اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کے پاکستان کے دورے کا باضابطہ اعلان کر دیا گیا ہے۔ نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے جمعے کو نیویارک سے واپسی پر میڈیا کو بتایا کہ سیکرٹری جنرل نے پاکستان کی دعوت قبول کر لی ہے اور یہ دورہ دسمبر 2026 میں ان کے عہدے کی مدت ختم ہونے سے پہلے ہوگا۔ دورے کے تفصیلی پروگرام کا اعلان جلد کیا جائے گا۔
اسحاق ڈار کا اعلان اور جنرل اسمبلی کا پس منظر
ڈار نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اکیاسیویں اجلاس کے اعلیٰ سطح کے مباحثے سے واپسی پر میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ دعوت سیکرٹری جنرل سے وفود کی سطح کی ملاقات کے دوران دی گئی تھی۔ انھوں نے گوتریس کو پاکستان کا بہت بڑا حامی قرار دیتے ہوئے کہا کہ قدرتی آفات کے دوران ان کا کردار کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
ڈار کے مطابق جنرل اسمبلی کے مصروف ہفتے کے دوران انھوں نے اٹھائیس دوطرفہ ملاقاتیں کیں، جن میں وزیر اعظم شہباز شریف کی سیکرٹری جنرل سے ملاقات بھی شامل تھی۔ ڈار نے کہا کہ دورے کے پروگرام کا اعلان جلد کیا جائے گا اور توقع ہے کہ یہ دورہ یادگار ہوگا۔
اسلام آباد معاہدہ اور پاکستان کی ثالثی
یہ دورہ ایسے وقت میں متوقع ہے جب پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان تنازعے میں اہم ثالثی کردار ادا کر رہا ہے۔ جنگ کا آغاز اٹھائیس فروری 2026 کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں سے ہوا تھا۔ پاکستان کی کوششوں سے آٹھ اپریل کو جنگ بندی ہوئی، اور بارہ اور تیرہ اپریل کو اسلام آباد میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کی گئی۔
اس عمل کا نتیجہ جون کے وسط میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی صورت میں نکلا، جس پر وزیر اعظم شہباز شریف، ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دستخط کیے۔ یادداشت میں فوجی کارروائیاں روکنے، آبنائے ہرمز کو تجارتی جہاز رانی کے لیے کھولنے اور ساٹھ روز میں ایران کے جوہری پروگرام اور پابندیوں سمیت جامع معاہدے پر بات چیت کا خاکہ شامل تھا۔
تیئیس ستمبر کو اقوام متحدہ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزیر اعظم شریف نے کہا تھا کہ پاکستان ایران، جو ہمارا ہمسایہ ملک ہے، اور امریکہ کے درمیان مخلص اور دیانتدار ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان ثالثی کی کوششوں میں مکمل توجہ کے ساتھ مصروف ہے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے مزید پیش رفت کا عزم رکھتا ہے۔
سیکرٹری جنرل گوتریس نے بھی پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا ہے اور ستمبر کے وسط میں کہا تھا کہ وہ جلد پاکستان آئیں گے۔
اہم نکات
- 28 فروری 2026: امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں سے جنگ کا آغاز۔
- 8 اپریل 2026: پاکستان کی ثالثی میں جنگ بندی۔
- 12 تا 13 اپریل 2026: اسلام آباد میں امریکی اور ایرانی وفود کے مذاکرات۔
- جون 2026 کے وسط: اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط — شہباز شریف، مسعود پزشکیان اور ڈونلڈ ٹرمپ۔
- 23 ستمبر 2026: وزیر اعظم شہباز شریف کا اقوام متحدہ میں ثالثی کے عزم کا اعادہ۔
- 2 اکتوبر 2026: اسحاق ڈار کا سیکرٹری جنرل کے دورہ پاکستان کے اعلان کا باضابطہ اعلان۔
- 31 دسمبر 2026: انتونیو گوتریس کے عہدے کی مدت کا ختم — دو پانچ سالہ ادوار کی تکمیل۔

گوتریس اور پاکستان: پرانی وابستگی
انتونیو گوتریس کا پاکستان سے تعلق نیا نہیں۔ وہ فروری 2020 میں تین روزہ دورے پر پاکستان آئے تھے، جس کا مقصد افغان مہاجرین کی میزبانی کے چالیس برس مکمل ہونے پر منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت تھی۔ اس کے بعد وہ 2022 میں تباہ کن مون سون سیلاب کے بعد اظہار یکجہتی کے لیے پاکستان آئے اور سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا۔
اس پس منظر میں دسمبر سے پہلے متوقع دورہ ان کا پاکستان کا تیسرا دورہ ہوگا۔ ڈار کے الفاظ میں، سیکرٹری جنرل قدرتی آفات کے دوران پاکستان کے ساتھ کھڑے رہے ہیں، اور یہی وابستگی اس دورے کو خصوصی اہمیت دیتی ہے۔

دسمبر میں عہدے کی مدت کا ختم
انتونیو گوتریس دو پانچ سالہ ادوار مکمل کر کے اکتیس دسمبر 2026 کو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے عہدے سے سبکدوش ہو جائیں گے۔ پاکستان کا دورہ ان کے عہدے کے آخری ماہ میں متوقع اہم ترین دوروں میں سے ایک ہوگا، اور ڈار کے مطابق اس کی تیاریاں اعلیٰ سطح پر جاری ہیں۔
نتیجہ
انتونیو گوتریس کے دورہ پاکستان کا اعلان پاکستان کی بڑھتی ہوئی سفارتی اہمیت کی علامت ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان تنازعے میں پاکستان کی ثالثی، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی صورت میں سامنے آنے والی پیش رفت، اور اقوام متحدہ کے سربراہ کی جانب سے اس کردار کا اعتراف — یہ سب اس دورے کو محض رسمی ملاقات سے بڑھ کر ایک سفارتی سنگ میل بناتے ہیں۔ دورے کے پروگرام کا اعلان ہوتے ہی اس کی تفصیلات سامنے آئیں گی۔

























