وفاقی حکومت نے ربیع 2026-27 کی فصل کے لیے گندم کی امدادی قیمت پر تمام صوبوں سے تجاویز طلب کر لی ہیں۔ پنجاب نے چار ہزار دو سو روپے فی من اور سندھ نے پانچ ہزار روپے فی من امدادی قیمت کی تجویز دی ہے، جبکہ حتمی فیصلہ وفاقی حکومت کو کرنا ہے۔ گندم کی بوائی کا موسم اکتوبر کے آخر میں شروع ہو رہا ہے اور کسانوں کو قیمت کے اعلان کا انتظار ہے۔
اہم نکات
- قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی خوراک و تحقیق نے ربیع 2026-27 کے لیے کم از کم پانچ ہزار روپے فی چالیس کلوگرام امدادی قیمت کی سفارش کی ہے۔
- وفاقی وزیر خوراک رانا تنویر حسین نے دو اکتوبر 2026 کو کہا تھا کہ نئی امدادی قیمت چار ہزار روپے فی من سے زیادہ ہو گی۔
- پنجاب نے چار ہزار دو سو روپے اور سندھ نے پانچ ہزار روپے فی من کی تجویز دی؛ حتمی فیصلہ وفاقی حکومت کا ہے۔
- ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان نے تین لاکھ پینسٹھ ہزار ٹن درآمدی گندم تین سو اڑتالیس اعشاریہ تیناسی ڈالر فی ٹن پر حاصل کی۔
- اکتوبر 2026 میں منڈیوں میں گندم کا قومی اوسط ریٹ تقریباً چار ہزار ایک سو اسی روپے فی من رہا۔
پنجاب اور سندھ کی تجاویز
وفاقی حکومت نے صوبوں سے گندم کی امدادی قیمت کے بارے میں سفارشات طلب کیں۔ پنجاب نے چار ہزار دو سو روپے فی من کی تجویز پیش کی جبکہ سندھ نے پانچ ہزار روپے فی من کی تجویز دی۔ خیبر پختونخوا نے وفاقی حکومت کو بتایا ہے کہ وہ پنجاب سے گندم خریدتا ہے۔
دوسری جانب قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی خوراک و تحقیق پہلے ہی ربیع 2026-27 کے لیے کم از کم پانچ ہزار روپے فی چالیس کلوگرام امدادی قیمت کی سفارش کر چکی ہے اور کسانوں کے لیے یکساں سبسڈی نظام کی بھی تاکید کی ہے۔ دو اکتوبر 2026 کو وفاقی وزیر خوراک رانا تنویر حسین نے کہا تھا کہ آئندہ فصل کی امدادی قیمت چار ہزار روپے فی من سے زیادہ ہو گی۔ گزشتہ فصل کے لیے حکومت نے تین ہزار پانچ سو روپے فی چالیس کلوگرام کا اشارتی نرخ مقرر کیا تھا۔

وفاقی حکومت اب یہ جائزہ لے رہی ہے کہ گندم کی بڑھتی ہوئی لاگت کو سبسڈی کے ذریعے پورا کیا جائے یا اس کا بوجھ صارفین پر ڈالا جائے۔ یہ فیصلہ اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ بوائی کا موسم سر پر ہے اور کسان بیج و کھاد خریدنے سے پہلے قیمت کی وضاحت چاہتے ہیں۔ مزید اردو خبریں بھی پڑھیں۔
قیمتوں کا تقابل
| پہلو | قیمت / شرح |
|---|---|
| قائمہ کمیٹی کی سفارش (ربیع 2026-27) | پانچ ہزار روپے فی چالیس کلوگرام یا اس سے زائد |
| پنجاب کی تجویز | چار ہزار دو سو روپے فی من |
| سندھ کی تجویز | پانچ ہزار روپے فی من |
| گزشتہ فصل کا اشارتی نرخ | تین ہزار پانچ سو روپے فی چالیس کلوگرام |
| درآمدی گندم کی قیمت (پہلی ٹینڈر) | تین سو اڑتالیس اعشاریہ تیناسی ڈالر فی ٹن |
| منڈیوں کا قومی اوسط (اکتوبر 2026) | تقریباً چار ہزار ایک سو اسی روپے فی من |
درآمدی گندم اور منڈی کی صورتحال
صوبوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے گندم کی درآمد کا عمل بھی جاری ہے۔ ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان نے پہلی ٹینڈر میں تین لاکھ پینسٹھ ہزار ٹن گندم تین سو اڑتالیس اعشاریہ تیناسی ڈالر فی ٹن پر حاصل کی، جبکہ دوسری ٹینڈر میں تین سو انتالیس اعشاریہ تیناسی ڈالر فی ٹن سے بولیوں کا آغاز ہوا۔ ذرائع کے مطابق تقریباً تین سو پینتالیس ڈالر فی ٹن پر حاصل کی گئی گندم پر نقل و حمل اور دیگر اخراجات شامل کر کے اس کی مؤثر لاگت تقریباً پانچ ہزار روپے فی من بن جاتی ہے۔
تینوں صوبوں نے پہلے تقریباً ساڑھے سات لاکھ ٹن گندم کی خرید کی درخواست کی تھی۔ درآمدی گندم میں سے تقریباً دو لاکھ پندرہ ہزار ٹن صوبائی ضروریات کے لیے مختص کی گئی، جس میں ایک لاکھ ٹن خیبر پختونخوا اور ایک لاکھ پندرہ ہزار ٹن سندھ کو ملی۔ اصل مطالبے میں خیبر پختونخوا نے دو لاکھ ٹن، سندھ نے تین لاکھ ٹن اور پنجاب نے اڑھائی لاکھ ٹن مانگا تھا، تاہم پنجاب اور خیبر پختونخوا نے بعد میں اپنی درآمدی ضروریات کم کر دیں جبکہ سندھ نے تین لاکھ ٹن کا مطالبہ برقرار رکھا۔

منڈیوں میں گندم کا ریٹ اس وقت تین ہزار چار سو پچھتر سے چار ہزار سات سو پینسٹھ روپے فی چالیس کلوگرام کے درمیان چل رہا ہے اور قومی اوسط تقریباً چار ہزار ایک سو اسی روپے فی من ہے۔ پاکستان بیورو آف شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق بیس کلو آٹے کی تھیلی کا قومی اوسط ریٹ دو ہزار چھ سو نوے روپے ہے جو گزشتہ سال ستمبر سے بتیس فیصد زیادہ ہے۔ ڈی اے پی کھاد کی بوری تقریباً سولہ ہزار روپے اور یوریا کی بوری چار ہزار پانچ سو سے چار ہزار چھ سو پچاس روپے میں مل رہی ہے، جس سے کسانوں کی پیداواری لاگت بڑھ گئی ہے۔
آگے کیا ہوگا
وفاقی حکومت نے ابھی تک امدادی قیمت کا حتمی اعلان نہیں کیا۔ ذرائع کے مطابق مزید دو لاکھ ٹن گندم کے لیے نئی ٹینڈر جاری کیے جانے کا امکان ہے۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے قومی گندم پالیسی 2026-2030 کو بوائی کے موسم سے پہلے حتمی شکل دینے پر بھی زور دیا ہے۔ گندم کی بوائی اکتوبر کے آخر اور نومبر میں ہوتی ہے، اس لیے کسانوں اور پالیسی سازوں دونوں کے لیے یہ فیصلہ فیصلہ کن ہو گا۔
نتیجہ
گندم کی امدادی قیمت پر بحث اس وقت پاکستان کی زرعی پالیسی کے مرکز میں ہے۔ قائمہ کمیٹی کی پانچ ہزار روپے کی سفارش، پنجاب کی چار ہزار دو سو روپے اور سندھ کی پانچ ہزار روپے کی تجاویز کے درمیان وفاقی حکومت کو کسانوں کی آمدنی اور صارفین کے لیے آٹے کی قیمت دونوں کا توازن رکھنا ہے۔ درآمدی لاگت، کھاد کی قیمتیں اور منڈی کے رجحانات سب اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ حتمی اعلان خوراک کی قیمتوں اور ملکی خوراکی سلامتی پر نمایاں اثر ڈالے گا۔































