LIVE
اہم خبر
انتخابی اصلاحات پر پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل، حکومت نے پی ٹی آئی سے ارکان کے نام مانگ لیےترکیہ نے چار صوبوں میں سات ونڈ ٹینڈرز میں 1.5 گیگاواٹ مختص کر دیاآرکیما کے 2035 کے موسمیاتی اہداف اور 2050 تک خالص صفر کی توثیقسہیل آفریدی اور بابر سلیم سواتی کی بازیابی کا کیس چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ کو ارسالآذربائیجان کے علاقے گاخ میں نوجوانوں کے لیے گرین لائف ایمبیسیڈرز منصوبے کا آغازبرطانیہ میں مستقل رہائش کے نئے قواعد: پانچ سے تیس سال تک انتظار، شرائط سختپشاور ہائی کورٹ کے باہر بیرسٹر گوہر علی خان کا بیان، سیاسی کشیدگی کم کرنے پر زورفو بوجیے کو چین کے لویس پلیٹو کی بحالی پر 2026 کا وولوو ماحولیاتی انعام ملامہمند میں پولیو ٹیم کی حفاظت پر مامور پولیس پر فائرنگ، دو اہلکار شہیدقطر کے گیس ٹینکر پر خلیج میں حملہ، عملہ محفوظ مگر حملہ آور کا معمہ برقرارپیرس میں نیٹ ورک نیچر ویک کا آغاز، فطرت پر مبنی حل موسمیاتی عمل کے مرکز میںلاہور میں سموگ کی نئی لہر؛ اے کیو آئی 535 تک پہنچا، دنیا بھر میں پہلا نمبراسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی کی ضمانت منظور کر لیفلپائن میں موسمیاتی شعور ہفتہ 2026 کے لیے حکومت کی ملک گیر تیاریمیسا نے نوجوانوں کے 11 موسمیاتی منصوبوں کو 40 ہزار ڈالر دیےکاروباری سفر میں پائیداری میں بہتری: 204 کمپنیوں کا جائزہکینیا نے 12 اضلاع میں 20 کروڑ ڈالر کا بحالی منصوبہ شروع کر دیابنگلہ دیش کاپ31 میں قرضوں کے بجائے گرانٹ کا مطالبہ کرے گانائجیریا میں افریقہ کا سب سے بڑا فوڈ گریڈ پلاسٹک ری سائیکلنگ پلانٹ کھل گیاچین میں ایپل کی ذہانت اب کیوون سے چلے گی، آزمائش ۴ نومبر سے شروعانتخابی اصلاحات پر پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل، حکومت نے پی ٹی آئی سے ارکان کے نام مانگ لیےترکیہ نے چار صوبوں میں سات ونڈ ٹینڈرز میں 1.5 گیگاواٹ مختص کر دیاآرکیما کے 2035 کے موسمیاتی اہداف اور 2050 تک خالص صفر کی توثیقسہیل آفریدی اور بابر سلیم سواتی کی بازیابی کا کیس چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ کو ارسالآذربائیجان کے علاقے گاخ میں نوجوانوں کے لیے گرین لائف ایمبیسیڈرز منصوبے کا آغازبرطانیہ میں مستقل رہائش کے نئے قواعد: پانچ سے تیس سال تک انتظار، شرائط سختپشاور ہائی کورٹ کے باہر بیرسٹر گوہر علی خان کا بیان، سیاسی کشیدگی کم کرنے پر زورفو بوجیے کو چین کے لویس پلیٹو کی بحالی پر 2026 کا وولوو ماحولیاتی انعام ملامہمند میں پولیو ٹیم کی حفاظت پر مامور پولیس پر فائرنگ، دو اہلکار شہیدقطر کے گیس ٹینکر پر خلیج میں حملہ، عملہ محفوظ مگر حملہ آور کا معمہ برقرارپیرس میں نیٹ ورک نیچر ویک کا آغاز، فطرت پر مبنی حل موسمیاتی عمل کے مرکز میںلاہور میں سموگ کی نئی لہر؛ اے کیو آئی 535 تک پہنچا، دنیا بھر میں پہلا نمبراسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی کی ضمانت منظور کر لیفلپائن میں موسمیاتی شعور ہفتہ 2026 کے لیے حکومت کی ملک گیر تیاریمیسا نے نوجوانوں کے 11 موسمیاتی منصوبوں کو 40 ہزار ڈالر دیےکاروباری سفر میں پائیداری میں بہتری: 204 کمپنیوں کا جائزہکینیا نے 12 اضلاع میں 20 کروڑ ڈالر کا بحالی منصوبہ شروع کر دیابنگلہ دیش کاپ31 میں قرضوں کے بجائے گرانٹ کا مطالبہ کرے گانائجیریا میں افریقہ کا سب سے بڑا فوڈ گریڈ پلاسٹک ری سائیکلنگ پلانٹ کھل گیاچین میں ایپل کی ذہانت اب کیوون سے چلے گی، آزمائش ۴ نومبر سے شروع
پاکستان

سہیل آفریدی اور بابر سلیم سواتی کی بازیابی کا کیس چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ کو ارسال

News Desk 2شائع شدہ 3 نومبر، 2026
سہیل آفریدی اور بابر سلیم سواتی کی بازیابی کا کیس چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ کو ارسال
Share this story

پشاور میں 3 نومبر 2026 کو پشاور ہائی کورٹ نے خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اور صوبائی اسمبلی کے اسپیکر بابر سلیم سواتی کی بازیابی سے متعلق درخواستوں کا معاملہ چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ کو ارسال کر دیا۔ عدالت نے ان درخواستوں پر لارجر بینچ تشکیل دینے کی استدعا بھی کی ہے۔

جسٹس ارشد علی اور جسٹس فہیم ولی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے ان درخواستوں کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اور درخواست گزاروں کے وکیل عدالت میں پیش ہوئے۔

اہم نکات

  • پشاور ہائی کورٹ نے سہیل آفریدی اور بابر سلیم سواتی کی بازیابی کا معاملہ چیف جسٹس کو ارسال کر دیا۔
  • عدالت نے ان درخواستوں پر لارجر بینچ تشکیل دینے کی استدعا کی ہے۔
  • عدالت نے سرکاری جواب میں تاخیر پر سوال اٹھایا اور کہا کہ وزیر اعلیٰ کے بارے میں محکمہ داخلہ کے پاس مکمل معلومات ہونی چاہئیں۔
  • عدالت نے پولیس، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور متعلقہ ضلعی انتظامیہ سے رپورٹیں طلب کی ہیں۔
  • درخواست گزاروں کا موقف ہے کہ دونوں رہنماؤں کو 11 اکتوبر کو حراست میں لیا گیا تھا اور ان کے ٹھکانے کے بارے میں معلومات فراہم نہیں کی جا رہیں۔

سماعت میں کیا ہوا

سماعت کے دوران عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل سے استفسار کیا کہ عدالتی حکم کے باوجود جواب کیوں جمع نہیں کرایا گیا۔ عدالت نے کہا کہ جواب جمع کرانے کے لیے دس دن کا وقت دیا گیا تھا، لیکن اس حکم پر عمل درآمد نہیں ہوا۔

ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ رپورٹ اسی روز موصول ہوئی ہے اور جواب جمع کرانے کے لیے مزید تین دن درکار ہیں۔ عدالت نے سرکاری جواب کو غیر تسلی بخش قرار دیا۔

جسٹس ارشد علی نے ریمارکس دیے کہ وزیر اعلیٰ غائب ہیں اور محکمہ داخلہ کو ان کے بارے میں تمام معلومات ہونی چاہئیں۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ یہ معاملہ مفاد عامہ کا اہم مسئلہ ہے۔

عدالت کا کمرہ
عدالت میں بازیابی کی درخواستوں پر سماعت کے دوران اہم ریمارکس سامنے آئے۔

درخواستوں کا پس منظر

درخواست گزاروں کے مطابق سہیل آفریدی کو 11 اکتوبر کو وزیر اعلیٰ ہاؤس سے اور بابر سلیم سواتی کو اسپیکر ہاؤس سے حراست میں لیا گیا تھا۔ درخواستوں میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں کو بازیاب کرا کر عدالت میں پیش کیا جائے اور واقعے کی تحقیقات کرائی جائیں۔

درخواستوں میں یہ استدعا بھی کی گئی ہے کہ متعلقہ ریکارڈ محفوظ کرنے کا حکم دیا جائے اور عدالت کو بازیابی کے اقدامات سے آگاہ رکھا جائے۔ عدالت نے پہلے بھی فریقین سے جواب طلب کیا تھا اور اب اس معاملے میں رپورٹیں طلب کی گئی ہیں۔

سماعت کے دوران عدالت نے اس نوعیت کے پہلے مقدمات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اس طرح کے سیکڑوں مقدمات پہلے بھی اس کے سامنے آ چکے ہیں۔ عدالت نے خبردار کیا کہ اگر یہی صورت حال جاری رہی تو معاملہ لارجر بینچ کو بھیجا جا سکتا ہے۔

آگے کیا ہوگا

اب یہ معاملہ چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ کے سامنے رکھا جائے گا۔ وہاں یہ فیصلہ ہوگا کہ ان درخواستوں کی سماعت کے لیے لارجر بینچ تشکیل دیا جائے یا نہیں۔

عدالت نے متعلقہ اداروں سے رپورٹیں طلب کی ہیں، جن کی روشنی میں آئندہ کارروائی آگے بڑھے گی۔ اس کیس کا نتیجہ دونوں رہنماؤں کی موجودگی اور ان کی قانونی حیثیت کے بارے میں وضاحت کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

مزید خبروں کے لیے وطن نیوز اردو ملاحظہ کریں۔

متعلقہ خبریں

مہمند میں پولیو ٹیم کی حفاظت پر مامور پولیس پر فائرنگ، دو اہلکار شہیدپاکستان

مہمند میں پولیو ٹیم کی حفاظت پر مامور پولیس پر فائرنگ، دو اہلکار شہید

مہمند کی تحصیل پنڈیالی کے علاقے تمانزئی میں انسداد پولیو مہم کی ڈیوٹی پر جانے والی پولیس ٹیم پر فائرنگ میں دو اہلکار شہید اور ایک زخمی ہو گیا، حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔

مزید پڑھیں

سیارہ اور ماحول

ماحولیات اور استحکام

مستقبل کی نسلوں کے لیے ایک سبز اور زیادہ پائیدار سیارے کی طرف تبدیلی لانے والی خبریں، کہانیاں اور حل۔

ترکیہ نے چار صوبوں میں سات ونڈ ٹینڈرز میں 1.5 گیگاواٹ مختص کر دیا
نمایاں خبر

ترکیہ نے چار صوبوں میں سات ونڈ ٹینڈرز میں 1.5 گیگاواٹ مختص کر دیا

ترکیہ نے 2 نومبر کو سات یکا آر ای ایس 2026 ونڈ ٹینڈرز میں 1500 میگاواٹ مختص کیا، جس میں سیواس 320 میگاواٹ کے ساتھ سب سے بڑا واحد مقام ہے۔

مکمل خبر پڑھیں
اقوام متحدہ کی دوحہ صحافتی فیلوشپ: 44 کم ترقی یافتہ ممالک کے صحافیوں کے لیے موقع
گرین جرنلزم

اقوام متحدہ کی دوحہ صحافتی فیلوشپ: 44 کم ترقی یافتہ ممالک کے صحافیوں کے لیے موقع

یو این او ایچ آر ایل ایل ایس نے 44 کم ترقی یافتہ ممالک کے صحافیوں کے لیے مکمل مالی مدد یافتہ صحافتی فیلوشپ کھول دی ہے، جس کے تحت منتخب صحافی 25 سے 27 مارچ 2027 کو دوحہ میں دوحہ پروگرام برائے عمل کے وسط مدتی جائزے کی کوریج کریں گے۔ درخواستیں 30 نومبر 2026 کو بند ہوں گی۔

مکمل خبر پڑھیں
اقوام متحدہ کی بحالی رپورٹ: صحافیوں کے لیے ماحولیاتی خبروں کا نیا عالمی پیمانہ
گرین جرنلزم

اقوام متحدہ کی بحالی رپورٹ: صحافیوں کے لیے ماحولیاتی خبروں کا نیا عالمی پیمانہ

29 اکتوبر 2026 کو شائع ہونے والی اقوام متحدہ کی بحالی کی پہلی جامع رپورٹ صحافیوں کو ایک قابل تصدیق عالمی پیمانہ دیتی ہے: 149 ملکوں میں 252 ملین ہیکٹر کی بحالی جاری ہے، لیکن 2030 کے اہداف کے لیے رقم کو چار گنا سے زیادہ بڑھانا ہوگا۔

مکمل خبر پڑھیں
انطالیہ میں کاپ31 سے قبل ترکیہ کا صحافیوں سے حل پر مبنی رپورٹنگ کا مطالبہ
گرین جرنلزم

انطالیہ میں کاپ31 سے قبل ترکیہ کا صحافیوں سے حل پر مبنی رپورٹنگ کا مطالبہ

ترکیہ کے ڈائریکٹر برائے مواصلات برہانیتین دوران نے کاپ31 سے قبل حل پر مبنی موسمیاتی رپورٹنگ کا مطالبہ کیا اور گرین تھکاوٹ سے خبردار کیا، جب کہ تقریباً 3 ہزار صحافیوں میں سے 1 ہزار 4 سو کی منظوری مکمل ہو چکی ہے۔

مکمل خبر پڑھیں
ماحولیاتی صحافت کے 25 ویں سالانہ ایوارڈز کے لیے کتابوں کی انٹریاں شروع
گرین جرنلزم

ماحولیاتی صحافت کے 25 ویں سالانہ ایوارڈز کے لیے کتابوں کی انٹریاں شروع

سوسائٹی آف انوائرمینٹل جرنلسٹس نے ماحول پر رپورٹنگ کے 25 ویں سالانہ ایوارڈز کے لیے کتابوں کی انٹریاں کھول دی ہیں۔ 2025 یا 2026 میں شائع ہونے والی کتابیں اہل ہیں، عام آخری تاریخ 21 دسمبر 2026 ہے۔

مکمل خبر پڑھیں

ہر قدم اہم ہے

آج کے چھوٹے اقدامات، کل کے بڑے اثرات۔

مزید کہانیاں دیکھیں
انٹیلی جنس ڈوزیئر

وطن نیوز کے ساتھ باخبر رہیں

تازہ ترین خبریں، اپ ڈیٹس اور اہم کہانیاں براہ راست اپنے ان باکس میں حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔