اسلام آباد میں مالدیپ کے صدر کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پانی ہماری ریڈ لائن ہے اور پاکستان کا پانی روکنے کی کوئی بھی کوشش جنگی اقدام تصور کی جائے گی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان کا موقف واضح اور دوٹوک ہے اور مشترکہ آبی وسائل کو کبھی ہتھیار یا سیاسی دباؤ کا ذریعہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔
اہم نکات
- وزیر اعظم: پانی پاکستان کی ریڈ لائن ہے؛ پانی روکنے کی کوئی بھی کوشش جنگی اقدام سمجھی جائے گی۔
- سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی ناقابل قبول ہے؛ عالمی سطح پر تسلیم شدہ معاہدوں پر عمل سب ملکوں کی ذمہ داری ہے۔
- پاکستان اور مالدیپ کے درمیان 20 مفاہمتی یادداشتیں طے پائیں۔
- دو برس میں دو طرفہ تجارت 13 ملین ڈالر سے بڑھا کر 200 ملین ڈالر تک لے جانے پر اتفاق ہوا۔
- مالدیپ کے صدر کو بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کی جانب سے اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگری دی گئی۔
پانی ہماری ریڈ لائن: وزیر اعظم کا موقف
وزیر اعظم نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی کا فیصلہ ناقابل قبول ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ معاہدوں پر عمل درآمد تمام ملکوں کی ذمہ داری ہے اور قانونی طور پر پابند معاہدوں کا احترام کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مشترکہ آبی وسائل کو کبھی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے اور نہ ہی انہیں سیاسی دباؤ یا بلیک میلنگ کا ذریعہ بنایا جا سکتا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ پانی انسانیت کی زندگی کی علامت ہے اور دریاؤں کا پانی تجارت، خوشحالی اور ترقی کا پیغام لاتا ہے، نہ کہ خطرے اور تصادم کا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پانی کے معاملے میں کسی بھی خلاف ورزی کو پاکستان جنگی اقدام تصور کرے گا۔

مالدیپ کے ساتھ تجارت اور تعاون میں وسعت
وزیر اعظم نے کہا کہ 11 برس بعد مالدیپ کے کسی صدر کا دورہ پاکستان اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مالدیپ کے طالب علموں کی بڑی تعداد پاکستانی تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم ہے، جبکہ پاکستانی ڈاکٹر اور طبی عملہ مالدیپ میں خدمات انجام دے رہا ہے۔ دونوں ملکوں نے دو برس میں دو طرفہ تجارتی حجم 13 ملین ڈالر سے بڑھا کر 200 ملین ڈالر تک لے جانے پر اتفاق کیا ہے اور تجارتی حجم میں اضافے کے لیے کوششیں تیز کی جائیں گی۔
وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان مالدیپ کو معلوماتی ٹیکنالوجی کے شعبے میں تکنیکی معاونت فراہم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان طے پانے والی 20 مفاہمتی یادداشتیں اہم پیش رفت ہیں اور پاکستان مالدیپ بزنس فورم میں تجارتی و اقتصادی تعاون کی نئی راہیں کھلیں گی۔
دورے کی اہمیت اور اعزازی ڈگری
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو نے کہا کہ وہ بھرپور استقبال اور مہمان نوازی پر پاکستانی حکومت کے مشکور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی قیادت سے علاقائی اور عالمی امور پر بھی گفتگو ہوئی اور دونوں ملکوں کے تعلقات کو مزید وسیع اور متحرک بنانے کا عزم کیا گیا ہے۔ وزیر اعظم ہاؤس میں مالدیپ کے صدر کے اعزاز میں استقبالیہ دیا گیا اور گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔
مالدیپ کے صدر کو بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کی جانب سے اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگری سے بھی نوازا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور مالدیپ کے درمیان چھ دہائیوں پر محیط دوستی کو نئے دور کی شراکت داری میں بدلا جائے گا۔
مزید قومی خبریں پڑھنے کے لیے وطن نیوز اردو ملاحظہ کریں۔






























