سعودی عرب کو یمن میں حوثی علیحدگی پسندوں کو پیچھے دھکیلنے کے لیے فوجی اتحاد کی تشکیل کی خاطر متحدہ عرب امارات کے ساتھ مفاہمت پر زور دیا جا رہا ہے۔ دونوں ممالک کے تعلقات جنوری میں اس وقت کشیدہ ہو گئے تھے جب متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ فورس کو سعودی عرب نے شکست دی تھی۔
یمن میں بدلتی صورتحال
یمن میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعلقات اس وقت کشیدہ ہو گئے جب جنوری میں دونوں ممالک کی حمایت یافتہ افواج کے درمیان تنازعہ پیدا ہوا۔ متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ علیحدگی پسند تنظیم ‘سدرن ٹرانزیشنل کونسل’ (STC) کو سعودی عرب کی جانب سے شکست کا سامنا کرنا پڑا، جس کا مقصد جنوبی ریاست کو دوبارہ قائم کرنے کی کوشش کو ناکام بنانا تھا۔ اس واقعے کے بعد متحدہ عرب امارات نے عملی طور پر یمن سے اپنی افواج واپس بلا لیں۔
حوثیوں کی پیش قدمی اور علاقائی جیواسٹریٹجی
تاہم، ستمبر کے وسط میں ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کی جانب سے باب المندب آبنائے کی جانب غیر متوقع پیش قدمی نے خطے کی جیواسٹریٹجی کو ایک بار پھر تبدیل کر دیا ہے۔ اس پیش قدمی نے صدر طارق صالح کی زیر قیادت، جو پہلے متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ نیشنل ریزسٹنس فورسز کا حصہ تھے، ان کی صفوں کو تیزی سے ختم کر دیا۔
- حوثیوں کی جانب سے باب المندب آبنائے کی جانب پیش قدمی نے خطے کی جیواسٹریٹجی کو تبدیل کر دیا ہے۔
- طارق صالح کی زیر قیادت فورسز کو حوثیوں کی پیش قدمی کے باعث شدید نقصان اٹھانا پڑا۔
- سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعلقات میں جنوری میں تناؤ پیدا ہوا تھا۔
- متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ تنظیم کو سعودی عرب نے شکست دی تھی۔
ابو ظہبی میں علاقائی ملاقات
یمن میں مستقبل کے کردار پر اتوار کو ابو ظہبی میں ایک ملاقات ہوئی جس میں اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو، متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان، اور سعودی عرب سمیت دیگر عرب ریاستوں کے نمائندے شریک ہوئے۔
ملاقات کے اہم نکات
- اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے حوثیوں کو شکست دینے میں سعودی عرب کی مدد کی پیشکش کی۔
- سعودی عرب کے لیے یہ پیشکش قبول کرنا مشکل ہو سکتا ہے، خاص طور پر جب ڈونلڈ ٹرمپ نے یمن میں سعودی عرب کی مدد کی اپیل کا جواب نہیں دیا۔
- ملاقات میں یمن کی صورتحال پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔
ریاض میں دفاعی وزراء کی ملاقات
حوثیوں کی پیش قدمی کے بعد، منگل کو ریاض میں سعودی عرب کے وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان آل سعود اور متحدہ عرب امارات کے نائب صدر شیخ منصور بن زاید النہیان کے درمیان ایک اور ملاقات ہوئی۔ یہ ملاقات دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
- حوثیوں کی جانب سے باب المندب آبنائے پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
- سعودی عرب کے تیل برآمدات کے لیے یہ آبنائے ایک اہم چوک پوائنٹ ہے۔
- حوثی فورسز اب جنوب مغربی شہر تعز پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
- تعز شہر کا دفاع کرنے والی فورسز پر مسلسل حملے کیے جا رہے ہیں۔
مفاہمت کی کوششیں اور مشکلات
یمن کے امور کے ماہرین کے مطابق، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان اختلافات کو ختم کرنے کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں اور اعتماد سازی کے اقدامات بھی اٹھائے جا سکتے ہیں۔ تاہم، متحدہ عرب امارات کے یمن سے نکل جانے کے بعد، ریاض کے لیے انہیں دوبارہ واپس لانا مشکل ہو سکتا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ وہ STC کے ساتھ وابستہ ہیں، جو مزید مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔
نتیجہ
یمن میں حوثی باغیوں کی بڑھتی ہوئی طاقت اور علاقائی استحکام پر ان کے اثرات کے پیش نظر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان مفاہمت کی فوری ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان جنوری میں پیدا ہونے والے تناؤ نے خطے کی سلامتی کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ حوثیوں کی جانب سے باب المندب آبنائے پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوششیں، جو سعودی عرب کی تیل برآمدات کے لیے ایک اہم راستہ ہے، اس صورتحال کی سنگینی کو اجاگر کرتی ہیں۔
سعودی عرب کو یمن میں ایک مؤثر فوجی اتحاد بنانے کے لیے متحدہ عرب امارات کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر بنانا ہوگا۔ اگرچہ اسرائیلی وزیراعظم نے مدد کی پیشکش کی ہے، لیکن سعودی عرب کے لیے اس پیشکش کو قبول کرنا آسان نہیں ہوگا۔ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی کے اقدامات اور مشترکہ حکمت عملی کی ضرورت ہے تاکہ یمن میں امن بحال کیا جا سکے اور خطے کو مزید عدم استحکام سے بچایا جا سکے۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
یمن میں حوثی علیحدگی پسندوں کے خلاف کون سی ممالک فوجی اتحاد کی تشکیل پر زور دے رہے ہیں؟
سعودی عرب کو یمن میں حوثی علیحدگی پسندوں کو پیچھے دھکیلنے کے لیے فوجی اتحاد کی تشکیل کی خاطر متحدہ عرب امارات کے ساتھ مفاہمت پر زور دیا جا رہا ہے۔
سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات میں کشیدگی کب پیدا ہوئی؟
دونوں ممالک کے تعلقات جنوری میں اس وقت کشیدہ ہو گئے تھے جب متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ فورس کو سعودی عرب نے شکست دی تھی۔
حوثیوں کی حالیہ پیش قدمی کا اہم علاقہ کون سا ہے؟
حوثیوں کی جانب سے ستمبر کے وسط میں ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کی جانب سے باب المندب آبنائے کی جانب غیر متوقع پیش قدمی نے خطے کی جیواسٹریٹجی کو ایک بار پھر تبدیل کر دیا ہے۔
یمن میں سلامتی کی صورتحال پر کس ملک کے وزیراعظم نے مدد کی پیشکش کی؟
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے حوثیوں کو شکست دینے میں سعودی عرب کی مدد کی پیشکش کی۔
















