امریکی رئیل اسٹیٹ بازار موسمِ خزاں کے آغاز پر ایک عجیب تعطل کا شکار ہے۔ ایک طرف بلند شرحِ سود نے خریداروں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا ہے اور اگست میں مکانات کی فروخت چودہ ماہ کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے، تو دوسری طرف فروخت کے لیے پیش مکانات کی تعداد دہائی کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ اس غیر معمولی صورتِ حال میں قیمتوں میں بھی کمی کے آثار دکھائی دینے لگے ہیں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ خریداروں کے پاس سودے بازی کا وہ موقع موجود ہے جو گزشتہ کئی برسوں میں نہیں ملا۔
اہم نکات
- این اے آر کے مطابق اگست 2026 میں موجودہ مکانات کی فروخت جولائی کے مقابلے میں 2 فیصد گر کر 39 لاکھ 80 ہزار کی سالانہ شرح پر آ گئی جو جون 2025 کے بعد پہلی بار چالیس لاکھ سے کم ہے۔
- فروخت کے لیے دستیاب مکانات کی تعداد بڑھ کر 16 لاکھ 20 ہزار ہو گئی جو نومبر 2019 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔
- موجودہ فروخت کی رفتار پر یہ ذخیرہ 4.9 ماہ کی فراہمی کے برابر ہے جو ایک دہائی سے زائد عرصے کی بلند ترین سطح ہے۔
- ریئلٹر ڈاٹ کام کی ستمبر کی رپورٹ کے مطابق قیمتوں میں کٹوتی والی فہرستوں کی شرح 20.8 فیصد تک پہنچ گئی جو 2018 کے بعد سب سے زیادہ ہے۔
- این اے آر کی رپورٹ میں اوسط قیمت 4 لاکھ 29 ہزار 100 ڈالر رہی جو مسلسل 38 ویں ماہ سالانہ بنیادوں پر بڑھی ہے۔
اگست میں فروخت چودہ ماہ کی کم ترین سطح پر
نیشنل ایسوسی ایشن آف ریئلٹرز (این اے آر) کی تازہ رپورٹ کے مطابق اگست میں پہلے سے موجود مکانات کی فروخت میں جولائی کے مقابلے میں 2 فیصد کمی ہوئی اور یہ موسمی لحاظ سے ایڈجسٹ شدہ سالانہ شرح 39 لاکھ 80 ہزار یونٹس پر آ گئی۔ یہ جون 2025 کے بعد پہلا موقع ہے جب فروخت کی سالانہ رفتار چالیس لاکھ سے نیچے گئی ہے۔ سالانہ بنیادوں پر فروخت اگست 2025 کے مقابلے میں 1.2 فیصد کم رہی۔
این اے آر کے چیف ماہرِ اقتصادیات لارنس یون کے مطابق قرض کی بڑھتی ہوئی لاگت اس سست روی کی بنیادی وجہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ رہن کی شرح اور مکانات کی فروخت ایک دوسرے کے برعکس حرکت کرتی ہیں، اس لیے بلند شرحِ سود کے باعث خریداری میں معمولی کمی حیران کن نہیں۔ فریڈی میک کے اعداد و شمار کے مطابق اگست میں تیس سالہ مقررہ رہن کی اوسط شرح 6.67 فیصد رہی جبکہ جولائی میں یہ 6.54 فیصد اور ایک سال قبل 6.59 فیصد تھی۔
علاقائی لحاظ سے کمی وسیع پیمانے پر رہی۔ نارتھ ایسٹ میں فروخت 4 فیصد، مڈویسٹ میں 3.1 فیصد اور ساؤتھ میں 1.6 فیصد گری جبکہ ویسٹ میں صورتِ حال جولائی جیسی ہی رہی۔

ذخیرہ دہائی کی بلند ترین سطح پر، خریداروں کو بہتر موقع
خریداروں کے لیے سب سے اہم خبر ذخیرے میں اضافہ ہے۔ اگست کے آخر میں فروخت کے لیے دستیاب مکانات کی کل تعداد 16 لاکھ 20 ہزار تک پہنچ گئی جو جولائی کے مقابلے میں 3.2 فیصد اور ایک سال قبل کے مقابلے میں 5.9 فیصد زیادہ ہے۔ یہ نومبر 2019 کے بعد پہلا موقع ہے جب ذخیرہ 16 لاکھ یونٹس سے تجاوز کر گیا ہے۔
موجودہ فروخت کی رفتار کے حساب سے یہ ذخیرہ 4.9 ماہ کی فراہمی کے برابر ہے جو جولائی کے 4.6 ماہ سے زیادہ اور ایک دہائی سے زائد عرصے کی بلند ترین سطح ہے۔ ماہرین کے مطابق 4.5 سے 6 ماہ کی فراہمی کو عام طور پر متوازن بازار سمجھا جاتا ہے، یعنی امریکی بازار اب متوازن سطح کے قریب پہنچ رہا ہے۔
زیادہ انتخاب کا مطلب ہے کہ خریداروں پر فوری پیشکش کا دباؤ کم ہوگا اور انہیں قیمت، اختتامی اخراجات یا مرمت پر سودے بازی کی زیادہ گنجائش ملے گی۔ اگست میں مکانات اوسطاً 31 دن بازار میں رہے جو جولائی کے 29 دن سے زیادہ ہے۔
امریکی رئیل اسٹیٹ میں قیمتیں پھر بھی بڑھ رہی ہیں، مگر رفتار سست
عام حالات میں فروخت میں کمی کے ساتھ قیمتیں بھی گرتی ہیں، لیکن ابھی تک ایسا نہیں ہوا۔ این اے آر کے مطابق اگست میں موجودہ مکانات کی اوسط قیمت 4 لاکھ 29 ہزار 100 ڈالر رہی جو ایک سال قبل کے مقابلے میں 1.6 فیصد زیادہ ہے۔ یہ مسلسل 38 واں ماہ ہے جب قیمتوں میں سالانہ بنیادوں پر اضافہ ہوا ہے، اگرچہ اضافے کی رفتار 2021 اور 2022 کے دوہرے ہندسوں والے اضافے سے بہت کم ہے۔
دوسری طرف ریئلٹر ڈاٹ کام کی ستمبر کی رپورٹ میں مانگی گئی قیمتوں میں کمی کا رجحان نمایاں ہے۔ قومی اوسط مانگی گئی قیمت 4 لاکھ 19 ہزار 250 ڈالر رہی جو اگست کے مقابلے میں 1.2 فیصد اور ایک سال قبل کے مقابلے میں 1.4 فیصد کم ہے۔ یہ مسلسل گیارہواں ماہ ہے جب مانگی گئی قیمتوں میں سالانہ کمی ہوئی ہے۔ یہ فرق اس لیے ہے کہ این اے آر مکمل ہونے والے سودوں کی قیمتیں بتاتی ہے جبکہ ریئلٹر ڈاٹ کام فروخت کے لیے پیش فہرستوں کی مانگی گئی قیمتیں شمار کرتی ہے۔
| پیمانہ | این اے آر (مکمل شدہ سودے، اگست) | ریئلٹر ڈاٹ کام (فہرستیں، ستمبر) |
|---|---|---|
| اوسط قومی قیمت | 4 لاکھ 29 ہزار 100 ڈالر (سالانہ +1.6 فیصد) | 4 لاکھ 19 ہزار 250 ڈالر (سالانہ -1.4 فیصد) |
| ذخیرہ / فعال فہرستیں | 16 لاکھ 20 ہزار مکانات | 11 لاکھ 61 ہزار 615 فعال فہرستیں |
| قیمت میں کٹوتی والی فہرستوں کی شرح | — | 20.8 فیصد (2018 کے بعد بلند ترین) |
| بازار میں رہنے کے اوسط دن | 31 دن | 61 دن |
ماہرین کیا کہتے ہیں
لارنس یون کا کہنا ہے کہ اگرچہ فروخت میں کمی آئی ہے، لیکن 2026 کے پہلے آٹھ ماہ میں فروخت گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 1.6 فیصد زیادہ رہی ہے۔ ان کے مطابق بڑھتی ہوئی اجرتوں اور ملازمتوں کی تخلیق سے طلب کو سہارا مل رہا ہے۔ اگست میں پہلی بار مکان خریدنے والوں کا حصہ 30 فیصد رہا جو جولائی کے 29 فیصد اور ایک سال قبل کے 28 فیصد سے زیادہ ہے، جبکہ 27 فیصد سودے نقد ادائیگی پر ہوئے۔
ریئلٹر ڈاٹ کام کی چیف ماہرِ اقتصادیات ڈینیئل ہیل کے مطابق ستمبر کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ خریداروں کی سودے بازی کی طاقت بڑھ رہی ہے، لیکن بلند رہن کی شرح اس موقع کے استعمال کو محدود کر رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ذخیرہ بہتر ہو رہا ہے اور زیادہ فروخت کنندگان قیمتیں ایڈجسٹ کر رہے ہیں، تاہم زیرِ معاہدہ مکانات میں کمی واضح کرتی ہے کہ استطاعت اب بھی مرکزی رکاوٹ ہے۔
سینئر ماہرِ اقتصادیات جیک کریمل کے مطابق زیادہ مکانات دستیاب ہیں اور وبا سے پہلے کے بازار کے ساتھ ذخیرے کا فرق کم ہو رہا ہے، لیکن اس بہتری کی وجہ اہم ہے۔ یہ بہتری اس لیے آ رہی ہے کہ قرض کی بڑھتی لاگت پر طلب ٹھنڈی پڑ رہی ہے، نہ کہ اس لیے کہ فروخت کنندگان کی نئی لہر بازار میں داخل ہو رہی ہے۔

آگے کیا ہوگا
ریئلٹر ڈاٹ کام کے ماہرین کے مطابق موسمِ خزاں میں اصل امتحان یہ ہوگا کہ بلند شرحِ سود کے باوجود طلب محدود رہنے کی صورت میں فروخت کنندگان کیسے ردِ عمل دیتے ہیں۔ قیمتوں میں کٹوتی کی گہرائی اور تعدد، کٹوتیوں سے مزید معاہدے ہونے یا نہ ہونے، اور فروخت کنندگان کی جانب سے فہرستیں واپس لینے کے رجحان پر نظر رکھی جائے گی۔
کولڈویل بینکر کی چیف ایگزیکٹو آفیسر کامنی لین کے مطابق بازار میں اب تقریباً پانچ ماہ کی فراہمی موجود ہے جو ایک دہائی سے زائد عرصے کی بلند ترین سطح ہے، اور جو فروخت کنندگان اب تک بیٹھے تھے وہ اب سودے کے لیے بات چیت کے لیے زیادہ تیار ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ خزاں میں عام طور پر مسابقت کم ہوتی ہے، اس لیے جو خریدار انتظار کر رہے تھے ان کے لیے یہ دستیاب آپشنز پر دوبارہ نظر ڈالنے کا اچھا موقع ہو سکتا ہے۔
نتیجہ
امریکی رئیل اسٹیٹ بازار اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں خریدار اور فروخت کنندہ دونوں انتظار کی کیفیت میں ہیں۔ بلند شرحِ سود نے فروخت کو سست کر دیا ہے، لیکن ریکارڈ ذخیرے اور قیمتوں میں کٹوتی نے خریداروں کو برسوں بعد پہلی بار سودے بازی کی طاقت دی ہے۔ آنے والے ہفتے یہ طے کریں گے کہ کیا یہ تعطل کسی نئے توازن کی طرف بڑھتا ہے یا طویل جمود میں بدلتا ہے۔ وطن نیوز کی مزید بین الاقوامی خبریں اردو میں پڑھنے کے لیے وطن نیوز اردو ملاحظہ کریں۔



























