سرحد یونیورسٹی میں فوجی افسر کی ہوائی فائرنگ: تحقیقات کا آغاز
پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پولیس نے نجی تعلیمی ادارے سرحد یونیورسٹی میں لیفٹینٹ کرنل رینک کے ایک فوجی افسر اور طلبہ کے درمیان ہاتھا پائی اور سڑک بلاک کیے جانے کے واقعے کا روزنامچے میں اندارج کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ تفصیلی تجزیہ اور تحقیقات وفاقی پولیس کے ایک

پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پولیس نے نجی تعلیمی ادارے سرحد یونیورسٹی میں لیفٹینٹ کرنل رینک کے ایک فوجی افسر اور طلبہ کے درمیان ہاتھا پائی اور سڑک بلاک کیے جانے کے واقعے کا روزنامچے میں اندارج کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
تفصیلی تجزیہ اور تحقیقات
وفاقی پولیس کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی اُردو کو بتایا کہ اس معاملے کو سرکاری ریکارڈ کا حصہ اس لیے بھی بنایا گیا ہے کیونکہ فوجی افسر کے خلاف محکمانہ کارروائی کے لیے قانونی دستاویز کا ہونا ضروری ہے۔ اُن کے مطابق روزنامچے میں انداراج کے بعد اس رپورٹ کو سیل کر دیا گیا ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز
اہلکار کے مطابق سرحد یونیورسٹی میں پیش آئے واقعے سے متعلق جو ویڈیوز سوشل میڈیا پر زیرِ گردش ہیں، اُن کا بھی تجزیہ کیا جا رہا ہے جس کے بعد ذمہ داروں کا تعین کر کے اُن کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
- سرحد یونیورسٹی میں فوجی افسر کی ہوائی فائرنگ کا معاملہ
- پولیس کی جانب سے روزنامچے میں اندارج اور تحقیقات کا آغاز
- سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز کا تجزیہ
یہ واقعہ پیش آنے کے بعد اسلام آباد پولیس کے اسسٹنٹ انسپکٹر جنرل آف پولیس حمزہ ہمایوں نے بی بی سی اُردو کو بتایا تھا کہ سرحد یونیورسٹی کے کیمپس میں طلبہ کو تشدد کا نشانہ بنانے والے آرمی افسر کو حفاظتی تحویل میں لے کر فوج کے اعلیٰ حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے جہاں اُن کے خلاف سمری کورٹ مارشل کا ٹرائل شروع ہونے کے قوی امکانات ہیں۔
مزید برآں، عسکری ذرائع کا کہنا تھا کہ پاکستانی فوج کی اعلیٰ قیادت نے سرحد یونیورسٹی کے واقعے کا سخت نوٹس لیا ہے اور فوج کی یہ روایت رہی ہے کہ وہ ’کسی بھی قسم کی قانون شکنی کے خلاف فوری اووطن نیوز پر جائیں۔
