یوکرین کے دارالحکومت کیف پر روسی میزائل حملہ بدھ کی شام ہوا جس میں چھ افراد زخمی ہو گئے۔ یہ حملہ اسی روز ہوا جب ماسکو نے امریکہ کی ثالثی میں یوکرین کے ساتھ سہ فریقی امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر اصولی آمادگی ظاہر کی تھی، اور اسی لیے اس نے سفارت کاری کی نئی کوششوں پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
اہم نکات
- بدھ ۲۱ اکتوبر کی شام کیف کے مشرقی علاقوں پر روسی بیلسٹک میزائلوں سے حملہ ہوا۔
- حملے میں چھ افراد زخمی ہوئے جن میں سے چار کو اسپتال میں داخل کرنا پڑا۔
- کئی رہائشی مکانات، ایک پٹرول اسٹیشن اور ٹرانسپورٹ کی تنصیبات کو نقصان پہنچا۔
- حملہ اسی روز ہوا جب ماسکو نے سہ فریقی امن مذاکرات کی بحالی پر اصولی آمادگی ظاہر کی۔
- امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے اسی روز سینٹ پیٹرزبرگ میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کی۔
- تکنیکی سطح کے مذاکرات ۱۰ نومبر کے آس پاس ابوظہبی میں ہونے کی تجویز ہے، مگر یہ حتمی طے نہیں۔
کیف پر روسی میزائل حملہ
کیف کے میئر وٹالی کلیچکو نے بتایا کہ حملے دریائے دنیپرو کے مشرقی کنارے کے دو اضلاع میں ہوئے۔ ان کے مطابق میزائلوں نے رہائشی مکانات کو نشانہ بنایا اور ایک پٹرول اسٹیشن اور ٹرانسپورٹ کے ساز و سامان کو بھی نقصان پہنچا۔
میئر نے یہ بھی بتایا کہ حملے کے ابتدائی انتباہ کے دو گھنٹے سے زیادہ وقت بعد بھی شہر میں ڈرون حملے کا انتباہ جاری رہا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دارالحکومت کو خطرہ میزائل گرنے کے بعد بھی ٹلا نہیں تھا۔ امدادی ٹیموں نے متاثرہ علاقوں میں کام جاری رکھا اور زخمیوں کو طبی سہولت فراہم کی گئی۔

امن مذاکرات کی نئی کوشش
اس حملے سے چند گھنٹے پہلے سفارتی محاذ پر ایک اہم پیش رفت ہوئی تھی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایلچی اسٹیو وٹکوف نے سینٹ پیٹرزبرگ میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کی، جس میں ان کے ساتھ جیرڈ کشنر بھی شریک تھے۔ اس ملاقات کے بعد ماسکو نے کہا کہ وہ اصولی طور پر روس، یوکرین اور امریکہ کے درمیان سہ فریقی مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔
وٹکوف نے اس سے ایک روز قبل اوسلو میں یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی سے بھی ملاقات کی تھی، جس میں یوکرین کے لیے مضبوط سلامتی کی ضمانتوں اور توانائی کی تنصیبات پر جنگ بندی کی تجاویز پر بات ہوئی۔ روسی صدر کے مشیر یوری اوشاکوف نے ان تجاویز کو زیادہ کارآمد قرار نہیں دیا، مگر بتایا کہ تکنیکی سطح کی بات چیت ۱۰ نومبر کے آس پاس ابوظہبی میں ہو سکتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ تاریخ اور مقام حتمی نہیں، اور مزید انتظامات کی تصدیق باقی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو کہا کہ وہ جنگ کے خاتمے کے لیے پیوٹن سے بات کر رہے ہیں اور ان کے خیال میں فریقین اب امن معاہدے کے پہلے سے کہیں زیادہ قریب ہیں۔
جنگ کے خاتمے کی راہ میں رکاوٹیں
روس، یوکرین اور امریکہ کے درمیان سہ فریقی مذاکرات فروری سے معطل ہیں۔ اس عرصے میں روس نے یوکرین کے شہروں پر میزائل اور ڈرون حملوں میں شدت پیدا کر دی ہے، جب کہ یوکرین کو مغربی ممالک کی فراہم کردہ میزائل روکنے والی دفاعی تنصیبات کی کمی کا سامنا ہے۔
کیف پر تازہ حملے نے اس تضاد کو نمایاں کر دیا ہے: ایک طرف مذاکرات کی بحالی کی بات ہو رہی ہے اور دوسری طرف دارالحکومت پر میزائل گر رہے ہیں۔ یہ صورتحال بتاتی ہے کہ سفارتی کوششوں کو اب بھی سنگین چیلنجز درپیش ہیں، اور جنگ بندی تک پہنچنا آسان نہیں ہوگا۔
روس نے ۲۰۲۲ میں یوکرین پر مکمل حملہ شروع کیا تھا اور اب وہ یوکرین کے تقریباً پانچویں حصے پر قابض ہے۔ اس جنگ میں اب تک ہزاروں افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں، اور امن کی ہر نئی کوشش پر دنیا کی نظریں لگی ہوئی ہیں۔ مزید عالمی خبریں وطن نیوز اردو پر پڑھیں۔































