اسپین کی حکومت نے 87 سالہ معمر اور معذور خاتون کی بے دخلی کے بعد ملک میں جاری ہاؤسنگ بحران کے خاتمے کے لیے اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ ان اقدامات میں کمزور افراد کے لیے بے دخلی پر پابندی میں توسیع اور عارضی رہائشی کرایوں کے ضوابط شامل ہیں۔
حکومتی اقدامات کا اعلان
اسپین کی مخلوط حکومت نے ہاؤسنگ کے بحران سے نمٹنے کے لیے متعدد اقدامات کی منظوری دی ہے، جن میں کمزور کرایہ داروں کے لیے بے دخلی پر پابندی کو 2030 تک بڑھانا شامل ہے۔ یہ فیصلہ گذشتہ ہفتے میڈرڈ میں ایک 87 سالہ معذور خاتون کی بے دخلی کے بعد عوامی شدید ردعمل کے پیش نظر کیا گیا ہے۔
- کمزور کرایہ داروں کے لیے بے دخلی پر پابندی میں 2030 تک توسیع۔
- عارضی کرایوں اور کمروں کے کرایوں کے ضوابط۔
- 2028 تک پراپرٹی خریدنے والے ‘وولچر فنڈز’ پر پابندی۔
- موجودہ کرایہ کے معاہدوں میں دو سال کی توسیع جو 2028 کے آخر میں ختم ہو رہے ہیں۔
بے دخلی کا واقعہ اور عوامی ردعمل
میڈرڈ میں 87 سالہ ماریکارمین اباسکل نامی خاتون کو ان کے اپارٹمنٹ سے اسٹریچر پر منتقل کیا گیا تھا، جس کی تصاویر نے ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی۔ اس واقعے کے بعد سینکڑوں افراد نے میڈرڈ کے مرکزی چوک میں احتجاجی کیمپ لگایا اور قانونی اصلاحات کا مطالبہ کیا۔
- ماریکارمین اباسکل کی بے دخلی نے ہاؤسنگ بحران کو اجاگر کیا۔
- عوام نے حکومت سے کرایہ میں کمی اور لیز کی خودکار تجدید کا مطالبہ کیا۔
- احتجاجی مظاہرین نے میڈرڈ کے پوورٹا ڈیل سول چوک میں کیمپ لگایا۔
- مظاہرین نے ‘وولچر فنڈز’ کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔
پارلیمانی منظوری کا مرحلہ
کابینہ نے دو حکمنامے منظور کیے ہیں جنہیں اب کانگریس سے منظوری درکار ہوگی۔ تاہم، مخلوط حکومت کے پاس کانگریس میں واضح اکثریت نہیں ہے، جس کی وجہ سے ان حکمناموں کی منظوری ایک چیلنج ثابت ہو سکتی ہے۔ حکومت نے جمعہ کو ایک خصوصی پارلیمانی اجلاس طلب کیا ہے تاکہ ان حکمناموں کو جلد از جلد منظور کرایا جا سکے۔
‘وولچر فنڈز’ پر پابندی
نئے اقدامات میں پراپرٹی کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بننے والے ‘وولچر فنڈز’ پر 2028 تک پابندی عائد کرنا بھی شامل ہے۔ ان فنڈز کو پراپرٹی مارکیٹ میں قیاس آرائیوں اور قیمتوں میں اضافے کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔ حکومت کا مقصد ان فنڈز کے اثر و رسوخ کو کم کر کے عام شہریوں کے لیے رہائش کو سستا بنانا ہے۔
کرایہ کے معاہدوں کی خودکار تجدید
ایک الگ معاہدے کے تحت، کرایہ کے معاہدوں کی خودکار تجدید کے حوالے سے بھی اقدامات کیے گئے ہیں۔ اس کا مقصد کرایہ داروں کو غیر منصفانہ کرایہ میں اضافے سے بچانا اور ان کی رہائش کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔
مختلف سیاسی جماعتوں کا ردعمل
حکام کے مطابق، پہلے حکمنامے کو کیٹالان اور باسک کی قدامت پسند جماعتوں کی حمایت حاصل ہونے کا امکان ہے، جنہوں نے پہلے حکومت کی ہاؤسنگ اصلاحات کی مخالفت کی تھی۔ تاہم، دوسری حکمنامے کو ان کی طرف سے ووٹ ڈالے جانے کا امکان کم ہے۔
صحت کی وزیر کا بیان
اسپین کی وزیر صحت، مونیکا گارسیا نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک ایسی کامیابی ہے جو ایک ماہ قبل ناقابل تصور تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ قیاس آرائیوں پر مبنی ہاؤسنگ مارکیٹ میں مداخلت کی جائے اور شہریوں اور ‘وولچر فنڈز’ کے درمیان توازن بحال کیا جائے۔
نتیجہ
اسپین کی حکومت نے 87 سالہ خاتون کی بے دخلی کے تناظر میں ہاؤسنگ بحران کے حل کے لیے اہم اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ ان اقدامات کا مقصد کمزور افراد کو بے دخلی سے بچانا، کرایہ کے مارکیٹ کو منظم کرنا اور ‘وولچر فنڈز’ کے اثر کو کم کرنا ہے۔ اگرچہ ان اقدامات کو پارلیمانی منظوری درکار ہے، لیکن یہ ملک میں ہاؤسنگ کے حقوق کے لیے ایک مثبت پیش رفت کی نشاندہی کرتے ہیں۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
حکومت نے ہاؤسنگ بحران کے خاتمے کے لیے کون سے اہم اقدامات کیے ہیں؟
حکومت نے کمزور افراد کے لیے بے دخلی پر پابندی میں 2030 تک توسیع، عارضی کرایوں اور کمروں کے کرایوں کے ضوابط، اور ‘وولچر فنڈز’ پر 2028 تک پابندی جیسے اقدامات کا اعلان کیا ہے۔
87 سالہ خاتون کی بے دخلی کا واقعہ کیوں اہم تھا؟
87 سالہ خاتون کی بے دخلی نے ملک میں ہاؤسنگ کے بحران اور کمزور افراد کی حالت زار کو اجاگر کیا، جس کے نتیجے میں عوامی شدید ردعمل اور حکومتی اقدامات کا باعث بنا۔
کیا ان حکومتی اقدامات کو پارلیمانی منظوری مل جائے گی؟
حکومت کو ان حکومتی اقدامات کو کانگریس سے منظور کرانا ہوگا، جہاں اسے واضح اکثریت حاصل نہیں ہے۔ اس لیے منظوری کا مرحلہ چیلنجنگ ہو سکتا ہے۔
‘وولچر فنڈز’ کیا ہیں اور ان پر پابندی کیوں لگائی گئی ہے؟
‘وولچر فنڈز’ وہ ادارے ہیں جو پراپرٹی مارکیٹ میں قیاس آرائیاں کرتے ہیں اور قیمتوں میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔ ان پر پابندی کا مقصد عام شہریوں کے لیے رہائش کو سستا بنانا ہے۔

















