فرانس طلبہ احتجاج ایک نئے اور پرتشدد مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ فرانس میں طلبہ کے احتجاج کے باعث پیر کے روز ملک بھر میں 400 سے 500 ہائی اسکول جزوی یا مکمل طور پر بند رہیں گے، جبکہ تحریک کے آغاز سے اب تک تقریباً پانچ ہزار افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ وزیر تعلیم ایڈورڈ جیفری کے مطابق کم از کم 24 اسکول نذر آتش کیے گئے یا لوٹ مار کا نشانہ بنے ہیں۔
اہم نکات
- پیر 5 اکتوبر کو 400 سے 500 ہائی اسکول بند رہیں گے؛ جمعہ کو بھی 400 سے زائد اسکول بند رہے۔
- وزیر تعلیم کے مطابق احتجاج کے آغاز سے 24 اسکول نذر آتش کیے گئے یا لوٹ مار کا نشانہ بنے۔
- پیر سے اب تک تقریباً پانچ ہزار افراد گرفتار، جن میں اکثریت نوعمر طلبہ کی ہے؛ جمعرات کو ایک ہی دن میں 1,949 گرفتاریاں ہوئیں۔
- 100 سے زائد اسکولوں کو شدید نقصان پہنچا؛ 65 عملے کے ارکان (جن میں 40 پرنسپل شامل) اور تقریباً 170 طلبہ زخمی ہوئے۔
- 600 سے زائد پولیس اہلکار بھی زخمی؛ نینسی، بیلفور، لا سیوٹا اور ٹولوز سمیت درجنوں شہروں میں جھڑپیں ہوئیں۔
- احتجاج ستمبر کے تیسرے ہفتے میں پیرس کے نواحی علاقوں سے شروع ہوا؛ کلاس روم میں رش، اساتذہ کی کمی اور خستہ حال عمارتیں بنیادی شکایات ہیں۔
- منگل 6 اکتوبر کو ملک گیر مظاہروں اور اساتذہ کی ہڑتال کی کال دی گئی ہے۔
فرانس طلبہ احتجاج کی وجوہات اور پس منظر
یہ تحریک ستمبر کے تیسرے ہفتے میں پیرس کے نواحی علاقے کریٹائی سے شروع ہوئی، جہاں اسکول غیر حاضر اساتذہ کی جگہ پوری کرنے میں ناکام رہے۔ طلبہ کی بنیادی شکایات میں کلاس روم میں رش — بعض کلاسوں میں 32 سے 35 طلبہ — اساتذہ اور عملے کی شدید کمی، خستہ حال عمارتیں، گرمیوں میں تپتے ہوئے کلاس روم اور حد سے زیادہ بھاری ٹائم ٹیبل شامل ہیں۔
حکومت کے 2027 کے بجٹ میں تعلیم کے اخراجات میں صرف 1.7 فیصد اضافہ تجویز کیا گیا، جو مہنگائی کی شرح سے بھی کم ہے — اس اعلان نے طلبہ کے غصے کو مزید بھڑکا دیا۔ احتجاج پیرس کے نواحی علاقوں سے نکل کر لِل، نانٹ، لیوں، مارسیل، بورڈو، رین، اسٹراسبرگ اور اورلئیں سمیت ملک بھر میں پھیل گیا، اور یکم اکتوبر سے متعدد جامعات کے طلبہ بھی اس تحریک میں شامل ہو گئے۔
پیر کو اسکولوں کی بندش اور تعلیمی تعطل
وزیر تعلیم ایڈورڈ جیفری کے مطابق جمعرات کو 1,207 اسکول متاثر یا ناکہ بند ہوئے، جبکہ جمعہ کو 400 سے زائد اسکول بند رہے۔ وزارت داخلہ کے اعداد و شمار کے مطابق جمعرات کو 1,027 اسکول متاثر اور 222 ناکہ بند تھے۔ پیر 5 اکتوبر کو 400 سے 500 ہائی اسکول جزوی یا مکمل طور پر بند رہیں گے، جس سے لاکھوں طلبہ کی تعلیم متاثر ہوگی۔

جھڑپیں، گرفتاریاں اور تشدد
جمعہ 2 اکتوبر کو مشرقی شہر نینسی میں سینکڑوں طلبہ مظاہرے کے لیے سڑکوں پر نکل آئے، جس پر حکام نے شوپن، ژاک کالو اور واروکو اسکول بند کر کے کلاسیں آن لائن منتقل کر دیں۔ شہر کے وسط میں پولیس نے مظاہرین پر آنسو گیس کا استعمال کیا۔ بیلفور میں ایک پولیس افسر کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جس پر قتل کی کوشش کی تحقیقات شروع کر دی گئیں؛ لا سیوٹا میں ایک استاد پر پیٹرول چھڑک کر حملہ کیا گیا، جبکہ پیرس میں تین اسکولوں کے داخلی راستوں پر آگ لگائی گئی۔
وزارت داخلہ کے مطابق پیر سے اب تک تقریباً پانچ ہزار افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں، جن میں اکثریت نوعمر طلبہ کی ہے؛ صرف جمعرات کو ایک ہی دن میں 1,949 گرفتاریاں ہوئیں۔ وزیر انصاف جیرالڈ ڈارمنن کے مطابق حراست میں لیے گئے تقریباً دو ہزار افراد میں 90 فیصد نابالغ ہیں۔ ان جھڑپوں میں 600 سے زائد پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے۔ تمام صوبوں میں بند اسکولوں کے گرد مظاہروں پر پابندی لگا دی گئی ہے؛ پیرس پولیس کے سربراہ نے جمعہ کو بند 13 اسکولوں کے گرد اجتماعات پر پابندی عائد کی۔

حکومت اور یونینز کا ردعمل
پیرس پولیس کے سربراہ پاتریس فور نے ہفتے کو ایک کھلے خط میں ہفتے بھر کے تشدد کی مذمت کرتے ہوئے طلبہ سے پرامن احتجاج کی جانب لوٹنے کی اپیل کی اور والدین سے ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کو کہا۔ وزیر تعلیم ایڈورڈ جیفری نے جمعہ کو طلبہ یونینز کے نمائندوں سے ملاقات کی، تاہم نمائندے مایوس لوٹے اور انہوں نے تحریک جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ جیفری کا کہنا ہے کہ اس تحریک کو “انتہائی پرتشدد گروہوں” نے یرغمال بنا لیا ہے اور والدین کو اپنے بچوں کو سڑکوں سے دور رکھنا چاہیے کیونکہ وہاں وہ خطرے میں ہیں۔
اساتذہ کی یونین ایس این ای ایس-ایف ایس یو کی سربراہ صوفی وینیٹے نے منگل 6 اکتوبر کو اساتذہ کی ہڑتال کی کال دی ہے۔ طلبہ یونینز نے بھی 6 اکتوبر کو ملک گیر مظاہروں کی کال دی ہے، جس میں سی جی ٹی سمیت متعدد مزدور تنظیمیں شامل ہوں گی۔ وزیر داخلہ لوراں نونیز نے “بے لگام تشدد” کی شدید مذمت کی ہے، جبکہ وزیر اعظم سیباستین لیکورنو کے دفتر نے تحریک کو “شہری تشدد” قرار دے کر بائیں بازو کی جماعت کو ذمہ دار ٹھہرایا — جس کی جماعت کی قیادت نے تردید کی ہے۔
نتیجہ
فرانس میں طلبہ کے احتجاج نے ملک کے تعلیمی نظام کو شدید متاثر کیا ہے۔ سینکڑوں اسکولوں کی بندش، ہزاروں گرفتاریاں اور بڑھتا ہوا تشدد حکومت اور طلبہ دونوں کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکا ہے۔ منگل کے ملک گیر مظاہرے اور اساتذہ کی ہڑتال اس بات کا تعین کریں گے کہ یہ بحران کس سمت جاتا ہے۔ جب تک حکومت اور طلبہ کے نمائندوں کے درمیان سنجیدہ مذاکرات کا آغاز نہیں ہوتا، پائیدار حل مشکل نظر آتا ہے۔ یورپ اور دنیا بھر کی تازہ خبریں وطن نیوز کے عالمی صفحے پر پڑھیں۔

























