عالمی ادارہ صحت (WHO) کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق، دنیا بھر میں کینسر کے ہر آٹھویں کیس کی وجہ انفیکشنز ہیں، جن کا علاج یا ویکسین کے ذریعے تدارک ممکن ہے۔ یہ تحقیق بین الاقوامی ایجنسی برائے تحقیق برائے کینسر (IARC) نے شائع کی ہے جس میں 2024 میں سامنے آنے والے 2.3 ملین نئے کینسر کیسز کا تجزیہ کیا گیا ہے۔
تحقیق کا دائرہ کار اور نتائج
IARC کی جانب سے جاری کردہ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ 2024 میں دنیا بھر میں کینسر کے تقریباً 2.3 ملین نئے کیسز انفیکشنز کے نتیجے میں سامنے آئے، جو کہ تمام نئے کینسر کیسز کا تقریباً 12 فیصد بنتا ہے۔ یہ انفیکشنز قابل علاج ہیں اور ان سے بچاؤ کے لیے ویکسین بھی دستیاب ہیں۔
- 2.3 ملین نئے کینسر کیسز 2024 میں انفیکشنز سے منسلک۔
- یہ تعداد کل نئے کینسر کیسز کا 12 فیصد ہے۔
- انفیکشنز سے ہونے والے کینسر کا علاج اور روک تھام ممکن ہے۔
- تحقیق کا مقصد انفیکشنز کے باعث کینسر کے بوجھ کو اجاگر کرنا ہے۔
کینسر کے انفیکشنز کی وجوہات
تحقیق کے مطابق، مختلف اقسام کے انفیکشنز کینسر کا باعث بن سکتے ہیں۔ ان میں سب سے نمایاں ہیپاٹائٹس بی اور سی وائرس ہیں جو جگر کے کینسر کا سبب بنتے ہیں، جبکہ ہیومن پیپیلوما وائرس (HPV) سرویکل (گردن رحم) اور دیگر اقسام کے کینسر کا باعث بنتا ہے۔ اسی طرح، ہیلی کوبیکٹر پائلوری (H. pylori) پیٹ کے کینسر کا سبب بنتا ہے۔
- ہیپاٹائٹس بی اور سی: جگر کے کینسر کی بڑی وجہ۔
- ہیومن پیپیلوما وائرس (HPV): سرویکل اور دیگر کینسرز کا باعث۔
- ہیلی کوبیکٹر پائلوری: پیٹ کے کینسر کے خطرے میں اضافہ۔
- ایپسٹین بار وائرس (EBV): لمفوما اور دیگر کینسرز سے منسلک۔
علاقائی اور آبادیاتی فرق
تحقیق میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ انفیکشنز سے ہونے والے کینسر کا بوجھ دنیا کے مختلف خطوں میں مختلف ہے۔ کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں اس قسم کے کینسر کے کیسز زیادہ پائے جاتے ہیں، جہاں حفظان صحت کی سہولیات اور ویکسینیشن کی شرح کم ہے۔
کم آمدنی والے ممالک میں زیادہ خطرہ
انفیکشنز سے ہونے والے کینسر کے کیسز کا سب سے بڑا حصہ افریقہ، ایشیا اور لاطینی امریکہ کے ممالک میں پایا جاتا ہے۔ ان علاقوں میں HPV اور ہیپاٹائٹس کے انفیکشنز کے خلاف ویکسینیشن کی رسائی محدود ہے، جس کی وجہ سے ان سے ہونے والے کینسر کے کیسز زیادہ ہیں۔
- افریقہ: HPV اور ہیپاٹائٹس کے انفیکشنز کے خلاف کمزور ویکسینیشن پروگرام۔
- ایشیا: ہیپاٹائٹس بی اور سی کے پھیلاؤ کی بلند شرح۔
- لاطینی امریکہ: سرویکل کینسر کے کیسز میں اضافہ جو HPV سے منسلک ہے۔
روک تھام اور علاج کے اقدامات
ڈاکٹر گیری کلفورڈ، جو اس تحقیق کے مرکزی مصنف ہیں، نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ان میں سے بہت سے کینسر کے کیسز کو روکا جا سکتا ہے۔ ویکسینیشن، جلد تشخیص اور بروقت علاج کے ذریعے انفیکشنز کے پھیلاؤ کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے اور کینسر کے خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے۔
- HPV ویکسین: سرویکل اور دیگر کینسرز سے بچاؤ کے لیے مؤثر۔
- ہیپاٹائٹس بی ویکسین: جگر کے کینسر کے خطرے کو نمایاں طور پر کم کرتی ہے۔
- جلد تشخیص: انفیکشنز کی جلد شناخت سے علاج آسان ہو جاتا ہے۔
- صحت مند طرز زندگی: انفیکشنز سے بچاؤ کے لیے اہم۔
عالمی صحت کے لیے چیلنج
عالمی ادارہ صحت کے مطابق، انفیکشنز سے منسلک کینسر کا بوجھ دنیا بھر میں صحت کے نظام پر ایک بڑا چیلنج ہے۔ ان کیسز میں کمی کے لیے عالمی سطح پر مربوط کوششوں کی ضرورت ہے، جس میں ویکسینیشن مہمات کو فروغ دینا، صحت کی سہولیات تک رسائی کو بہتر بنانا اور عوام میں آگاہی پھیلانا شامل ہے۔
نتیجہ
عالمی ادارہ صحت کی یہ رپورٹ ایک اہم انتباہ ہے کہ انفیکشنز کینسر کی ایک بڑی وجہ بن رہے ہیں، لیکن خوش قسمتی سے ان میں سے بہت سے انفیکشنز قابل علاج اور قابل روک تھام ہیں۔ ویکسینیشن، صحت کی بہتر سہولیات اور آگاہی کے ذریعے ہم دنیا بھر میں کینسر کے بوجھ کو کم کر سکتے ہیں۔ حکومتوں اور صحت کے اداروں کو ان انفیکشنز سے بچاؤ کے پروگراموں میں سرمایہ کاری کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
اس تحقیق کے نتائج اس بات پر زور دیتے ہیں کہ صحت کے شعبے میں профилактиی اقدامات پر توجہ مرکوز کرنا کتنا ضروری ہے۔ انفیکشنز کے خلاف جنگ جیت کر ہم لاکھوں جانیں بچا سکتے ہیں اور کینسر کے عالمی پھیلاؤ کو مؤثر طریقے سے کم کر سکتے ہیں۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
دنیا بھر میں کینسر کے کتنے فیصد کیسز انفیکشنز کی وجہ سے ہوتے ہیں؟
عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق، دنیا بھر میں کینسر کے تقریباً 12 فیصد نئے کیسز، یعنی 2.3 ملین کیسز، انفیکشنز کی وجہ سے ہوتے ہیں۔
کون سے انفیکشنز کینسر کا باعث بن سکتے ہیں؟
ہیپاٹائٹس بی اور سی (جگر کا کینسر)، ہیومن پیپیلوما وائرس (HPV) (سرویکل کینسر)، اور ہیلی کوبیکٹر پائلوری (پیٹ کا کینسر) جیسے انفیکشنز کینسر کا سبب بن سکتے ہیں۔
کیا انفیکشنز سے ہونے والے کینسر کو روکا جا سکتا ہے؟
جی ہاں، بہت سے انفیکشنز سے ہونے والے کینسر کو ویکسینیشن، جلد تشخیص اور بروقت علاج کے ذریعے روکا یا ان کا مؤثر علاج کیا جا سکتا ہے۔
اس تحقیق کے نتائج کا عالمی صحت پر کیا اثر پڑے گا؟
اس تحقیق کے نتائج عالمی سطح پر صحت کے نظاموں کو انفیکشنز سے بچاؤ اور کینسر کی روک تھام کے پروگراموں میں سرمایہ کاری کرنے کی ترغیب دیں گے، جس سے لاکھوں جانیں بچائی جا سکیں گی۔


















