LIVE
اہم خبر
موسمیاتی سربراہ سٹییل کا مطالبہ: کاپ31 میں وعدوں کو عملی نتائج میں بدلیںایمیزون کی آگ سے اوزون: درختوں کی کاربن جذب کرنے کی طاقت متاثرورلڈ مائیگریٹری برڈ ڈے 2026: ہر پرندہ شمار ہوتا ہےخلیجی ممالک کی سیاحت: سعودی عرب سے دبئی تک بہترین سیاحتی مقاماتخلیجی ممالک کی ماحول دوست سیاحت: 2026 کا سبز سفر گائیڈپاکستان میں ہاؤسنگ اور رئیل اسٹیٹ اصلاحات: مارگیج فنانس 2035 تک جی ڈی پی کے پانچ فیصد تک بڑھانے کا ہدفجنوبی افریقہ کا صفر فضلہ منصوبہ: 40 فیصد فضلہ لینڈ فلز سے باہرپیرس فیشن ویک میں لیتکوفسکا کی “اسٹریچا” کلیکشنآسٹریلیا میں شمسی توانائی کا ریکارڈ: 5.44 ٹیراواٹ گھنٹےآٹے کی قیمت میں ایک ہفتے میں 5.69 فیصد اضافہ، مہنگائی 11.97 فیصد تک پہنچ گئیاحمدآباد: 50 لاکھ درخت لگانے کا ہدف مکملخیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ، پی ٹی آئی حکومت معطلایس جے این/ایم آئی ٹی موسمیاتی صحافتی فیلوشپ 2027: دس مقامی صحافیوں کے لیے 7500 ڈالر معاوضہیورپی ایکو لیبل پر 81 فیصد یورپیوں کا اعتماد: نئے سروے کے نتائجبرطانیہ نے ناٹنگھم شائر میں 450 میگاواٹ اسٹیپل سولر فارم اور 150 میگاواٹ بیٹری منصوبے کی منظوری دے دیلگزمبرگ میں یورپی ماحولیاتی وزرا کا اجلاس: کاربن مارکیٹ کی اصلاح اور کاپ31 کی تیاریجی جی جی آئی نے گلوبل گرین گروتھ ویک 2026 کے لیے یوتھ ایمبیسڈر درخواستیں مانگ لیںجیک ڈینگرمنڈ کو کیلیفورنیا کے 30×30 چیمپئن ایوارڈ سے نوازا گیاکاپ31 گرین زون: انطالیہ موسمیاتی کانفرنس میں عوام کے لیے مفت رجسٹریشنفلپائن کا بڑا قدم: کنڈرگارٹن سے ہائی اسکول تک نصاب میں موسمیاتی خواندگیموسمیاتی سربراہ سٹییل کا مطالبہ: کاپ31 میں وعدوں کو عملی نتائج میں بدلیںایمیزون کی آگ سے اوزون: درختوں کی کاربن جذب کرنے کی طاقت متاثرورلڈ مائیگریٹری برڈ ڈے 2026: ہر پرندہ شمار ہوتا ہےخلیجی ممالک کی سیاحت: سعودی عرب سے دبئی تک بہترین سیاحتی مقاماتخلیجی ممالک کی ماحول دوست سیاحت: 2026 کا سبز سفر گائیڈپاکستان میں ہاؤسنگ اور رئیل اسٹیٹ اصلاحات: مارگیج فنانس 2035 تک جی ڈی پی کے پانچ فیصد تک بڑھانے کا ہدفجنوبی افریقہ کا صفر فضلہ منصوبہ: 40 فیصد فضلہ لینڈ فلز سے باہرپیرس فیشن ویک میں لیتکوفسکا کی “اسٹریچا” کلیکشنآسٹریلیا میں شمسی توانائی کا ریکارڈ: 5.44 ٹیراواٹ گھنٹےآٹے کی قیمت میں ایک ہفتے میں 5.69 فیصد اضافہ، مہنگائی 11.97 فیصد تک پہنچ گئیاحمدآباد: 50 لاکھ درخت لگانے کا ہدف مکملخیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ، پی ٹی آئی حکومت معطلایس جے این/ایم آئی ٹی موسمیاتی صحافتی فیلوشپ 2027: دس مقامی صحافیوں کے لیے 7500 ڈالر معاوضہیورپی ایکو لیبل پر 81 فیصد یورپیوں کا اعتماد: نئے سروے کے نتائجبرطانیہ نے ناٹنگھم شائر میں 450 میگاواٹ اسٹیپل سولر فارم اور 150 میگاواٹ بیٹری منصوبے کی منظوری دے دیلگزمبرگ میں یورپی ماحولیاتی وزرا کا اجلاس: کاربن مارکیٹ کی اصلاح اور کاپ31 کی تیاریجی جی جی آئی نے گلوبل گرین گروتھ ویک 2026 کے لیے یوتھ ایمبیسڈر درخواستیں مانگ لیںجیک ڈینگرمنڈ کو کیلیفورنیا کے 30×30 چیمپئن ایوارڈ سے نوازا گیاکاپ31 گرین زون: انطالیہ موسمیاتی کانفرنس میں عوام کے لیے مفت رجسٹریشنفلپائن کا بڑا قدم: کنڈرگارٹن سے ہائی اسکول تک نصاب میں موسمیاتی خواندگی
رئیل اسٹیٹ

پاکستان میں ہاؤسنگ اور رئیل اسٹیٹ اصلاحات: مارگیج فنانس 2035 تک جی ڈی پی کے پانچ فیصد تک بڑھانے کا ہدف

Usman javed
پاکستان میں ہاؤسنگ اور رئیل اسٹیٹ اصلاحات: مارگیج فنانس 2035 تک جی ڈی پی کے پانچ فیصد تک بڑھانے کا ہدف
Share this story

اسلام آباد: حکومتِ پاکستان نے ہاؤسنگ، تعمیرات اور رئیل اسٹیٹ کے شعبوں کیلئے ایک جامع اصلاحاتی فریم ورک تجویز کیا ہے، جس کا مقصد مارگیج فنانس کو موجودہ سطح سے بڑھا کر 2035 تک جی ڈی پی کا پانچ فیصد بنانا اور ہر سال تین سے چار لاکھ نئے گھروں کی تعمیر کو یقینی بنانا ہے۔ یہ فریم ورک سات اکتوبر 2026 کو اڑان پاکستان پروگرام کے تحت قومی اقتصادی مشن کے آٹھویں اجلاس میں پیش کیا گیا، جس کی صدارت وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کی۔

فریم ورک میں ملک میں گھروں کی سالانہ تقریباً ساڑھے چار لاکھ یونٹس کی قلت کو پورا کرنے، زمینی ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن، جائیداد کی لین دین میں محفوظ اسکرو ادائیگیوں اور تعمیراتی منظوریوں کیلئے ون ونڈو سسٹم کی تجاویز شامل ہیں۔

اہم نکات

  • مارگیج فنانس کو جی ڈی پی کے صفر اعشاریہ پانچ فیصد سے کم کی سطح سے بڑھا کر 2035 تک پانچ فیصد کرنے کا ہدف
  • “ہاؤس اونرشپ پلان فار ایوری ون” کے تحت ہر سال تین سے چار لاکھ گھروں کی تعمیر کی تجویز
  • سالانہ تقریباً ساڑھے چار لاکھ گھروں کی قلت کا سامنا؛ طلب سات لاکھ جبکہ فراہمی صرف ڈھائی لاکھ یونٹس ہے
  • مالی سال 2029 تک زمینی ریکارڈ، تعمیراتی پرمٹ، جائیداد کی قیمتوں اور منتقلی کی ڈیجیٹلائزیشن کا ہدف
  • جائیداد کی لین دین میں محفوظ اسکرو ادائیگیوں اور ڈویلپرز کیلئے ون ونڈو تعمیراتی منظوریوں کی تجویز

مارگیج فنانس میں نمایاں اضافے کا ہدف

فریم ورک کا سب سے اہم نکتہ ہاؤسنگ فنانس میں غیر معمولی اضافہ ہے۔ اس وقت پاکستان میں مارگیج فنانس جی ڈی پی کے صفر اعشاریہ پانچ فیصد سے بھی کم ہے، جسے 2035 تک بڑھا کر پانچ فیصد تک لانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ حکومت کی کوشش ہے کہ بینکوں کے ذریعے گھروں کی خریداری کیلئے قرضوں کی فراہمی کو آسان بنایا جائے۔

اجلاس میں نجی شعبے کو ترقی کا انجن بنانے اور تعمیراتی شعبے کو برآمدات، سرمایہ کاری اور زرمبادلہ کے حصول کا ذریعہ بنانے پر زور دیا گیا۔ تصدیق شدہ تعمیراتی مراحل سے منسلک مراعات کی تجویز بھی پیش کی گئی ہے۔ اسی حوالے سے موجودہ اپنا گھر سکیم کے تحت اب تک اکہتر ہزار چھ سو نوے قرضے منظور کیے جا چکے ہیں جن کی مالیت چار سو چھبیس ارب روپے ہے، جبکہ تیرہ ہزار دو سو چودہ افراد کو چھہتر ارب روپے تقسیم کیے جا چکے ہیں۔ اپنا گھر ہاؤسنگ فنانس اور نیا ناظم آباد ریٹ کی اسٹاک ایکسچینج میں لسٹنگ پر مزید پڑھیں۔

سالانہ چار لاکھ تک نئے گھروں کا منصوبہ

فریم ورک میں “ہاؤس اونرشپ پلان فار ایوری ون” کے تحت ہر سال تین سے چار لاکھ ہاؤسنگ یونٹس کی تعمیر کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اس کا مقصد ملک میں گھروں کی سالانہ تقریباً ساڑھے چار لاکھ یونٹس کی قلت کو دور کرنا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں گھروں کی سالانہ طلب تقریباً سات لاکھ یونٹس ہے جبکہ فراہمی صرف ڈھائی لاکھ یونٹس تک محدود ہے۔

شہری آبادی میں تیزی سے اضافہ بھی اس قلت کی ایک بڑی وجہ ہے۔ سنہ 2017 میں شہری آبادی تقریباً سات کروڑ ساٹھ لاکھ تھی جو 2023 تک بڑھ کر تقریباً نو کروڑ چالیس لاکھ ہو گئی ہے۔ اس بڑھتی ہوئی آبادی نے شہری زمین اور بنیادی ڈھانچے پر دباؤ میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔

ڈیجیٹل زمینی ریکارڈ اور ون ونڈو منظوریاں

اصلاحاتی فریم ورک کا ایک کلیدی جزو زمینی ریکارڈ، تعمیراتی پرمٹ، جائیداد کی قیمتوں کے تعین اور منتقلی کے عمل کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن ہے، جس کی تکمیل مالی سال 2029 تک کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اس اقدام سے جائیداد کی ملکیت سے متعلق تنازعات میں کمی اور بینکوں کیلئے قرضوں کی جانچ میں آسانی متوقع ہے۔

پاکستان ہاؤسنگ اصلاحات 2026: اسلام آباد کے سیکٹر جی گیارہ میں زیر تعمیر رہائشی عمارتیں
اسلام آباد کے سیکٹر جی گیارہ میں زیر تعمیر رہائشی عمارتیں — اصلاحاتی فریم ورک میں تعمیراتی منظوریوں کیلئے ون ونڈو سسٹم کی تجویز شامل ہے۔

اسی طرح ڈویلپرز کیلئے تعمیراتی منظوریوں کا ایک واحد کھڑکی نظام تجویز کیا گیا ہے تاکہ منصوبوں میں تاخیر کم ہو سکے۔ اس کے علاوہ جائیداد کی لین دین میں محفوظ اسکرو ادائیگیوں کا نظام بھی متعارف کرانے کی تجویز ہے، جس کے تحت خریدار کی رقم طے شدہ تعمیراتی مراحل مکمل ہونے تک محفوظ رکھی جائے گی۔ اس سے خاص طور پر اقساط پر خریدی جانے والی جائیدادوں کے خریداروں کو تحفظ ملے گا۔

تعمیراتی شعبے کا روزگار اور معیشت میں کردار

وفاقی وزیر نے تعمیراتی طریقوں کو جدید ٹیکنالوجی اور زیادہ مؤثر تعمیراتی طریقوں کے ذریعے جدید بنانے پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی تعمیراتی کمپنیوں کو بین الاقوامی سطح پر مضبوط موجودگی بنانی چاہیے، کیونکہ پاکستانی کارکن پہلے ہی مشرقِ وسطیٰ میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر چکے ہیں۔

پاکستان ہاؤسنگ اصلاحات 2026: عمودی تعمیرات کیلئے جدید رہائشی عمارت کا ڈیزائن
کراچی میں بلند و بالا رہائشی عمارت کا ڈیزائن — فریم ورک میں زرعی زمین کے تحفظ کیلئے عمودی تعمیرات پر زور دیا گیا ہے۔

اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ تعمیراتی شعبہ ملک کی معیشت کی ساتھ جڑی 72 صنعتوں کو سہارا دیتا ہے اور قومی روزگار کا تقریباً ساڑھے نو فیصد حصہ فراہم کرتا ہے۔

وفاقی وزیر نے محدود شہری زمین کے بہتر استعمال کیلئے عمودی تعمیرات کی ضرورت پر زور دیا تاکہ زرعی زمین کو بے ترتیب افقی پھیلاؤ سے بچایا جا سکے۔ ان کے مطابق سنہ 2005 سے 2022 کے درمیان بڑے شہروں میں تعمیر شدہ رقبے میں نمایاں اضافہ ہوا، جن میں اسلام آباد میں 104 فیصد، کوئٹہ میں 72 فیصد، لاہور میں 59 فیصد، پشاور میں 44 فیصد اور کراچی میں 43 فیصد اضافہ شامل ہے۔ امریکا کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں جاری تعطل پر مزید پڑھیں۔

ہاؤسنگ اصلاحاتی فریم ورک — اہم اہداف اور اعداد

پیمانہ موجودہ صورتحال / ہدف مدت
مارگیج فنانس (جی ڈی پی کا تناسب) صفر اعشاریہ پانچ فیصد سے کم → پانچ فیصد کا ہدف 2035 تک
سالانہ نئے گھروں کی تعمیر تین سے چار لاکھ یونٹس کا ہدف ہر سال
گھروں کی سالانہ قلت تقریباً ساڑھے چار لاکھ یونٹس (طلب سات لاکھ، فراہمی ڈھائی لاکھ) جاری
جائیداد کے ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن زمینی ریکارڈ، پرمٹ، قیمتوں اور منتقلی کی ڈیجیٹلائزیشن مالی سال 2029 تک
تعمیراتی شعبے کا روزگار میں حصہ تقریباً ساڑھے نو فیصد؛ ساتھ جڑی 72 صنعتوں کو سہارا موجودہ

نتائج کا انحصار مؤثر عملدرآمد پر

یہ اعلان ابھی ایک پالیسی کی سمت کا تعین ہے نہ کہ حتمی نفاذ کا منصوبہ۔ اصلاحات کی کامیابی کا انحصار وفاقی، صوبائی اور مقامی اداروں کے درمیان مؤثر رابطے پر ہوگا۔ آنے والے مراحل میں مارگیج کی توسیع، اسکرو اکاؤنٹس، ڈیجیٹل ملکیتی ریکارڈ اور تعمیراتی منظوریوں کے تفصیلی ضابطے جاری کیے جائیں گے۔

فریم ورک رکن منصوبہ بندی کمیشن وقاص انور نے پیش کیا۔ اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ پالیسیوں کا تسلسل اور سیاسی استحکام پائیدار معاشی ترقی کیلئے ناگزیر ہیں۔ ڈویلپرز کیلئے ون ونڈو منظوریاں منصوبوں کی تاخیر کم کر سکتی ہیں، جبکہ خریداروں کیلئے ڈیجیٹل ریکارڈ اور اسکرو لین دین زیادہ تحفظ فراہم کر سکتے ہیں۔

خلاصہ

سات اکتوبر 2026 کو پیش کردہ ہاؤسنگ، تعمیرات اور رئیل اسٹیٹ کا اصلاحاتی فریم ورک پاکستان میں گھروں کی قلت دور کرنے کی ایک جامع کوشش ہے۔ مارگیج فنانس میں دس گنا اضافہ، سالانہ چار لاکھ تک نئے گھر، ڈیجیٹل زمینی ریکارڈ اور محفوظ لین دین کے نظام جیسے اہداف اگر مکمل عملدرآمد کے ساتھ پورے کیے گئے تو یہ عام شہریوں کیلئے گھر کی ملکیت کو حقیقت بنا سکتے ہیں اور تعمیراتی شعبے کو معیشت کی ترقی کا انجن بنا سکتے ہیں۔

اکثر پوچھے گئے سوالات

متعلقہ خبریں

امریکا کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ تعطل کا شکار: فروخت میں کمی، ذخیرہ ریکارڈ سطح پررئیل اسٹیٹ

امریکا کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ تعطل کا شکار: فروخت میں کمی، ذخیرہ ریکارڈ سطح پر

امریکی رئیل اسٹیٹ بازار موسمِ خزاں کے آغاز پر ایک عجیب تعطل کا شکار ہے۔ ایک طرف بلند شرحِ سود نے خریداروں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا ہے اور اگست میں مکانات کی فروخت چودہ ماہ کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے، تو دوسری طرف فروخت کے لیے پیش مکانات کی تعداد دہائی کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ اس غیر معم

مزید پڑھیں
اقوام متحدہ کا عالمی رہائش دن: گھر ایک بنیادی انسانی حق ہےرئیل اسٹیٹ

اقوام متحدہ کا عالمی رہائش دن: گھر ایک بنیادی انسانی حق ہے

اقوام متحدہ نے عالمی رہائش دن 2026 کے موقع پر اس بات کی توثیق کی ہے کہ مناسب رہائش ایک بنیادی انسانی حق ہے۔ اس دن کا موضوع “سب کے لیے مناسب رہائش” تھا۔ عالمی سطح پر 2.8 ارب افراد کو نامناسب رہائش کا سامنا ہے۔ 1.1 ارب افراد جھگیوں اور غیر رسمی بستیوں میں

مزید پڑھیں

سیارہ اور ماحول

ماحولیات اور استحکام

مستقبل کی نسلوں کے لیے ایک سبز اور زیادہ پائیدار سیارے کی طرف تبدیلی لانے والی خبریں، کہانیاں اور حل۔

موسمیاتی سربراہ سٹییل کا مطالبہ: کاپ31 میں وعدوں کو عملی نتائج میں بدلیں
نمایاں خبر

موسمیاتی سربراہ سٹییل کا مطالبہ: کاپ31 میں وعدوں کو عملی نتائج میں بدلیں

نادی، فجی — کاپ31 کے انطالیہ، ترکیہ میں آغاز سے چار ہفتے قبل اقوام متحدہ کے اعلیٰ ترین موسمیاتی عہدیدار نے حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ اس کانفرنس کو وہ موقع بنائیں جہاں موسمیاتی وعدے آخرکار عملی نتائج میں بدل جائیں۔ اقوام متحدہ کے موسمیاتی تبدیلی سے متعلق فریم ورک کنونشن (یو این

مکمل خبر پڑھیں
ایس جے این/ایم آئی ٹی موسمیاتی صحافتی فیلوشپ 2027: دس مقامی صحافیوں کے لیے 7500 ڈالر معاوضہ
گرین جرنلزم

ایس جے این/ایم آئی ٹی موسمیاتی صحافتی فیلوشپ 2027: دس مقامی صحافیوں کے لیے 7500 ڈالر معاوضہ

سلوشنز جرنلزم نیٹ ورک اور میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی نے ایس جے این/ایم آئی ٹی موسمیاتی صحافتی فیلوشپ 2027 کے لیے درخواستیں کھول دی ہیں۔ یہ آٹھ ماہ کا پروگرام امریکہ کے دس مقامی اور علاقائی صحافیوں کو ان کی اپنی کمیونٹی میں موسمیاتی حلول پر رپورٹنگ کے لیے فی کس 7500 ڈالر معاوضہ

مکمل خبر پڑھیں
یونیسکو: 2010 سے اب تک کم از کم 46 ماحولیاتی صحافی قتل، صحافت کی حفاظت کا مطلب سیارے کی حفاظت
گرین جرنلزم

یونیسکو: 2010 سے اب تک کم از کم 46 ماحولیاتی صحافی قتل، صحافت کی حفاظت کا مطلب سیارے کی حفاظت

آگاہی مضمون: موسمیاتی رپورٹنگ جدید صحافت کا ایک خطرناک ترین میدان ہے۔ یونیسکو کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ماحولیاتی صحافیوں کو ان کے کام کی وجہ سے حملوں، دھمکیوں اور بعض صورتوں میں قتل کا سامنا ہوتا ہے — اور پریس کی حفاظت سیارے کی حفاظت کی شرط ہے۔ جو صحافی غیر قانونی

مکمل خبر پڑھیں
پوئنٹر موسمیاتی صحافت انعام: واشنگٹن پوسٹ کی «فلڈز اباو» تحقیق کو اعزاز
گرین جرنلزم

پوئنٹر موسمیاتی صحافت انعام: واشنگٹن پوسٹ کی «فلڈز اباو» تحقیق کو اعزاز

واشنگٹن – واشنگٹن پوسٹ کی سیلاب کے بڑھتے خطرے پر جامع تحقیق «فلڈز اباو» نے موسمیاتی تبدیلی کی رپورٹنگ میں نمایاں کارکردگی کے لیے پہلا پوئنٹر صحافتی انعام جیت لیا ہے۔ یہ انعام سائنسی بنیادوں پر مبنی موسمیاتی صحافت کے لیے قائم کیا گیا ایک نیا اعزاز ہے، جس کا اعلان پوئنٹر انسٹی ٹیوٹ نے

مکمل خبر پڑھیں
رومیو باسولی موسمیاتی صحافت انعام 2026: اے ایف پی اور اسکائی ٹی جی 24 کے دانیئل موریٹی کو اعزاز
گرین جرنلزم

رومیو باسولی موسمیاتی صحافت انعام 2026: اے ایف پی اور اسکائی ٹی جی 24 کے دانیئل موریٹی کو اعزاز

لیچے: موسمیاتی تبدیلی پر یورپی بحیرہ روم مرکز (سی ایم سی سی) نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کے "فیوچر آف دی پلینٹ" ڈیسک اور اسکائی ٹی جی 24 کے ڈپٹی ایڈیٹر اِن چیف دانیئل موریٹی کو موسمیات اور پائیداری پر سائنسی صحافت کے 2026 کے رومیو باسولی انعام کا فاتح قرار دیا ہے۔ یہ انعام

مکمل خبر پڑھیں
2026 ڈافنی کاروانا گالیزیا صحافتی انعام: دس تحقیقات شارٹ لسٹ، ماحولیاتی رپورٹنگ بھی شامل
گرین جرنلزم

2026 ڈافنی کاروانا گالیزیا صحافتی انعام: دس تحقیقات شارٹ لسٹ، ماحولیاتی رپورٹنگ بھی شامل

یورپی پارلیمنٹ نے 2026 کے ڈافنی کاروانا گالیزیا صحافتی انعام کے لیے دس تحقیقات شارٹ لسٹ کر لی ہیں، جن میں ڈیٹا سینٹرز کے ماحولیاتی نقصانات اور گرین انویسٹمنٹ فنڈز کی تحقیقات شامل ہیں۔ فاتح کا اعلان 21 اکتوبر کو سٹراسبرگ میں ہوگا۔

مکمل خبر پڑھیں
2026 والڈو پروفٹ ایوارڈ: روز شنیبل اور میامی ہیرالڈ کی ‘بلٹ آن سینڈ’ کو شاندار ماحولیاتی صحافت کا اعزاز
گرین جرنلزم

2026 والڈو پروفٹ ایوارڈ: روز شنیبل اور میامی ہیرالڈ کی ‘بلٹ آن سینڈ’ کو شاندار ماحولیاتی صحافت کا اعزاز

ڈبلیو یو ایف ٹی کی روز شنیبل اور میامی ہیرالڈ کی بلٹ آن سینڈ سیریز کو شاندار ماحولیاتی صحافت پر 2026 والڈو پروفٹ ایوارڈ مشترکہ طور پر دیا گیا، اعلان 2 اکتوبر کو ہوا۔

مکمل خبر پڑھیں
جانز ہاپکنز کا ۵۰۰ ڈالر صحافت ایوارڈ: آبادیاتی تبدیلی اور سیارہ صحت کی رپورٹنگ پر عالمی اعزاز
گرین جرنلزم

جانز ہاپکنز کا ۵۰۰ ڈالر صحافت ایوارڈ: آبادیاتی تبدیلی اور سیارہ صحت کی رپورٹنگ پر عالمی اعزاز

ایک نیا بین الاقوامی سیارہ صحافت ایوارڈ صحافیوں سے مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ آب و ہوا کی کوریج کے کم سے کم موضوعات میں سے ایک پر رپورٹ کریں: آبادیاتی تبدیلی سیارہ کی صحت کو کیسے متاثر کرتی ہے — اور اس کے برعکس۔ جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے اداروں کی میزبانی میں منعقد

مکمل خبر پڑھیں

ہر قدم اہم ہے

آج کے چھوٹے اقدامات، کل کے بڑے اثرات۔

مزید کہانیاں دیکھیں
انٹیلی جنس ڈوزیئر

وطن نیوز کے ساتھ باخبر رہیں

تازہ ترین خبریں، اپ ڈیٹس اور اہم کہانیاں براہ راست اپنے ان باکس میں حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔