یورپی کمیشن نے یورپی موسمیاتی لچک کا قانون تجویز کیا ہے جس کے تحت یورپی یونین کے تمام ستائیس رکن ممالک کو قومی موسمیاتی لچک کے منصوبے تیار کرنا ہوں گے۔ ان منصوبوں میں درجہ حرارت میں اضافے کا ایک مشترکہ خاکہ استعمال کیا جائے گا جو صدی کے آخر تک صنعتی دور سے پہلے کے مقابلے میں تین ڈگری تک پہنچ سکتا ہے۔ یہ تجویز ستائیس اکتوبر دو ہزار چھبیس کو پیش کی گئی اور یہ ترکیہ کے شہر انطالیہ میں نو نومبر کو شروع ہونے والی کاپ31 موسمیاتی سربراہی کانفرنس سے دو ہفتے سے بھی کم وقت پہلے سامنے آئی ہے۔
تجویز کے تحت ہر رکن ملک تیس جون دو ہزار انتیس تک قومی موسمیاتی خطرات کا جائزہ لے گا اور اکتیس دسمبر دو ہزار تیس تک موسمیاتی لچک کا ایک قومی حکمت عملی منصوبہ اپنائے گا۔ کمیشن تیس ستمبر دو ہزار اٹھائیس تک یونین کا پہلا حکمت عملی منصوبہ اپنائے گا۔ یہ تجویز قانون بننے سے پہلے یورپی پارلیمان اور کونسل کی منظوری کی محتاج ہے۔
درجہ حرارت میں اضافے کا ایک مشترکہ خاکہ
منصوبوں میں ایک مشترکہ حوالہ خاکہ استعمال ہوگا: دو ہزار تیس تک ڈیڑھ ڈگری، دو ہزار پچاس تک دو ڈگری اور صدی کے آخر تک تین ڈگری۔ رکن ممالک سے کہا جائے گا کہ وہ بجٹ سازی، زمین کے استعمال کی منصوبہ بندی اور ماحولیاتی اثرات کے جائزوں میں اس خاکے کو مدنظر رکھیں۔
یورپی کمیشن کی صدر ارزلا فان ڈیر لائن نے کہا ہے کہ یورپ عالمی اوسط سے دگنی رفتار سے گرم ہو رہا ہے۔ موسمیات کے کمشنر ووپکے ہوکسٹرا نے پیشکش کے موقع پر کہا کہ تین ڈگری کے منظرنامے کی تیاری کا مطلب ڈیڑھ ڈگری کے ہدف کو ترک کرنا نہیں ہے۔ کمیشن کے الفاظ میں ڈیڑھ ڈگری کا ہدف اب بھی رہنما اصول ہے۔

منصوبوں میں کیا شامل ہوگا
قومی منصوبے موجودہ موافقت کی منصوبہ بندی کی ذمہ داریوں کو ایک منصوبے میں یکجا کریں گے اور متداخل تقاضوں کی جگہ لیں گے۔ ہر رکن ملک ایک مرکزی رابطہ اتھارٹی مقرر کرے گا اور بڑے موسمیاتی خطرات کے لیے ذمہ دار عوامی اداروں کے نام بتائے گا۔
جائزوں اور منصوبوں میں توانائی، پانی، مواصلاتی نظام اور حکومتی بجٹ جیسے شعبے شامل ہوں گے۔ پانی کی سلامتی تجویز کے تحت لازمی منصوبہ بندی کا شعبہ ہے جس میں پانی کے موثر استعمال، دوبارہ استعمال اور خشک سالی و سیلاب سے لچک شامل ہے۔
کمیشن کے مطابق فوری اقدام کیوں ضروری ہے
کمیشن کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ دو ہزار بائیس سے دو ہزار پچیس کے دوران موسمیاتی نقصانات سے معاشی نقصان سالانہ تقریباً پچاس ارب یورو رہا۔ کمیشن کا اندازہ ہے کہ یورپ کو گرم آب و ہوا کے مطابق ڈھالنے کے لیے سالانہ تقریباً ستر ارب یورو کی سرمایہ کاری درکار ہے جبکہ موجودہ خرچ سالانہ تقریباً انتیس ارب یورو ہے۔
تجویز میں یورپ کو سب سے تیزی سے گرم ہونے والا براعظم قرار دیا گیا ہے۔ باضابطہ پیشکش سے پہلے بلومبرگ نیوز نے جو مسودہ دیکھا اس میں خبردار کیا گیا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی یورپ کی سماجی اور علاقائی ہم آہنگی کو تیزی سے کمزور کر رہی ہے اور موجودہ رجحانات پر یورپ کا درجہ حرارت دو ہزار ایک سو تک پانچ ڈگری تک بڑھ سکتا ہے۔ یہ اعداد تخمینے ہیں، مشاہدہ شدہ درجہ حرارت نہیں، اور یہ تجویز ابھی مسودہ قانون ہے، منظور شدہ قاعدہ نہیں۔
مزید موسمیاتی خبروں کے لیے وطن نیوز کا موسمیات سیکشن دیکھیں۔
اہم نکات
- تجویز: یورپی موسمیاتی لچک کا فریم ورک اور تجویز کردہ موسمیاتی لچک کا قانون، ستائیس اکتوبر دو ہزار چھبیس کو پیش کیا گیا۔
- دائرہ: یورپی یونین کے تمام ستائیس رکن ممالک۔
- آخری تاریخیں: یونین کا حکمت عملی منصوبہ تیس ستمبر دو ہزار اٹھائیس تک؛ قومی خطرات کے جائزے تیس جون دو ہزار انتیس تک؛ قومی حکمت عملی منصوبے اکتیس دسمبر دو ہزار تیس تک۔
- منصوبہ بندی کا خاکہ: دو ہزار تیس تک ڈیڑھ ڈگری، دو ہزار پچاس تک دو ڈگری، صدی کے آخر تک تین ڈگری۔
- حیثیت: صرف تجویز ہے — یورپی پارلیمان اور کونسل کی منظوری درکار ہے۔



























