لاہور کی ایک عدالت نے جعلی امریکی ڈاک ٹکٹ فراڈ کے مقدمے میں گرفتار ملزم کو مزید تفتیش کے لیے پانچ دن کے ریمانڈ پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے حوالے کر دیا ہے۔ ملزم کو ضلع کچہری لاہور میں پیش کیا گیا تھا، جہاں تفتیشی افسر نے بتایا کہ اس پر اگست 2023 سے ایک ویب سائٹ کے ذریعے پچاس لاکھ سے زائد جعلی امریکی ڈاک ٹکٹ فروخت کرنے کا الزام ہے۔ ایجنسی نے تیس دن کے ریمانڈ کی درخواست کی تھی، تاہم عدالت نے پانچ دن کا ریمانڈ منظور کرتے ہوئے ملزم کو 26 اکتوبر کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔
اہم نکات
- ملزم کی شناخت خانیوال سے تعلق رکھنے والے فہیم اکرم کے نام سے ہوئی ہے، جنہیں لاہور سے گرفتار کیا گیا۔
- الزام ہے کہ اگست 2023 سے ستمبر 2026 تک ایک ویب سائٹ کے ذریعے پچاس لاکھ سے زائد جعلی امریکی ڈاک ٹکٹ فروخت کیے گئے، جن کی فی ٹکٹ قیمت دو ڈالر رکھی گئی تھی۔
- ایجنسی کے مطابق اس مبینہ کاروبار سے جڑے لین دین کی مالیت تقریباً 35 ارب روپے بتائی گئی ہے، جبکہ امریکی استغاثہ کے مطابق امریکی ڈاک سروس کو 12 کروڑ 60 لاکھ ڈالر سے زائد کا نقصان پہنچنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
- عدالت نے پانچ روزہ ریمانڈ منظور کیا ہے اور ملزم کو 26 اکتوبر کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔
- تفتیش کے دوران 16 بینک کھاتوں کا سراغ لگایا گیا ہے، جن میں ملزم کے اہل خانہ کے کھاتے بھی شامل بتائے گئے ہیں۔
جعلی امریکی ڈاک ٹکٹ فراڈ کا مبینہ طریقہ
تفتیشی حکام کے مطابق ملزم نے ایک ویب سائٹ تیار کی تھی، جس کے ذریعے امریکی ڈاک سروس کے نظام کو بائی پاس کر کے جعلی ڈاک ٹکٹ فروخت کیے جاتے تھے۔ الزام ہے کہ ہر ٹکٹ کی قیمت دو ڈالر مقرر تھی، چاہے پارسل کا وزن، جسامت یا منزل کچھ بھی ہو، اور اس طرح خریدار اصل ڈاک خرچ سے کہیں کم قیمت پر پارسل بھیج سکتے تھے۔ امریکی استغاثہ کے مطابق اس ویب سائٹ سے 52 سو سے زائد خریداروں کو 51 لاکھ سے زیادہ جعلی لیبل فروخت ہوئے۔
یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ 35 ارب روپے اور 12 کروڑ 60 لاکھ ڈالر دو مختلف پیمانے ہیں؛ ایک اعداد مبینہ لین دین کی مجموعی مالیت کو ظاہر کرتا ہے اور دوسرا امریکی ڈاک سروس کو پہنچنے والے مبینہ نقصان کا تخمینہ ہے۔ دونوں کو ایک دوسرے کی جگہ نہیں سمجھنا چاہیے۔ امریکی حکام نے اس سے پہلے ملزم کے خلاف امریکی ریاست فلوریڈا میں فرد جرم عائد ہونے کی خبر بھی دی تھی، اور ان کی گرفتاری میں مدد پر ایک لاکھ ڈالر انعام کا اعلان کیا گیا تھا۔ ملزم پر لگے الزامات کا حتمی فیصلہ عدالت ہی کرے گی۔

گرفتاری تک تفتیش کیسے پہنچی
ایجنسی کے ایڈیشنل ڈائریکٹر عاطف امیر کے مطابق سائبر کرائم یونٹ نے 6 اکتوبر کو اس کیس کی نشاندہی کی تھی، جس کے بعد ملزم کی تلاش اور گرفتاری کے لیے دس دن تک آپریشن جاری رہا۔ اس دوران پنجاب، اسلام آباد اور سندھ میں آٹھ خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئیں، جنہوں نے 35 مقامات پر چھاپے مارے اور 47 افراد سے پوچھ گچھ کی۔ تفتیش کاروں نے 122 فون کال ریکارڈز، 50 موبائل شناختی نمبروں سے متعلق نگرانی کی رپورٹوں اور 120 کیمروں کی ویڈیو و آڈیو ریکارڈنگ کا تجزیہ کیا، جبکہ ملزم کا سراغ لگانے کے لیے دس روز تک مخصوص آلات کی مدد سے نگرانی بھی جاری رہی۔
حکام کے مطابق مبینہ فراڈ کے لیے 16 بینک کھاتے استعمال کیے گئے، جن میں ملزم کے علاوہ ان کے بھائی، اہلیہ، بہن اور خالہ کے کھاتے بھی شامل بتائے گئے ہیں۔ اس مقدمے میں مقدمہ نمبر 246 درج کیا گیا ہے۔ کیس کی مزید تفتیش کے لیے ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے، جو مالی لین دین اور اس نیٹ ورک سے جڑے دیگر افراد کے کردار کی چھان بین کر رہی ہے۔ ایجنسی کا کہنا ہے کہ تفتیش جاری ہے اور مالی لین دین کا مکمل سراغ لگانا ابھی باقی ہے۔
یہ مقدمہ اس لیے بھی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے کہ اس میں آن لائن فراڈ، جعلی ویب سائٹ اور بین الاقوامی ڈاک نظام کا مبینہ غلط استعمال شامل ہے۔ تفتیش کاروں کے مطابق آئندہ سماعتوں میں مالی ریکارڈ اور دیگر افراد کے کردار کے بارے میں مزید تفصیلات سامنے آ سکتی ہیں۔ مزید قومی خبریں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔






























