ڈرونز کے خلاف پاکستان ایئر فورس کا نیا دفاعی سسٹم
پاکستان ایئر فورس نے ڈرونز اور لوئٹرنگ میونیشنز کے بڑھتے ہوئے استعمال کے خلاف ایک نیا دفاعی سسٹم تیار کیا ہے۔ اس سسٹم میں چین اور ترکی کی مدد سے تیار کردہ نظام شامل ہیں۔ ڈرونز کے خلاف دفاعی چیلنج ڈرونز اور لوئٹرنگ میونیشنز کے بڑھتے ہوئے استعمال نے دنیا بھر کی افواج کے لیے

پاکستان ایئر فورس نے ڈرونز اور لوئٹرنگ میونیشنز کے بڑھتے ہوئے استعمال کے خلاف ایک نیا دفاعی سسٹم تیار کیا ہے۔ اس سسٹم میں چین اور ترکی کی مدد سے تیار کردہ نظام شامل ہیں۔
ڈرونز کے خلاف دفاعی چیلنج
ڈرونز اور لوئٹرنگ میونیشنز کے بڑھتے ہوئے استعمال نے دنیا بھر کی افواج کے لیے فضائی دفاع کو مزید چیلنجنگ بنا دیا ہے۔ اس چیلنج کے جواب میں پاکستان ایئر فورس نے اپنے مختصر فاصلے کے فضائی دفاع کو مضبوط کرنے کے لیے چینی اور ترک ساختہ نظاموں پر مشتمل ایک تہہ در تہہ دفاعی ڈھانچہ متعارف کرایا ہے۔
تین مختلف فضائی دفاعی سسٹم
پی اے ایف کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیو میں تین مختلف فضائی دفاعی سسٹم دکھائی دیتے ہیں: چین میں تیار کردہ ایچ کیو-17 اے ای مختصر فاصلے کا سطح سے فضا میں مار کرنے والا میزائل سسٹم ، ترکی کا ایسیلسان کورکُٹ 35 ملی میٹر خودکار فضائی دفاعی توپ سسٹم اور ایسیلسان ساہن 40 ملی میٹر کاؤنٹر ڈرون سسٹم۔
- ایچ کیو-17 اے ای میزائل سسٹم
- ایسیلسان کورکُٹ 35 ملی میٹر خودکار فضائی دفاعی توپ سسٹم
- ایسیلسان ساہن 40 ملی میٹر کاؤنٹر ڈرون سسٹم
ڈرونز اور لوئٹرنگ میونیشنز کے بڑھتے ہوئے استعمال نے دنیا بھر کی افواج کے لیے فضائی دفاع کو مزید چیلنجنگ بنا دیا ہے۔
سسٹم کا کام کرنا
تین تہوں والے مختصر فاصلے کے فضائی دفاع کا بنیادی تصور یہ ہے کہ آنے والے خطرے سے نمٹنے کے لیے ایک ہی ہتھیار پر انحصار کرنے کے بجائے مختلف فاصلے پر مختلف دفاعی سسٹم استعمال کیے جائیں۔ اس طرح کسی فضائی ہدف کو اپنے مطلوبہ ہدف تک پہنچنے سے پہلے تلاش کرنے، اس کا سراغ لگانے اور اسے تباہ کرنے کے متعدد مواقع حاصل ہوتے ہیں۔
پاکستان ایئر فورس کے اس نیا دفاعی سسٹم کے بارے میں مزید معلومات وطن نیوز پر دستیاب ہیں۔
