LIVE
اہم خبر
ایکریلک شیشے کی ری سائیکلنگ میں پیش رفت: کم حرارت پر 98 فیصد خالص موادجھنگ میں ہزاروں افراد کی انسانی تشکیل نے مکہ معاہدے کے تحت پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے اتحاد کا پیغام دیابرطانیہ میں بے روزگاری کم ہو کر 4.7 فیصد، اجرتوں میں 3.7 فیصد اضافہڈنمارک کی یوکرینی کمپنی فائر پوائنٹ کو 75 کروڑ کرون قرض کی سرکاری ضمانتجکارتہ میں ترکیہ نے کاپ31 کو نفاذ کانفرنس قرار دیا: ٹھوس منصوبے اور مناسب فنڈنگ پر زورچیٹ جی پی ٹی اشتہارات اب پاکستان سمیت 26 مزید ممالک میںعالمی خوراک کی قیمتیں چار سال کی بلند ترین سطح پر، گلوبل فوڈ پرائسز انڈیکس بڑھ گیاخلیجی ممالک کی سیاحت کا گہرائی سے جائزہ: دبئی سے العلا تک خوابوں کا سفرلٹل بونز نے اے سی ٹی بک آف دی ایئر ایوارڈ 2026 جیت لیامیگالیزی نیڈزیلسکی پرائز 2026: موسمیاتی مطابقت کی رپورٹنگ نے یورپی صحافتی اعزاز جیت لیاپشاور ہائیکورٹ میں لاپتا صوبائی وزیر اور رکن اسمبلی کی بازیابی کی درخواستوں پر سماعت، آئندہ تاریخ 3 نومبر مقررکچرا کم کرنے کا ہفتہ 2026: روزمرہ کی چھوٹی عادتیں دنیا کے بڑھتے ہوئے کچرے کو کیسے کم کر سکتی ہیںعدالت نے جعلی امریکی ڈاک ٹکٹوں کے مبینہ فراڈ کے ملزم کو پانچ دن کے ریمانڈ پر دے دیاجوڑی سلامت رہے: عمران اشرف اور کنزہ ہاشمی کی پنجابی فلم عید الفطر 2027 پر آئے گیالیکشن کمیشن نے سندھ میں 39 خالی بلدیاتی نشستوں پر ضمنی انتخابات کا شیڈول جاری کر دیامیکسیکو میں 66 شمسی اور ہوائی منصوبے اگلے مرحلے میں پہنچ گئےپاکستان، ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا کے درمیان ’بدر‘ دفاعی معاہدے پر دستخطیو این ای پی ایمیشنز گیپ رپورٹ 2026: دنیا 1.5 ڈگری کی حد سے آگے جائے گی، مگر گہرے اقدامات واپسی ممکن بنا سکتے ہیںوزیر اعظم کا دوٹوک اعلان: پاکستان کا پانی روکا گیا تو اسے جنگی اقدام سمجھا جائے گاپیکٹ ٹو اسکول: یورپی کلاس روموں میں کلائمیٹ سفیر، طلبہ کے منصوبوں کے لیے 1000 یورو تک کی مددایکریلک شیشے کی ری سائیکلنگ میں پیش رفت: کم حرارت پر 98 فیصد خالص موادجھنگ میں ہزاروں افراد کی انسانی تشکیل نے مکہ معاہدے کے تحت پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے اتحاد کا پیغام دیابرطانیہ میں بے روزگاری کم ہو کر 4.7 فیصد، اجرتوں میں 3.7 فیصد اضافہڈنمارک کی یوکرینی کمپنی فائر پوائنٹ کو 75 کروڑ کرون قرض کی سرکاری ضمانتجکارتہ میں ترکیہ نے کاپ31 کو نفاذ کانفرنس قرار دیا: ٹھوس منصوبے اور مناسب فنڈنگ پر زورچیٹ جی پی ٹی اشتہارات اب پاکستان سمیت 26 مزید ممالک میںعالمی خوراک کی قیمتیں چار سال کی بلند ترین سطح پر، گلوبل فوڈ پرائسز انڈیکس بڑھ گیاخلیجی ممالک کی سیاحت کا گہرائی سے جائزہ: دبئی سے العلا تک خوابوں کا سفرلٹل بونز نے اے سی ٹی بک آف دی ایئر ایوارڈ 2026 جیت لیامیگالیزی نیڈزیلسکی پرائز 2026: موسمیاتی مطابقت کی رپورٹنگ نے یورپی صحافتی اعزاز جیت لیاپشاور ہائیکورٹ میں لاپتا صوبائی وزیر اور رکن اسمبلی کی بازیابی کی درخواستوں پر سماعت، آئندہ تاریخ 3 نومبر مقررکچرا کم کرنے کا ہفتہ 2026: روزمرہ کی چھوٹی عادتیں دنیا کے بڑھتے ہوئے کچرے کو کیسے کم کر سکتی ہیںعدالت نے جعلی امریکی ڈاک ٹکٹوں کے مبینہ فراڈ کے ملزم کو پانچ دن کے ریمانڈ پر دے دیاجوڑی سلامت رہے: عمران اشرف اور کنزہ ہاشمی کی پنجابی فلم عید الفطر 2027 پر آئے گیالیکشن کمیشن نے سندھ میں 39 خالی بلدیاتی نشستوں پر ضمنی انتخابات کا شیڈول جاری کر دیامیکسیکو میں 66 شمسی اور ہوائی منصوبے اگلے مرحلے میں پہنچ گئےپاکستان، ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا کے درمیان ’بدر‘ دفاعی معاہدے پر دستخطیو این ای پی ایمیشنز گیپ رپورٹ 2026: دنیا 1.5 ڈگری کی حد سے آگے جائے گی، مگر گہرے اقدامات واپسی ممکن بنا سکتے ہیںوزیر اعظم کا دوٹوک اعلان: پاکستان کا پانی روکا گیا تو اسے جنگی اقدام سمجھا جائے گاپیکٹ ٹو اسکول: یورپی کلاس روموں میں کلائمیٹ سفیر، طلبہ کے منصوبوں کے لیے 1000 یورو تک کی مدد
سفر

خلیجی ممالک کی سیاحت کا گہرائی سے جائزہ: دبئی سے العلا تک خوابوں کا سفر

News Desk 6شائع شدہ 21 اکتوبر، 2026
خلیجی ممالک کی سیاحت کا گہرائی سے جائزہ: دبئی سے العلا تک خوابوں کا سفر
Share this story

خلیجی ممالک کی سیاحت آج دنیا کے سیاحتی نقشے کا سب سے دلکش باب ہے۔ ایک ہی خطے میں آپ کو دنیا کی بلند ترین عمارت، ہزاروں سال پرانے آثارِ قدیمہ، شفاف فیروزی سمندر کے جزیرے، سنہرے ریت کے صحرا اور سرسبز پہاڑی وادیاں ملتی ہیں۔ متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، قطر، عمان، بحرین اور کویت — ہر ملک کی اپنی الگ پہچان اور اپنا الگ جادو ہے۔ یہ مضمون خلیجی ممالک کی سیاحت کا گہرائی سے جائزہ پیش کرتا ہے: ہر منزل پر کیا دیکھیں، کون سے تجربات نہ چھوڑیں، اور سفر کی منصوبہ بندی کیسے کریں۔

اہم نکات

  • خلیج کے چھوں ممالک میں سیاحت کے تجربات بالکل مختلف ہیں: دبئی کی جدید شان، العلا کے قدیم آثار، عمان کی فطرت اور دوحہ کی ثقافت۔
  • خلیجی ممالک کی سیاحت کے لیے بہترین موسم نومبر سے مارچ تک ہے، جب موسم خوشگوار اور سیر کے لیے موزوں ہوتا ہے۔
  • سعودی عرب کے العلا میں مدائن صالح یونیسکو عالمی ورثہ ہے، جبکہ دبئی کا برج خلیفہ دنیا کی بلند ترین عمارت ہے۔
  • عمان کا صلالہ خریف کے موسم میں سرسبز ہو جاتا ہے — صحرائی خطے میں یہ ایک حیران کن منظر ہے۔
  • قطر کا خور العدید (اندرونی سمندر) دنیا کے ان چند مقامات میں سے ہے جہاں صحرا سمندر سے ملتا ہے۔

متحدہ عرب امارات: دبئی اور ابوظہبی کی شان

دبئی خلیجی سیاحت کا سب سے مشہور دروازہ ہے۔ برج خلیفہ کی بلندی سے شہر کا نظارہ، دبئی مال کی رونق، پام جمیرہ کے ساحل اور دبئی مرینا کی روشنیاں — یہ شہر ہر مسافر کو حیران کرتا ہے۔ پرانے دبئی کی سیر بھی نہ بھولیں: دبئی کریک کے کنارے الفہیدی کا تاریخی محلہ اور سوق کی گلیاں شہر کی اصل روح دکھاتی ہیں۔ صحرائی سفاری دبئی کے سفر کا لازمی حصہ ہے — ریت کے ٹیلوں پر گاڑی کی سواری، اونٹ کی سیر اور ستاروں تلے روایتی ضیافت کا اہتمام ایک یادگار شام بناتا ہے۔

ابوظہبی متحدہ عرب امارات کا پرسکون اور باوقار چہرہ ہے۔ شیخ زاید گرینڈ مسجد اپنی سفید سنگِ مرمر کی شان اور دنیا کے بڑے قالینوں میں سے ایک کے ساتھ ہر دیکھنے والے کو مسحور کر دیتی ہے۔ سعدیات جزیرے پر لوور ابوظہبی فن اور تہذیب کا عالمی مرکز ہے، جبکہ قصر الوطن صدارتی محل کی شاندار عمارت اور نمائشیں اماراتی ورثے کی جھلک پیش کرتی ہیں۔ یاس جزیرہ تفریحی سرگرمیوں اور ساحلوں کے لیے مشہور ہے۔

سعودی عرب: العلا، جدہ اور بحیرہ احمر کے خزانے

سعودی عرب خلیجی ممالک کی سیاحت کا سب سے بڑا حیرت انگیز انکشاف ہے۔ العلا کا صحرائی علاقہ وقت میں پیچھے لے جاتا ہے — یہاں مدائن صالح کے قدیم مقبرے چٹانوں میں تراشے گئے ہیں اور یہ مقام یونیسکو عالمی ورثے کی فہرست میں شامل ہے۔ ہاتھی کی شکل کی مشہور چٹان اور مرایا نامی آئینوں سے ڈھکی عمارت العلا کی جدید پہچان ہیں۔ رات کو صحرا کے صاف آسمان تلے ستاروں کا نظارہ یہاں کا ناقابلِ فراموش تجربہ ہے۔

جدہ کا البلد نامی پرانا شہر اپنی لکڑی کی جھروکوں والی عمارتوں کے ساتھ یونیسکو عالمی ورثہ ہے — تنگ گلیوں میں چلنا صدیوں پرانی تجارتی تاریخ کی سیر ہے۔ بحیرہ احمر کا ساحل غوطہ خوری اور سمندری زندگی کے لیے دنیا کے بہترین مقامات میں شمار ہوتا ہے؛ شفاف پانی، رنگ برنگے مرجان اور غیر آباد جزیرے فطرت کے شوقینوں کی جنت ہیں۔ دارالحکومت ریاض کے قریب درعیہ کا الطریف محلہ سعودی ریاست کی جائے پیدائش ہے اور اس کی بحالی کے بعد یہ ثقافتی سیاحت کا مرکز بن چکا ہے۔

بحیرہ احمر کے جزیرے اور مرجانی چٹانوں کا فضائی منظر — خلیجی ممالک کی سیاحت

بحیرہ احمر کے شفاف فیروزی پانیوں میں جزیرے اور مرجانی چٹانیں — غوطہ خوری کے شوقینوں کی جنت۔

قطر: دوحہ کی ثقافت اور جدید طرزِ زندگی

دوحہ نے حالیہ برسوں میں خود کو ثقافت اور فن کا مرکز بنا لیا ہے۔ اسلامی فنون کا عجائب گھر اپنی منفرد عمارت اور اسلامی تہذیب کے نایاب نوادرات کے ساتھ دنیا بھر کے سیاحوں کو کھینچتا ہے۔ سوق واقف کی پرانی گلیوں میں مصالحوں کی خوشبو، روایتی دستکاری اور مقامی کھانوں کی دکانیں قطر کی اصل زندگی دکھاتی ہیں۔ کتارا ثقافتی گاؤں میں تھیٹر، گیلریاں اور ساحل ایک ہی جگہ ملتے ہیں، جبکہ ویسٹ بے کی فلک بوس عمارتیں رات کو روشنیوں میں نہا کر خلیج کے کنارے ایک خواب نما منظر پیش کرتی ہیں۔ قطر کا قومی عجائب گھر صحرائی گلاب سے متاثر اپنی عمارت کے لیے بھی مشہور ہے۔ مہم جوئی کے شوقین خور العدید ضرور جائیں — یہ وہ نایاب مقام ہے جہاں ریت کے بلند ٹیلے براہِ راست سمندر سے ملتے ہیں۔

عمان: فطرت، قلعے اور صحرا کی خاموشی

عمان خلیجی ممالک کی سیاحت میں فطرت سے محبت کرنے والوں کی پہلی پسند ہے۔ دارالحکومت مسقط میں سلطان قابوس گرینڈ مسجد اپنی عظیم الشان عمارت اور پرسکون صحنوں کے ساتھ روح کو سکون دیتی ہے، جبکہ مطرح سوق کی گلیوں میں بخور کی خوشبو اور چاندی کے زیورات عمانی ثقافت کی جھلک ہیں۔ نزویٰ کا تاریخی قلعہ اور اس کا پرانا بازار عمان کے امامت دور کی یاد دلاتے ہیں۔

جبل شمس عمان کی بلند ترین چوٹی ہے — یہاں کی گہری وادی کو عرب کی عظیم وادی کہا جاتا ہے اور اس کے کنارے پیدل سفر ایک شاندار تجربہ ہے۔ واہیبہ سینڈز کے سنہرے ریت کے ٹیلوں میں رات گزارنا، اونٹوں کے قافلے اور بدوؤں کی مہمان نوازی صحرائی زندگی کا اصل ذائقہ دیتے ہیں۔ جنوب میں صلالہ خریف کے موسم میں بارشوں سے سرسبز ہو جاتا ہے — آبشاریں، دھند سے ڈھکے پہاڑ اور ناریل کے باغات صحرائی خطے میں ایک معجزے جیسا منظر پیش کرتے ہیں۔

عمان کے صحرا میں سنہرے ریت کے ٹیلے اور پہاڑ — خلیجی ممالک کی سیاحت

عمان کے صحرا میں غروبِ آفتاب کے وقت سنہرے ریت کے ٹیلے — خلیجی فطرت کا ناقابلِ فراموش منظر۔

بحرین اور کویت: چھوٹے ملک، بڑے تجربات

بحرین خلیج کا جزیرہ نما موتی ہے۔ قلعہ بحرین ہزاروں سال پرانی دلمون تہذیب کی نشانی ہے اور یونیسکو عالمی ورثہ ہے۔ محرق کا موتیوں کی تجارت کا تاریخی راستہ خلیج کی موتیوں والی تاریخ کی سیر کراتا ہے، جبکہ درختِ زندگی صحرا کے بیچوں بیچ تنہا کھڑا ایک پراسرار درخت ہے جو سیاحوں کو حیران کرتا ہے۔ منامہ کا بازار اور ساحلی علاقے جدید بحرین کی رونق دکھاتے ہیں۔

کویت میں کویت ٹاورز خلیج کے کنارے شہر کی پہچان ہیں — ان کی گیند نما عمارتوں سے غروبِ آفتاب کا نظارہ دلکش ہوتا ہے۔ فیلکا جزیرے پر قدیم یونانی اور دلمون دور کے آثار تاریخ کے شوقینوں کے لیے خاص ہیں، جبکہ المبارکیہ سوق میں روایتی کھانے اور مقامی زندگی کا رنگ ملتا ہے۔ کویت کی گرینڈ مسجد اسلامی فنِ تعمیر کا خوبصورت نمونہ ہے۔

خلیجی ممالک کی سیاحت: بہترین وقت اور عملی مشورے

خلیجی ممالک کی سیاحت کے لیے بہترین وقت نومبر سے مارچ تک ہے — اس دوران موسم خوشگوار ہوتا ہے، سیر و تفریح آسان ہوتی ہے اور تہواروں کا موسم بھی یہی ہے۔ گرمیوں میں درجہ حرارت بہت بڑھ جاتا ہے، اس لیے اس موسم میں سفر سے گریز بہتر ہے۔ ہر ملک کے لیے ویزا پالیسی پہلے سے جانچ لیں — کئی خلیجی ممالک اب سیاحوں کے لیے آسان آن لائن ویزا دیتے ہیں۔ لباس میں مقامی روایات کا احترام رکھیں، خاص طور پر مذہبی اور تاریخی مقامات پر۔ مقامی کرنسی، ٹیکسی ایپس اور ہوٹل کی پیشگی بکنگ سفر کو آسان بناتی ہے۔

منزل بہترین وقت نمایاں تجربہ
دبئی اور ابوظہبی نومبر تا مارچ برج خلیفہ، صحرائی سفاری، شیخ زاید مسجد
العلا اور جدہ اکتوبر تا اپریل مدائن صالح کے آثار، بحیرہ احمر میں غوطہ خوری
دوحہ نومبر تا مارچ اسلامی فنون کا عجائب گھر، سوق واقف، خور العدید
مسقط اور صلالہ اکتوبر تا اپریل (صلالہ: جولائی تا ستمبر) واہیبہ سینڈز، خریف میں سرسبز صلالہ
بحرین اور کویت نومبر تا مارچ قلعہ بحرین، کویت ٹاورز، فیلکا جزیرہ

متعلقہ مضامین

نتیجہ

خلیجی ممالک کی سیاحت ایک ہی سفر میں کئی دنیاؤں کی سیر ہے — دبئی کی بلندیوں سے العلا کی خاموش وادیوں تک، دوحہ کے عجائب گھروں سے صلالہ کے سرسبز پہاڑوں تک۔ ہر ملک اپنی الگ کہانی سناتا ہے اور ہر منزل نئے تجربات دیتی ہے۔ اگر آپ اس سال کسی نئے خطے کی سیر کا ارادہ رکھتے ہیں تو خلیج کا یہ گہرا سفر آپ کے لیے بہترین انتخاب ہو سکتا ہے۔

اکثر پوچھے گئے سوالات

متعلقہ خبریں

دنیا کے بہترین ساحلی مقامات: سمندر کنارے خوابیدہ چھٹیوں کی مکمل گائیڈسفر

دنیا کے بہترین ساحلی مقامات: سمندر کنارے خوابیدہ چھٹیوں کی مکمل گائیڈ

دنیا کے بہترین ساحلی مقامات وہ ہیں جہاں نیلگوں سمندر، سفید ریت اور فطرت کے دلکش مناظر مل کر ایک ناقابل فراموش تجربہ بناتے ہیں۔ سمندر کنارے چھٹیاں ہر مسافر کے دل کو بھاتی ہیں — کوئی پرسکون جزیرے کی تلاش میں ہوتا ہے، کوئی مہم جوئی چاہتا ہے اور کوئی ثقافت اور تاریخ کے

مزید پڑھیں
خلیجی ممالک کی سیاحت: سعودی عرب سے دبئی تک بہترین سیاحتی مقاماتسفر

خلیجی ممالک کی سیاحت: سعودی عرب سے دبئی تک بہترین سیاحتی مقامات

خلیجی ممالک آج دنیا کی سیاحت کے نقشے پر سب سے تیزی سے ابھرتی ہوئی منزل ہیں۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، عمان، بحرین اور کویت نے سیاحت کو اپنی قومی ترقی کا مرکز بنایا ہے۔ خلیجی تعاون کونسل کے شماریاتی ادارے کے مطابق 2025 میں خلیجی ممالک میں تقریباً 75.7 ملین سیاح آئے، جو پچھلے سال سے 4.9 فیصد زیادہ ہیں۔

مزید پڑھیں
دنیا کے خوبصورت ترین سیاحتی مقامات 2026: سوئٹزرلینڈ سے دبئی تکسفر

دنیا کے خوبصورت ترین سیاحتی مقامات 2026: سوئٹزرلینڈ سے دبئی تک

دنیا کے بہترین سیاحتی مقامات 2026 میں سیاحوں کو پہاڑوں، سمندروں، تاریخی شہروں اور جدید میٹروپولز کا ایسا امتزاج پیش کر رہے ہیں جو ہر ذوق کے مسافر کے لیے کچھ نہ کچھ رکھتا ہے۔ اس مضمون میں ہم یورپ، امریکا، ایشیا، خوبصورت جزائر، آذربائیجان، ازبکستان، سعودی عرب اور خلیجی ممالک کی ان منزلوں کا انتخاب پیش

مزید پڑھیں
امریکہ کی نئی ویزا پالیسی: صحافیوں اور پیشہ ور افراد کے لیے سوشل میڈیا جانچ لازمیسفر

امریکہ کی نئی ویزا پالیسی: صحافیوں اور پیشہ ور افراد کے لیے سوشل میڈیا جانچ لازمی

یکم اکتوبر 2026 سے امریکہ نے غیرملکی صحافیوں اور کینیڈا و میکسیکو کے پیشہ ور افراد کے لیے ویزا کی درخواست سے پہلے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس پبلک کرنا لازمی قرار دے دیا ہے۔ نئی امریکی ویزا پالیسی کی مکمل تفصیلات اس خبر میں پڑھیں۔

مزید پڑھیں

سیارہ اور ماحول

ماحولیات اور استحکام

مستقبل کی نسلوں کے لیے ایک سبز اور زیادہ پائیدار سیارے کی طرف تبدیلی لانے والی خبریں، کہانیاں اور حل۔

ایکریلک شیشے کی ری سائیکلنگ میں پیش رفت: کم حرارت پر 98 فیصد خالص مواد
نمایاں خبر

ایکریلک شیشے کی ری سائیکلنگ میں پیش رفت: کم حرارت پر 98 فیصد خالص مواد

ای ٹی ایچ زیورخ کے محققین نے ایکریلک شیشے کی ری سائیکلنگ کا ایک سادہ اور کم توانائی والا طریقہ تیار کیا ہے جو 98 فیصد تک مواد کو خالص بنیادی اجزا کی صورت میں واپس حاصل کر لیتا ہے۔

مکمل خبر پڑھیں
میگالیزی نیڈزیلسکی پرائز 2026: موسمیاتی مطابقت کی رپورٹنگ نے یورپی صحافتی اعزاز جیت لیا
گرین جرنلزم

میگالیزی نیڈزیلسکی پرائز 2026: موسمیاتی مطابقت کی رپورٹنگ نے یورپی صحافتی اعزاز جیت لیا

برسلز میں تین نوجوان صحافیوں کو اعزاز ملا، جن میں جرمنی کی میری ہارٹمین بھی شامل ہیں جنہوں نے موسمیاتی مطابقت پر ویڈیو رپورٹ بنائی، اور میڈیا کے لیے 35 لاکھ یورو کی نئی کال بھی شروع ہوئی۔

مکمل خبر پڑھیں
آئی سی جے این: 2027 کے لیے مفت موسمیاتی صحافت تربیتی پروگرام، درخواستیں کھل گئیں
گرین جرنلزم

آئی سی جے این: 2027 کے لیے مفت موسمیاتی صحافت تربیتی پروگرام، درخواستیں کھل گئیں

دنیا بھر کے صحافی اور ایڈیٹر اب انفارمڈ موسمیاتی صحافت نیٹ ورک (آئی سی جے این) کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔ یہ چھ ماہ کا مفت آن لائن تربیتی پروگرام ہے جو موسمیاتی تبدیلی کی بہتر اور مؤثر رپورٹنگ کے لیے وقف ہے۔ پہلے گروپ کے سو ارکان جنوری 2027 سے پروگرام شروع کریں

مکمل خبر پڑھیں
امریکی مقامی صحافیوں کے لیے ایس جے این اور ایم آئی ٹی کی موسمیاتی صحافت فیلوشپ
گرین جرنلزم

امریکی مقامی صحافیوں کے لیے ایس جے این اور ایم آئی ٹی کی موسمیاتی صحافت فیلوشپ

سلوشنز جرنلزم نیٹ ورک اور میساچوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) نے موسمیاتی صحافت کی ایک نئی آٹھ ماہ کی فیلوشپ کے لیے درخواستیں کھول دی ہیں، جس کے تحت امریکہ میں مقیم دس صحافیوں کو 7,500 ڈالر کا وظیفہ دے کر ان کے اپنے علاقوں میں موسمیاتی تبدیلی کے حل پر مبنی گہرے تحقیقی مقامی رپورٹنگ کے منصوبے تیار کرنے میں مدد دی جائے گی۔ درخواستوں کی آخری تاریخ 26 اکتوبر 2026 ہے۔

مکمل خبر پڑھیں
ای آئی ٹی بی کا پروگرام ’بیزی ناتورا‘ 2026 کا باسک ماحولیاتی مواصلات ایوارڈ جیت گیا
گرین جرنلزم

ای آئی ٹی بی کا پروگرام ’بیزی ناتورا‘ 2026 کا باسک ماحولیاتی مواصلات ایوارڈ جیت گیا

باسک صحافیوں کی انجمن اور باسک صحافیوں کے کالج نے اعلان کیا ہے کہ ای آئی ٹی بی کے وائلڈ لائف پروگرام “بیزی ناتورا” نے باسک ماحولیاتی مواصلات ایوارڈ 2026 جیت لیا ہے۔ یہ اعزاز 15ویں باسک صحافتی ایوارڈز کے ماحولیاتی حصے میں 16 اکتوبر 2026 کو دیا گیا۔ اس پروگرام نے اردوایبائی کے قدرتی

مکمل خبر پڑھیں
ڈبلیو سی ایس جے 2027 ٹریول فیلوشپ: سائنس اور موسمیاتی صحافیوں کے لیے لندن کا مکمل خرچ پر سفر، درخواست کی آخری تاریخ 23 اکتوبر
گرین جرنلزم

ڈبلیو سی ایس جے 2027 ٹریول فیلوشپ: سائنس اور موسمیاتی صحافیوں کے لیے لندن کا مکمل خرچ پر سفر، درخواست کی آخری تاریخ 23 اکتوبر

سائنس اور موسمیاتی صحافیوں کے لیے جن کے پاس بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کے وسائل نہیں، ڈبلیو سی ایس جے 2027 ٹریول فیلوشپ کے لیے درخواست دینے میں صرف چھ دن باقی ہیں۔ یہ مکمل خرچ پر مشتمل پروگرام منتخب صحافیوں کے سفر، رہائش اور رجسٹریشن کے اخراجات ادا کرے گا تاکہ وہ لندن

مکمل خبر پڑھیں
جنگلات کی حکمرانی میڈیا ورکشاپ: ای جے این تیس صحافیوں کو تربیت دے گا
گرین جرنلزم

جنگلات کی حکمرانی میڈیا ورکشاپ: ای جے این تیس صحافیوں کو تربیت دے گا

ارتھ جرنلزم نیٹ ورک (ای جے این) اپنی جنگلات کی حکمرانی میڈیا ورکشاپ کا انعقاد کر رہا ہے — ۲۱ اور ۲۲ اکتوبر ۲۰۲۶ کو دو روزہ ورچوئل تربیتی پروگرام، جس میں تقریباً تیس صحافی شرکت کریں گے۔ یہ ورکشاپ فارسٹ گورننس میڈیا انیشی ایٹو کے تحت اور برطانوی حکومت کی بین الاقوامی ترقیاتی فنڈنگ

مکمل خبر پڑھیں

ہر قدم اہم ہے

آج کے چھوٹے اقدامات، کل کے بڑے اثرات۔

مزید کہانیاں دیکھیں
انٹیلی جنس ڈوزیئر

وطن نیوز کے ساتھ باخبر رہیں

تازہ ترین خبریں، اپ ڈیٹس اور اہم کہانیاں براہ راست اپنے ان باکس میں حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔