اسلام آباد: حکومتِ پاکستان نے ہاؤسنگ، تعمیرات اور رئیل اسٹیٹ کے شعبوں کیلئے ایک جامع اصلاحاتی فریم ورک تجویز کیا ہے، جس کا مقصد مارگیج فنانس کو موجودہ سطح سے بڑھا کر 2035 تک جی ڈی پی کا پانچ فیصد بنانا اور ہر سال تین سے چار لاکھ نئے گھروں کی تعمیر کو یقینی بنانا ہے۔ یہ فریم ورک سات اکتوبر 2026 کو اڑان پاکستان پروگرام کے تحت قومی اقتصادی مشن کے آٹھویں اجلاس میں پیش کیا گیا، جس کی صدارت وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کی۔
فریم ورک میں ملک میں گھروں کی سالانہ تقریباً ساڑھے چار لاکھ یونٹس کی قلت کو پورا کرنے، زمینی ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن، جائیداد کی لین دین میں محفوظ اسکرو ادائیگیوں اور تعمیراتی منظوریوں کیلئے ون ونڈو سسٹم کی تجاویز شامل ہیں۔
اہم نکات
- مارگیج فنانس کو جی ڈی پی کے صفر اعشاریہ پانچ فیصد سے کم کی سطح سے بڑھا کر 2035 تک پانچ فیصد کرنے کا ہدف
- “ہاؤس اونرشپ پلان فار ایوری ون” کے تحت ہر سال تین سے چار لاکھ گھروں کی تعمیر کی تجویز
- سالانہ تقریباً ساڑھے چار لاکھ گھروں کی قلت کا سامنا؛ طلب سات لاکھ جبکہ فراہمی صرف ڈھائی لاکھ یونٹس ہے
- مالی سال 2029 تک زمینی ریکارڈ، تعمیراتی پرمٹ، جائیداد کی قیمتوں اور منتقلی کی ڈیجیٹلائزیشن کا ہدف
- جائیداد کی لین دین میں محفوظ اسکرو ادائیگیوں اور ڈویلپرز کیلئے ون ونڈو تعمیراتی منظوریوں کی تجویز
مارگیج فنانس میں نمایاں اضافے کا ہدف
فریم ورک کا سب سے اہم نکتہ ہاؤسنگ فنانس میں غیر معمولی اضافہ ہے۔ اس وقت پاکستان میں مارگیج فنانس جی ڈی پی کے صفر اعشاریہ پانچ فیصد سے بھی کم ہے، جسے 2035 تک بڑھا کر پانچ فیصد تک لانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ حکومت کی کوشش ہے کہ بینکوں کے ذریعے گھروں کی خریداری کیلئے قرضوں کی فراہمی کو آسان بنایا جائے۔
اجلاس میں نجی شعبے کو ترقی کا انجن بنانے اور تعمیراتی شعبے کو برآمدات، سرمایہ کاری اور زرمبادلہ کے حصول کا ذریعہ بنانے پر زور دیا گیا۔ تصدیق شدہ تعمیراتی مراحل سے منسلک مراعات کی تجویز بھی پیش کی گئی ہے۔ اسی حوالے سے موجودہ اپنا گھر سکیم کے تحت اب تک اکہتر ہزار چھ سو نوے قرضے منظور کیے جا چکے ہیں جن کی مالیت چار سو چھبیس ارب روپے ہے، جبکہ تیرہ ہزار دو سو چودہ افراد کو چھہتر ارب روپے تقسیم کیے جا چکے ہیں۔ اپنا گھر ہاؤسنگ فنانس اور نیا ناظم آباد ریٹ کی اسٹاک ایکسچینج میں لسٹنگ پر مزید پڑھیں۔
سالانہ چار لاکھ تک نئے گھروں کا منصوبہ
فریم ورک میں “ہاؤس اونرشپ پلان فار ایوری ون” کے تحت ہر سال تین سے چار لاکھ ہاؤسنگ یونٹس کی تعمیر کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اس کا مقصد ملک میں گھروں کی سالانہ تقریباً ساڑھے چار لاکھ یونٹس کی قلت کو دور کرنا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں گھروں کی سالانہ طلب تقریباً سات لاکھ یونٹس ہے جبکہ فراہمی صرف ڈھائی لاکھ یونٹس تک محدود ہے۔
شہری آبادی میں تیزی سے اضافہ بھی اس قلت کی ایک بڑی وجہ ہے۔ سنہ 2017 میں شہری آبادی تقریباً سات کروڑ ساٹھ لاکھ تھی جو 2023 تک بڑھ کر تقریباً نو کروڑ چالیس لاکھ ہو گئی ہے۔ اس بڑھتی ہوئی آبادی نے شہری زمین اور بنیادی ڈھانچے پر دباؤ میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔
ڈیجیٹل زمینی ریکارڈ اور ون ونڈو منظوریاں
اصلاحاتی فریم ورک کا ایک کلیدی جزو زمینی ریکارڈ، تعمیراتی پرمٹ، جائیداد کی قیمتوں کے تعین اور منتقلی کے عمل کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن ہے، جس کی تکمیل مالی سال 2029 تک کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اس اقدام سے جائیداد کی ملکیت سے متعلق تنازعات میں کمی اور بینکوں کیلئے قرضوں کی جانچ میں آسانی متوقع ہے۔

اسی طرح ڈویلپرز کیلئے تعمیراتی منظوریوں کا ایک واحد کھڑکی نظام تجویز کیا گیا ہے تاکہ منصوبوں میں تاخیر کم ہو سکے۔ اس کے علاوہ جائیداد کی لین دین میں محفوظ اسکرو ادائیگیوں کا نظام بھی متعارف کرانے کی تجویز ہے، جس کے تحت خریدار کی رقم طے شدہ تعمیراتی مراحل مکمل ہونے تک محفوظ رکھی جائے گی۔ اس سے خاص طور پر اقساط پر خریدی جانے والی جائیدادوں کے خریداروں کو تحفظ ملے گا۔
تعمیراتی شعبے کا روزگار اور معیشت میں کردار
وفاقی وزیر نے تعمیراتی طریقوں کو جدید ٹیکنالوجی اور زیادہ مؤثر تعمیراتی طریقوں کے ذریعے جدید بنانے پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی تعمیراتی کمپنیوں کو بین الاقوامی سطح پر مضبوط موجودگی بنانی چاہیے، کیونکہ پاکستانی کارکن پہلے ہی مشرقِ وسطیٰ میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر چکے ہیں۔

اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ تعمیراتی شعبہ ملک کی معیشت کی ساتھ جڑی 72 صنعتوں کو سہارا دیتا ہے اور قومی روزگار کا تقریباً ساڑھے نو فیصد حصہ فراہم کرتا ہے۔
وفاقی وزیر نے محدود شہری زمین کے بہتر استعمال کیلئے عمودی تعمیرات کی ضرورت پر زور دیا تاکہ زرعی زمین کو بے ترتیب افقی پھیلاؤ سے بچایا جا سکے۔ ان کے مطابق سنہ 2005 سے 2022 کے درمیان بڑے شہروں میں تعمیر شدہ رقبے میں نمایاں اضافہ ہوا، جن میں اسلام آباد میں 104 فیصد، کوئٹہ میں 72 فیصد، لاہور میں 59 فیصد، پشاور میں 44 فیصد اور کراچی میں 43 فیصد اضافہ شامل ہے۔ امریکا کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں جاری تعطل پر مزید پڑھیں۔
ہاؤسنگ اصلاحاتی فریم ورک — اہم اہداف اور اعداد
| پیمانہ | موجودہ صورتحال / ہدف | مدت |
|---|---|---|
| مارگیج فنانس (جی ڈی پی کا تناسب) | صفر اعشاریہ پانچ فیصد سے کم → پانچ فیصد کا ہدف | 2035 تک |
| سالانہ نئے گھروں کی تعمیر | تین سے چار لاکھ یونٹس کا ہدف | ہر سال |
| گھروں کی سالانہ قلت | تقریباً ساڑھے چار لاکھ یونٹس (طلب سات لاکھ، فراہمی ڈھائی لاکھ) | جاری |
| جائیداد کے ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن | زمینی ریکارڈ، پرمٹ، قیمتوں اور منتقلی کی ڈیجیٹلائزیشن | مالی سال 2029 تک |
| تعمیراتی شعبے کا روزگار میں حصہ | تقریباً ساڑھے نو فیصد؛ ساتھ جڑی 72 صنعتوں کو سہارا | موجودہ |
نتائج کا انحصار مؤثر عملدرآمد پر
یہ اعلان ابھی ایک پالیسی کی سمت کا تعین ہے نہ کہ حتمی نفاذ کا منصوبہ۔ اصلاحات کی کامیابی کا انحصار وفاقی، صوبائی اور مقامی اداروں کے درمیان مؤثر رابطے پر ہوگا۔ آنے والے مراحل میں مارگیج کی توسیع، اسکرو اکاؤنٹس، ڈیجیٹل ملکیتی ریکارڈ اور تعمیراتی منظوریوں کے تفصیلی ضابطے جاری کیے جائیں گے۔
فریم ورک رکن منصوبہ بندی کمیشن وقاص انور نے پیش کیا۔ اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ پالیسیوں کا تسلسل اور سیاسی استحکام پائیدار معاشی ترقی کیلئے ناگزیر ہیں۔ ڈویلپرز کیلئے ون ونڈو منظوریاں منصوبوں کی تاخیر کم کر سکتی ہیں، جبکہ خریداروں کیلئے ڈیجیٹل ریکارڈ اور اسکرو لین دین زیادہ تحفظ فراہم کر سکتے ہیں۔
خلاصہ
سات اکتوبر 2026 کو پیش کردہ ہاؤسنگ، تعمیرات اور رئیل اسٹیٹ کا اصلاحاتی فریم ورک پاکستان میں گھروں کی قلت دور کرنے کی ایک جامع کوشش ہے۔ مارگیج فنانس میں دس گنا اضافہ، سالانہ چار لاکھ تک نئے گھر، ڈیجیٹل زمینی ریکارڈ اور محفوظ لین دین کے نظام جیسے اہداف اگر مکمل عملدرآمد کے ساتھ پورے کیے گئے تو یہ عام شہریوں کیلئے گھر کی ملکیت کو حقیقت بنا سکتے ہیں اور تعمیراتی شعبے کو معیشت کی ترقی کا انجن بنا سکتے ہیں۔




























