LIVE
اہم خبر
موسمیاتی سربراہ سٹییل کا مطالبہ: کاپ31 میں وعدوں کو عملی نتائج میں بدلیںایمیزون کی آگ سے اوزون: درختوں کی کاربن جذب کرنے کی طاقت متاثرورلڈ مائیگریٹری برڈ ڈے 2026: ہر پرندہ شمار ہوتا ہےخلیجی ممالک کی سیاحت: سعودی عرب سے دبئی تک بہترین سیاحتی مقاماتخلیجی ممالک کی ماحول دوست سیاحت: 2026 کا سبز سفر گائیڈپاکستان میں ہاؤسنگ اور رئیل اسٹیٹ اصلاحات: مارگیج فنانس 2035 تک جی ڈی پی کے پانچ فیصد تک بڑھانے کا ہدفجنوبی افریقہ کا صفر فضلہ منصوبہ: 40 فیصد فضلہ لینڈ فلز سے باہرپیرس فیشن ویک میں لیتکوفسکا کی “اسٹریچا” کلیکشنآسٹریلیا میں شمسی توانائی کا ریکارڈ: 5.44 ٹیراواٹ گھنٹےآٹے کی قیمت میں ایک ہفتے میں 5.69 فیصد اضافہ، مہنگائی 11.97 فیصد تک پہنچ گئیاحمدآباد: 50 لاکھ درخت لگانے کا ہدف مکملخیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ، پی ٹی آئی حکومت معطلایس جے این/ایم آئی ٹی موسمیاتی صحافتی فیلوشپ 2027: دس مقامی صحافیوں کے لیے 7500 ڈالر معاوضہیورپی ایکو لیبل پر 81 فیصد یورپیوں کا اعتماد: نئے سروے کے نتائجبرطانیہ نے ناٹنگھم شائر میں 450 میگاواٹ اسٹیپل سولر فارم اور 150 میگاواٹ بیٹری منصوبے کی منظوری دے دیلگزمبرگ میں یورپی ماحولیاتی وزرا کا اجلاس: کاربن مارکیٹ کی اصلاح اور کاپ31 کی تیاریجی جی جی آئی نے گلوبل گرین گروتھ ویک 2026 کے لیے یوتھ ایمبیسڈر درخواستیں مانگ لیںجیک ڈینگرمنڈ کو کیلیفورنیا کے 30×30 چیمپئن ایوارڈ سے نوازا گیاکاپ31 گرین زون: انطالیہ موسمیاتی کانفرنس میں عوام کے لیے مفت رجسٹریشنفلپائن کا بڑا قدم: کنڈرگارٹن سے ہائی اسکول تک نصاب میں موسمیاتی خواندگیموسمیاتی سربراہ سٹییل کا مطالبہ: کاپ31 میں وعدوں کو عملی نتائج میں بدلیںایمیزون کی آگ سے اوزون: درختوں کی کاربن جذب کرنے کی طاقت متاثرورلڈ مائیگریٹری برڈ ڈے 2026: ہر پرندہ شمار ہوتا ہےخلیجی ممالک کی سیاحت: سعودی عرب سے دبئی تک بہترین سیاحتی مقاماتخلیجی ممالک کی ماحول دوست سیاحت: 2026 کا سبز سفر گائیڈپاکستان میں ہاؤسنگ اور رئیل اسٹیٹ اصلاحات: مارگیج فنانس 2035 تک جی ڈی پی کے پانچ فیصد تک بڑھانے کا ہدفجنوبی افریقہ کا صفر فضلہ منصوبہ: 40 فیصد فضلہ لینڈ فلز سے باہرپیرس فیشن ویک میں لیتکوفسکا کی “اسٹریچا” کلیکشنآسٹریلیا میں شمسی توانائی کا ریکارڈ: 5.44 ٹیراواٹ گھنٹےآٹے کی قیمت میں ایک ہفتے میں 5.69 فیصد اضافہ، مہنگائی 11.97 فیصد تک پہنچ گئیاحمدآباد: 50 لاکھ درخت لگانے کا ہدف مکملخیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ، پی ٹی آئی حکومت معطلایس جے این/ایم آئی ٹی موسمیاتی صحافتی فیلوشپ 2027: دس مقامی صحافیوں کے لیے 7500 ڈالر معاوضہیورپی ایکو لیبل پر 81 فیصد یورپیوں کا اعتماد: نئے سروے کے نتائجبرطانیہ نے ناٹنگھم شائر میں 450 میگاواٹ اسٹیپل سولر فارم اور 150 میگاواٹ بیٹری منصوبے کی منظوری دے دیلگزمبرگ میں یورپی ماحولیاتی وزرا کا اجلاس: کاربن مارکیٹ کی اصلاح اور کاپ31 کی تیاریجی جی جی آئی نے گلوبل گرین گروتھ ویک 2026 کے لیے یوتھ ایمبیسڈر درخواستیں مانگ لیںجیک ڈینگرمنڈ کو کیلیفورنیا کے 30×30 چیمپئن ایوارڈ سے نوازا گیاکاپ31 گرین زون: انطالیہ موسمیاتی کانفرنس میں عوام کے لیے مفت رجسٹریشنفلپائن کا بڑا قدم: کنڈرگارٹن سے ہائی اسکول تک نصاب میں موسمیاتی خواندگی
سفر

خلیجی ممالک کی سیاحت: سعودی عرب سے دبئی تک بہترین سیاحتی مقامات

Usman javed
خلیجی ممالک کی سیاحت: سعودی عرب سے دبئی تک بہترین سیاحتی مقامات
Share this story

خلیجی ممالک آج دنیا کی سیاحت کے نقشے پر سب سے تیزی سے ابھرتی ہوئی منزل ہیں۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، عمان، بحرین اور کویت نے سیاحت کو اپنی قومی ترقی کا مرکز بنایا ہے۔ خلیجی تعاون کونسل کے شماریاتی ادارے کے مطابق 2025 میں خلیجی ممالک میں تقریباً 75.7 ملین سیاح آئے، جو پچھلے سال سے 4.9 فیصد زیادہ ہیں۔ اسی لیے خلیجی سیاحت اب صرف ایک رجحان نہیں بلکہ ایک مکمل سفری دنیا ہے — جہاں قدیم ورثہ، جدید شہر، صحرا، جزیرے اور سرسبز پہاڑ ایک ہی سفر میں مل جاتے ہیں۔

اس رہنمائی میں ہم چھوں خلیجی ممالک کی بہترین سیاحتی منزلوں کا تفصیلی جائزہ لیں گے — کیا دیکھیں، کب جائیں، اور ہر منزل کی خاص بات کیا ہے۔

خلیجی سیاحت کے 2025 کے اہم اعداد و شمار

منزل2025 میں سیاحنمایاں بات
سعودی عرب122.6 ملینویژن دو ہزار تیس کا ہدف مسلسل تیسرے سال عبور
دبئی19.59 ملینمسلسل تیسرا سال ریکارڈ بین الاقوامی آمد
قطر5.1 ملینپچھلے سال سے 3.7 فیصد اضافہ
چھوں خلیجی ممالک مجموعی75.7 ملین4.9 فیصد اضافہ، سیاحوں کا خرچ تقریباً 131.9 ارب ڈالر

سعودی عرب — ویژن دو ہزار تیس کا سیاحتی انقلاب

سعودی عرب خلیجی سیاحت کا سب سے بڑا ستارہ ہے۔ اقتصادی تعاون اور ترقی کی تنظیم کی 2026 کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے 2025 میں 122.6 ملین سیاحوں کا استقبال کیا، جن میں 29.3 ملین بین الاقوامی سیاح تھے۔ یوں مملکت نے ویژن دو ہزار تیس کا 100 ملین سیاحوں کا ہدف مقررہ وقت سے چھ سال پہلے ہی مسلسل تیسرے سال عبور کر لیا، اور اب نیا ہدف 2030 تک 150 ملین سالانہ سیاحوں کا ہے۔ 2024 میں سیاحت کا ملکی معیشت میں حصہ 4.9 فیصد رہا، اور یہ شعبہ دس لاکھ سے زائد ملازمتیں فراہم کر رہا ہے۔ یہ انقلاب اس وقت شروع ہوا جب 2019 میں مملکت نے پہلی بار باقاعدہ سیاحتی ویزے جاری کیے۔

سعودی سیاحت کا تاج العلا کا علاقہ ہے، جسے 2025 میں ورلڈ ٹریول ایوارڈز میں دنیا کا بہترین ثقافتی سیاحتی منصوبہ قرار دیا گیا۔ العلا کے قلب میں حجرہ واقع ہے — سعودی عرب کا پہلا یونیسکو عالمی ورثہ — جہاں دو ہزار سال پرانے نبطی تہذیب کے سو سے زائد مقبرے سرخ چٹانوں میں تراشے گئے ہیں۔ العلا کی تاریخ تقریباً دو لاکھ سال پر محیط ہے اور یہاں مسلسل سات ہزار سال سے انسانی آبادی موجود ہے۔ 2025 میں العلا میں تقریباً نو ملین سیاحتی راتیں گزاری گئیں۔ سیاح یہاں العلا کا قدیم شہر، ہاتھی کی شکل کی مشہور چٹان اور صحرا میں شیشے کے محلات جیسا آئینہ دار کنسرٹ ہال بھی دیکھ سکتے ہیں۔

العلا میں حجرہ کے قدیم نبطی مقبرے — خلیجی سیاحت کا تاریخی ورثہ
العلا کی حجرہ — سعودی عرب کا پہلا یونیسکو عالمی ورثہ، جہاں دو ہزار سال پرانے نبطی مقبرے چٹانوں میں تراشے گئے ہیں۔

ریاض کے قریب درعیہ کا اطریف محلہ بھی یونیسکو عالمی ورثہ ہے اور پہلی سعودی ریاست کی جائے پیدائش ہے، جہاں روایتی نجدي مٹی کے گھروں کا فن تعمیر آج بھی زندہ ہے۔ جدہ کا قدیم شہر البلد، ریاض کے جدید تفریحی منصوبے اور بحیرہ احمر کے ساحلی منصوبے مملکت کی سیاحتی تنوع کی علامت ہیں۔ بحیرہ احمر کے فرسان جزائر اور املج کے ساحل اپنے فیروزے رنگ کے پانی، سفید ریت اور مرجانی چٹانوں کے باعث سعودی عرب کے مالدیپ کہلاتے ہیں — غوطہ خوری اور جزیرہ نما تعطیلات کے شوقین افراد کے لیے بہترین انتخاب۔

سعودی عرب کے فرسان جزائر کے فیروزے رنگ کے ساحل — خلیجی سیاحت کی جزیرہ نما خوبصورتی
سعودی عرب کے فرسان جزائر — بحیرہ احمر کے فیروزے رنگ کے پانی اور سفید ریت کے ساحل سیاحوں کو اپنی طرف کھینچتے ہیں۔

متحدہ عرب امارات — دبئی سے ابوظبی تک جدید دنیا

دبئی خلیجی سیاحت کا سب سے مشہور چہرہ ہے۔ دبئی کے محکمہ معیشت و سیاحت کے مطابق 2025 میں دبئی نے 19.59 ملین بین الاقوامی سیاحوں کا استقبال کیا — پچھلے سال سے پانچ فیصد اضافہ اور مسلسل تیسرا سال ریکارڈ۔ ہوٹلوں کی بھرتی 80.7 فیصد رہی۔ برج خلیفہ کی بلندی سے شہر کا نظارہ، دبئی مال کے خریداری میلے، صحرائی سفاری، پام جمیرہ کے ساحل اور پرانی دبئی کی کریک کے کنارے روایتی بازار — دبئی ہر ذوق کے سیاح کو کچھ نہ کچھ دیتا ہے۔ دبئی کے اقتصادی منصوبے ڈی 33 کے تحت امارت خود کو دنیا کے تین بڑے سیاحتی مراکز میں شامل کرنا چاہتی ہے۔

ابوظبی بھی پیچھے نہیں۔ ابوظبی کی سیاحتی حکمت عملی 2030 کا ہدف سالانہ 39.3 ملین سیاح ہے۔ دارالحکومت کی شیخ زاید عظیم مسجد اپنی سفید گنبدوں، سنہرے میناروں اور اسلامی فن تعمیر کے شاہکار کے باعث دنیا بھر کے سیاحوں کو متوجہ کرتی ہے۔ قصر الوطن، یاس جزیرے کے تفریحی پارک اور شارجہ کے ثقافتی عجائب گھر امارات کی سیاحتی گہرائی میں اضافہ کرتے ہیں۔

قطر — ثقافت، عجائب گھر اور کھیلوں کی منزل

قطر ٹورازم کے مطابق 2025 میں قطر نے 5.1 ملین سیاحوں کا استقبال کیا، جو پچھلے سال سے 3.7 فیصد زیادہ ہے۔ 102 ممالک کے شہریوں کو قطر میں آمد پر ویزا کی سہولت حاصل ہے، جس سے سفر مزید آسان ہو گیا ہے۔ دوحہ کی خلیجی سیرگاہ، کتارا ثقافتی گاؤں، اسلامی آرٹ کا عجائب گھر اور قطر کا قومی عجائب گھر خلیج کی سمندری اور ثقافتی تاریخ کو زندہ کرتے ہیں۔ سوق واقف کے قدیم بازاروں میں مصالحوں، عطریات اور دستکاری کی خوشبو سیاح کو ماضی کی گلیوں میں لے جاتی ہے، جبکہ لوسیل کا جدید شہر اور صحرائے قطر کے ٹیلے مہم جوئی کے شوقین افراد کا انتظار کرتے ہیں۔

عمان — فطرت اور قدیم ورثے کی خاموش شان

عمان خلیج کی وہ منزل ہے جو شور سے دور فطرت اور تاریخ کے شیدائیوں کو بلاتی ہے۔ مملکت کے چار مقامات یونیسکو عالمی ورثے کی فہرست میں ہیں: لوبان کی سرزمین، بہلا کا قلعہ، بت اور الخطم و العین کے آثار قدیمہ، اور صلالہ کی البليد بندرگاہ۔ عمان کی ویژن دو ہزار چالیس میں پائیدار سیاحت کو معاشی تنوع کا اہم ستون قرار دیا گیا ہے۔

عمان کی سب سے انوکھی بات صلالہ کا خریف کا موسم ہے۔ جون سے ستمبر تک مانسون کی بارشیں ظفار کے پہاڑوں کو سرسبز و شاداب کر دیتی ہیں — یہ جزیرہ نما عرب میں اپنی نوعیت کا واحد منظر ہے۔ وادی درباط کے آبشار، فیروزے رنگ کے تالاب، المغسیل ساحل کے قدرتی چشمے اور لوبان کے درختوں کی وادیاں سیاح کو کسی اشنکٹبندیی جنت کا احساس دلاتی ہیں۔ عمان آنے کا بہترین وقت اکتوبر سے اپریل ہے، جب موسم ٹھنڈا اور سیر و سیاحت کے لیے موزوں ہوتا ہے۔

عمان کے صلالہ میں وادی درباط کے آبشار — خلیجی سیاحت کی قدرتی شان
عمان کے صلالہ میں وادی درباط — خریف کے موسم میں بہتے آبشار اور ہریالی جزیرہ نما عرب کی نایاب فطرت کا منظر پیش کرتے ہیں۔

مسقط کی بندرگاہ، نزوی کا تاریخی قلعہ، جبل الاخضر کے پہاڑی گاؤں اور واہیبہ کے ریتلے صحرا میں اونٹ کی سواری اور ستاروں تلے رات گزارنا — عمان ہر قدم پر عرب کی اصل روح دکھاتا ہے۔ رأس الجنز کے ساحلوں پر رات کو سمندری کچھوؤں کے انڈے دینے کا منظر فطرت دوست سیاحوں کے لیے ناقابل فراموش تجربہ ہے۔

عمان کے صحرا میں ستاروں بھرا رات کا منظر — خلیجی سیاحت کی صحرائی دنیا
عمان کے واہیبہ صحرا میں رات — ریت کے ٹیلوں کے اوپر ستاروں سے بھرا آسمان صحرائی سیاحت کا انوکھا تجربہ ہے۔

بحرین اور کویت — موتیوں کے جزیرے اور جدید ورثہ

بحرین خلیج کا موتی ہے — لفظی اور معنوی دونوں طرح۔ محرق شہر میں 3.5 کلومیٹر طویل موتی کا راستہ یونیسکو عالمی ورثہ ہے، جو سمندری صدف کے بستروں، بو ماہر کے قلعے اور سترہ تاریخی عمارتوں کو جوڑتا ہے اور تیل کے دور سے پہلے خلیج کی موتیوں کی معیشت کی کہانی سناتا ہے۔ قلعہ بحرین چار ہزار سال سے زائد پرانی انسانی آبادی کے آثار رکھتا ہے، اور دلمون تہذیب کے ہزاروں گنبد نما مقبرے دنیا کے بڑے ترین قدیم قبرستانوں میں شمار ہوتے ہیں۔ سمندر میں غوطہ لگا کر خود صدف سے موتی نکالنے کا تجربہ بھی سیاحوں کے لیے دستیاب ہے۔

کویت کا نشان کویت ٹاورز ہیں — 1979 میں افتتاح ہونے والا یہ تین میناروں کا مجموعہ قومی علامت اور جدید عرب ورثے کی پہچان ہے۔ سب سے بلند مینار 187 میٹر اونچا ہے اور اسے 1980 میں اسلامی فن تعمیر کے آغا خان ایوارڈ سے نوازا گیا۔ جولائی 2025 میں ٹاورز کو عرب ورثے کی فہرست میں جدید فن تعمیر کے زمرے میں شامل کیا گیا۔ فیلکا جزیرہ، جہاں کانسی کے دور اور یونانی دور کے آثار ملے ہیں، یونیسکو کے تعاون سے سیاحتی ترقی کی راہ پر ہے۔

متحدہ خلیجی سیاحتی ویزا — چھ ممالک ایک ویزے پر

خلیجی سیاحت کے لیے سب سے بڑی خوشخبری متحدہ خلیجی سیاحتی ویزے کا منصوبہ ہے، جس میں قطر، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، بحرین، عمان اور کویت شامل ہیں۔ ستمبر 2026 میں منامہ میں خلیجی وزرائے سیاحت کے اجلاس میں قطر ٹورازم کے چیئرمین سعد بن علی الخرجی نے اس کے جلد نفاذ پر زور دیا۔ منصوبے کا مقصد خطے میں سفر کو آسان بنانا ہے تاکہ سیاح ایک ہی ویزے پر کئی ممالک گھوم سکیں۔ تاہم ابھی درخواستوں کے آغاز، فیس اور اہلیت کے باقاعدہ اعلان کا انتظار ہے — اس لیے سفر کی منصوبہ بندی ہر ملک کی موجودہ ویزا پالیسی کے مطابق کریں۔

اہم نکات

  • خلیج جانے کا بہترین وقت اکتوبر سے اپریل ہے؛ عمان کے صلالہ کا خریف کا موسم جون سے ستمبر تک ہوتا ہے۔
  • سعودی عرب 2019 سے آن لائن سیاحتی ویزا جاری کر رہا ہے؛ قطر میں 102 ممالک کے شہریوں کو آمد پر ویزا کی سہولت ہے۔
  • متحدہ خلیجی سیاحتی ویزے پر چھوں ممالک میں کام جاری ہے — نفاذ کی تاریخ کا اعلان ہونا باقی ہے۔
  • دبئی 2025 میں 19.59 ملین سیاحوں کے ساتھ خلیج کا مصروف ترین شہر رہا؛ سعودی عرب نے 122.6 ملین سیاحوں کا استقبال کیا۔
  • ثقافتی ورثے کے شوقین افراد العلا کی حجرہ، درعیہ، موتی کا راستہ اور لوبان کی سرزمین کو ترجیح دیں۔
  • جزیرہ نما تعطیلات کے لیے فرسان جزائر اور املج، فطرت کے لیے صلالہ، اور صحرائی مہم جوئی کے لیے واہیبہ بہترین انتخاب ہیں۔

متعلقہ مضامین

عمومی سوالات

خلیجی ممالک جانے کا بہترین وقت کون سا ہے؟

عام طور پر اکتوبر سے اپریل تک موسم خوشگوار ہوتا ہے اور سیر و سیاحت کے لیے بہترین ہے۔ البتہ عمان کے شہر صلالہ کا خریف کا موسم جون سے ستمبر تک ہوتا ہے، جب بارشوں سے پہاڑ سرسبز ہو جاتے ہیں۔

کیا سعودی عرب کا سیاحتی ویزا آسانی سے ملتا ہے؟

جی ہاں۔ سعودی عرب 2019 سے اہل ممالک کے شہریوں کو آن لائن سیاحتی ویزا جاری کر رہا ہے۔ اسی طرح قطر میں 102 ممالک کے شہریوں کو ہوائی اڈے پر آمد کے وقت ویزا کی سہولت حاصل ہے۔

متحدہ خلیجی سیاحتی ویزا کب سے نافذ ہوگا؟

چھوں خلیجی ممالک — سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین، عمان اور کویت — کے درمیان مشترکہ سیاحتی ویزے پر بات چیت جاری ہے اور ستمبر 2026 میں وزرائے سیاحت نے اس کے جلد نفاذ پر زور دیا، لیکن ابھی باقاعدہ تاریخ کا اعلان نہیں ہوا۔

خلیج کا سب سے زیادہ دیکھا جانے والا شہر کون سا ہے؟

دبئی 2025 میں 19.59 ملین بین الاقوامی سیاحوں کے ساتھ خلیج کی سب سے مقبول منزل رہا — یہ مسلسل تیسرا سال ریکارڈ آمد تھی۔

العلا کی حجرہ کیوں مشہور ہے؟

حجرہ سعودی عرب کا پہلا یونیسکو عالمی ورثہ ہے۔ یہاں نبطی تہذیب کے سو سے زائد مقبرے سرخ چٹانوں میں تراشے گئے ہیں، اور 2025 میں العلا کو دنیا کا بہترین ثقافتی سیاحتی منصوبہ قرار دیا گیا۔

کیا خلیج میں صرف جدید شہر ہی دیکھنے کے قابل ہیں؟

ہرگز نہیں۔ جدید شہر کے ساتھ ساتھ عمان کے سرسبز پہاڑ، واہیبہ کے صحرا، بحیرہ احمر کے جزیرے، بحرین کا موتیوں کا ورثہ اور کویت کے تاریخی مقامات خلیجی سیاحت کو مکمل بناتے ہیں۔

بحرین میں موتیوں کی تاریخ کہاں دیکھی جا سکتی ہے؟

محرق شہر میں 3.5 کلومیٹر طویل موتی کا راستہ یونیسکو عالمی ورثہ ہے۔ یہاں صدف کے بستر، بو ماہر کا قلعہ اور موتی کے تاجروں و غوطہ خوروں کے تاریخی مکانات دیکھے جا سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

دنیا کے خوبصورت ترین سیاحتی مقامات 2026: سوئٹزرلینڈ سے دبئی تکسفر

دنیا کے خوبصورت ترین سیاحتی مقامات 2026: سوئٹزرلینڈ سے دبئی تک

دنیا کے بہترین سیاحتی مقامات 2026 میں سیاحوں کو پہاڑوں، سمندروں، تاریخی شہروں اور جدید میٹروپولز کا ایسا امتزاج پیش کر رہے ہیں جو ہر ذوق کے مسافر کے لیے کچھ نہ کچھ رکھتا ہے۔ اس مضمون میں ہم یورپ، امریکا، ایشیا، خوبصورت جزائر، آذربائیجان، ازبکستان، سعودی عرب اور خلیجی ممالک کی ان منزلوں کا انتخاب پیش

مزید پڑھیں
امریکہ کی نئی ویزا پالیسی: صحافیوں اور پیشہ ور افراد کے لیے سوشل میڈیا جانچ لازمیسفر

امریکہ کی نئی ویزا پالیسی: صحافیوں اور پیشہ ور افراد کے لیے سوشل میڈیا جانچ لازمی

یکم اکتوبر 2026 سے امریکہ نے غیرملکی صحافیوں اور کینیڈا و میکسیکو کے پیشہ ور افراد کے لیے ویزا کی درخواست سے پہلے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس پبلک کرنا لازمی قرار دے دیا ہے۔ نئی امریکی ویزا پالیسی کی مکمل تفصیلات اس خبر میں پڑھیں۔

مزید پڑھیں
اسلام آباد ایئرپورٹ پر ایک ہفتے میں 47 کلو منشیات برآمد، کسٹمز کی دو بڑی کارروائیاںسفر

اسلام آباد ایئرپورٹ پر ایک ہفتے میں 47 کلو منشیات برآمد، کسٹمز کی دو بڑی کارروائیاں

اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر کسٹمز حکام نے ایک ہفتے کے دوران منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف دو بڑی کارروائیوں میں مجموعی طور پر 47 کلوگرام مشتبہ منشیات برآمد کر لی۔ خبر رساں ادارے این این آئی کے مطابق 2 اکتوبر 2026 کو تھائی ایئرویز کی فلائٹ ٹی جی 349 سے آنے والے ایک تھائی شہری کی تلاشی کے دوران 23 کل

مزید پڑھیں

سیارہ اور ماحول

ماحولیات اور استحکام

مستقبل کی نسلوں کے لیے ایک سبز اور زیادہ پائیدار سیارے کی طرف تبدیلی لانے والی خبریں، کہانیاں اور حل۔

موسمیاتی سربراہ سٹییل کا مطالبہ: کاپ31 میں وعدوں کو عملی نتائج میں بدلیں
نمایاں خبر

موسمیاتی سربراہ سٹییل کا مطالبہ: کاپ31 میں وعدوں کو عملی نتائج میں بدلیں

نادی، فجی — کاپ31 کے انطالیہ، ترکیہ میں آغاز سے چار ہفتے قبل اقوام متحدہ کے اعلیٰ ترین موسمیاتی عہدیدار نے حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ اس کانفرنس کو وہ موقع بنائیں جہاں موسمیاتی وعدے آخرکار عملی نتائج میں بدل جائیں۔ اقوام متحدہ کے موسمیاتی تبدیلی سے متعلق فریم ورک کنونشن (یو این

مکمل خبر پڑھیں
ایس جے این/ایم آئی ٹی موسمیاتی صحافتی فیلوشپ 2027: دس مقامی صحافیوں کے لیے 7500 ڈالر معاوضہ
گرین جرنلزم

ایس جے این/ایم آئی ٹی موسمیاتی صحافتی فیلوشپ 2027: دس مقامی صحافیوں کے لیے 7500 ڈالر معاوضہ

سلوشنز جرنلزم نیٹ ورک اور میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی نے ایس جے این/ایم آئی ٹی موسمیاتی صحافتی فیلوشپ 2027 کے لیے درخواستیں کھول دی ہیں۔ یہ آٹھ ماہ کا پروگرام امریکہ کے دس مقامی اور علاقائی صحافیوں کو ان کی اپنی کمیونٹی میں موسمیاتی حلول پر رپورٹنگ کے لیے فی کس 7500 ڈالر معاوضہ

مکمل خبر پڑھیں
یونیسکو: 2010 سے اب تک کم از کم 46 ماحولیاتی صحافی قتل، صحافت کی حفاظت کا مطلب سیارے کی حفاظت
گرین جرنلزم

یونیسکو: 2010 سے اب تک کم از کم 46 ماحولیاتی صحافی قتل، صحافت کی حفاظت کا مطلب سیارے کی حفاظت

آگاہی مضمون: موسمیاتی رپورٹنگ جدید صحافت کا ایک خطرناک ترین میدان ہے۔ یونیسکو کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ماحولیاتی صحافیوں کو ان کے کام کی وجہ سے حملوں، دھمکیوں اور بعض صورتوں میں قتل کا سامنا ہوتا ہے — اور پریس کی حفاظت سیارے کی حفاظت کی شرط ہے۔ جو صحافی غیر قانونی

مکمل خبر پڑھیں
پوئنٹر موسمیاتی صحافت انعام: واشنگٹن پوسٹ کی «فلڈز اباو» تحقیق کو اعزاز
گرین جرنلزم

پوئنٹر موسمیاتی صحافت انعام: واشنگٹن پوسٹ کی «فلڈز اباو» تحقیق کو اعزاز

واشنگٹن – واشنگٹن پوسٹ کی سیلاب کے بڑھتے خطرے پر جامع تحقیق «فلڈز اباو» نے موسمیاتی تبدیلی کی رپورٹنگ میں نمایاں کارکردگی کے لیے پہلا پوئنٹر صحافتی انعام جیت لیا ہے۔ یہ انعام سائنسی بنیادوں پر مبنی موسمیاتی صحافت کے لیے قائم کیا گیا ایک نیا اعزاز ہے، جس کا اعلان پوئنٹر انسٹی ٹیوٹ نے

مکمل خبر پڑھیں
رومیو باسولی موسمیاتی صحافت انعام 2026: اے ایف پی اور اسکائی ٹی جی 24 کے دانیئل موریٹی کو اعزاز
گرین جرنلزم

رومیو باسولی موسمیاتی صحافت انعام 2026: اے ایف پی اور اسکائی ٹی جی 24 کے دانیئل موریٹی کو اعزاز

لیچے: موسمیاتی تبدیلی پر یورپی بحیرہ روم مرکز (سی ایم سی سی) نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کے "فیوچر آف دی پلینٹ" ڈیسک اور اسکائی ٹی جی 24 کے ڈپٹی ایڈیٹر اِن چیف دانیئل موریٹی کو موسمیات اور پائیداری پر سائنسی صحافت کے 2026 کے رومیو باسولی انعام کا فاتح قرار دیا ہے۔ یہ انعام

مکمل خبر پڑھیں
2026 ڈافنی کاروانا گالیزیا صحافتی انعام: دس تحقیقات شارٹ لسٹ، ماحولیاتی رپورٹنگ بھی شامل
گرین جرنلزم

2026 ڈافنی کاروانا گالیزیا صحافتی انعام: دس تحقیقات شارٹ لسٹ، ماحولیاتی رپورٹنگ بھی شامل

یورپی پارلیمنٹ نے 2026 کے ڈافنی کاروانا گالیزیا صحافتی انعام کے لیے دس تحقیقات شارٹ لسٹ کر لی ہیں، جن میں ڈیٹا سینٹرز کے ماحولیاتی نقصانات اور گرین انویسٹمنٹ فنڈز کی تحقیقات شامل ہیں۔ فاتح کا اعلان 21 اکتوبر کو سٹراسبرگ میں ہوگا۔

مکمل خبر پڑھیں
2026 والڈو پروفٹ ایوارڈ: روز شنیبل اور میامی ہیرالڈ کی ‘بلٹ آن سینڈ’ کو شاندار ماحولیاتی صحافت کا اعزاز
گرین جرنلزم

2026 والڈو پروفٹ ایوارڈ: روز شنیبل اور میامی ہیرالڈ کی ‘بلٹ آن سینڈ’ کو شاندار ماحولیاتی صحافت کا اعزاز

ڈبلیو یو ایف ٹی کی روز شنیبل اور میامی ہیرالڈ کی بلٹ آن سینڈ سیریز کو شاندار ماحولیاتی صحافت پر 2026 والڈو پروفٹ ایوارڈ مشترکہ طور پر دیا گیا، اعلان 2 اکتوبر کو ہوا۔

مکمل خبر پڑھیں
جانز ہاپکنز کا ۵۰۰ ڈالر صحافت ایوارڈ: آبادیاتی تبدیلی اور سیارہ صحت کی رپورٹنگ پر عالمی اعزاز
گرین جرنلزم

جانز ہاپکنز کا ۵۰۰ ڈالر صحافت ایوارڈ: آبادیاتی تبدیلی اور سیارہ صحت کی رپورٹنگ پر عالمی اعزاز

ایک نیا بین الاقوامی سیارہ صحافت ایوارڈ صحافیوں سے مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ آب و ہوا کی کوریج کے کم سے کم موضوعات میں سے ایک پر رپورٹ کریں: آبادیاتی تبدیلی سیارہ کی صحت کو کیسے متاثر کرتی ہے — اور اس کے برعکس۔ جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے اداروں کی میزبانی میں منعقد

مکمل خبر پڑھیں

ہر قدم اہم ہے

آج کے چھوٹے اقدامات، کل کے بڑے اثرات۔

مزید کہانیاں دیکھیں
انٹیلی جنس ڈوزیئر

وطن نیوز کے ساتھ باخبر رہیں

تازہ ترین خبریں، اپ ڈیٹس اور اہم کہانیاں براہ راست اپنے ان باکس میں حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔