راولپنڈی — راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم بین الاقوامی کرکٹ کے مصروف شیڈول کی میزبانی کے لیے تیار ہے، جس میں تین ٹی 20 میچ، سہ ملکی ون ڈے سیریز کے تین میچ اور ایک ٹیسٹ میچ شامل ہے۔ کمشنر راولپنڈی ڈویژن سلمان غنی کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس میں آنے والی ٹیموں کے استقبال کے لیے انتظامی، سکیورٹی اور بلدیاتی انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی۔
اہم نکات
- راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم 9 اکتوبر سے 13 نومبر تک سات بین الاقوامی میچوں کی میزبانی کرے گا۔
- 9، 11 اور 13 اکتوبر کو پاکستان اور سری لنکا کے درمیان تین ٹی 20 میچ کھیلے جائیں گے۔
- 18، 20 اور 22 اکتوبر کو پاکستان، سری لنکا اور انگلینڈ کے درمیان سہ ملکی ون ڈے سیریز کے تین میچ راولپنڈی میں ہوں گے۔
- 9 سے 13 نومبر تک پاکستان اور سری لنکا کے درمیان پہلا ٹیسٹ میچ راولپنڈی میں کھیلا جائے گا۔
- سکیورٹی کے لیے واک تھرو گیٹس، نادرا ویریفیکیشن کاؤنٹر اور 200 اضافی سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے گئے ہیں۔
- شائقین کے لیے راول پارک اور سیٹلائٹ ٹاؤن کالج میں پارکنگ اور شٹل سروس کا انتظام کیا گیا ہے۔
راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم: میچوں کا شیڈول
سری لنکا کی ٹیم 4 اکتوبر کو پاکستان پہنچ چکی ہے۔ دورے کا آغاز تین ٹی 20 میچوں سے ہوگا، جو جمعہ 9 اکتوبر، اتوار 11 اکتوبر اور منگل 13 اکتوبر کو راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے جائیں گے۔ اس کے بعد انگلینڈ کی ٹیم سہ ملکی ون ڈے سیریز کے لیے دونوں ٹیموں میں شامل ہوگی۔
- 18 اکتوبر (اتوار) — پاکستان بمقابلہ سری لنکا، راولپنڈی
- 20 اکتوبر (منگل) — پاکستان بمقابلہ انگلینڈ، راولپنڈی
- 22 اکتوبر (جمعرات) — سری لنکا بمقابلہ انگلینڈ، راولپنڈی
سیریز کے باقی میچ اور فائنل لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں ہوں گے۔ ون ڈے سیریز کے بعد سری لنکا اور پاکستان کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کھیلی جائے گی، جس کا پہلا ٹیسٹ پیر 9 نومبر سے جمعہ 13 نومبر تک راولپنڈی میں ہوگا۔
سکیورٹی کے جامع انتظامات
اجلاس میں جاری کردہ بریفنگ کے مطابق، سکیورٹی کے جامع اقدامات کیے گئے ہیں۔ داخلی راستوں پر واک تھرو گیٹس نصب کیے گئے ہیں، اسٹیڈیم کے داخلی دروازے پر نادرا ویریفیکیشن کاؤنٹر قائم کیا گیا ہے، اور سیف سٹی نیٹ ورک کو مضبوط بنانے کے لیے 200 اضافی سی سی ٹی وی کیمرے تعینات کیے گئے ہیں۔

- اسپورٹس کمپلیکس میں ایک مرکزی کنٹرول روم قائم کیا گیا ہے، جو آپریشنز کی نگرانی کرے گا۔
- سول ڈیفنس بم ڈسپوزل اسکواڈ میچوں کے دوران مسلسل ڈیوٹی پر رہے گا، جبکہ ایمبولینسز اور فائر بریگیڈ کی گاڑیاں اسٹیڈیم کے قریب موجود رہیں گی۔
- سکیورٹی کی بلند سطح برقرار رکھنے کے لیے ڈبل روڈ کی فوڈ اسٹریٹ 3 اکتوبر سے بند کر دی گئی ہے، اور اسٹیڈیم کے اطراف کی سڑکوں پر ٹریفک کی پابندیاں عائد ہوں گی۔
- رسائی کے راستوں کے ساتھ تمام عارضی تجاوزات ہٹا دی گئی ہیں، اور ٹریفک پولیس نے متبادل راستے تیار کر لیے ہیں۔
شائقین کے لیے سہولتیں
کرکٹ کے شائقین کی سہولت کے لیے راول پارک اوپن ایریا اور سیٹلائٹ ٹاؤن کالج میں مخصوص پارکنگ کے علاقے قائم کیے گئے ہیں۔ ان پارکنگ ایریاز سے شٹل سروس شائقین کو براہ راست اسٹیڈیم کے گیٹس تک پہنچائے گی۔ کھیلوں کی مزید خبریں وطن نیوز پر پڑھیں۔

صفائی اور بلدیاتی انتظامات
میونسپل ایجنسیوں نے ڈبل روڈ اور اسٹیڈیم کے اطراف کی سڑکوں کی مرمت اور اسٹریٹ لائٹس کی بحالی کا کام مکمل کر لیا ہے۔ راولپنڈی ویسٹ مینجمنٹ کمپنی صفائی ستھرائی کے لیے خصوصی عملہ تعینات کرے گی، جبکہ بجلی کی بلا تعطل فراہمی کے لیے متعلقہ ادارے کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
طبی ہنگامی صورتحال کی تیاری
میچوں کے دوران طبی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹیٹیوٹ (پی کے ایل آئی) کے تحت 30 بستروں پر مشتمل فیلڈ ہسپتال قائم کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ایمبولینسز اسٹیڈیم کے قریب چوبیس گھنٹے دستیاب رہیں گی۔
کمشنر کی ہدایت
کمشنر سلمان غنی نے تمام متعلقہ محکموں کو ہدایت کی ہے کہ سکیورٹی پروٹوکول اور بلدیاتی خدمات پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے شہریوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ پورے دورے کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔
نتیجہ
راولپنڈی میں ہونے والی یہ کرکٹ سیریز ملک میں کھیلوں کے فروغ کے لیے ایک اہم قدم ہے۔ بین الاقوامی معیار کے سکیورٹی اور دیگر انتظامات کی تکمیل سے شائقین کو محفوظ اور پرلطف ماحول ملے گا، اور پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ مزید بہتر ہوگی۔

























