مصنوعی ذہانت سے بنائی گئی تصاویر، ویڈیوز اور آواز کی ریکارڈنگ اب اصل مواد سے الگ کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ اس چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے گوگل نے اپنا سن تھ آئی ڈی ڈیٹیکٹر ٹول دنیا بھر کے عام صارفین کے لیے کھول دیا ہے۔ یہ اعلان سات اکتوبر دو ہزار چھبیس کو گوگل ڈیپ مائنڈ کی جانب سے کیا گیا، اور اب یہ ٹول انگریزی زبان میں ہر صارف کو دستیاب ہے۔
اہم نکات
کیا ہوا: گوگل نے سن تھ آئی ڈی ڈیٹیکٹر کو دنیا بھر کے عوام کے لیے کھول دیا؛ اس سے پہلے یہ ٹول صرف صحافیوں اور میڈیا کے ماہرین تک محدود تھا۔
کیا جانچتا ہے: تصویر، ویڈیو اور آڈیو فائلوں میں وہ پوشیدہ ڈیجیٹل واٹر مارک جو مصنوعی ذہانت کے نظاموں نے مواد بناتے وقت شامل کیا ہو۔
شراکت دار: گوگل کے علاوہ اوپن اے آئی، این ویڈیا اور کاکاؤ کے مواد کی تصدیق بھی ممکن؛ ایپل کی مدد جلد متوقع ہے۔
اہم حد: یہ ہر قسم کے اے آئی مواد کا پتہ نہیں لگاتا۔ منفی نتیجے کا مطلب یہ نہیں کہ فائل مکمل طور پر اصل ہے۔
سن تھ آئی ڈی ڈیٹیکٹر کیا ہے؟
سن تھ آئی ڈی گوگل ڈیپ مائنڈ کی تیار کردہ ٹیکنالوجی ہے جو دو ہزار تئیس میں متعارف کروائی گئی۔ یہ ٹیکنالوجی مصنوعی ذہانت سے بننے والے مواد میں ایسا پوشیدہ نشان شامل کرتی ہے جو انسانی آنکھ یا کان سے محسوس نہیں ہوتا، مگر خصوصی سافٹ ویئر اسے پہچان لیتا ہے۔ سن تھ آئی ڈی ڈیٹیکٹر وہ ویب سائٹ ہے جہاں کوئی بھی صارف اپنی فائل اپ لوڈ کر کے یہ جانچ سکتا ہے کہ اس میں یہ پوشیدہ نشان موجود ہے یا نہیں۔
گوگل کے مطابق اب تک اس ٹیکنالوجی سے ایک سو اسی ارب سے زائد تصاویر اور ویڈیوز اور تقریباً دو لاکھ چالیس ہزار سال کے برابر آڈیو مواد میں واٹر مارک شامل کیے جا چکے ہیں۔ گوگل ڈیپ مائنڈ کے نائب صدر برائے سائنس اور حکمت عملی، پش میت کوہلی نے اعلان میں کہا کہ اس ٹول کی عوامی دستیابی سے آن لائن مواد کی شفافیت میں نمایاں بہتری آئے گی۔

ٹول کیسے کام کرتا ہے؟
یہ ٹول کسی فائل کو دیکھ کر یہ فیصلہ نہیں کرتا کہ وہ مصنوعی ذہانت سے بنی ہوئی ہے۔ اس کے بجائے یہ صرف اس پوشیدہ نشان کو تلاش کرتا ہے جو سن تھ آئی ڈی استعمال کرنے والے نظاموں نے فائل میں شامل کیا ہو۔ گوگل کا دعویٰ ہے کہ یہ نشان عام تبدیلیوں مثلاً تراشنے، فلٹر لگانے یا فائل کا سائز کم کرنے کے بعد بھی برقرار رہتا ہے۔ مثال کے طور پر آڈیو میں یہ نشان شور، ایم پی تھری کی کمپریشن اور چلنے کی رفتار میں تبدیلی کے بعد بھی پہچانا جا سکتا ہے۔
یہ سہولت پہلے سے گوگل کے بعض مصنوعات میں موجود تھی۔ کمپنی کے مطابق جیمینائی، گوگل سرچ اور گوگل کروم میں تصدیق کی یہ سہولت روزانہ دس لاکھ سے زائد درخواستیں نمٹاتی ہے۔ نئی عوامی ویب سائٹ اسی نظام کو ایک جگہ یکجا کر کے عام صارف تک پہنچاتی ہے۔
کن فارمیٹس کی جانچ ہو سکتی ہے؟
ٹول میں فائل اپ لوڈ کرنے سے پہلے جان لیں کہ کون سے فارمیٹس کی مدد دستیاب ہے:
| مواد کی قسم | سپورٹڈ فارمیٹس کی تعداد | مثالی فارمیٹس |
|---|---|---|
| تصویر | 11 | جے پی ای جی، پی این جی، ویب پی، جف |
| ویڈیو | 3 | ایم پی فور، ایم او وی |
| آڈیو | 6 | ایم پی تھری، ڈبلیو اے وی، ایف ایل اے سی |

حد بندی اور احتیاط
اس ٹول کی سب سے بڑی حد یہ ہے کہ یہ صرف سن تھ آئی ڈی واٹر مارک والے مواد کی پہچان کرتا ہے۔ دیگر کمپنیاں مختلف واٹر مارکنگ نظام استعمال کرتی ہیں، اور کچھ مصنوعی ذہانت کے نظام کوئی واٹر مارک شامل کرتے ہی نہیں۔ اس لیے اگر ٹول کسی فائل میں نشان نہ ڈھونڈ سکے تو یہ اس بات کی ضمانت نہیں کہ فائل اصل ہے۔
ماہرین کے مطابق ہلکی تبدیلیوں سے نشان برقرار رہ سکتا ہے، مگر سخت کمپریشن، تیز فلٹر یا مواد کو دوبارہ تیار کرنے سے نشان کمزور یا ختم ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ٹول یہ بھی نہیں بتاتا کہ کسی فائل کا مکمل حصہ مصنوعی ذہانت سے بنا ہے یا صرف کچھ حصے میں ترمیم ہوئی ہے۔ بداستعمال روکنے کے لیے گوگل نے ہر صارف کے لیے روزانہ تقریباً دس جانچوں کی حد بھی مقرر کی ہے۔
نتیجہ
سن تھ آئی ڈی ڈیٹیکٹر مصنوعی مواد کے پھیلاؤ کے دور میں ایک مفید معاون ہتھیار ہے، مگر اسے حتمی فیصلہ نہیں سمجھنا چاہیے۔ مثبت نتیجہ یہ بتاتا ہے کہ مدد یافتہ مصنوعی ذہانت مواد کی تخلیق میں شامل تھی، جبکہ منفی نتیجہ محض خاموشی ہے، اصل ہونے کا سرٹیفکیٹ نہیں۔ ماہرین صحافیوں، ناشروں اور عام صارفین کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ سن تھ آئی ڈی کے نتیجے کو مواد کے ماخذ اور سیاق و سباق سمیت دیگر شواہد کے ساتھ ملا کر پرکھیں۔ وطن نیوز کے ٹیکنالوجی سیکشن میں ہم ایسی مزید ٹیکنالوجی خبروں کی مسلسل کوریج جاری رکھیں گے۔






























