LIVE
اہم خبر
میراڈونا کے بعد میسی کا آخری میچ، شائقین کا بوینس آئرس میں ہجوم28 سال پیدل دنیا کا سفر، برطانوی مہم جو وطن واپس پہنچ گیاتصاویر: ایشین گیمز 2026 کی شاندار اختتامی تقریبمصنوعی ذہانت کے ضابطوں کی گھڑی ٹک رہی ہے: اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ کی تنبیہصاحبزادہ فرحان پاکستان ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے نئے کپتان مقررامریکا کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ تعطل کا شکار: فروخت میں کمی، ذخیرہ ریکارڈ سطح پریورپی کمیشن نے نسل پرستی کے خلاف یورپ کے سب سے بڑے نیٹ ورک کی فنڈنگ روک دیوزیر خزانہ محمد اورنگزیب: رواں مالی سال میں چار فیصد اقتصادی شرح نمو متوقعجرمنی کی ایلف الفا نے کولِبْری اے آئی ماڈل جاری کر دیااے آئی کی تیز رفتار دوڑ: حکومتیں کیوں پیچھے رہ گئیں؟ارجنٹینا کو ڈنمارک سے مزید چھ ایف سولہ جنگی طیارے مل گئےٹی ٹوئنٹی قیادت میں تبدیلی: صاحبزادہ فرحان نئے کپتان، سلمان علی آغا اسکواڈ سے باہریورپی یونین کی توسیع: رکن ممالک کو راضی کرنے کی کوششیںٹرینیڈاڈ و ٹوباگو: پریس کی آزادی خطرے میں، پولیس بل پر ہنگامہگورنر سندھ کی پاک-امریکی بزنس کونسل صدر سے ملاقاتپیرس طلبہ کا حکومت اور پولیس پر شدید غصہ، ریاستی تشدد قرارامریکی بمبار طیاروں کے عالمی اڈوں کی نشاندہیقونصل جنرل کی سندھ اسمبلی اسپیکر سے ملاقات، تعلقات پر زورروس میں طاعون کے خدشات: غلط دعووں کی حقیقت کیا ہے؟میراڈونا کے بعد میسی کا آخری میچ، شائقین کا بوینس آئرس میں ہجوم28 سال پیدل دنیا کا سفر، برطانوی مہم جو وطن واپس پہنچ گیاتصاویر: ایشین گیمز 2026 کی شاندار اختتامی تقریبمصنوعی ذہانت کے ضابطوں کی گھڑی ٹک رہی ہے: اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ کی تنبیہصاحبزادہ فرحان پاکستان ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے نئے کپتان مقررامریکا کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ تعطل کا شکار: فروخت میں کمی، ذخیرہ ریکارڈ سطح پریورپی کمیشن نے نسل پرستی کے خلاف یورپ کے سب سے بڑے نیٹ ورک کی فنڈنگ روک دیوزیر خزانہ محمد اورنگزیب: رواں مالی سال میں چار فیصد اقتصادی شرح نمو متوقعجرمنی کی ایلف الفا نے کولِبْری اے آئی ماڈل جاری کر دیااے آئی کی تیز رفتار دوڑ: حکومتیں کیوں پیچھے رہ گئیں؟ارجنٹینا کو ڈنمارک سے مزید چھ ایف سولہ جنگی طیارے مل گئےٹی ٹوئنٹی قیادت میں تبدیلی: صاحبزادہ فرحان نئے کپتان، سلمان علی آغا اسکواڈ سے باہریورپی یونین کی توسیع: رکن ممالک کو راضی کرنے کی کوششیںٹرینیڈاڈ و ٹوباگو: پریس کی آزادی خطرے میں، پولیس بل پر ہنگامہگورنر سندھ کی پاک-امریکی بزنس کونسل صدر سے ملاقاتپیرس طلبہ کا حکومت اور پولیس پر شدید غصہ، ریاستی تشدد قرارامریکی بمبار طیاروں کے عالمی اڈوں کی نشاندہیقونصل جنرل کی سندھ اسمبلی اسپیکر سے ملاقات، تعلقات پر زورروس میں طاعون کے خدشات: غلط دعووں کی حقیقت کیا ہے؟
اے آئی

مصنوعی ذہانت سے لکھے ناقص مقالوں کا سیلاب: آرکائیو نے ہر ماہ صرف دو مقالے جمع کرانے کی حد لگا دی

Usman javed
مصنوعی ذہانت سے لکھے ناقص مقالوں کا سیلاب: آرکائیو نے ہر ماہ صرف دو مقالے جمع کرانے کی حد لگا دی
Share this story

دنیا کے سب سے بڑے سائنسی تحقیقی ذخیرے آرکائیو نے مصنوعی ذہانت کی مدد سے لکھے گئے ناقص تحقیقی مقالوں کے بڑھتے ہوئے سیلاب پر قابو پانے کے لیے ایک سخت اور غیر معمولی اقدام اٹھایا ہے۔ یکم اکتوبر 2026 سے نافذ ہونے والی نئی پالیسی کے تحت اب ہر مصنف ایک مہینے میں زیادہ سے زیادہ دو تحقیقی مقالے جمع کرا سکے گا۔ تحقیقی حلقوں میں اس فیصلے کو ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ یہ پہلا موقع ہے جب مصنوعی ذہانت کے پھیلاؤ نے خود تحقیقی اشاعت کے نظام کو متاثر کیا ہے۔

اہم نکات

  • آرکائیو نے یکم اکتوبر 2026 کو اعلان کیا کہ ہر جمع کنندہ ایک کیلنڈر ماہ میں زیادہ سے زیادہ دو تحقیقی مقالے جمع کرا سکے گا۔
  • ایک وقت میں تین سے زیادہ مقالے نگرانی کے عمل میں نہیں رہ سکیں گے۔
  • مسترد کیے گئے مقالے بھی ماہانہ حد میں شمار ہوں گے تاکہ مصنفین سوچ سمجھ کر مقالے جمع کرائیں۔
  • ستمبر 2026 میں آرکائیو کو ریکارڈ 40,363 مقالے موصول ہوئے، جو ستمبر 2024 کے 20,569 مقالوں سے تقریباً دو گنا زیادہ ہیں۔
  • مصنوعی ذہانت کے شعبے میں جمع ہونے والے مقالوں کی تعداد صرف دو سال میں چھ گنا بڑھ گئی ہے۔
  • ستمبر 2026 میں ایک ہی ماہ کے دوران نگران عملے کو تقریباً 9,000 شکایتی ٹکٹ موصول ہوئے۔
  • آرکائیو کے مطابق یہ پابندی عارضی ہے اور طویل مدتی قوانین و بہتر نگرانی کے اوزاروں پر کام جاری ہے۔

نئی پابندی کی تفصیلات

نئی پالیسی کے مطابق ہر جمع کنندے کا اکاؤنٹ ایک کیلنڈر مہینے میں زیادہ سے زیادہ دو مقالے جمع کرا سکتا ہے اور ایک وقت میں اس کے تین سے زیادہ مقالے نگرانی کے عمل میں نہیں ہو سکتے۔ آرکائیو کے ترجمان کے مطابق کوئی مقالہ اس وقت “فعال” شمار ہوتا ہے جب وہ جمع ہو چکا ہو، اس پر غور اور جائزہ جاری ہو، لیکن وہ ابھی ویب سائٹ پر شائع نہ ہوا ہو۔

قواعد اس طرح بنائے گئے ہیں کہ ان سے بچ نکلنے کے واضح راستے بند کر دیے گئے ہیں۔ مسترد شدہ مقالے ماہانہ حد میں شمار ہوں گے، جس کا مقصد مصنفین کو احتیاط سے مقالے منتخب کرنے کی ترغیب دینا ہے۔ یہ حد صرف اس شخص پر لاگو ہوتی ہے جو مقالہ جمع کراتا ہے، اس کے تمام شریک مصنفین پر نہیں، اس لیے بڑی تحقیقی ٹیمیں مختلف شریک مصنفین کے ذریعے مقالے جمع کرا سکتی ہیں۔ البتہ اعلان سے پہلے واپس لیے گئے مقالے اس حد میں شمار نہیں ہوں گے۔ اس تبدیلی کا اعلان آرکائیو کی کمیونٹی رابطہ منیجر کیٹ بوبورس نے کیا تھا۔

کمپیوٹر پر مصنوعی ذہانت سے تحقیقی کام کرتا روبوٹ
مصنوعی ذہانت کے اوزاروں سے مقالہ لکھنا آسان ہو گیا ہے، جس سے تحقیقی ذخائر پر بوجھ بڑھ رہا ہے۔

مصنوعی ذہانت کے باعث مقالوں کے سیلاب کے اعداد و شمار

آرکائیو کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ مقالوں کی تعداد میں اضافہ غیر متوازن ہے اور اس کی اصل وجہ مصنوعی ذہانت ہے۔ مجموعی طور پر دو سال میں مقالوں کی تعداد تقریباً دو گنا ہو گئی، لیکن مصنوعی ذہانت کے شعبے کے مقالوں میں چھ گنا اضافہ ہوا۔ دس سال پہلے ستمبر 2016 میں صرف 9,869 مقالے جمع ہوئے تھے، جبکہ اب یہ تعداد چار گنا سے بھی زیادہ ہو چکی ہے۔

مدت موصول شدہ مقالے
ستمبر 2016 9,869
ستمبر 2024 20,569
ستمبر 2026 40,363 (ریکارڈ)

نگرانوں کے مطابق انہیں ایسے مقالوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کا سامنا ہے جن کا دائرہ بہت محدود ہوتا ہے اور جن میں کوئی خاص علمی گہرائی نہیں ہوتی۔ اس کے علاوہ “سلامی طرز” کے مقالے بھی عام ہو رہے ہیں، جن میں ایک ہی تحقیق کو کئی چھوٹے حصوں میں کاٹ کر الگ الگ مقالوں کے طور پر جمع کرایا جاتا ہے تاکہ مقالوں کی تعداد بڑھائی جا سکے۔ آرکائیو کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے اوزاروں نے کاغذ نما دستاویز تیار کرنا بہت سستا اور آسان بنا دیا ہے، جس سے یہ سیلاب آیا ہے۔

محققین کا ملا جلا ردعمل

اس فیصلے پر محققین کی رائے منقسم ہے۔ رٹگرز یونیورسٹی کے ریاضی دان الیکس کونٹورووچ نے اس اقدام کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ کوئی بھی ایک مہینے میں کسی کے بیالیس مقالے نہیں پڑھے گا، اس لیے محققین کو اپنے صرف دو بہترین مقالے منتخب کرنے چاہئیں۔

دوسری جانب ہارورڈ بزنس اسکول کے اسکاٹ کومینرز، جو تقریباً بیس سال سے آرکائیو میں مقالے جمع کرا رہے ہیں، نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پلیٹ فارم کو نگرانی کے اخراجات میں بچت کرنی چاہیے، نہ کہ علمی کام کو محدود کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق نگرانی میں کامیاب ہونے والے مقالے کا انتخاب سب سے قیمتی مقالے کے انتخاب جیسا نہیں ہے۔

آرکائیو کی ادارتی مشاورتی کونسل کے سربراہ تھامس ڈیٹرش نے وضاحت کی کہ مصنفین کا ایک نسبتاً چھوٹا گروہ بڑی تعداد میں ناقص مقالے جمع کرا رہا ہے اور نگرانوں کے وقت کا غیر متناسب حصہ استعمال کر رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ ان مصنفین کے لیے ناانصافی ہے جو معیاری مقالے جمع کراتے رہتے ہیں، کیونکہ ان کے مقالے بھی دنوں یا ہفتوں تک تاخیر کا شکار ہو جاتے ہیں۔

تعلیم میں مصنوعی ذہانت کا بڑھتا کردار

تحقیق کے ساتھ ساتھ تعلیم کے میدان میں بھی مصنوعی ذہانت تیزی سے جگہ بنا رہی ہے۔ اس موضوع پر بیجنگ کے پچاس ماڈل اسکولوں میں مصنوعی ذہانت کی ہماری رپورٹ بھی پڑھیں۔

نتیجہ

آرکائیو کی نئی پابندی اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ مصنوعی ذہانت نے علمی اشاعت کے نظام کو بنیادی طور پر بدل دیا ہے۔ وہی ٹیکنالوجی جس کی بنیاد رکھنے والی زیادہ تر تحقیق آرکائیو پر شائع ہوئی، اب اسی پلیٹ فارم کے لیے چیلنج بن گئی ہے۔ آنے والے مہینوں میں یہ واضح ہو گا کہ آیا ہر شخص کی ماہانہ حد ناقص مقالوں کے سیلاب کو کم کرتی ہے یا صرف اسے ان اکاؤنٹس کی طرف منتقل کر دیتی ہے جنہوں نے ابھی اپنی حد استعمال نہیں کی۔

اکثر پوچھے گئے سوالات

متعلقہ خبریں

اے آئی ایجنٹس سے نجی پیغامات کا خطرہ: ایپل نے میک کی فل ڈسک ایکسیس پر نئے کنٹرول کا اعلان کر دیااے آئی

اے آئی ایجنٹس سے نجی پیغامات کا خطرہ: ایپل نے میک کی فل ڈسک ایکسیس پر نئے کنٹرول کا اعلان کر دیا

دو اکتوبر 2026 کو ایپل نے اعلان کیا کہ وہ میک او ایس کی "فل ڈسک ایکسیس" نامی طاقتور اجازت کے گرد نئے کنٹرول متعارف کرا رہی ہے، کیونکہ اے آئی ایجنٹس کے بڑھتے ہوئے اختیار اور خودمختاری نے اس رسائی کے خطرات کو نمایاں کر دیا ہے۔ ٹیک کرنچ کی رپورٹ کے مطابق یہ پہلا موقع ہے جب کسی بڑے ڈیسک ٹاپ آپریٹنگ سسٹم

مزید پڑھیں
AI ٹیکنالوجی: اپنائیت اور خطراتاے آئی

AI ٹیکنالوجی: اپنائیت اور خطرات

ایک مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی جو ہماری زندگیوں کو بدل رہی ہے ایک مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کی ایک نئی لہر نے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ اس ٹیکنالوجی نے ہماری زندگیوں کو بدلنے کی طاقت رکھتی ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی خطرات بھی ہیں۔ ایک مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کیا

مزید پڑھیں

سیارہ اور ماحول

ماحولیات اور استحکام

مستقبل کی نسلوں کے لیے ایک سبز اور زیادہ پائیدار سیارے کی طرف تبدیلی لانے والی خبریں، کہانیاں اور حل۔

آسٹریلیا کا بحرالکاہل ممالک کے لیے 73 لاکھ آسٹریلوی ڈالر کے قابلِ تجدید توانائی اعلان
نمایاں خبر

آسٹریلیا کا بحرالکاہل ممالک کے لیے 73 لاکھ آسٹریلوی ڈالر کے قابلِ تجدید توانائی اعلان

آسٹریلیا بحرالکاہل ممالک کو قابلِ تجدید توانائی کی جانب منتقلی میں مدد کے لیے 73 لاکھ آسٹریلوی ڈالر گرڈ ماڈلنگ، تکنیکی ماہرین اور افرادی قوت کی تربیت پر خرچ کرے گا — اعلان 5 اکتوبر 2026 کو فجی میں پری کاپ31 سربراہی اجلاس میں کیا گیا، جب کہ وانوآتو کے ساتھ شمسی توانائی کا نیا معاہدہ بھی ہوا۔

مکمل خبر پڑھیں
2026 والڈو پروفٹ ایوارڈ: روز شنیبل اور میامی ہیرالڈ کی ‘بلٹ آن سینڈ’ کو شاندار ماحولیاتی صحافت کا اعزاز
گرین جرنلزم

2026 والڈو پروفٹ ایوارڈ: روز شنیبل اور میامی ہیرالڈ کی ‘بلٹ آن سینڈ’ کو شاندار ماحولیاتی صحافت کا اعزاز

ڈبلیو یو ایف ٹی کی روز شنیبل اور میامی ہیرالڈ کی بلٹ آن سینڈ سیریز کو شاندار ماحولیاتی صحافت پر 2026 والڈو پروفٹ ایوارڈ مشترکہ طور پر دیا گیا، اعلان 2 اکتوبر کو ہوا۔

مکمل خبر پڑھیں
جانز ہاپکنز کا ۵۰۰ ڈالر صحافت ایوارڈ: آبادیاتی تبدیلی اور سیارہ صحت کی رپورٹنگ پر عالمی اعزاز
گرین جرنلزم

جانز ہاپکنز کا ۵۰۰ ڈالر صحافت ایوارڈ: آبادیاتی تبدیلی اور سیارہ صحت کی رپورٹنگ پر عالمی اعزاز

ایک نیا بین الاقوامی سیارہ صحافت ایوارڈ صحافیوں سے مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ آب و ہوا کی کوریج کے کم سے کم موضوعات میں سے ایک پر رپورٹ کریں: آبادیاتی تبدیلی سیارہ کی صحت کو کیسے متاثر کرتی ہے — اور اس کے برعکس۔ جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے اداروں کی میزبانی میں منعقد

مکمل خبر پڑھیں
WUFT کی رپورٹر روز شنابیل نے 2026 کا والڈو پروفٹ ماحولیاتی صحافت ایوارڈ جیت لیا
گرین جرنلزم

WUFT کی رپورٹر روز شنابیل نے 2026 کا والڈو پروفٹ ماحولیاتی صحافت ایوارڈ جیت لیا

WUFT کی رپورٹر روز شنابیل کو 2026 کے والڈو پروفٹ ایوارڈ برائے نمایاں ماحولیاتی صحافت کا وصول کنندہ قرار دیا گیا — دیہی کوریج کے لیے جس نے ججوں کے مطابق نمایاں ناانصافیوں کو بے نقاب کیا۔

مکمل خبر پڑھیں

ہر قدم اہم ہے

آج کے چھوٹے اقدامات، کل کے بڑے اثرات۔

مزید کہانیاں دیکھیں
انٹیلی جنس ڈوزیئر

وطن نیوز کے ساتھ باخبر رہیں

تازہ ترین خبریں، اپ ڈیٹس اور اہم کہانیاں براہ راست اپنے ان باکس میں حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔