پشاور میں 3 نومبر 2026 کو پشاور ہائی کورٹ نے خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اور صوبائی اسمبلی کے اسپیکر بابر سلیم سواتی کی بازیابی سے متعلق درخواستوں کا معاملہ چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ کو ارسال کر دیا۔ عدالت نے ان درخواستوں پر لارجر بینچ تشکیل دینے کی استدعا بھی کی ہے۔
جسٹس ارشد علی اور جسٹس فہیم ولی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے ان درخواستوں کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اور درخواست گزاروں کے وکیل عدالت میں پیش ہوئے۔
اہم نکات
- پشاور ہائی کورٹ نے سہیل آفریدی اور بابر سلیم سواتی کی بازیابی کا معاملہ چیف جسٹس کو ارسال کر دیا۔
- عدالت نے ان درخواستوں پر لارجر بینچ تشکیل دینے کی استدعا کی ہے۔
- عدالت نے سرکاری جواب میں تاخیر پر سوال اٹھایا اور کہا کہ وزیر اعلیٰ کے بارے میں محکمہ داخلہ کے پاس مکمل معلومات ہونی چاہئیں۔
- عدالت نے پولیس، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور متعلقہ ضلعی انتظامیہ سے رپورٹیں طلب کی ہیں۔
- درخواست گزاروں کا موقف ہے کہ دونوں رہنماؤں کو 11 اکتوبر کو حراست میں لیا گیا تھا اور ان کے ٹھکانے کے بارے میں معلومات فراہم نہیں کی جا رہیں۔
سماعت میں کیا ہوا
سماعت کے دوران عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل سے استفسار کیا کہ عدالتی حکم کے باوجود جواب کیوں جمع نہیں کرایا گیا۔ عدالت نے کہا کہ جواب جمع کرانے کے لیے دس دن کا وقت دیا گیا تھا، لیکن اس حکم پر عمل درآمد نہیں ہوا۔
ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ رپورٹ اسی روز موصول ہوئی ہے اور جواب جمع کرانے کے لیے مزید تین دن درکار ہیں۔ عدالت نے سرکاری جواب کو غیر تسلی بخش قرار دیا۔
جسٹس ارشد علی نے ریمارکس دیے کہ وزیر اعلیٰ غائب ہیں اور محکمہ داخلہ کو ان کے بارے میں تمام معلومات ہونی چاہئیں۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ یہ معاملہ مفاد عامہ کا اہم مسئلہ ہے۔

درخواستوں کا پس منظر
درخواست گزاروں کے مطابق سہیل آفریدی کو 11 اکتوبر کو وزیر اعلیٰ ہاؤس سے اور بابر سلیم سواتی کو اسپیکر ہاؤس سے حراست میں لیا گیا تھا۔ درخواستوں میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں کو بازیاب کرا کر عدالت میں پیش کیا جائے اور واقعے کی تحقیقات کرائی جائیں۔
درخواستوں میں یہ استدعا بھی کی گئی ہے کہ متعلقہ ریکارڈ محفوظ کرنے کا حکم دیا جائے اور عدالت کو بازیابی کے اقدامات سے آگاہ رکھا جائے۔ عدالت نے پہلے بھی فریقین سے جواب طلب کیا تھا اور اب اس معاملے میں رپورٹیں طلب کی گئی ہیں۔
سماعت کے دوران عدالت نے اس نوعیت کے پہلے مقدمات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اس طرح کے سیکڑوں مقدمات پہلے بھی اس کے سامنے آ چکے ہیں۔ عدالت نے خبردار کیا کہ اگر یہی صورت حال جاری رہی تو معاملہ لارجر بینچ کو بھیجا جا سکتا ہے۔
آگے کیا ہوگا
اب یہ معاملہ چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ کے سامنے رکھا جائے گا۔ وہاں یہ فیصلہ ہوگا کہ ان درخواستوں کی سماعت کے لیے لارجر بینچ تشکیل دیا جائے یا نہیں۔
عدالت نے متعلقہ اداروں سے رپورٹیں طلب کی ہیں، جن کی روشنی میں آئندہ کارروائی آگے بڑھے گی۔ اس کیس کا نتیجہ دونوں رہنماؤں کی موجودگی اور ان کی قانونی حیثیت کے بارے میں وضاحت کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
مزید خبروں کے لیے وطن نیوز اردو ملاحظہ کریں۔































