اسلام آباد میں 3 نومبر 2026 کو وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے پاکستان تحریک انصاف کے چیف وہپ عامر ڈوگر سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا۔ اس رابطے میں انتخابی اصلاحات سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل پر بات چیت ہوئی۔ حکومت نے اپوزیشن جماعت سے کہا ہے کہ وہ اس کمیٹی میں اپنی شرکت کے لیے اپنے ارکان کے نام دے۔
حکومتی موقف کے مطابق ارکان کے نام موصول ہونے کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی اس کمیٹی کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کریں گے۔ اس کے بعد کمیٹی انتخابی اصلاحات سے متعلق امور پر غور کر سکے گی۔
اہم نکات
- حکومت نے پی ٹی آئی سے انتخابی اصلاحات پر پارلیمانی کمیٹی کے لیے اپنے ارکان کے نام مانگے ہیں۔
- نام موصول ہونے کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی کمیٹی کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کریں گے۔
- مجوزہ تشکیل میں حکومت کے 15 اور اپوزیشن کے 5 ارکان قومی اسمبلی شامل ہوں گے۔
- عامر ڈوگر نے کہا ہے کہ وہ پارلیمانی قیادت سے مشاورت کے بعد حکومت کو آگاہ کریں گے۔
- 2013 میں اسی نوعیت کی کمیٹی میں حکومت کے 12 اور اپوزیشن کے 5 ارکان تھے۔
رابطے میں کیا بات ہوئی
ٹیلیفون پر ہونے والی گفتگو میں وفاقی وزیر نے پی ٹی آئی کے چیف وہپ سے کہا کہ حکومت انتخابی اصلاحات پر پارلیمانی کمیٹی بنانا چاہتی ہے اور اس میں اپوزیشن کی شرکت ضروری ہے۔ انہوں نے درخواست کی کہ پی ٹی آئی اپنے ارکان کے نام اسپیکر قومی اسمبلی کو بھجوا دے تاکہ کمیٹی کا نوٹیفکیشن جاری ہو سکے۔
عامر ڈوگر نے اس موقع پر کمیٹی کی تشکیل کے بارے میں سوال کیا۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ نشستوں کے تناسب کے مطابق کمیٹی میں حکومت کے 15 اور اپوزیشن کے 5 ارکان قومی اسمبلی ہوں گے۔ عامر ڈوگر نے جواب میں کہا کہ وہ اس معاملے پر اپنی پارلیمانی قیادت سے مشاورت کریں گے اور اس کے بعد حکومت کو اپنے فیصلے سے آگاہ کریں گے۔
انتخابی اصلاحات پارلیمانی کمیٹی کی مجوزہ تشکیل
مجوزہ کمیٹی کا مقصد انتخابی اصلاحات سے متعلق امور پر پارلیمان کے اندر مشترکہ غور کرنا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ تمام معاملات پر مکالمے کے لیے تیار ہے اور سیاسی جماعتوں کی تجاویز کو اہمیت دیتی ہے۔ کمیٹی کی تشکیل میں نشستوں کے تناسب کو بنیاد بنایا گیا ہے تاکہ ایوان میں ہر فریق کی نمائندگی اس کے مینڈیٹ کے مطابق ہو۔
وفاقی وزیر نے 2013 کے تجربے کا بھی حوالہ دیا، جب اسی نوعیت کی کمیٹی میں حکومت کے 12 اور اپوزیشن کے 5 ارکان شامل تھے۔ اس بار مجوزہ تعداد میں حکومت کی نشستیں زیادہ رکھی گئی ہیں، جبکہ اپوزیشن کی تعداد وہی 5 رکھی گئی ہے۔

آگے کیا ہوگا
اب اس معاملے کا اگلا مرحلہ پی ٹی آئی کی پارلیمانی قیادت سے مشاورت پر منحصر ہے۔ اگر جماعت اپنے ارکان کے نام اسپیکر قومی اسمبلی کو بھجوا دیتی ہے تو کمیٹی کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری ہو جائے گا اور انتخابی اصلاحات پر پارلیمانی غور کا عمل آگے بڑھے گا۔
کمیٹی کی تشکیل کے بعد یہ دیکھا جائے گا کہ انتخابی اصلاحات کے کن نکات پر اتفاق رائے پیدا ہوتا ہے اور کن امور پر مزید بات چیت کی ضرورت پڑتی ہے۔ اس عمل کو پارلیمان کے اندر جمہوری مکالمے کی ایک اہم کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔
مزید خبروں کے لیے وطن نیوز اردو ملاحظہ کریں۔































