LIVE
اہم خبر
یورپی یونین کی موسمیاتی مالیات 2025 میں 41.6 ارب یورو تک پہنچ گئیں، کاپ31 سے قبل سرکاری فنڈنگ میں اضافہامریکہ میں وسط مدتی انتخابات: تین نومبر کو کانگریس کا کنٹرول داؤ پر، ٹرمپ کے لیے بڑا امتحانقطر پائیداری ہفتہ 2026 کا آغاز پائیداری سفیر دوڑ سےقومی اسمبلی میں انکشاف: ڈیڑھ سال میں 3,900 بچے ایچ آئی وی سے متاثردوحہ میں امریکہ ایران مذاکرات کی کوششیں تیز، وینس کے خط کے بعد سات روزہ منصوبے پر بات چیتمریم گولنراگی کو موسمیاتی اور پائیداری چیمپئن آف دی ایئر 2026 کا اعزاز مل گیاسندھ ہائی کورٹ نے محمد سلیم کی اپیل پر ریاست مخالف سازش کے مقدمے میں عمر قید کالعدم قرار دے دیروسی حملوں کے بعد دنیپرو میں بجلی کا بڑا بحران، دو لاکھ سے زائد صارفین تاریکی میںایران اور امریکا کے درمیان ثالثی میں پیش رفت پر پاکستان پرامید، مکہ دفاعی معاہدے میں نئے ممالک کی شمولیت ممکن: ڈی جی آئی ایس پی آرایساویرا میں ساتویں بین الاقوامی موسمیاتی تبدیلی کانفرنسحیدرآباد کے 1150 اسکول بچوں نے عملی تجربات سے موسمیاتی عمل سیکھامشرقی افریقی بچوں نے کمپالا میں موسمیاتی اعلامیہ پیش کیا اور 5000 درخت لگائےتھائی لینڈ کو گرین ڈیسٹینیشنز کانفرنس 2026 میں تین ایوارڈز اور ٹاپ 100 میں 16 مقامات ملےنیو یارک نے 25 ملین درختوں کے لیے 45 ملین ڈالر کی جنگلاتی گرانٹس کا اعلان کر دیاایالا لینڈ اور کراؤن پائپس کا پی وی سی واپسی پروگرام، تعمیراتی فضلہ کم ہوگالولا کاپ31 میں شرکت کریں گے، برازیل صدارت ترکیہ کے حوالے کرے گادنیا کے سیاحتی مقامات: یورپ، امریکہ، ایشیا، جزیرے اور خلیج کا حسین ترین سفرامریکی مکانوں کی قیمتوں میں تین سال بعد پہلی کمی، خریداروں کی مانگ کم ترین سطح پرپاور لیٹس کے بانیوں کی بڑی کامیابی: اے آئی چپس کے لیے 86 ملین ڈالر کی سرمایہ کاریپیرس فیشن ویک میں 2027 کے بہار کے نمایاں رجحانات: سنہری رنگ، جامنی رنگ اور لازوال ٹرینچ کوٹیورپی یونین کی موسمیاتی مالیات 2025 میں 41.6 ارب یورو تک پہنچ گئیں، کاپ31 سے قبل سرکاری فنڈنگ میں اضافہامریکہ میں وسط مدتی انتخابات: تین نومبر کو کانگریس کا کنٹرول داؤ پر، ٹرمپ کے لیے بڑا امتحانقطر پائیداری ہفتہ 2026 کا آغاز پائیداری سفیر دوڑ سےقومی اسمبلی میں انکشاف: ڈیڑھ سال میں 3,900 بچے ایچ آئی وی سے متاثردوحہ میں امریکہ ایران مذاکرات کی کوششیں تیز، وینس کے خط کے بعد سات روزہ منصوبے پر بات چیتمریم گولنراگی کو موسمیاتی اور پائیداری چیمپئن آف دی ایئر 2026 کا اعزاز مل گیاسندھ ہائی کورٹ نے محمد سلیم کی اپیل پر ریاست مخالف سازش کے مقدمے میں عمر قید کالعدم قرار دے دیروسی حملوں کے بعد دنیپرو میں بجلی کا بڑا بحران، دو لاکھ سے زائد صارفین تاریکی میںایران اور امریکا کے درمیان ثالثی میں پیش رفت پر پاکستان پرامید، مکہ دفاعی معاہدے میں نئے ممالک کی شمولیت ممکن: ڈی جی آئی ایس پی آرایساویرا میں ساتویں بین الاقوامی موسمیاتی تبدیلی کانفرنسحیدرآباد کے 1150 اسکول بچوں نے عملی تجربات سے موسمیاتی عمل سیکھامشرقی افریقی بچوں نے کمپالا میں موسمیاتی اعلامیہ پیش کیا اور 5000 درخت لگائےتھائی لینڈ کو گرین ڈیسٹینیشنز کانفرنس 2026 میں تین ایوارڈز اور ٹاپ 100 میں 16 مقامات ملےنیو یارک نے 25 ملین درختوں کے لیے 45 ملین ڈالر کی جنگلاتی گرانٹس کا اعلان کر دیاایالا لینڈ اور کراؤن پائپس کا پی وی سی واپسی پروگرام، تعمیراتی فضلہ کم ہوگالولا کاپ31 میں شرکت کریں گے، برازیل صدارت ترکیہ کے حوالے کرے گادنیا کے سیاحتی مقامات: یورپ، امریکہ، ایشیا، جزیرے اور خلیج کا حسین ترین سفرامریکی مکانوں کی قیمتوں میں تین سال بعد پہلی کمی، خریداروں کی مانگ کم ترین سطح پرپاور لیٹس کے بانیوں کی بڑی کامیابی: اے آئی چپس کے لیے 86 ملین ڈالر کی سرمایہ کاریپیرس فیشن ویک میں 2027 کے بہار کے نمایاں رجحانات: سنہری رنگ، جامنی رنگ اور لازوال ٹرینچ کوٹ
دنیا

امریکہ میں وسط مدتی انتخابات: تین نومبر کو کانگریس کا کنٹرول داؤ پر، ٹرمپ کے لیے بڑا امتحان

News Desk 2شائع شدہ 31 اکتوبر، 2026
امریکہ میں وسط مدتی انتخابات: تین نومبر کو کانگریس کا کنٹرول داؤ پر، ٹرمپ کے لیے بڑا امتحان
Share this story

امریکہ کے ووٹرز تین نومبر کو ایک ایسے انتخاب میں ووٹ ڈالیں گے جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی باقی مدت صدارت کی سمت طے کر دے گا۔ اس روز کانگریس کے دونوں ایوانوں کی نشستوں پر ووٹنگ ہو گی، اور نتائج یہ فیصلہ کریں گے کہ ملک میں قانون سازی پر کس سیاسی جماعت کا کنٹرول رہے گا۔

صدر کا نام بیلٹ پیپر پر موجود نہیں ہو گا، لیکن ان انتخابات کو ان کی کارکردگی پر عوامی رائے کے ایک بڑے پیمانے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ریپبلکن جماعت اس وقت کانگریس کے دونوں ایوانوں میں معمولی اکثریت رکھتی ہے، جب کہ اپوزیشن ڈیموکریٹک جماعت کم از کم ایک ایوان حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

اہم نکات

  • تین نومبر 2026 کو ایوان نمائندگان کی تمام 435 نشستوں اور سینیٹ کی 100 میں سے 35 نشستوں پر ووٹنگ ہو گی۔
  • ایوان نمائندگان پر کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے 218 نشستیں درکار ہیں، اور اس وقت ریپبلکن جماعت کے پاس 218 نشستیں ہیں۔
  • سینیٹ میں ریپبلکن جماعت کے پاس 53 نشستیں ہیں، جب کہ ڈیموکریٹس کو اکثریت کے لیے 51 نشستیں چاہییں۔
  • 36 ریاستوں میں گورنر کا انتخاب بھی اسی روز ہو گا، جن میں کیلیفورنیا، فلوریڈا، جارجیا اور مشی گن کے مقابلے سب سے زیادہ توجہ حاصل کر رہے ہیں۔
  • رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق صدر ٹرمپ کی حمایت کی شرح تقریباً 37 فیصد ہے، جب کہ تقریباً 60 فیصد افراد نے ان کی کارکردگی پر عدم اطمینان ظاہر کیا ہے۔
  • سی بی ایس کی نشاندہی کے مطابق سینیٹ کی 10 نشستوں اور ایوان نمائندگان کے 42 مقابلوں پر خصوصی نظر رکھی جا رہی ہے۔

کن نشستوں اور عہدوں کے لیے انتخاب ہو گا؟

امریکی کانگریس دو حصوں پر مشتمل ہے۔ ایوان نمائندگان کے تمام 435 ارکان دو سال کی مدت کے لیے منتخب ہوتے ہیں، اور نئے قوانین کی تجاویز عموماً اسی ایوان میں پیش کی جاتی ہیں اور ان پر بحث ہوتی ہے۔ اس مرتبہ ایوان کی ہر نشست پر ووٹنگ ہو رہی ہے۔

دوسری جانب سینیٹ کی 100 میں سے 35 نشستوں پر ووٹ ڈالے جائیں گے۔ سینیٹرز چھ سال کی مدت کے لیے منتخب ہوتے ہیں۔ ان 35 نشستوں میں 33 معمول کی نشستیں اور 2 ضمنی انتخابات شامل ہیں، جو ان نشستوں پر ہو رہے ہیں جو سابق سینیٹرز کے نائب صدر اور وزیر خارجہ بننے کے بعد خالی ہوئی تھیں۔

اسی روز ملک کے بیشتر حصوں میں ووٹرز ریاستی سطح کے عہدیداروں کا بھی انتخاب کریں گے۔ نئی کانگریس جنوری 2027 میں اپنے کام کا آغاز کرے گی، اور اس کی تشکیل ہی یہ طے کرے گی کہ آئندہ دو برس میں کون سے قوانین بن سکیں گے۔

پولنگ اسٹیشن کے باہر قطار میں کھڑے ووٹرز
علامتی تصویر: پولنگ اسٹیشن کے باہر ووٹ ڈالنے کے لیے قطار میں کھڑے امریکی ووٹرز

ووٹرز کے سامنے اہم موضوعات کیا ہیں؟

امریکی ووٹرز کی بڑی تعداد اس وقت معیشت کے مسائل پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ ایندھن، اشیائے خور و نوش، رہائش اور صحت کی سہولیات کی بڑھتی ہوئی قیمتیں عوام کے لیے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہیں۔ ڈیموکریٹک جماعت کا مؤقف ہے کہ صدر ٹرمپ کی تجارتی محصولات سے متعلق پالیسیوں نے بھی صارفین کے لیے اشیا کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے۔

امیگریشن بھی انتخابات کا ایک اہم موضوع ہے۔ ریپبلکن جماعت کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے 2024 کی انتخابی مہم کے ایک بڑے وعدے کو پورا کرتے ہوئے سرحدی نگرانی سخت کی اور غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف وسیع پیمانے پر کارروائی کا آغاز کیا، جو کئی مواقع پر تنازع کا سبب بھی بنی۔

حالیہ ہفتوں میں مصنوعی ذہانت سے متعلق خدشات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ دونوں بڑی جماعتوں کے کئی سینئر سیاستدان اس شعبے کے لیے ضابطہ سازی کی ضرورت پر متفق ہیں، تاہم وہ اس معاملے میں ٹرمپ سے اختلاف رکھتے ہیں، جنھوں نے اس ٹیکنالوجی کی ترقی کو قوانین کے ذریعے محدود کرنے کی مخالفت کی ہے۔

اس مرتبہ انتخابی نتائج نسبتاً زیادہ غیر یقینی تصور کیے جا رہے ہیں، جس کی ایک بڑی وجہ دونوں جماعتوں کے درمیان ایوان نمائندگان کے انتخابی حلقوں کی نئی حد بندیوں پر جاری سیاسی کشمکش ہے۔ دونوں جماعتوں نے بعض ریاستوں میں اپنے لیے زیادہ سازگار انتخابی نقشے ترتیب دینے کی کوشش کی، اور سیاسی مبصرین کے مطابق یہی تنازع نتائج کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔

نتائج کے بعد کیا ہو سکتا ہے؟

اگر ڈیموکریٹک جماعت ایوان نمائندگان یا سینیٹ میں سے کسی ایک پر بھی کنٹرول حاصل کر لیتی ہے تو صدر ٹرمپ کے لیے کانگریس سے نئے قوانین کی منظوری حاصل کرنا مشکل ہو جائے گا، اور ان کے داخلی پالیسی ایجنڈے کو شدید رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایسی صورت میں ڈیموکریٹس کانگریس کی کمیٹیوں کے ذریعے ٹرمپ انتظامیہ کے مختلف اقدامات کی تحقیقات بھی شروع کر سکتے ہیں، جن میں مبینہ بدعنوانی، وائٹ ہاؤس میں تعمیر کیے گئے نئے بال روم اور امیگریشن ادارے کی کارروائیوں جیسے معاملات شامل ہو سکتے ہیں۔

ڈیموکریٹک جماعت کے اندر اس بات پر بھی بحث جاری ہے کہ آیا ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی کارروائی شروع کی جانی چاہیے۔ مواخذے سے مراد کانگریس میں ایسے الزامات عائد کرنا ہے جو کسی فوجداری مقدمے کے بجائے ایک سیاسی ٹرائل کی بنیاد بنتے ہیں۔

دوسری جانب اگر ریپبلکن جماعت کانگریس پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے میں کامیاب رہتی ہے تو صدر ٹرمپ اپنی مدت صدارت کے باقی عرصے میں اپنی پالیسیوں اور قانون سازی کے منصوبوں کو نسبتاً آسانی سے آگے بڑھا سکیں گے۔ صدر نے ریپبلکن ووٹرز پر زور دیا ہے کہ وہ ان انتخابات کو ان کی اب تک کی پالیسیوں اور اقدامات کی توثیق کے طور پر دیکھتے ہوئے ریپبلکن امیدواروں کی حمایت کریں۔

ماضی میں امریکی ووٹرز کا رجحان یہ رہا ہے کہ وہ وسط مدتی انتخابات میں صدر کی جماعت کے خلاف ووٹ ڈالتے ہیں، اور اسی تاریخی رجحان کو اس مرتبہ بھی ایک اہم اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔ آئینی طور پر ٹرمپ تیسری بار صدارتی انتخاب میں حصہ نہیں لے سکتے، اس لیے ان انتخابات کے بعد یہ بحث تیز ہونے کی توقع ہے کہ 2028 کے صدارتی انتخابات میں دونوں جماعتوں کی جانب سے کون امیدوار سامنے آئے گا۔ مزید عالمی خبریں پڑھنے کے لیے وطن نیوز ملاحظہ کریں۔

متعلقہ خبریں

دوحہ میں امریکہ ایران مذاکرات کی کوششیں تیز، وینس کے خط کے بعد سات روزہ منصوبے پر بات چیتدنیا

دوحہ میں امریکہ ایران مذاکرات کی کوششیں تیز، وینس کے خط کے بعد سات روزہ منصوبے پر بات چیت

قطری ثالثوں کی تہران میں بارہ گھنٹے سے زائد بات چیت کے بعد دوحہ میں امریکہ ایران مذاکرات کی کوششیں تیز ہو گئی ہیں۔ وینس کے خط اور سات روزہ منصوبے پر بات چیت جاری ہے، تاہم مذاکرات کی ترتیب پر اختلاف برقرار ہے۔

مزید پڑھیں
روسی حملوں کے بعد دنیپرو میں بجلی کا بڑا بحران، دو لاکھ سے زائد صارفین تاریکی میںدنیا

روسی حملوں کے بعد دنیپرو میں بجلی کا بڑا بحران، دو لاکھ سے زائد صارفین تاریکی میں

دنیپرو میں روسی حملوں کے بعد بجلی کا نظام شدید متاثر ہوا ہے۔ ابتدائی طور پر ساڑھے تین لاکھ صارفین بجلی سے محروم ہوئے اور 30 اکتوبر تک بھی دو لاکھ سے زائد صارفین کو بجلی بحال نہیں ہو سکی تھی۔

مزید پڑھیں
امریکی فوج کی بڑے پیمانے پر عارضی تدفین کی مشق، کوریا جنگ کے بعد پہلی مرتبہدنیا

امریکی فوج کی بڑے پیمانے پر عارضی تدفین کی مشق، کوریا جنگ کے بعد پہلی مرتبہ

امریکی فوج نے فورٹ بریگ میں آپریشن ڈریگن کووننٹ کے دوسرے مرحلے کے تحت بڑے پیمانے پر عارضی تدفین کی مشق کی ہے، جو کوریا کی جنگ کے بعد اس پیمانے پر پہلی بار ہوئی ہے۔ ڈی 6 بلڈوزر سے 20 باقیات کی خندق اوسطاً ایک گھنٹہ 15 منٹ میں تیار ہوئی۔

مزید پڑھیں
بھوٹان میں گلیشیئر جھیل پھٹ گئی: سیلاب سے گرم چشمے تباہ، بھارت کی دو ریاستوں میں الرٹدنیا

بھوٹان میں گلیشیئر جھیل پھٹ گئی: سیلاب سے گرم چشمے تباہ، بھارت کی دو ریاستوں میں الرٹ

بھوٹان کے ضلع گاسا میں شنتافو گلیشیئر جھیل پھٹنے سے سیلاب آ گیا، گرم چشموں کا کمپلیکس بہہ گیا اور بھارت کی مغربی بنگال و آسام میں الرٹ جاری کر دیا گیا، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

مزید پڑھیں

سیارہ اور ماحول

ماحولیات اور استحکام

مستقبل کی نسلوں کے لیے ایک سبز اور زیادہ پائیدار سیارے کی طرف تبدیلی لانے والی خبریں، کہانیاں اور حل۔

یورپی یونین کی موسمیاتی مالیات 2025 میں 41.6 ارب یورو تک پہنچ گئیں، کاپ31 سے قبل سرکاری فنڈنگ میں اضافہ
نمایاں خبر

یورپی یونین کی موسمیاتی مالیات 2025 میں 41.6 ارب یورو تک پہنچ گئیں، کاپ31 سے قبل سرکاری فنڈنگ میں اضافہ

یورپی یونین اور اس کے 27 رکن ممالک نے 2025 میں 32.3 ارب یورو سرکاری موسمیاتی مالیات اور 9.3 ارب یورو متحرک نجی مالیات فراہم کیں، کاپ31 انطالیہ سے قبل۔

مکمل خبر پڑھیں
اقوام متحدہ کی بحالی رپورٹ: صحافیوں کے لیے ماحولیاتی خبروں کا نیا عالمی پیمانہ
گرین جرنلزم

اقوام متحدہ کی بحالی رپورٹ: صحافیوں کے لیے ماحولیاتی خبروں کا نیا عالمی پیمانہ

29 اکتوبر 2026 کو شائع ہونے والی اقوام متحدہ کی بحالی کی پہلی جامع رپورٹ صحافیوں کو ایک قابل تصدیق عالمی پیمانہ دیتی ہے: 149 ملکوں میں 252 ملین ہیکٹر کی بحالی جاری ہے، لیکن 2030 کے اہداف کے لیے رقم کو چار گنا سے زیادہ بڑھانا ہوگا۔

مکمل خبر پڑھیں
انطالیہ میں کاپ31 سے قبل ترکیہ کا صحافیوں سے حل پر مبنی رپورٹنگ کا مطالبہ
گرین جرنلزم

انطالیہ میں کاپ31 سے قبل ترکیہ کا صحافیوں سے حل پر مبنی رپورٹنگ کا مطالبہ

ترکیہ کے ڈائریکٹر برائے مواصلات برہانیتین دوران نے کاپ31 سے قبل حل پر مبنی موسمیاتی رپورٹنگ کا مطالبہ کیا اور گرین تھکاوٹ سے خبردار کیا، جب کہ تقریباً 3 ہزار صحافیوں میں سے 1 ہزار 4 سو کی منظوری مکمل ہو چکی ہے۔

مکمل خبر پڑھیں
ماحولیاتی صحافت کے 25 ویں سالانہ ایوارڈز کے لیے کتابوں کی انٹریاں شروع
گرین جرنلزم

ماحولیاتی صحافت کے 25 ویں سالانہ ایوارڈز کے لیے کتابوں کی انٹریاں شروع

سوسائٹی آف انوائرمینٹل جرنلسٹس نے ماحول پر رپورٹنگ کے 25 ویں سالانہ ایوارڈز کے لیے کتابوں کی انٹریاں کھول دی ہیں۔ 2025 یا 2026 میں شائع ہونے والی کتابیں اہل ہیں، عام آخری تاریخ 21 دسمبر 2026 ہے۔

مکمل خبر پڑھیں
اقوام متحدہ کا کاپ31 سے قبل موسمیاتی معلومات کے تحفظ کے لیے مشترکہ اقدام کا مطالبہ
گرین جرنلزم

اقوام متحدہ کا کاپ31 سے قبل موسمیاتی معلومات کے تحفظ کے لیے مشترکہ اقدام کا مطالبہ

اقوام متحدہ نے موسمیاتی معلومات کی سالمیت کے تحفظ کے لیے وسیع اور مشترکہ کوشش کا مطالبہ کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ غلط معلومات، صحافیوں کو ہراساں کرنا اور مصنوعی ذہانت سے پیدا شدہ ہیرا پھیری اب موسمیاتی عمل کے لیے خطرہ بن گئی ہے۔

مکمل خبر پڑھیں
آئی پی آئی کا افریقہ کے موسمیاتی صحافیوں کے مضبوط تحفظ کا مطالبہ
گرین جرنلزم

آئی پی آئی کا افریقہ کے موسمیاتی صحافیوں کے مضبوط تحفظ کا مطالبہ

انٹرنیشنل پریس انسٹی ٹیوٹ (آئی پی آئی) نے موسمیاتی تبدیلی کے عالمی دن کے موقع پر افریقہ میں موسمیات اور ماحولیات پر رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کے مضبوط تحفظ اور موسمیاتی و ماحولیاتی معلومات تک یقینی رسائی کا مطالبہ کیا ہے۔ آئی پی آئی نے افریقی ریاستوں سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ صحافیوں

مکمل خبر پڑھیں

ہر قدم اہم ہے

آج کے چھوٹے اقدامات، کل کے بڑے اثرات۔

مزید کہانیاں دیکھیں
انٹیلی جنس ڈوزیئر

وطن نیوز کے ساتھ باخبر رہیں

تازہ ترین خبریں، اپ ڈیٹس اور اہم کہانیاں براہ راست اپنے ان باکس میں حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔