راولپنڈی — پیر 21 ستمبر 2026 کو راولپنڈی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (آر ڈی اے) نے نجی ہاؤسنگ اسکیم ”سگنیچر سٹی“—جو پہلے سنچری ٹاؤن کے نام سے جانی جاتی تھی—کی غیر قانونی تشہیر اور مارکیٹنگ کے خلاف کارروائی کا اعلان کیا۔ اسکیم موضع گڑھا بھڑتھا اور بیگا شیخا میں بتائی جاتی ہے، اور آر ڈی اے کے مطابق سپانسرز نے سوشل میڈیا، واٹس ایپ، یوٹیوب اور دیگر آن لائن پلیٹ فارمز پر بغیر مطلوبہ منظوری کے پلاٹ اور یونٹ فروخت کی تشہیر کی۔
آر ڈی اے کا موقف: اسکیم غیر قانونی
آر ڈی اے ترجمان کے مطابق سگنیچر سٹی ایک غیر قانونی ہاؤسنگ اسکیم ہے اور اس کے سپانسرز نے مجاز اتھارٹی سے مطلوبہ منظوری حاصل کیے بغیر تشہیری سرگرمیاں جاری رکھیں۔ اتھارٹی نے متعلقہ افراد کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی ہے، جس میں متعلقہ قانون کی دفعہ 12(5) کے تحت نوٹس جاری کرنا بھی شامل ہے۔ اس کے ساتھ آر ڈی اے نے قومی سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) راولپنڈی کو خط لکھا ہے تاکہ غیر قانونی آن لائن اشتہارات کے خلاف قابلِ اطلاق قوانین کے تحت کارروائی کی جائے۔
پنجاب کے قوانین میں تشہیر کی پابندی
ترجمان نے یاد دلایا کہ پنجاب ڈیولپمنٹ اتھارٹیز پرائیویٹ ہاؤسنگ اسکیم رولز 2021 کے قاعدہ 46(1) کے تحت سپانسرز پرنٹ یا الیکٹرانک میڈیا—یا کسی بھی دیگر طریقے—سے پلاٹ یا رہائشی یونٹ فروخت کے لیے تشہیر نہیں کر سکتے جب تک اتھارٹی کی پیشگی منظوری نہ مل جائے۔ یہ شرط خریداروں کو گمراہ کن اشتہارات سے بچانے اور منظوری کے عمل کو شفاف رکھنے کے لیے رکھی گئی تھی؛ آر ڈی اے کا کہنا ہے کہ سگنیچر سٹی کی آن لائن مہم اسی پابندی کی خلاف ورزی ہے۔
این اے بی اور یوٹیلیٹی اداروں کو خطوط
آر ڈی اے نے بتایا کہ نجی ہاؤسنگ اسکیموں کے سوشل میڈیا پر غیر قانونی اشتہارات کے بارے میں قومی احتساب بیورو (این اے بی) راولپنڈی، چیئرمین آئی ای ایس سی او، جنرل منیجر ایس این جی پی ایل، جنرل منیجر پی ٹی سی ایل، ڈسٹرکٹ کلیکٹر اور ماحولیات تحفظ ایجنسی (ای پی اے) کو بھی خطوط بھیجے گئے ہیں۔ ترجمان کے مطابق مالکان یا ڈیولپرز نے آر ڈی اے سے این او سی حاصل کرنے کے غلط دعوے بھی کیے، جو خریداروں کے لیے اضافی خطرے کی نشاندہی کرتا ہے۔
خریداروں کے لیے مشورہ
اتھارٹی نے شہریوں سے کہا ہے کہ پلاٹ خریدنے یا سرمایہ کاری سے پہلے نجی ہاؤسنگ اسکیموں کی قانونی اور منظور شدہ حیثیت آر ڈی اے کی سرکاری ویب سائٹ سے تصدیق کریں۔ صرف اشتہارات، سوشل میڈیا مہمات یا سپانسرز کے دعووں پر انحصار نہ کریں۔ صوبے بھر میں غیر قانونی اسکیموں کے نقصانات کی روشنی میں یہ احتیاطی پیغام خاص طور پر اہم ہے: منظوری کے بغیر فروخت کی پیشکش قانونی جھگڑے، سہولتوں کی عدم فراہمی اور سرمایہ ڈوبنے کا سبب بن سکتی ہے۔
آر ڈی اے نے واضح کیا کہ شہریوں کو دھوکا دہی یا گمراہ کن سرمایہ کاری کی پیشکشوں سے بچانے اور قانون کی پاسداری یقینی بنانے کے لیے غیر قانونی ہاؤسنگ اسکیموں اور غیر مجاز سرگرمیوں کے خلاف نفاذ کی کارروائی جاری رہے گی۔ سگنیچر سٹی معاملہ اس لیے بھی توجہ کا مرکز ہے کہ مارکیٹنگ ڈیجیٹل چینلز پر منتقل ہو چکی ہے—جہاں تصدیق کے بغیر دعوے تیزی سے پھیلتے ہیں—اور نفاذی ادارے اب روایتی نوٹس کے ساتھ سائبر اور یوٹیلیٹی چینلز کو بھی مداخلت میں شامل کر رہے ہیں۔
ذرائع: اے پی پی (راولپنڈی، 21 ستمبر 2026) — آر ڈی اے ترجمان کا بیان؛ پنجاب ڈیولپمنٹ اتھارٹیز پرائیویٹ ہاؤسنگ اسکیم رولز 2021، قاعدہ 46(1)۔ فیچر تصویر توضیحی ہے، اسکیم کی گرافک تصویر نہیں۔















