جنوبی کوریا سے روس کو ایندھن کی ترسیل جاری ہے، حالانکہ یوکرین جنگ کے باعث روس پر عائد کردہ پابندیوں کے باوجود یہ اقدام اٹھایا جا رہا ہے۔ یہ ترسیل ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب روس ایندھن کی قلت کا شکار ہے اور عالمی سطح پر اس پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔
جنوبی کوریا سے روس کو ایندھن کی ترسیل
حالیہ تجزیے کے مطابق، جولائی اور اگست کے مہینوں میں 150,000 ٹن سے زائد ایندھن، زیادہ تر ڈیزل، جنوبی کوریا کی بندرگاہوں سے سات ٹینکروں پر لاد کر روس کی مشرقی بندرگاہوں پر بھیجا گیا۔ ان میں سے تین ٹینکر برطانیہ اور یورپی یونین کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں کی زد میں تھے۔
- 176,000 ٹن سے زائد ایندھن جولائی اور اگست میں جنوبی کوریا سے روس بھیجا گیا۔
- زیادہ تر ایندھن ڈیزل کی صورت میں تھا۔
- سات ٹینکروں نے 14 مرتبہ روس کا سفر کیا۔
- تین ٹینکر یورپی یونین اور برطانیہ کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں کے تحت تھے۔
پابندیوں کی خلاف ورزی اور خدشات
ماہرین کے مطابق، یہ صورتحال روس پر عائد کردہ پابندیوں کے نظام کو کمزور کرتی ہے اور جنوبی کوریا کے یوکرین کے لیے عوامی حمایت کے دعووں کو بھی متاثر کرتی ہے۔ ایک تجزیہ کار نے اسے ‘حیران کن’ قرار دیا ہے۔
- یورپی یونین کی پابندیوں کے تحت آنے والے ٹینکروں نے جنوبی کوریا کی بندرگاہوں سے ایندھن حاصل کیا۔
- اس اقدام سے روس پر عائد پابندیوں کے نظام کو نقصان پہنچتا ہے۔
- جنوبی کوریا کی یوکرین کے لیے حمایت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
جنوبی کوریا کی پالیسی اور توازن
جنوبی کوریا نے یوکرین کو انسانی امداد اور غیر مہلک فوجی سامان فراہم کیا ہے، اور 2.3 بلین ڈالر کی امداد کا وعدہ بھی کیا ہے۔ تاہم، جنوبی کوریا روس کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کی خواہش اور یوکرین کی حمایت کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ہتھیاروں کی عدم فراہمی
جنوبی کوریا نے جنگ میں شامل ممالک کو براہ راست ہتھیار بھیجنے سے گریز کیا ہے، جو اس کی روایتی پالیسی کے مطابق ہے۔
- جنوبی کوریا نے یوکرین کو انسانی امداد فراہم کی ہے۔
- 2.3 بلین ڈالر کی امداد کا وعدہ کیا گیا ہے۔
- براہ راست فوجی امداد سے گریز کیا جا رہا ہے۔
روس کے ساتھ تجارتی تعلقات
روس نے جنوبی کوریا کے ساتھ تعلقات، بشمول تجارتی تعلقات، کو بحال کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ اگرچہ ایندھن کی تجارت میں پابندی والے بحری جہاز شامل ہیں، لیکن یہ جنوبی کوریائی قانون کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔
- روس نے جنوبی کوریا کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔
- تجارتی تعلقات کی بحالی پر زور دیا جا رہا ہے۔
- قانون کی خلاف ورزی کے بغیر پابندی والے جہاز استعمال ہو رہے ہیں۔
مغربی کوششوں میں کمزوری کا تاثر
یہ ترسیلات سیول کو مغربی ممالک کی کوششوں میں ایک کمزور کڑی کے طور پر پیش کر سکتی ہیں، جو روس پر دباؤ ڈالنے کے لیے کوشاں ہیں۔ اس کے علاوہ، شمالی کوریا کے جنگی قیدیوں کی جنوبی کوریا منتقلی کے معاملے پر کییف کے ساتھ تعلقات میں تناؤ بھی موجود ہے۔
- یہ صورتحال روس پر دباؤ ڈالنے کی مغربی کوششوں کو متاثر کر سکتی ہے۔
- شمالی کوریا کے قیدیوں کے معاملے پر تعلقات میں تناؤ ہے۔
- جنوبی کوریا کی ساکھ پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
تفصیلات اور راستے
یہ واضح نہیں ہے کہ ایندھن کا مالک کون ہے یا کس نے اسے فروخت کیا ہے۔ سب سے بڑا کیریئر، پابندیوں کی زد میں آنے والا ‘لیلیٰ’ نامی جہاز، 19 جولائی اور 10 اگست کو دو مرتبہ جنوب مشرقی بندرگاہ اولسان سے ولادیووستوک روانہ ہوا۔ پہلی بار اس نے حکام کو بتایا کہ اس کی منزل ولادیووستوک ہے، لیکن دوسری بار اس نے جاپان کے شہر نیگاتا کو اپنی منزل ظاہر کیا۔
- ‘لیلیٰ’ نامی جہاز نے دو مرتبہ اولسان سے ولادیووستوک کا سفر کیا۔
- پہلی بار منزل ولادیووستوک بتائی گئی۔
- دوسری بار منزل جاپان کے شہر نیگاتا ظاہر کی گئی۔
- یہ جہاز یورپی یونین اور برطانیہ کی پابندیوں کے تحت ہے۔
نتیجہ
جنوبی کوریا سے روس کو ایندھن کی ترسیل ایک پیچیدہ مسئلہ ہے جو بین الاقوامی تعلقات، پابندیوں کے نفاذ اور علاقائی سلامتی کے خدشات کو جنم دیتا ہے۔ یہ صورتحال جنوبی کوریا کے لیے ایک نازک توازن کا تقاضا کرتی ہے، جہاں اسے یوکرین کی حمایت اور روس کے ساتھ اپنے مفادات کے درمیان سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے۔ عالمی برادری اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اس کے اثرات کا جائزہ لے رہی ہے۔
جنگ کے دوران ایندھن کی یہ ترسیل روس کو جاری جنگ کے لیے وسائل فراہم کرنے میں مدد دے سکتی ہے، جبکہ یہ جنوبی کوریا کی بین الاقوامی ساکھ کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ اس معاملے پر مزید تحقیقات اور وضاحت کی ضرورت ہے۔




































