بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں اتوار کے روز حزب اختلاف کی جماعتوں نے ایک بڑی ریلی نکالی اور الیکشن کمیشن کے سربراہ کے استعفے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ ووٹر فہرستوں کی متنازع نظرثانی کے باعث کروڑوں ووٹروں کے نام فہرستوں سے خارج ہوئے ہیں، جس سے انتخابی عمل کی شفافیت پر سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔
ریلی کی قیادت کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے کی۔ حزب اختلاف کی جماعتوں نے وسطی دہلی سے رام لیلا میدان تک تقریباً ڈیڑھ کلومیٹر طویل مارچ کا اعلان کیا تھا، جہاں احتجاجی جلسہ منعقد ہوا۔ حزب اختلاف کو توقع تھی کہ اس مارچ میں لاکھوں افراد شریک ہوں گے اور یہ مظاہرہ وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہوگا۔
اہم نکات
- نئی دہلی میں حزب اختلاف نے میگا ریلی نکال کر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کیا۔
- مظاہرین نے وسطی دہلی سے رام لیلا میدان تک تقریباً ڈیڑھ کلومیٹر طویل مارچ کیا۔
- حزب اختلاف کو مارچ میں لاکھوں افراد کی شرکت کی توقع تھی، جبکہ سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔
- ووٹر فہرستوں کی نظرثانی کے دوران 13 کروڑ سے زائد نام خارج ہوئے، جن میں 2 کروڑ 80 لاکھ انتقال کر جانے والے، 6 کروڑ 30 لاکھ منتقل ہونے والے اور 3 کروڑ ناقابل سراغ افراد شامل بتائے جاتے ہیں۔
- الیکشن کمیشن نے کسی جماعت کی حمایت کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ غلطی سے خارج ہونے والے ووٹر دوبارہ اندراج کرا سکتے ہیں۔
دہلی میں میگا ریلی اور سیکیورٹی انتظامات
ریلی کے موقع پر دہلی میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے۔ لاٹھیوں اور ڈھالوں سے لیس سیکیورٹی اہلکار اور فسادات پر قابو پانے والی گاڑیاں احتجاج کے مقام کے اطراف تعینات کی گئیں، جبکہ ٹریفک کی آمد و رفت کے لیے متبادل راستوں کا اعلان بھی کیا گیا۔
حزب اختلاف کی جماعتیں، طلبہ تنظیمیں اور نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ جنتا پارٹی گزشتہ ماہ سے تقریباً روزانہ کی بنیاد پر مظاہرے کر رہی ہیں۔ ان مظاہروں کا مرکزی مطالبہ چیف الیکشن کمشنر کا استعفا ہے۔

ووٹر فہرستوں کی نظرثانی پر تنازع
یہ احتجاجی تحریک اس وقت زور پکڑ گئی جب ستمبر میں انڈین ایکسپریس اخبار نے خبر دی کہ الیکشن کمشنر کے دو نائبین نے ووٹر فہرستوں کی نظرثانی، اندراج کے طریقہ کار اور ڈیجیٹل نظام کے حوالے سے اندرونی طور پر کئی تحفظات کا اظہار کیا تھا۔
ووٹر فہرستوں کی نظرثانی کا عمل گزشتہ برس شروع ہوا تھا۔ حزب اختلاف کے ناقدین کا کہنا ہے کہ اس عمل کے دوران 13 کروڑ سے زائد نام فہرستوں سے نکالے گئے۔ ان کے بقول اس نظرثانی سے حکمراں جماعت کو فائدہ پہنچا ہے، تاہم الیکشن کمیشن اس الزام کو مسترد کرتا ہے۔
الیکشن کمیشن اور حکومت کا مؤقف
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ اس نے کسی سیاسی جماعت کی حمایت نہیں کی اور اگر کسی ووٹر کا نام غلطی سے خارج ہوا ہے تو وہ دوبارہ اندراج کرا سکتا ہے۔ دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی کا کہنا ہے کہ حزب اختلاف جائز انتخابی عمل پر سوال اٹھا کر جمہوریت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہی ہے۔
حزب اختلاف کی جماعتوں کا کہنا ہے کہ وہ ووٹر فہرستوں کی شفافیت کے لیے اپنا احتجاج جاری رکھیں گی، جبکہ حکومت اور الیکشن کمیشن کا مؤقف ہے کہ انتخابی عمل قانون کے مطابق آگے بڑھ رہا ہے۔ دہلی کی میگا ریلی کو بھارت کی سیاست میں انتخابی شفافیت کی بحث کا ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔
مزید عالمی خبریں وطن نیوز اردو پر پڑھیں۔































