امریکی فوج نے شمالی کیرولائنا میں ایک ایسی مشق مکمل کی ہے جس میں میدان جنگ میں بڑی تعداد میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کی عارضی تدفین کی تربیت دی گئی۔ فوج کے مطابق اس پیمانے پر یہ تیاری کوریا کی جنگ کے بعد پہلی بار کی گئی ہے، اور اس کا مقصد یہ جانچنا تھا کہ شدید جنگ کے دوران باقیات کو کس طرح محفوظ رکھا جائے تاکہ بعد میں ان کی شناخت اور اہل خانہ تک واپسی ممکن ہو سکے۔
یہ مشق آپریشن ڈریگن کووننٹ کے دوسرے مرحلے کے تحت 20 اور 21 اکتوبر کو فورٹ بریگ میں ہوئی۔ اس میں تھرڈ کور سسٹینمنٹ کمانڈ اور بیسویں انجینئر بریگیڈ کے دستوں کے ساتھ چپلینز، طبی عملے اور ہلاک شدگان کے امور کے ماہرین نے حصہ لیا۔
اہم نکات
- مشق کا نام: آپریشن ڈریگن کووننٹ کا دوسرا مرحلہ
- مقام اور تاریخ: فورٹ بریگ، شمالی کیرولائنا؛ 20 اور 21 اکتوبر 2026
- شریک دستے: تھرڈ کور سسٹینمنٹ کمانڈ، بیسویں انجینئر بریگیڈ، چپلینز اور طبی عملہ
- معیاری پلاٹ: پانچ متوازی خندقیں، تقریباً 100 باقیات کی گنجائش
- رفتار: ڈی 6 بلڈوزر سے 20 باقیات کی خندق اوسطاً ایک گھنٹہ 15 منٹ میں تیار ہوئی
- یومیہ صلاحیت: ایک انجینئر کمپنی 24 گھنٹوں میں 2400 تک باقیات کے لیے خندقیں تیار کر سکتی ہے
- اگلا مرحلہ: تیسرا مرحلہ آئندہ موسم بہار میں ہو گا
مشق میں کیا کیا گیا
مشق کے دوران انجینئروں نے بھاری مشینری سے لمبی خندقیں کھودیں اور پھر انہیں دوبارہ بھر کر دیکھا کہ مٹی کا وزن نیچے رکھی گئی فرضی باقیات کو نقصان نہ پہنچائے۔ انسانی باقیات کی جگہ ڈھانچوں کے ماڈل اور پانی کے کنٹینر استعمال کیے گئے، تاکہ یہ جانچا جا سکے کہ مستقبل میں فرانزک ماہرین قبروں کو دوبارہ کھول کر شناخت کا عمل محفوظ طریقے سے انجام دے سکیں گے یا نہیں۔
چپلینز اور مذہبی عملے نے جنگی حالات میں تیزی سے تدفین کی رسوم ادا کرنے کی مشق بھی کی۔ فوجی حکام کے مطابق اس مشق کا مقصد جنگ کے دوران عارضی اور غیر آزمودہ ردعمل کے بجائے ایک منظم اور پہلے سے جانچا ہوا طریقہ کار تیار کرنا تھا، جس میں ہر باقیات کے ساتھ عزت اور احترام کا سلوک یقینی بنایا جا سکے۔

رفتار اور پرانے طریقے میں فرق
امریکی فوج کی ہدایات کے مطابق عارضی تدفین کا ایک معیاری پلاٹ پانچ متوازی خندقوں پر مشتمل ہوتا ہے جن میں مجموعی طور پر تقریباً 100 باقیات رکھی جا سکتی ہیں۔ پرانے طریقے میں بیک ہو نامی مشین سے ایک خندق کی تیاری میں تقریباً تین گھنٹے لگتے تھے، جب کہ اس مشق میں ڈی 6 بلڈوزر سے 20 باقیات کی خندق اوسطاً ایک گھنٹہ 15 منٹ میں تیار ہوئی۔ اسی رفتار کی بنیاد پر فوج نے حساب لگایا ہے کہ مناسب مشینری اور مسلسل کام کی صورت میں ایک انجینئر کمپنی 24 گھنٹوں میں 2400 تک باقیات کے لیے خندقیں کھود اور بند کر سکتی ہے۔
مشق کے دوران ایک خامی بھی سامنے آئی۔ تحریری ہدایات میں قطاروں کے درمیان سات فٹ کا فاصلہ درج تھا، مگر عملی آزمائش میں یہ جگہ بلڈوزر گزارنے کے لیے تنگ نکلی، کیونکہ مشین کے گزرنے سے ساتھ والی خندق متاثر ہونے کا خدشہ تھا۔ فوج کا کہنا ہے کہ ان نتائج کی روشنی میں متعلقہ ہدایات میں ترمیم کی جائے گی۔
یہ مشق کیوں ہو رہی ہے
امریکی فوج کا اصول یہ ہے کہ جب حالات اجازت دیں تو ہلاک شدگان کی باقیات کو واپس لایا جائے، لیکن مشترکہ فوجی ہدایات کے تحت اجتماعی جانی نقصان کی صورت میں عارضی قبریں بنانے کی اجازت ہے، خاص طور پر جب باقیات کو محفوظ طریقے سے منتقل کرنا ممکن نہ ہو، نقل و حمل دستیاب نہ ہو، یا ہلاکتیں کیمیائی، حیاتیاتی یا جوہری ہتھیاروں سے ہوئی ہوں۔ بین الاقوامی قوانین کے تحت دشمن افواج کی باقیات کی بھی ریکارڈنگ اور شناخت ضروری ہے۔
فوجی حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ مشق کسی مخصوص کارروائی کا اشارہ نہیں، بلکہ مستقبل کی شدید جنگ کے امکان کے پیش نظر تیاری ہے، جس میں ہلاک شدگان کو فوری طور پر واپس لانا ممکن نہ ہو۔ اس سلسلے کا تیسرا مرحلہ آئندہ موسم بہار میں ہو گا، جس میں سکیورٹی، طبی سہولتیں اور باقیات جمع کرنے کا مقام بھی شامل کیا جائے گا۔
بین الاقوامی خبروں کے لیے وطن نیوز کا اردو صفحہ دیکھیں۔































