پیرس: فرانس میں طلباء احتجاج وزیراعظم سبیسٹیئن لیکورنیو کی جانب سے تعلیمی نظام کی بہتری کے جامع منصوبے کی یقین دہانی کے باوجود جاری ہے۔ 21 ستمبر کو کریٹئی اکیڈمی سے شروع ہونے والی یہ تحریک اب یونیورسٹیوں اور ہمسایہ ملک بیلجیم تک پھیل چکی ہے، جبکہ 6 اکتوبر کو تیسرے بڑے احتجاجی دن میں لاکھوں افراد سڑکوں پر نکلے۔
اہم نکات
- آغاز: 21 ستمبر 2026 کو کریٹئی اکیڈمی سے؛ مطالبات: چھوٹی کلاسیں، اساتذہ کی بھرتی اور پارکورس اپ کا خاتمہ۔
- 6 اکتوبر: سی جی ٹی کے مطابق 2 لاکھ 60 ہزار مظاہرین؛ وزارت داخلہ کے مطابق پیرس کے باہر 86 ہزار۔
- حکومتی ردعمل: لیکورنیو نے کرائسز سیل طلب کیا؛ وزیر تعلیم ایڈورڈ جیفری نے مشاورتی پلیٹ فارم کا اعلان کیا اور یو ایس ایل سے ملاقات کی۔
- بیلجیم: لیج میں یکم اکتوبر سے اسکولوں کے سامنے احتجاج؛ 6 اکتوبر کو آنسو گیس کا استعمال اور تقریباً 50 گرفتاریاں۔
- رائے عامہ: ایلاب/بی ایف ایم ٹی وی کے مطابق 55 فیصد حمایت؛ اوڈوکسا/لو فیگارو کے مطابق 62 فیصد تحریک کو جائز سمجھتے ہیں۔
احتجاج کا پس منظر اور مطالبات
تحریک 21 ستمبر کو کریٹئی اکیڈمی سے شروع ہوئی اور تیزی سے پورے فرانس میں پھیل گئی۔ طلباء بھری ہوئی کلاسوں، اساتذہ کی کمی، ناقص عمارات اور پارکورس اپ — اعلیٰ تعلیم میں داخلے کے پلیٹ فارم — کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ 2 اکتوبر کو احتیاطاً 400 سے زائد ہائی اسکول بند کر دیے گئے، جبکہ طلباء تنظیم یو ایس ایل کے مطابق ایک موقع پر 2 ہزار ہائی اسکول ٹھپ ہو گئے اور تمام یونیورسٹیاں متحرک ہو گئیں۔
یو ایس ایل کے صدر ریاض رانی نے حکومتی اقدامات کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ «سرخ لکیر عبور ہو چکی ہے»۔ حکومت فرانس انسومیز پارٹی پر تحریک کو ہوا دینے کا الزام لگاتی ہے، جبکہ طلباء کا کہنا ہے کہ کوئی تنظیم انہیں استعمال نہیں کر رہی۔
حکومت کا ردعمل
وزیراعظم سبیسٹیئن لیکورنیو نے وزارت داخلہ میں کرائسز سیل کا اجلاس طلب کیا اور وزرا کو آئندہ دنوں کے دورے منسوخ کرنے کی ہدایت کی۔ وزیر تعلیم ایڈورڈ جیفری نے تمام طلباء کے لیے ایک مشاورتی پلیٹ فارم کا اعلان کیا اور جمعے کو یو ایس ایل کے نمائندوں سے ملاقات کی، تاہم طلباء نے اسے «سیاسی دیوار» قرار دے کر مسترد کر دیا۔
لیکونرنیو نے بدھ سے جمعے تک تمام ہائی اسکولوں میں «اندرونی جمہوریت کے وقت» کے لیے نصاب معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب صدر ایمانوئل میکرون نے ایلیزے محل میں متعلقہ وزرا کا اجلاس طلب کیا؛ لو پاریزین کے مطابق میکرون پولیس کے ردعمل کو «بہت سخت اور ہمدردی سے خالی» سمجھتے ہیں۔ پولیس کی کارروائیوں کی تحقیقات کے لیے اب تک 18 انکوائریاں کھولی جا چکی ہیں۔

پیرس میں ہائی اسکول طلباء کا احتجاجی مارچ۔ (تصویر: وطن نیوز)
فرانس میں طلباء احتجاج: اعداد و شمار
| پیمانہ | اعداد |
|---|---|
| 6 اکتوبر کے مظاہرین (سی جی ٹی کا تخمینہ، پیرس کے بغیر) | 2 لاکھ 60 ہزار |
| 6 اکتوبر کے مظاہرین (وزارت داخلہ، پیرس کے باہر) | 86 ہزار |
| تحریک کو جائز سمجھنے والے (اوڈوکسا/لو فیگارو) | 62 فیصد |
| تحریک کی حمایت کرنے والے (ایلاب/بی ایف ایم ٹی وی) | 55 فیصد |
پیر کو فرانس کے 3 ہزار 7 سو ہائی اسکولوں میں سے 589 کا نظام متاثر رہا، جبکہ 30 ہزار طلباء تدریس سے محروم رہے۔ 7 اکتوبر کو 459 اداروں میں تدریس مکمل یا جزوی طور پر معطل رہی، تاہم وزارت تعلیم کے مطابق تحریک میں واضح کمی آئی ہے۔ طلباء کے نمائندے اب وزیراعظم سے براہ راست ملاقات کا مطالبہ کر رہے ہیں، اور جمعرات کو پیرس میں باسٹیل چوک پر ایک اور بڑا اجتماع طے ہے۔
بیلجیم تک پھیلاؤ
احتجاج کی لہر بیلجیم کے شہر لیج تک پہنچ گئی ہے، جہاں یکم اکتوبر سے متعدد اسکولوں کے سامنے طلباء جمع ہو رہے ہیں۔ ان کے مطالبات میں چھوٹی کلاسیں، کافی تعداد میں اساتذہ، طلباء اور والدین کی بات سننا اور سب کے لیے قابلِ رسائی تعلیم شامل ہے۔ یہ احتجاج والونیا-برسلز فیڈریشن کی وزیر تعلیم والیری گلیٹگنی کی بجٹ میں کٹوتیوں کے خلاف اساتذہ کی بے چینی سے جڑا ہے۔
6 اکتوبر کو لیج میں مظاہرے کے دوران پولیس کو آنسو گیس استعمال کرنا پڑی اور تقریباً 50 افراد کو گرفتار کیا گیا؛ شہر کے میئر ولی ڈیمیئر نے طلباء سے بدھ کو کلاسوں میں واپس آنے کی اپیل کی ہے۔
رائے عامہ کی حمایت
ایلاب/بی ایف ایم ٹی وی کے سروے کے مطابق 55 فیصد فرانسیسی عوام اس تحریک کی حمایت کرتے ہیں — 26 فیصد مکمل حمایت اور 29 فیصد ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔ اوڈوکسا/لو فیگارو کے سروے میں 62 فیصد نے تحریک کو جائز قرار دیا، تاہم فرانس انسومیز پارٹی کی شمولیت کو اکثریت نے مسترد کر دیا۔
نتیجہ
فرانس میں ہائی اسکول طلباء کی تحریک اب ایک قومی بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے، جس نے تعلیمی نظام کے بنیادی مسائل کو اجاگر کیا ہے۔ وزیراعظم کی یقین دہانیوں کے باوجود طلباء کا عزم برقرار ہے، اور آنے والے دنوں میں مذاکرات کا کوئی واضح راستہ نظر نہیں آ رہا۔ یہی خبر ہماری مرکزی ویب سائٹ پر بھی پڑھیں۔




























