جنوبی افریقہ نے فضلہ کے انتظام کی نئی قومی حکمت عملی کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت 2030 تک لینڈ فلز میں جانے والے فضلے میں 40 فیصد کمی لانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ یہ منصوبہ ری سائیکلنگ، کمپوسٹنگ اور فضلہ سے توانائی کے منصوبوں پر مرکوز ہے، اور اس سے ہزاروں گرین روزگار پیدا ہونے کی توقع ہے۔
اہم نکات
- 2030 تک لینڈ فلز سے 40 فیصد فضلہ ہٹانے کا قومی ہدف
- ری سائیکلنگ کی شرح 25 فیصد سے بڑھا کر 50 فیصد کرنے کا منصوبہ
- فضلہ سے توانائی کے 12 نئے منصوبے — مجموعی صلاحیت 350 میگاواٹ
- 50,000 نئے گرین روزگار کی تخلیق کی توقع
- پلاسٹک کے تھیلوں پر مکمل پابندی 2027 سے نافذ
حکمت عملی کے اہم ستون
نئی فضلہ حکمت عملی چار ستونوں پر کھڑی ہے: فضلہ کی پیداوار میں کمی، دوبارہ استعمال، ری سائیکلنگ اور توانائی کی بازیابی۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ 2027 سے ایک بار استعمال ہونے والے پلاسٹک کے تھیلوں پر مکمل پابندی عائد کر دی جائے گی، جبکہ پیکیجنگ صنعت کو 2030 تک 70 فیصد ری سائیکل شدہ مواد استعمال کرنے کا پابند بنایا جائے گا۔

گرین روزگار اور معیشت
حکمت عملی کے تحت اگلے پانچ سال میں 50,000 نئے گرین روزگار پیدا ہونے کی توقع ہے — ری سائیکلنگ مراکز، کمپوسٹنگ یونٹس اور فضلہ سے توانائی کے پلانٹس میں۔ ماحولیات کی مزید خبریں یہاں پڑھیں۔

نتیجہ
جنوبی افریقہ کی صفر فضلہ حکمت عملی افریقہ بھر میں سرکلر اکانومی کی ایک اہم مثال بن سکتی ہے۔ واضح اہداف، سخت ضابطوں اور گرین روزگار کے ساتھ یہ منصوبہ ماحولیاتی اور معاشی دونوں فوائد کا وعدہ کرتا ہے۔


























