LIVE
اہم خبر
برطانوی حکومت کا ماحولیاتی اداروں کو ختم کرنے کا اعلانپاکستانی ہائی کمشنر اور بنگلہ دیشی ٹیکسٹائل نمائندے کی ملاقاتتصاویر: اسموگ کی لپیٹ میں لاہور، ایک بار پھر دنیا کا آلودہ ترین شہرٹین سنٹ اور اوریکل کا سات ارب ڈالر کا مصنوعی ذہانت معاہدہوومن اَن نون: وینس میں ڈنمارک کی تاریخی فتح کی کہانیڈنمارک ہوم گارڈ کی بڑی مشق بلوٹانڈ مکملمعیشت بہتر ہو رہی ہے، مگر عام آدمی کیوں بدحال ہے؟کراچی کے لیے گندے پانی سے صاف پانی: ہارون آباد ٹریٹمنٹ پلانٹ کا تجزیہکیون سلیوان: کم عمر ترین بین الاقوامی گول سکورر بن گئےفرانس: طلبہ کے احتجاج کے باعث 500 اسکول بند، تعلیم معطلپاکستان میں سولر پاور کی مقبولیت میں اضافہ: نیا رجحانکییف پر روسی حملوں کے دوران فریڈرک مرز کا یوکرین کا دورہاسلام آباد ایئرپورٹ پر پاکستانی اسکواش ہیروز کا شاندار استقبالکوورنگ کلائمیٹ ناؤ کے ۲۰۲۶ کے صحافتی ایوارڈز: ۴۹ صحافیوں کو اعزازآئرلینڈ: بوائلر اسکریپیج کے لیے 2 ہزار یورو کی گرانٹ کا اعلان — 6 اکتوبر سے گھریلو توانائی سہولتوں میں اضافہانگلینڈ میں جنگل کی آگ سے نمٹنے کا حکومتی منصوبہ خفیہ طور پر ختممشی گن میں 100 میگاواٹ کا کولڈ کریک سولر پارک مکمل: فورڈ کے کارخانوں کو صاف بجلیفلپائن کا 75 فیصد اخراج میں کمی کا ہدف برقرار: نیویارک اجلاس میں موسمیاتی عملی اقدامات کا اعلانبرطانوی حکومت کا ماحولیاتی اداروں کو ختم کرنے کا اعلانپاکستانی ہائی کمشنر اور بنگلہ دیشی ٹیکسٹائل نمائندے کی ملاقاتتصاویر: اسموگ کی لپیٹ میں لاہور، ایک بار پھر دنیا کا آلودہ ترین شہرٹین سنٹ اور اوریکل کا سات ارب ڈالر کا مصنوعی ذہانت معاہدہوومن اَن نون: وینس میں ڈنمارک کی تاریخی فتح کی کہانیڈنمارک ہوم گارڈ کی بڑی مشق بلوٹانڈ مکملمعیشت بہتر ہو رہی ہے، مگر عام آدمی کیوں بدحال ہے؟کراچی کے لیے گندے پانی سے صاف پانی: ہارون آباد ٹریٹمنٹ پلانٹ کا تجزیہکیون سلیوان: کم عمر ترین بین الاقوامی گول سکورر بن گئےفرانس: طلبہ کے احتجاج کے باعث 500 اسکول بند، تعلیم معطلپاکستان میں سولر پاور کی مقبولیت میں اضافہ: نیا رجحانکییف پر روسی حملوں کے دوران فریڈرک مرز کا یوکرین کا دورہاسلام آباد ایئرپورٹ پر پاکستانی اسکواش ہیروز کا شاندار استقبالکوورنگ کلائمیٹ ناؤ کے ۲۰۲۶ کے صحافتی ایوارڈز: ۴۹ صحافیوں کو اعزازآئرلینڈ: بوائلر اسکریپیج کے لیے 2 ہزار یورو کی گرانٹ کا اعلان — 6 اکتوبر سے گھریلو توانائی سہولتوں میں اضافہانگلینڈ میں جنگل کی آگ سے نمٹنے کا حکومتی منصوبہ خفیہ طور پر ختممشی گن میں 100 میگاواٹ کا کولڈ کریک سولر پارک مکمل: فورڈ کے کارخانوں کو صاف بجلیفلپائن کا 75 فیصد اخراج میں کمی کا ہدف برقرار: نیویارک اجلاس میں موسمیاتی عملی اقدامات کا اعلان
میگزین

وومن اَن نون: وینس میں ڈنمارک کی تاریخی فتح کی کہانی

Usman javed
وومن اَن نون: وینس میں ڈنمارک کی تاریخی فتح کی کہانی
Share this story

12 ستمبر 2026 کی شام وینس کے ساحل پر جب تریاسیویں فیسٹیول کے سب سے بڑے انعام کا اعلان ہوا تو ڈنمارک کی فلمی تاریخ میں ایک نیا باب رقم ہو گیا۔ ڈینش مصر نژاد ہدایت کارہ می التخی کی فلم ’وومن اَن نون‘ نے گولڈن لائن جیت لیا۔ یہ پہلا موقع ہے جب کوئی ڈینش خاتون ہدایت کار یہ اعزاز حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی، اور تریاسی سالہ فیسٹیول کی تاریخ میں وہ یہ کامیابی حاصل کرنے والی صرف آٹھویں خاتون ہیں۔

اہم نکات

  • می التخی کی فلم ’وومن اَن نون‘ نے 12 ستمبر 2026 کو وینس فلم فیسٹیول کا گولڈن لائن جیت لیا
  • یہ پہلی بار ہے کہ کوئی ڈینش خاتون ہدایت کار وینس کا سب سے بڑا انعام جیتنے میں کامیاب ہوئی
  • تریاسی سالہ فیسٹیول کی تاریخ میں وہ گولڈن لائن جیتنے والی صرف آٹھویں خاتون ہیں
  • فلم کی مرکزی اداکارہ میتیلڈ آرسل کو بہترین اداکارہ کا وولپی کپ بھی ملا
  • فلم میں کوپن ہیگن میں مئی 1945 کے پس منظر میں ایک نوجوان خاتون کے راز کی کہانی بیان کی گئی ہے

تاریخی جیت، تاریخی لمحہ

جب فیسٹیول کے جیوری صدر، امریکی اداکارہ میگی جیلن ہال نے فاتح فلم کا نام پکارا تو ہال میں ڈینش وفد کی خوشی دیدنی تھی۔ ’وومن اَن نون‘ محض ایک فلم کی جیت نہیں بلکہ ڈینش سینما کے لیے ایک تاریخی سنگ میل ہے۔ اس سے پہلے صرف ایک ڈینش ہدایت کار، عظیم کارل ٹی ڈرائر، 1955 میں اپنی فلم ’اورڈے‘ پر یہ اعزاز حاصل کر چکے تھے۔

فلم کی مرکزی اداکارہ میتیلڈ آرسل کی قسمت بھی اس شام چمکی۔ انہیں بہترین اداکارہ کا وولپی کپ دیا گیا۔ یہ ان کی پہلی مرکزی فلم، ان کا پہلا فلمی فیسٹیول اور ان کا پہلا فلمی انعام تھا۔ انہوں نے تقریر میں کہا کہ انہیں وینس میں یہ لمحہ ملنے پر بہت خوشی ہے۔ جیوری نے واضح کیا کہ اداکارہ کے حق میں فیصلہ متفقہ طور پر کیا گیا تھا۔

ڈنمارک، لاٹویا اور سویڈن کی مشترکہ پروڈکشن میں بننے والی یہ فلم ٹورنٹو میں بھی دکھائی گئی اور اب لندن اور بوسان کے فیسٹیولوں میں بھی دکھائی جائے گی۔ ڈینش فلم انسٹیٹیوٹ کی سربراہ ٹینے فشر نے فلم کو آسکر کی بین الاقوامی فلم کی دوڑ میں ڈنمارک کی باقاعدہ نمائندہ قرار دیا ہے۔

فلم وومن اَن نون میں میتیلڈ آرسل کا منظر، وومن اَن نون فلم
فلم میں میتیلڈ آرسل نے ماری کا کردار ادا کیا ہے، جس کی زندگی کا راز اس کے مستقبل کو خطرے میں ڈال دیتا ہے۔

فلم کی کہانی: ماضی کا راز

فلم کوپن ہیگن میں مئی 1945 میں ترتیب دی گئی ہے، یعنی اس وقت جب ڈنمارک نازی قبضے سے آزاد ہوا تھا۔ ماری ایک نوجوان گھریلو ملازمہ اور دایہ ہے جو اپنے دولت مند بوڑھے آقا کرسچن سے شادی کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ کئی سالوں سے وہ اس کے گھر میں کام کر رہی ہے اور اس کی بیٹی کی دیکھ بھال کرتی ہے۔ ایک نئی زندگی اب بالکل قریب دکھائی دیتی ہے۔

مگر اس خوبصورت سطح کے نیچے ایک ایسا راز دبا ہے جو اس کا خواب چکنا چور کر سکتا ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے دوران اس کا ایک جرمن فوجی کے ساتھ تعلق رہا تھا۔ جیسے جیسے اس کے شرمناک ماضی کی حقیقت سامنے آتی جاتی ہے، اس کے سامنے یہ سوال کھڑا ہوتا ہے کہ وہ اپنی عزت بچانے کے لیے کتنی قیمت چکانے کو تیار ہے۔

ہدایت کارہ کے مطابق یہ فلم صرف ایک عورت کی ذاتی کہانی نہیں۔ یہ اس بات کا جائزہ بھی ہے کہ جنگ، طاقت، سماجی اقدار اور صنفی تعصبات کس طرح خواتین کی زندگیوں کو متاثر کرتے ہیں، اور کس طرح عورتوں کے جسم اور تقدیریں معاشرے کی مذمت اور کنٹرول کا مرکز بن جاتے ہیں۔

جنگ کے بعد کی بھولی ہوئی خواتین

فلم کا سب سے مضبوط پہلو وہ تاریخی سچ ہے جسے طویل عرصے تک نظرانداز کیا گیا۔ دوسری عالمی جنگ کے دوران جرمن افواج کے ساتھ تعلقات رکھنے والی خواتین کو جنگ کے بعد کئی مقامات پر شدید سماجی دباؤ اور تضحیک کا سامنا کرنا پڑا۔ ایسی خواتین کو عوامی سطح پر شرمندہ اور ذلیل کیے جانے کے واقعات بھی تاریخ کا حصہ ہیں۔

می التخی نے اسی تاریخی پس منظر کو ایک خاتون کے تجربے کے ذریعے پیش کیا ہے۔ ان کے مطابق فلم بنیادی طور پر خواتین کے نظر نہ آنے، ان کی آواز کے دب جانے اور انہیں معاشرے میں ایک مکمل انسان کے بجائے ایک شے کے طور پر دیکھنے کے مسئلے کو بیان کرتی ہے۔ ایک طرف خواتین کو محض ایک شے سمجھا جاتا ہے، جبکہ دوسری طرف انہیں نظر انداز بھی کیا جاتا ہے اور بعض حالات میں ان کی آواز بھی چھین لی جاتی ہے۔

یہی پہلو فلم کو صرف تاریخی ڈراما نہیں رہنے دیتا بلکہ اسے موجودہ دور میں خواتین کی سماجی حیثیت اور نمائندگی سے متعلق وسیع تر بحث سے بھی جوڑ دیتا ہے۔

وومن اَن نون فلم کا ایک منظر، وومن اَن نون فلم
فلم کا ہر منظر جنگ کے بعد کے ڈنمارک کے ماحول کو اس طرح پیش کرتا ہے کہ ماضی اور حال کا ربط محسوس ہوتا ہے۔

ہدایت کارہ کا اپنا سفر: ساختیاتی رکاوٹیں

اس تاریخی جیت کی کہانی اس لیے بھی خاص ہے کہ می التخی نے خود فلمی صنعت میں خواتین کو درپیش مشکلات کا کھل کر اظہار کیا تھا۔ وینس میں فلم کے پریمیئر سے قبل صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ فلم سازی کے شعبے میں خواتین کے لیے مواقع کی کمی محض انفرادی مسئلہ نہیں بلکہ ایک بنیادی اور ساختیاتی مسئلہ ہے۔

وہ اس سال وینس فلم فیسٹیول کے مرکزی مقابلے کی 21 فلموں میں واحد خاتون تھیں جو ایک فکشن فلم کی ہدایت کاری کر رہی تھیں۔ اپنے ذاتی تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ فلم اسکول سے گریجویشن کے بعد اپنی پہلی فلم بنانے میں انہیں چھ یا سات سال لگ گئے، جبکہ ان کے مرد ساتھی فلم ساز ان کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزی سے آگے بڑھ رہے تھے۔

می ٹو تحریک کے بعد فلمی صنعت میں صنفی عدم مساوات کے حوالے سے آگاہی تو بڑھی تھی، مگر ان کے بقول گزشتہ چند برسوں میں حالات ایک مرتبہ پھر ماضی کی جانب واپس جاتے محسوس ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مسلسل کوششیں نہ کی گئیں تو حاصل ہونے والی پیش رفت متاثر ہو سکتی ہے۔ یہی پس منظر اس گولڈن لائن کی جیت کو اور بھی معنی خیز بنا دیتا ہے۔

ڈینش فلمی حلقوں میں اس کامیابی کو خواتین فلم سازوں کے لیے ایک نئے دور کی نوید قرار دیا جا رہا ہے، اور وطن نیوز کی اردو ویب سائٹ پر عالمی سینما کی ایسی کہانیاں قارئین کی خصوصی توجہ کا مرکز رہتی ہیں۔

ڈنمارک کے لیے آگے کا راستہ

ڈینش فلم انسٹیٹیوٹ کی سربراہ ٹینے فشر نے فلم کو جرات مند اور غیر مصالحت پسند قرار دیا ہے جو جرم، شرم اور اخلاقیات کے موضوعات کو چھوتی ہے۔ ان کے مطابق یہ فلم آسان جوابات نہیں دیتی بلکہ مشکل اور اہم سوالات اٹھاتی ہے، اور اسی فنی وژن اور موضوعاتی پیچیدگی کی وجہ سے یہ آسکر کی دوڑ میں بھی نمایاں مقام حاصل کر سکتی ہے۔

وینس کی جیوری صدر میگی جیلن ہال نے میتیلڈ آرسل کے بارے میں کہا کہ وہ جلد ہی سب کو متاثر کریں گی۔ آج، گولڈن لائن کی یہ جیت محض ایک انعام نہیں بلکہ اس بات کی علامت ہے کہ جب خواتین کو مساوی مواقع ملتے ہیں تو ان کی کہانیاں دنیا کو بدل سکتی ہیں۔

خلاصہ

’وومن اَن نون‘ کی وینس میں تاریخی فتح ایک طرف ڈنمارک کے لیے فخر کا لمحہ ہے تو دوسری طرف ان بھولی ہوئی خواتین کی یاد کو بھی زندہ کرتی ہے جن کی کہانیاں تاریخ کے صفحات میں دب کر رہ گئیں۔ می التخی کی یہ کامیابی آنے والی نسل کی خواتین فلم سازوں کے لیے ایک روشن مثال ہے کہ محنت اور استقامت سے ہر دیوار گرائی جا سکتی ہے۔

اکثر پوچھے گئے سوالات

متعلقہ خبریں

ڈیجیٹل دور میں پرنٹ میگزین کی واپسی: ریوالو میگزین کا آغازمیگزین

ڈیجیٹل دور میں پرنٹ میگزین کی واپسی: ریوالو میگزین کا آغاز

29 ستمبر 2026 کو فیشن برانڈ ریوالو نے اپنا سالانہ پرنٹ اور ڈیجیٹل میگزین لانچ کر دیا، جس کے تین سرورق کیندل جینر، ٹیانا ٹیلر اور الیکس کونسانی کے ہیں۔ یہ قدم ڈیجیٹل دور میں پرنٹ میڈیا کی خاموش واپسی کی ایک اور علامت ہے۔

مزید پڑھیں

سیارہ اور ماحول

ماحولیات اور استحکام

مستقبل کی نسلوں کے لیے ایک سبز اور زیادہ پائیدار سیارے کی طرف تبدیلی لانے والی خبریں، کہانیاں اور حل۔

کوورنگ کلائمیٹ ناؤ کے ۲۰۲۶ کے صحافتی ایوارڈز: ۴۹ صحافیوں کو اعزاز
نمایاں خبر

کوورنگ کلائمیٹ ناؤ کے ۲۰۲۶ کے صحافتی ایوارڈز: ۴۹ صحافیوں کو اعزاز

کوورنگ کلائمیٹ ناؤ نے ۱۲۰۰ سے زائد اندراجات میں سے ۲۰۲۶ کے صحافتی ایوارڈز کے ۴۹ فاتحین کا اعلان کر دیا — سال کے تین صحافی اور دی گارڈین کی فیونا ہاروے کو لائف ٹائم اچیومنٹ اعزاز۔

مکمل خبر پڑھیں
WUFT کی رپورٹر روز شنابیل نے 2026 کا والڈو پروفٹ ماحولیاتی صحافت ایوارڈ جیت لیا
گرین جرنلزم

WUFT کی رپورٹر روز شنابیل نے 2026 کا والڈو پروفٹ ماحولیاتی صحافت ایوارڈ جیت لیا

WUFT کی رپورٹر روز شنابیل کو 2026 کے والڈو پروفٹ ایوارڈ برائے نمایاں ماحولیاتی صحافت کا وصول کنندہ قرار دیا گیا — دیہی کوریج کے لیے جس نے ججوں کے مطابق نمایاں ناانصافیوں کو بے نقاب کیا۔

مکمل خبر پڑھیں

ہر قدم اہم ہے

آج کے چھوٹے اقدامات، کل کے بڑے اثرات۔

مزید کہانیاں دیکھیں
انٹیلی جنس ڈوزیئر

وطن نیوز کے ساتھ باخبر رہیں

تازہ ترین خبریں، اپ ڈیٹس اور اہم کہانیاں براہ راست اپنے ان باکس میں حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔