مکہ معاہدے میں ایران کی شمولیت: کیا سعودی عرب، پاکستان اور ترکی ایران کی شرائط کو قبول کر سکتے ہیں؟
ایران کے سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے کہا ہے کہ ایران مکہ معاہدے کا حصہ صرف اُس صورت میں بن سکتا ہے اگر ایران کو اس معاہدے کا ’شریک بانی‘ تسلیم کیا جائے۔ ایران کی شرائط کیا ہیں؟ محسن رضائی کا مزید کہنا تھا کہ ایران اور مصر کو (مکہ معاہدے

ایران کے سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے کہا ہے کہ ایران مکہ معاہدے کا حصہ صرف اُس صورت میں بن سکتا ہے اگر ایران کو اس معاہدے کا ’شریک بانی‘ تسلیم کیا جائے۔
ایران کی شرائط کیا ہیں؟
محسن رضائی کا مزید کہنا تھا کہ ایران اور مصر کو (مکہ معاہدے جیسے) علاقائی انتظامات سے باہر نہیں رکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’ایران اور مصر ایسے معاہدوں سے غائب نہیں ہو سکتے، البتہ اُن کی شمولیت بانی ممالک (کو فاؤنڈرز) کے طور پر ہونی چاہیے، یعنی ان فریقوں کے طور پر جن کے تصورات اور خیالات دستخط شدہ دستاویزات کی تشکیل میں شامل ہوں۔‘
سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کی پوزیشن
سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان طے پانے والے دفاعی معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے محسن رضائی کا مزید کہنا تھا کہ یہ قابل قبول نہیں کہ ’یہ دوست ممالک‘ پہلے آپس میں معاہدہ طے کر لیں اور بعد ازاں ایران سے اس کی توثیق یا حمایت کا مطالبہ کریں۔
ایران کی وزارت خارجہ کا بیان
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کی صبح ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ ’ہمیں مکہ معاہدے میں شمولیت کی کوئی دعوت موصول نہیں ہوئی ہے، تاہم علاقائی سلامتی کے حوالے سے اِن ممالک کے ساتھ مذاکرات کی تجاویز ضرور دی گئی ہیں۔‘
- ایران کو مکہ معاہدے میں شامل ہونے کی دعوت موصول نہیں ہوئی ہے۔
- ایران کی شمولیت بانی ممالک (کو فاؤنڈرز) کے طور پر ہونی چاہیے۔
- ایران اور مصر کو (مکہ معاہدے جیسے) علاقائی انتظامات سے باہر نہیں رکھا جانا چاہیے۔
ایران کو مکہ معاہدے میں شامل ہونے کی دعوت موصول نہیں ہوئی ہے، تاہم علاقائی سلامتی کے حوالے سے اِن ممالک کے ساتھ مذاکرات کی تجاویز ضرور دی گئی ہیں۔
جیسا کہ وطن نیوز نے پہلے رپورٹ کیا تھا کہ ایران کو مکہ معاہدے میں شامل ہونے کی دعوت موصول نہیں ہوئی ہے۔
