاک مارکیٹ کو نیچے دھکیل دیابھارت نے نیوزی لینڈ کے خلاف ریکارڈ ہدف عبور کر کے پہلا میچ جیت لیاپیرس فیشن ویک میں ہلکے پن اور شفاف کپڑوں کا راج رہاامریکہ میں مکانات کی زیر التوا فروخت ریکارڈ کم ترین سطح پر آ گئیمصنوعی ذہانت کی کمپنی اے ایس آئی کی قدر تین ارب ڈالر تک پہنچ گئیسادہ تبدیلیوں سے گھریلو خوراک کا ضیاع 28 فیصد کم ہوا، یورپی مطالعے کا نتیجہموناش کی نئی رپورٹ: تربیت اور ماہرین سے رابطہ انڈونیشیا میں موسمیاتی رپورٹنگ کو مضبوط بنا سکتا ہےسنہ 2022 سے اب تک ملک میں 349 ریلوے حادثات، نیا ٹریک بچھانے کا اعلانلانا نسیبہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی دوڑ میں شامل، پہلی خاتون سربراہ بننے کی امیدکاپ17 میں مالیات کی جنگ: فطرت بچانے کی قیمت کون ادا کرے گا؟لاہور ایک بار پھر دنیا کا آلودہ ترین بڑا شہر، ہوا خطرناک حد تک آلودہتبت میں زلزلہ: ناگکو میں 7 شدت کے جھٹکے، کم از کم 16 ہلاک، سینکڑوں مکانات منہدمپیٹرول سستا، ڈیزل مہنگا — 23 اکتوبر کے لیے نئی قیمتیں نافذیورومیڈ موسمیاتی تعلیم سروے کی مدت 30 اکتوبر تک بڑھا دی گئی، کاپ31 سے پہلے نقشہ مکمل ہوگاآئرین ڈینکلمین ینگ ایکو فیمنسٹ ایوارڈ 2026: کاپ17 میں تین نوجوان رہنماؤں کو اعزازبحرالکاہل سیاحت موسمیاتی ایکشن پلان ہونیارا میں آگے بڑھاکیامبو میں 10 ہزار درخت لگانے کی مہم شروع، پہلے مرحلے میں 5 ہزار پودے لگائے گئےجنوبی افریقہ 60 ملین ڈالر کے سرکلر الیکٹرانکس پروگرام میں شاملچین کا کاپ31 سے مطالبہ: عمل درآمد اور موسمیاتی مالیات کو پہلی ترجیح دی جائےہائیڈروجن کمپنی نیل نے مورٹن ہولم کو نیا سربراہ مقرر کر دیامصنوعی ذہانت کے اخراجات کی فکر نے امریکی اسٹاک مارکیٹ کو نیچے دھکیل دیابھارت نے نیوزی لینڈ کے خلاف ریکارڈ ہدف عبور کر کے پہلا میچ جیت لیاپیرس فیشن ویک میں ہلکے پن اور شفاف کپڑوں کا راج رہاامریکہ میں مکانات کی زیر التوا فروخت ریکارڈ کم ترین سطح پر آ گئیمصنوعی ذہانت کی کمپنی اے ایس آئی کی قدر تین ارب ڈالر تک پہنچ گئیسادہ تبدیلیوں سے گھریلو خوراک کا ضیاع 28 فیصد کم ہوا، یورپی مطالعے کا نتیجہموناش کی نئی رپورٹ: تربیت اور ماہرین سے رابطہ انڈونیشیا میں موسمیاتی رپورٹنگ کو مضبوط بنا سکتا ہےسنہ 2022 سے اب تک ملک میں 349 ریلوے حادثات، نیا ٹریک بچھانے کا اعلان
دنیا

تبت میں زلزلہ: ناگکو میں 7 شدت کے جھٹکے، کم از کم 16 ہلاک، سینکڑوں مکانات منہدم

News Desk 6شائع شدہ 23 اکتوبر، 2026
تبت میں زلزلہ: ناگکو میں 7 شدت کے جھٹکے، کم از کم 16 ہلاک، سینکڑوں مکانات منہدم
Share this story

چین کے خود مختار علاقے تبت کے شمالی حصے میں جمعرات کی رات آنے والے 7 شدت کے طاقتور زلزلے سے کم از کم 16 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔ زلزلے نے سینکڑوں مکانات کو مٹی کا ڈھیر بنا دیا اور پہاڑی علاقے میں مواصلات اور آمد و رفت کا نظام بری طرح متاثر ہوا۔ حکام نے متاثرہ علاقے میں ہنگامی حالت نافذ کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر امدادی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔

اہم نکات

  • زلزلے کی شدت 7 ریکارڈ کی گئی، جو جمعرات کی رات مقامی وقت کے مطابق 10 بج کر 33 منٹ پر آیا۔
  • زلزلے کا مرکز تبت کے شہر ناگکو سے 191 کلومیٹر مشرق شمال مشرق میں تھا، اور اس کی گہرائی 18 کلومیٹر بتائی گئی ہے۔
  • اب تک کم از کم 16 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے، جب کہ درجنوں زخمی ہیں، جن میں 11 کی حالت تشویش ناک ہے۔
  • کم از کم 339 مکانات اور 20 مویشیوں کے باڑے منہدم ہو گئے ہیں۔
  • 1600 سے زیادہ امدادی کارکن متاثرہ علاقوں میں مصروف ہیں، اور ایک ہزار تیار شدہ مکانات سمیت 3 ہزار خیمے پہنچائے گئے ہیں۔
  • حکام نے سطح دوم کا ہنگامی ردعمل فعال کر دیا ہے، اور برف باری کی پیش گوئی نے امدادی کام مزید مشکل بنا دیا ہے۔

تبت میں زلزلہ: مرکز اور شدت

امریکی ارضیاتی سروے کے مطابق زلزلے کا مرکز ناگکو کے شمال مشرقی علاقے میں ایک کم آبادی والے اور بلند پہاڑی خطے میں تھا۔ سروے نے زلزلے کی گہرائی 18 کلومیٹر بتائی ہے، جب کہ چینی نگرانی کے اداروں نے گہرائی کچھ کم بتائی ہے۔ متاثرہ علاقہ سطح سمندر سے تقریباً 4 ہزار 864 میٹر کی بلندی پر واقع ہے، جہاں آبادی بکھری ہوئی بستیوں میں رہتی ہے۔

زلزلے کے جھٹکے اتنے شدید تھے کہ دکانوں میں سامان شیلفوں سے گر گیا اور لوگ خوف زدہ ہو کر عمارتوں سے باہر نکل آئے۔ چینی سرکاری ٹیلی ویژن کی جاری کردہ ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لوگ ریسٹورنٹس سے بھاگ کر باہر آ رہے ہیں۔ زلزلے کے بعد 4.3 سے 5.2 شدت کے کم از کم سات آفٹر شاکس بھی ریکارڈ کیے گئے۔

متاثرہ ضلع باچن کے مرکزی قصبے میں بجلی اور مواصلاتی نظام متاثر ہوا ہے۔ مقامی حکام کے مطابق قصبے کی انتظامی عمارت کی دیواروں میں دراڑیں پڑ گئی ہیں۔ قومی شاہراہ 317 کے کچھ حصے پتھر گرنے کے باعث بند کر دیے گئے ہیں اور صرف امدادی گاڑیوں کو گزرنے کی اجازت ہے۔ مقامی ریل سروس بھی عارضی طور پر معطل کر دی گئی ہے۔

امدادی کارروائیاں اور متاثرہ علاقوں کی مشکلات

چینی حکام نے متاثرہ علاقوں میں 1600 سے زیادہ امدادی کارکن تعینات کیے ہیں، جن میں پولیس اور آگ بجھانے والے دستوں کے سینکڑوں اہلکار شامل ہیں۔ امدادی ٹیمیں رات بھر ملبے تلے دبے افراد کی تلاش میں مصروف رہیں، اور بے گھر ہونے والے خاندانوں کے لیے عارضی خیمے لگائے جا رہے ہیں۔

تبت کے پہاڑی علاقے میں زلزلے کے بعد امدادی خیمے اور کارکنوں کی علامتی تصویر
متاثرہ پہاڑی علاقے میں امدادی خیمے اور کارکن — علامتی تصویر

حکام نے متاثرین کے لیے ایک ہزار تیار شدہ مکانات، تقریباً 3 ہزار خیمے، تہہ کرنے والے بستر، ٹارچیں اور گرم کپڑے پہنچائے ہیں۔ سرد پہاڑی علاقے میں رات کا درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے گر جاتا ہے، اس لیے بے گھر خاندانوں کو گرم پناہ گاہوں کی فوری ضرورت ہے۔ اطلاعات کے مطابق 12 ہزار سے زیادہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔

موسمیاتی حکام نے آنے والے دنوں میں وقفے وقفے سے برف باری کی پیش گوئی کی ہے، جس سے امدادی کام اور متاثرہ علاقوں تک رسائی مزید مشکل ہو سکتی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ نقصان کا مکمل جائزہ ابھی جاری ہے، اور ہلاکتوں کی تعداد میں تبدیلی آ سکتی ہے کیوں کہ دور دراز بستیوں سے اطلاعات آہستہ آہستہ موصول ہو رہی ہیں۔

تبت کی زلزلہ خیز زمین اور پچھلا بڑا سانحہ

تبت دنیا کے سب سے زیادہ زلزلہ خیز علاقوں میں شمار ہوتا ہے، کیوں کہ یہ اس مقام پر واقع ہے جہاں بھارتی اور یوریشیائی زمینی پلیٹیں آپس میں ٹکراتی ہیں۔ اسی ٹکراؤ نے ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے کو جنم دیا ہے، اور اسی وجہ سے خطے میں بار بار زمین لرزتی رہتی ہے۔

رواں زلزلہ تبت میں گزشتہ چند برسوں کا شدید ترین زلزلہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل جنوری 2025 میں تبت کے ضلع ٹنگری میں آنے والے زلزلے میں کم از کم 126 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بار مرکز کے آس پاس آبادی کم ہونے کی وجہ سے جانی نقصان نسبتاً کم ہوا، لیکن مٹی اور کچی اینٹوں سے بنے مکانات شدید جھٹکوں کا مقابلہ نہیں کر سکے۔

عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق حکام نے متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان کی ترسیل تیز کر دی ہے اور نقصان کا جائزہ لینے والی ٹیمیں گاؤں گاؤں جا رہی ہیں۔ وطن نیوز پر عالمی خبروں کی مزید کوریج پڑھیں۔

متعلقہ خبریں

سعودی عرب پر حوثی حملے: دمام ایئرپورٹ اور شیبہ آئل فیلڈ پر حملوں میں تین افراد ہلاکدنیا

سعودی عرب پر حوثی حملے: دمام ایئرپورٹ اور شیبہ آئل فیلڈ پر حملوں میں تین افراد ہلاک

سعودی عرب کے مشرقی صوبے میں ہوائی اڈے اور تیل کی تنصیب پر الگ الگ حملوں میں تین افراد ہلاک اور دس زخمی ہو گئے، جب کہ امریکہ نے اپنے سفارت خانے کے غیر ضروری عملے اور اہل خانہ کو سعودی عرب چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے۔

مزید پڑھیں

سیارہ اور ماحول

ماحولیات اور استحکام

مستقبل کی نسلوں کے لیے ایک سبز اور زیادہ پائیدار سیارے کی طرف تبدیلی لانے والی خبریں، کہانیاں اور حل۔

کاپ17 میں مالیات کی جنگ: فطرت بچانے کی قیمت کون ادا کرے گا؟
نمایاں خبر

کاپ17 میں مالیات کی جنگ: فطرت بچانے کی قیمت کون ادا کرے گا؟

یرےوان میں فطرت کے نقصان کو روکنے کے عالمی منصوبے کے پہلے جائزے میں سب سے مشکل سوال سامنے آ گیا ہے: اس کی قیمت کون ادا کرے گا؟ اقوام متحدہ کی حیاتیاتی تنوع کانفرنس، کاپ17، اپنے فیصلہ کن ہفتے میں داخل ہو رہی ہے اور حکومتیں کاپ17 حیاتیاتی تنوع مالیات پر منقسم ہیں —

مکمل خبر پڑھیں
موناش کی نئی رپورٹ: تربیت اور ماہرین سے رابطہ انڈونیشیا میں موسمیاتی رپورٹنگ کو مضبوط بنا سکتا ہے
گرین جرنلزم

موناش کی نئی رپورٹ: تربیت اور ماہرین سے رابطہ انڈونیشیا میں موسمیاتی رپورٹنگ کو مضبوط بنا سکتا ہے

انڈونیشیا کے صحافی موسمیاتی تبدیلی اور توانائی کی منتقلی پر زیادہ گہرائی سے رپورٹنگ کرنا چاہتے ہیں، لیکن سائنسی علم کی کمی، ماہرین تک محدود رسائی اور نیوز رومز کے تنگ وسائل ان کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ انڈونیشیا میں موسمیاتی رپورٹنگ کے بارے میں یہ نئی رپورٹ 21 اکتوبر 2026 کو موناش موسمیاتی رابطہ

مکمل خبر پڑھیں
میگالیزی نیڈزیلسکی پرائز 2026: موسمیاتی مطابقت کی رپورٹنگ نے یورپی صحافتی اعزاز جیت لیا
گرین جرنلزم

میگالیزی نیڈزیلسکی پرائز 2026: موسمیاتی مطابقت کی رپورٹنگ نے یورپی صحافتی اعزاز جیت لیا

برسلز میں تین نوجوان صحافیوں کو اعزاز ملا، جن میں جرمنی کی میری ہارٹمین بھی شامل ہیں جنہوں نے موسمیاتی مطابقت پر ویڈیو رپورٹ بنائی، اور میڈیا کے لیے 35 لاکھ یورو کی نئی کال بھی شروع ہوئی۔

مکمل خبر پڑھیں
آئی سی جے این: 2027 کے لیے مفت موسمیاتی صحافت تربیتی پروگرام، درخواستیں کھل گئیں
گرین جرنلزم

آئی سی جے این: 2027 کے لیے مفت موسمیاتی صحافت تربیتی پروگرام، درخواستیں کھل گئیں

دنیا بھر کے صحافی اور ایڈیٹر اب انفارمڈ موسمیاتی صحافت نیٹ ورک (آئی سی جے این) کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔ یہ چھ ماہ کا مفت آن لائن تربیتی پروگرام ہے جو موسمیاتی تبدیلی کی بہتر اور مؤثر رپورٹنگ کے لیے وقف ہے۔ پہلے گروپ کے سو ارکان جنوری 2027 سے پروگرام شروع کریں

مکمل خبر پڑھیں
امریکی مقامی صحافیوں کے لیے ایس جے این اور ایم آئی ٹی کی موسمیاتی صحافت فیلوشپ
گرین جرنلزم

امریکی مقامی صحافیوں کے لیے ایس جے این اور ایم آئی ٹی کی موسمیاتی صحافت فیلوشپ

سلوشنز جرنلزم نیٹ ورک اور میساچوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) نے موسمیاتی صحافت کی ایک نئی آٹھ ماہ کی فیلوشپ کے لیے درخواستیں کھول دی ہیں، جس کے تحت امریکہ میں مقیم دس صحافیوں کو 7,500 ڈالر کا وظیفہ دے کر ان کے اپنے علاقوں میں موسمیاتی تبدیلی کے حل پر مبنی گہرے تحقیقی مقامی رپورٹنگ کے منصوبے تیار کرنے میں مدد دی جائے گی۔ درخواستوں کی آخری تاریخ 26 اکتوبر 2026 ہے۔

مکمل خبر پڑھیں
ای آئی ٹی بی کا پروگرام ’بیزی ناتورا‘ 2026 کا باسک ماحولیاتی مواصلات ایوارڈ جیت گیا
گرین جرنلزم

ای آئی ٹی بی کا پروگرام ’بیزی ناتورا‘ 2026 کا باسک ماحولیاتی مواصلات ایوارڈ جیت گیا

باسک صحافیوں کی انجمن اور باسک صحافیوں کے کالج نے اعلان کیا ہے کہ ای آئی ٹی بی کے وائلڈ لائف پروگرام “بیزی ناتورا” نے باسک ماحولیاتی مواصلات ایوارڈ 2026 جیت لیا ہے۔ یہ اعزاز 15ویں باسک صحافتی ایوارڈز کے ماحولیاتی حصے میں 16 اکتوبر 2026 کو دیا گیا۔ اس پروگرام نے اردوایبائی کے قدرتی

مکمل خبر پڑھیں
ڈبلیو سی ایس جے 2027 ٹریول فیلوشپ: سائنس اور موسمیاتی صحافیوں کے لیے لندن کا مکمل خرچ پر سفر، درخواست کی آخری تاریخ 23 اکتوبر
گرین جرنلزم

ڈبلیو سی ایس جے 2027 ٹریول فیلوشپ: سائنس اور موسمیاتی صحافیوں کے لیے لندن کا مکمل خرچ پر سفر، درخواست کی آخری تاریخ 23 اکتوبر

سائنس اور موسمیاتی صحافیوں کے لیے جن کے پاس بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کے وسائل نہیں، ڈبلیو سی ایس جے 2027 ٹریول فیلوشپ کے لیے درخواست دینے میں صرف چھ دن باقی ہیں۔ یہ مکمل خرچ پر مشتمل پروگرام منتخب صحافیوں کے سفر، رہائش اور رجسٹریشن کے اخراجات ادا کرے گا تاکہ وہ لندن

مکمل خبر پڑھیں
جنگلات کی حکمرانی میڈیا ورکشاپ: ای جے این تیس صحافیوں کو تربیت دے گا
گرین جرنلزم

جنگلات کی حکمرانی میڈیا ورکشاپ: ای جے این تیس صحافیوں کو تربیت دے گا

ارتھ جرنلزم نیٹ ورک (ای جے این) اپنی جنگلات کی حکمرانی میڈیا ورکشاپ کا انعقاد کر رہا ہے — ۲۱ اور ۲۲ اکتوبر ۲۰۲۶ کو دو روزہ ورچوئل تربیتی پروگرام، جس میں تقریباً تیس صحافی شرکت کریں گے۔ یہ ورکشاپ فارسٹ گورننس میڈیا انیشی ایٹو کے تحت اور برطانوی حکومت کی بین الاقوامی ترقیاتی فنڈنگ

مکمل خبر پڑھیں

ہر قدم اہم ہے

آج کے چھوٹے اقدامات، کل کے بڑے اثرات۔

مزید کہانیاں دیکھیں
انٹیلی جنس ڈوزیئر

وطن نیوز کے ساتھ باخبر رہیں

تازہ ترین خبریں، اپ ڈیٹس اور اہم کہانیاں براہ راست اپنے ان باکس میں حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔