ایک بین الاقوامی تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں کم عمر افراد میں کینسر کی شرح تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ورلڈ کینسر ریسرچ فنڈ کی جانب سے کی گئی اس تحقیق میں انگلینڈ کے قومی صحت کے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا گیا، جس سے پتا چلا کہ 50 سال سے کم عمر افراد میں سات اقسام کے کینسر کے کیسز 2001 سے 2023 کے دوران نمایاں طور پر بڑھے ہیں۔ ماہرین کے مطابق موٹاپا، غیر صحت بخش خوراک اور ورزش کی کمی اس تشویشناک رجحان کی اہم وجوہات ہیں۔
اہم نکات
تحقیق: ورلڈ کینسر ریسرچ فنڈ نے انگلینڈ کے قومی صحت کے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا اور 2001 اور 2023 میں تشخیص کی شرحوں کا موازنہ کیا۔
سات اقسام: پراسٹیٹ، گردے، رحم، جگر، لبلبہ، چھاتی اور آنتوں کے کینسر میں 50 سال سے کم عمر افراد میں اضافہ دیکھا گیا۔
پراسٹیٹ کینسر: 50 سال سے کم عمر مردوں میں شرح 1 سے بڑھ کر 3.6 فی 100,000 ہو گئی — تقریباً چار گنا اضافہ۔
دیگر اعداد: آنتوں کا کینسر 3.9 سے 8.4، رحم کا 1.8 سے 3.9، چھاتی کا 42 سے 47.5 اور گردے کا 1.5 سے 3 فی 100,000 ہو گیا۔
ماہرین کا موقف: فنڈ کی ڈاکٹر جیوٹا میٹرو کے مطابق یہ اعداد و شمار تشویشناک رجحان کی عکاسی کرتے ہیں اور ہمیں رکنے اور سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔
تحقیق کا دائرہ کار اور نتائج
ورلڈ کینسر ریسرچ فنڈ کی جانب سے کی گئی اس تحقیق میں انگلینڈ کے قومی صحت کے نظام کے اعداد و شمار کا گہرائی سے جائزہ لیا گیا۔ تحقیق میں 2001 اور 2023 میں 50 سال سے کم عمر افراد میں کینسر کی تشخیص کی شرحوں کا موازنہ کیا گیا۔ نتائج کے مطابق سات اقسام کے کینسر میں کم عمر افراد کے کیسز میں واضح اور تشویشناک اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ اگرچہ کینسر کے زیادہ تر کیسز اب بھی معمر افراد میں تشخیص ہوتے ہیں، تاہم کم عمر افراد میں شرح میں اضافے کی رفتار زیادہ تیز ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ رجحان صرف ایک قسم تک محدود نہیں بلکہ کئی اقسام کے کینسر پر محیط ہے۔

نوجوانوں میں کینسر کی شرح کے اہم اعداد و شمار
تحقیق میں سامنے آنے والے اعداد و شمار اس تشویشناک رجحان کی شدت کو واضح کرتے ہیں:
- انگلینڈ میں پراسٹیٹ کینسر کے کیسز 2001 سے 2023 تک تقریباً چار گنا بڑھ گئے — شرح 1 سے بڑھ کر 3.6 فی 100,000 ہو گئی۔
- آنتوں کے کینسر کی شرح 3.9 سے بڑھ کر 8.4 فی 100,000 ہو گئی، یعنی دوگنے سے بھی زیادہ اضافہ۔
- رحم کے کینسر کی شرح 1.8 سے بڑھ کر 3.9 اور گردے کے کینسر کی شرح 1.5 سے بڑھ کر 3 فی 100,000 ہو گئی۔
- چھاتی کے کینسر کی شرح 42 سے بڑھ کر 47.5 فی 100,000 ہو گئی۔
- جگر کے کینسر کی شرح 0.5 سے 0.8 اور لبلبے کے کینسر کی شرح 0.8 سے 1 فی 100,000 تک پہنچی۔
طرز زندگی کے عوامل اور کینسر کا پھیلاؤ
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار عالمی سطح پر موٹاپے کی وبا، غیر صحت بخش خوراک اور ورزش کی کمی جیسے عوامل کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان کے مطابق جدید طرز زندگی میں آنے والی تبدیلیوں نے کم عمر افراد کو بھی کینسر کے بڑھتے ہوئے خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ کینسر کے بارے میں بڑھتی ہوئی آگاہی اور بہتر تشخیصی سہولتوں کو بھی اعداد و شمار میں اضافے کی ایک وجہ قرار دیا جا رہا ہے، تاہم ماہرین واضح کرتے ہیں کہ صرف بہتر تشخیص اس پورے اضافے کی وضاحت نہیں کر سکتی۔
موٹاپا اور غیر صحت بخش غذا
- عالمی سطح پر موٹاپے کی شرح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
- تیز رفتار اور پراسیس شدہ خوراک کا استعمال بڑھ گیا ہے۔
- پھلوں اور سبزیوں کا استعمال کم ہو گیا ہے۔
- نشست و برخاست طرز زندگی عام ہو گیا ہے۔

بین الاقوامی تناظر
یہ رجحان صرف انگلینڈ تک محدود نہیں۔ 2026 میں شائع ہونے والی بین الاقوامی تحقیقوں میں بھی کئی ممالک میں 50 سال سے کم عمر افراد میں آنتوں، چھاتی، گردے اور دیگر اقسام کے کینسر میں اضافے کی تصدیق ہوئی ہے۔ ماہرین کے مطابق دنیا کے مختلف خطوں میں نوجوانوں میں کینسر کے بڑھتے کیسز ایک عالمی صحت کا چیلنج بنتے جا رہے ہیں۔
تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اگرچہ دس میں سے نو کینسر کے کیسز اب بھی 50 سال سے زیادہ عمر کے افراد میں سامنے آتے ہیں، تاہم کم عمر گروپ میں شرح میں اضافے کی رفتار تشویش کا باعث ہے۔
ماہرین کا بیان
ورلڈ کینسر ریسرچ فنڈ میں تحقیق اور پالیسی کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر جیوٹا میٹرو نے کہا ہے کہ یہ اعداد و شمار ہمیں رکنے اور سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کیونکہ موجودہ رجحان تشویشناک ہے۔ ان کے مطابق ہر عدد کے پیچھے ایک ایسا شخص ہے جو اپنی، اپنے خاندان اور اکثر اپنے ڈاکٹر کی توقع سے پہلے کینسر کا سامنا کر رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ انگلینڈ میں کم عمری میں کینسر کی صورتحال کہیں زیادہ وسیع اور پیچیدہ ہے اور اس میں صرف آنتوں کے کینسر کے بجائے کئی اقسام شامل ہیں۔
نتیجہ
یہ تحقیق ایک سنگین انتباہ ہے کہ طرز زندگی میں تبدیلیوں کے باعث کم عمر افراد میں کینسر کے کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے۔ صحت بخش خوراک، باقاعدہ ورزش اور موٹاپے پر قابو پانا اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
صحت کے حکام اور پالیسی سازوں کو اس رجحان کا مقابلہ کرنے کے لیے فعال اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ اس میں عوام میں صحت کے بارے میں شعور بیدار کرنا، صحت بخش طرز زندگی کو فروغ دینا اور کینسر کی جلد تشخیص کے لیے سہولیات فراہم کرنا شامل ہے۔
متعلقہ: اسی خبر کا اردو ایڈیشن اور صحت و تندرستی کی مزید خبریں ملاحظہ کریں۔







































