روس کے شہر ارکوتسک میں ایک تحقیقی ادارے کی ملازمہ کی نمونیا سے موت کے بعد سوشل میڈیا پر روس میں طاعون کے خدشات کو ہوا دینے والے دعوے تیزی سے پھیلے۔ ان دعووں میں کہا گیا کہ لیبارٹری میں طاعون کا جراثیم پھیل گیا ہے اور سینکڑوں افراد متاثر ہوئے ہیں۔ تاہم روسی صحت حکام اور عالمی ادارہ صحت کے مطابق ان دعووں کی کوئی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی، اور وسیع ٹیسٹوں میں متوفیہ کے نمونوں سے ان کی پیشہ ورانہ سرگرمی سے منسلک کوئی جراثیم نہیں ملے۔
اہم نکات
- واقعہ: سائبیریا اور مشرق بعید کے ارکوتسک طاعون مخالف تحقیقی ادارے کی 28 سالہ ملازمہ یکم اور 2 اکتوبر کی درمیانی شب انتقال کر گئیں؛ سرکاری تشخیص “نامعلوم وجہ کا نمونیا” بتائی گئی ہے۔
- دعویٰ: سوشل میڈیا پر کہا گیا کہ 25 ستمبر کو ٹیسٹ ٹیوب ٹوٹنے سے طاعون کا جراثیم پھیلا اور سینکڑوں افراد متاثر ہوئے — اس کی کوئی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔
- سرکاری موقف: روسپوٹریبناڈزور کا کہنا ہے کہ ادارے میں جراثیم سے متعلق کسی حادثے کا کوئی ثبوت نہیں ملا اور ٹیسٹوں میں پیشہ ورانہ سرگرمی سے منسلک کوئی جراثیم نہیں پائے گئے۔
- احتیاطی اقدامات: شلیخوف کا اسپتال قرنطینہ میں رکھا گیا ہے، قریباً 200 رابطہ کار افراد طبی نگرانی میں ہیں، اور حکام کے مطابق صورتحال مستحکم ہے۔
- عالمی ادارہ صحت: عام آبادی کے لیے خطرہ کم قرار دیا اور روسی صحت حکام سے رابطے میں رہنے کی تصدیق کی۔
روس میں طاعون کے خدشات کی حقیقت
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعووں کے مطابق ارکوتسک کے ادارے میں ایک لیبارٹری ٹیکنیشن نے طاعون کے جراثیم پر مشتمل شیشی توڑ دی اور خود متاثر ہو کر چند دن بعد انتقال کر گئیں۔ بعض پوسٹوں میں یہ بھی کہا گیا کہ اس دوران سینکڑوں افراد متاثر ہوئے۔ یہ دعوے ہزاروں صارفین تک پہنچے، لیکن ان کی تصدیق کے لیے کوئی آزادانہ ثبوت سامنے نہیں آیا۔
ایک اور دعویٰ یہ کیا گیا کہ عالمی ادارہ صحت نے طاعون کے بارے میں اپنی معلوماتی شیٹ اسی دن اپ ڈیٹ کی جس دن ارکوتسک کی ملازمہ اسپتال میں داخل ہوئیں۔ اس اپ ڈیٹ کو روسی واقعے سے جوڑنا گمراہ کن ہے، کیونکہ عالمی ادارہ صحت وقتاً فوقتاً مختلف صحت موضوعات پر اپنی معلومات تازہ کرتا رہتا ہے۔

روسپوٹریبناڈزور کی تحقیقات اور نتائج
روس کی صحت کی نگران اتھارٹی روسپوٹریبناڈزور کے مطابق ادارے میں حیاتیاتی حفاظتی طریقہ کار کی جانچ میں “جراثیم سے متعلق کسی حادثے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔” روسی خبر رساں ادارے ٹاس نے روسپوٹریبناڈزور کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ مرحوم ملازمہ کے ٹیسٹوں میں ان کی پیشہ ورانہ سرگرمی سے منسلک کوئی جراثیم نہیں پائے گئے۔
روسی میڈیا کی بعض رپورٹوں کے مطابق متوفیہ 28 سالہ دریا شپیلووا تھیں جو 29 ستمبر کو شلیخوف کے اسپتال میں داخل ہوئی تھیں۔ ان کے انتقال کے بعد ادارے کی سربراہ اینا پوپووا خود ارکوتسک پہنچیں اور علاقائی حکام سے ہنگامی ملاقات کی۔
متضاد بیانات اور احتیاطی اقدامات
سرکاری بیانات میں ابتدا میں تضاد بھی دیکھا گیا۔ بریاتیا کے رہنما الیکسی تسیدنوف نے پہلے کہا کہ ملازمہ طاعون سے انتقال کر گئیں، بعد میں انہوں نے اپنے الفاظ بدل کر “ممکنہ طور پر” طاعون کہا۔ ادارے کے گورنر ایگور کوبزیف نے اسے “انتہائی خطرناک انفیکشن” کا مشتبہ کیس قرار دیا۔
احتیاط کے طور پر شلیخوف کے اسپتال کو قرنطینہ میں رکھا گیا، جہاں نہ نئے مریض داخل کیے جا رہے ہیں اور نہ پرانے مریضوں کو چھٹی دی جا رہی ہے۔ قریباً 200 رابطہ کار افراد کو طبی نگرانی میں رکھا گیا ہے۔ روسپوٹریبناڈزور کے مطابق ارکوتسک اور شلیخوف میں صورتحال مستحکم ہے۔

عالمی ادارہ صحت کا موقف
عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ وہ ان رپورٹوں سے آگاہ ہے کہ ارکوتسک میں ایک لیبارٹری ورکر شدید نمونیا سے انتقال کر گئیں، اور وہ روسی صحت حکام سے رابطے میں ہے۔ ادارے کے مطابق عام آبادی کے لیے خطرہ کم ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے طاعون سے متعلق معلومات کی اپ ڈیٹ کو اس مخصوص روسی واقعے سے براہ راست جوڑنے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔
لیبارٹریوں میں حفاظتی معیارات
ارکوتسک کا طاعون مخالف تحقیقی ادارہ یرسینیا پیسٹس جیسے انتہائی خطرناک جراثیم پر تحقیق کرتا ہے، جن میں طاعون کا سبب بننے والا بیکٹیریا بھی شامل ہے۔ ایسے اداروں میں سخت حفاظتی انتظامات ہوتے ہیں جنہیں حیاتیاتی حفاظتی سطح کہا جاتا ہے۔ بی ایس ایل فور سب سے اعلیٰ حفاظتی سطح ہے جو انتہائی خطرناک ایجنٹوں کے لیے مختص ہے۔ ادارے نے مبینہ حادثے اور اپنے حفاظتی طریقہ کار سے متعلق سوالات کے جواب نہیں دیے۔
دنیا بھر کی صحت اور سائنس کی خبروں کے لیے وطن نیوز کا عالمی خبریں کا صفحہ دیکھیں، اور وطن نیوز پر یہ خبر بھی پڑھیں۔
نتیجہ
روس میں لیبارٹری ورکر کی موت کے بعد طاعون کے پھیلاؤ کے بارے میں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوے فی الحال بے بنیاد ہیں۔ سرکاری تحقیقات میں کسی حادثے کے شواہد نہیں ملے، اور مرحوم ملازمہ کے ٹیسٹوں میں کوئی پیشہ ورانہ جراثیم نہیں پائے گئے۔ ان قیاس آرائیوں سے عوام میں غیر ضروری خوف و ہراس پھیل سکتا ہے، اس لیے مصدقہ ذرائع سے معلومات حاصل کرنا اور افواہوں پر یقین کرنے سے گریز کرنا ضروری ہے۔

























