لندن: انگلینڈ میں جنگلاتی آگ سے نمٹنے کے لیے بنایا گیا حکومتی منصوبہ کبھی عملی شکل اختیار نہ کر سکا اور اسے خفیہ طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔ یہ انکشاف ماحولیاتی کارکن گائے شربسول کی ایک آزاد تحقیق میں ہوا ہے، جس میں معلومات کی آزادی کے قانون کے تحت حاصل کردہ سرکاری دستاویزات کا جائزہ لیا گیا۔ یہ خبر ایسے وقت سامنے آئی ہے جب برطانیہ نے ریکارڈ شدہ تاریخ کی گرم ترین گرمیاں دیکھی ہیں، اور اگست 2026 میں سفولک کے ساحل پر لگی آگ نے سائزویل بی ایٹمی بجلی گھر کے قریب محفوظ قدرتی علاقوں کو شدید نقصان پہنچایا۔
اہم نکات
- منصوبے کا خاتمہ: 2023 سے 2027 تک انگلینڈ میں جنگلاتی آگ کے خطرات سے نمٹنے کا منصوبہ، جو رشی سوناک کی حکومت کے دور میں ترتیب پایا تھا، کبھی نافذ نہیں ہوا اور اسے خفیہ طور پر ختم کر دیا گیا۔
- تحقیق کا انکشاف: ماحولیاتی کارکن اور مصنف گائے شربسول نے معلومات کی آزادی کے قانون کے تحت حاصل کردہ دستاویزات کی بنیاد پر یہ انکشاف کیا۔
- سازوسامان کا فقدان: کنٹری لینڈ اینڈ بزنس ایسوسی ایشن کی تحقیق کے مطابق 29 میں سے 14 فائر سروسز کے پاس جنگلاتی آگ کے لیے خصوصی حفاظتی سازوسامان (پی پی ای) موجود نہیں۔
- ریکارڈ گرمیاں: میٹ آفس کے مطابق 2026 کی گرمیاں برطانیہ کی گرم ترین گرمیاں تھیں؛ جولائی میں انگلینڈ اور ویلز میں 458 جنگلاتی آگ کے واقعات رپورٹ ہوئے، جو کسی بھی مہینے کی بلند ترین تعداد ہے۔
- سفولک کی آگ: اگست 2026 میں ڈن وچ ہیتھ کی آگ نے تقریباً 150 ہیکٹر رقبہ جلا دیا اور سائزویل بی ایٹمی بجلی گھر کے قریب پہنچ گئی۔
ریکارڈ توڑ گرمیاں اور سفولک کی تباہ کن آگ
میٹ آفس کی تصدیق کے مطابق 2026 کی گرمیاں برطانیہ کی ریکارڈ شدہ تاریخ کی گرم ترین گرمیاں تھیں — پانچ وسیع گرمی کی لہریں آئیں اور 40 دن درجہ حرارت 30 ڈگری سے اوپر رہا۔ جولائی 2026 انگلینڈ اور ویلز دونوں کی ریکارڈ شدہ خشک ترین جولائی تھی، اور اسی مہینے فائر سروسز نے 458 جنگلاتی آگ کے واقعات پر کارروائی کی، جو کسی بھی ایک مہینے کی بلند ترین تعداد ہے۔
اگست میں سفولک کے ساحل پر ڈن وچ ہیتھ میں لگی آگ نے تقریباً 150 ہیکٹر رقبہ — تقریباً 210 فٹبال میدانوں کے برابر — جلا دیا۔ 18 فائر انجن اور 100 سے زائد فائر فائٹرز نے آگ پر قابو پانے کی کوشش کی، تقریباً 50 افراد کو گھروں سے نکالا گیا اور کلِف ہاؤس ہالی ڈے پارک کو احتیاطاً خالی کرا لیا گیا۔ آگ سائزویل بی ایٹمی بجلی گھر کے قریب پہنچ گئی تھی، تاہم بجلی گھر چلانے والی کمپنی ای ڈی ایف کے مطابق آگ سے بجلی گھر کے آپریشن متاثر نہیں ہوئے۔ ماحولیاتی مہم کے کارکنوں کے مطابق ڈن وچ ہیتھ اور آر ایس پی بی مِنسمیر کے محفوظ علاقوں کے 370 ایکڑ حصے کو نقصان پہنچا۔

منصوبہ جو کبھی نافذ نہ ہوا
انگلینڈ کے دیہی علاقوں کو جنگلاتی آگ کے خطرات سے بچانے کے لیے 2023 سے 2027 تک کے عرصے کا ایک منصوبہ رشی سوناک کی حکومت کے دور میں ترتیب دیا گیا تھا۔ تاہم شربسول کی تحقیق کے مطابق یہ منصوبہ کبھی عملی شکل اختیار نہیں کر سکا اور بعد میں اسے خفیہ طور پر ختم کر دیا گیا۔ موجودہ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ پچھلی حکومت نے بنایا تھا لیکن اسے نافذ نہیں کیا گیا۔
شربسول نے حکومت کے اس اقدام کو ‘افسوسناک’ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت انگلینڈ میں جنگلاتی آگ کے خطرات کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی تھی، جب تک کہ اس موسم گرما میں ملک آگ کی لپیٹ میں نہیں آ گیا۔ حکومت کا جواب یہ ہے کہ وہ اب جنگلاتی آگ پر ایک سربراہی اجلاس بلا رہی ہے، فائر سروسز کے لیے 97 ملین پاؤنڈ کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا گیا ہے، اور لنکاشائر، گریٹر مانچسٹر، نارتھمبرلینڈ، لندن اور جنوبی ویلز میں خصوصی جنگلاتی آگ فائر فائٹر ٹیمیں تعینات کی جا رہی ہیں۔
انگلینڈ میں جنگلاتی آگ سے نمٹنے کی تیاریوں کا فقدان
کنٹری لینڈ اینڈ بزنس ایسوسی ایشن کی تحقیق کے مطابق 29 میں سے 14 فائر سروسز کے پاس جنگلاتی آگ سے نمٹنے کے لیے خصوصی ذاتی حفاظتی سازوسامان (پی پی ای) موجود نہیں ہے۔ سفولک فائر اینڈ ریسکیو سروس بھی ان میں شامل ہے — وہی سروس جسے اس موسم گرما میں ڈن وچ ہیتھ کی شدید آگ کا سامنا کرنا پڑا۔ فائر بریگیڈز یونین نے خبردار کیا ہے کہ فائر فائٹرز کو ہلکے خصوصی سازوسامان کے بغیر تعینات کیا گیا، اور بعض عملے کو آگ میں بھیجنے سے پہلے صرف آن لائن تربیت دی گئی تھی یا کوئی تربیت نہیں دی گئی تھی۔

سیاسی ردعمل اور آگے کا راستہ
لبرل ڈیموکریٹ رکن پارلیمان اور ماحولیات، خوراک و دیہی امور کی کمیٹی کے چیئرمین الیسٹر کارمائیکل نے کہا ہے کہ یہ تشویشناک ہے کہ وزراء نے جنگلاتی آگ کے خطرات کے لیے زمین کی تیاری کو ترجیح نہیں دی۔ ان کے مطابق سوال یہ ہے کہ کیا اس موسم گرما کے واقعات زیادہ وسائل کے ساتھ مختلف ہو سکتے تھے۔ لبرل ڈیموکریٹس کی کانفرنس نے ایک قرارداد میں کہا ہے کہ حکومت بار بار کی تنبیہات کے باوجود انگلینڈ کے لیے جنگلاتی آگ کا عملی منصوبہ شائع کرنے میں ناکام رہی ہے۔
شربسول نے حکومت سے پیٹ بوگس کی بحالی اور کسانوں کے کھیتوں میں تالابوں کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے، تاکہ زمین آگ کے خلاف زیادہ مزاحم بن سکے۔ موسمیاتی تبدیلی کمیٹی کی مئی 2026 کی رپورٹ کے مطابق 2050 تک آگ کے زیادہ خطرے والے دن دگنے ہو سکتے ہیں اور آگ کا موسم گرمیوں کے آخر اور خزاں کے آغاز تک پھیل سکتا ہے۔ دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات بڑھ رہے ہیں، اور برطانیہ اب اس سے مستثنیٰ نہیں رہا۔
نتیجہ
ریکارڈ توڑ گرمیوں اور تباہ کن آگ کے باوجود جنگلاتی آگ سے نمٹنے کے منصوبے کا خفیہ طور پر ختم کیا جانا حکومتی تیاریوں پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔ فائر سروسز کے پاس خصوصی حفاظتی سازوسامان کا فقدان اس صورتحال کو مزید خطرناک بنا رہا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کے ساتھ جنگلاتی آگ کا خطرہ بڑھتا جائے گا، اس لیے حکومت کو فوری طور پر ایک جامع اور عملی منصوبہ بنانا ہوگا — اور اس بار اسے خفیہ طور پر ختم کرنے کے بجائے نافذ کرنا ہوگا۔

























