یہ مضمون امانت علی چوہدری، بانی و چیف ایڈیٹر وطن نیوز انٹرنیشنل کی کتاب «ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک» (ایڈیشن دوم) سے اقتباس ہے۔
کوپن ہیگن: امانت علی چوہدری کی آپ بیتی کا یہ باب ان کی والدہ مکرمہ کی حج کی خواہش اور اس کی تکمیل کی روداد ہے — 1973ء میں خشکی کے راستے ادا ہونے والے پہلے حج سے لے کر 1997ء کے اس سفر تک، جس میں منیٰ کی ہولناک آتشزدگی نے پورے قافلے کو کڑی آزمائش میں ڈال دیا۔ یہ تحریر مضامین کے سلسلے میں شائع کی جا رہی ہے۔
اہم نکات
- مصنف: امانت علی چوہدری، بانی و چیف ایڈیٹر وطن نیوز انٹرنیشنل؛ کتاب «ناگڑیاں سے کوپن ہیگن تک» (ایڈیشن دوم) کا باب۔
- والدہ کا پہلا حج: 1973ء؛ پیر سید حیدر علی شاہ کے قافلے کے ہمراہ خشکی کے راستے (بس اور ٹرین)۔
- 1997ء کا قافلہ: 12 اپریل 1997ء کو کوپن ہیگن سے قاہرہ اور جدہ کے راستے؛ قافلہ سالار الحاج راجہ مقبول حسین بھٹی، حج فاؤنڈیشن۔
- سانحہ منیٰ: 15 اپریل 1997ء (8 ذوالحجہ)؛ تیز ہواؤں سے پھیلی آگ؛ 70 ہزار سے زائد خیمے جل کر راکھ؛ 343 سے زائد حجاج شہید اور 1500 سے زائد زخمی۔
- ہمشیرہ تاج بیگم: بھگدڑ میں بچھڑ گئیں اور مناسک کی تکمیل کے موقع پر معجزانہ طور پر بازیاب ہوئیں۔
- واپسی: جدہ سے قاہرہ کے راستے کوپن ہیگن؛ مصنف کی عمر 86 برس مکمل۔
والدہ مکرمہ کی حج کی خواہش اور اس کی تکمیل
جب مصنف 1970ء کے اوائل میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ڈنمارک کے طویل اور کٹھن سفر پر روانہ ہوئے تھے تو اس وقت ان کے پیشِ نظر صرف ایک ہی مقصد تھا کہ کسی طور بحفاظت اپنی منزلِ مقصود پر پہنچ جائیں۔ معلوم نہیں تھا کہ دیارِ غیر کا یہ پرخطر راستہ کس طرح اور کب اپنے اختتام کو پہنچے گا۔ لیکن ہوش سنبھالنے کے بعد سے انہیں یاد ہے کہ ان کی پیاری امی جان کی زبان پر ہر دم یہی دعا اور حسرت ہوا کرتی تھی کہ کاش کسی دن پروردگارِ عالم انہیں بھی اپنے درِ اقدس پر بلائے اور وہ فریضہءِ حج ادا کرنے کی سعادت حاصل کر سکیں۔
اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے مصنف ڈنمارک پہنچ کر اپنے پاؤں پر کھڑے ہو گئے اور روزگار کا سلسلہ چل نکلا۔ پردیس میں قدم جمانے کے بعد انہیں امی جان کی دوری زیادہ دیر برداشت نہ ہوئی، چنانچہ 1970ء سے لے کر 1973ء کے درمیانی عرصے میں ہی وہ دو مرتبہ اپنی والدہ ماجدہ سے ملاقات کے لیے پاکستان گئے۔
جب 1973ء میں وہ وطن گئے تو یہ سن کر انہیں دلی خوشی ہوئی کہ امی جان نے فریضہءِ حج ادا کرنے کی باقاعدہ تیاری کر رکھی ہے۔ صورت کچھ یوں بنی کہ ان کی بڑی ہمشیرہ، جن کی شادی کھاریاں کے نواحی گاؤں موضع گرد نوالہ میں ہوئی تھی، انہوں نے بتایا کہ ان کے گاؤں کے معزز اور محترم بزرگ جناب پیر سید حیدر علی شاہ صاحب حج کی سعادت حاصل کرنے کے لیے ایک قافلہ لے کر جا رہے ہیں اور انہوں نے ازراہِ کرم و شفقت والدہ محترمہ کو بھی اپنے ہمراہ حج پر لے جانے کا عندیہ دیا ہے۔
شاہ جی کے اس قافلے میں علاقے کے دیگر معزز خواتین و حضرات بھی شامل تھے، اور یہ سارا سفر بذریعہ بس اور ٹرین خشکی کے راستے طے ہونا تھا۔ شاہ جی صاحب نے تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ وہ اپنی اس ہمشیرہ (مصنف کی امی جان) کو پورے سفر میں کسی قسم کی کوئی تکلیف نہیں آنے دیں گے۔ اگرچہ سڑک اور ریل کا یہ طویل زمینی راستہ بزرگ خواتین کے لیے بے حد دشوار گزار تھا اور حج پر جانے کا یہ بالکل اچھوتا انداز تھا، لیکن چونکہ پیر سید حیدر علی شاہ صاحب پورے خاندان کے مخلص اور سچے بہی خواہ تھے، اس لیے والدہ صاحبہ نے نہایت خوش دلی سے رختِ سفر باندھ لیا۔ اس طرح پیاری امی جان نے بحفاظت اپنے رب کے حضور حاضر ہو کر اپنی زندگی کا پہلا فریضہءِ حج ادا کر لیا۔
بعد ازاں جب مصنف اپنے بچوں کو ڈنمارک منتقل کرنے کے سلسلے میں دوبارہ پاکستان آئے تو امی جان حج کا فریضہ ادا کر کے واپس تشریف لا چکی تھیں۔ ان کا چہرہ دیدنی تھا اور وہ بہت خوش و خرم تھیں۔ وہ گھنٹوں محبت اور اپنائیت سے اپنے اس مبارک سفر کی دلکش اور روح پرور داستانیں سنایا کرتی تھیں، اور ان کی یہ باتیں سن کر مصنف کے دل کو جو قلبی تسکین اور اطمینان نصیب ہوتا تھا، اسے الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ ان کے رب نے ان کی والدہ ماجدہ کے دل کی سب سے بڑی آرزو پوری فرما دی تھی۔
حج فاؤنڈیشن کا قافلہ اور 1997ء کا سفرِ حج
مصنف کی زندگی میں ایک بڑا اور انقلابی موڑ اس وقت آیا جب 1985ء میں انہوں نے تحریک منہاج القرآن کی لائف ممبرشپ حاصل کی۔ علامہ ڈاکٹر محمد طاہر القادری صاحب کے خطابات اور کتب نے ان کی سوچ کو ایک نئی جہت بخشی اور ان کا دل ازخود دینِ حنیف اور خدمتِ خلق کی جانب راغب ہوتا چلا گیا۔ اگرچہ طالب علمی کے زمانے سے ہی دینِ اسلام سے وابستگی تھی اور بنیادی مطالعہ بھی رہتا تھا، مگر اس میں وہ گہرائی اور فکر پیدا نہ ہو سکی تھی جو عمر کے اس حصے کا تقاضا ہوتی ہے۔
انہی دنوں کوپن ہیگن (ڈنمارک) میں مصنف کے نہایت مخلص، دیرینہ اور باوفا دوست الحاج راجہ مقبول حسین بھٹی صاحب نے مسلمانوں کی سہولت کے لیے «حج فاؤنڈیشن» کی بنیاد رکھی۔ وہ ہر سال ڈنمارک اور دیگر یورپی ممالک میں مقیم مسلمانوں کے قافلے کو حج کی سعادت دلوانے کے لیے حرمین شریفین لے جایا کرتے تھے۔
1997ء کے اوائل میں راجہ مقبول حسین بھٹی صاحب مصنف کے پاس تشریف لائے اور فرمانے لگے کہ ان کی دلی خواہش ہے کہ وہ اپنے قریبی اور مخلص دوستوں کا ایک خصوصی گروپ بنا کر حج پر لے جائیں، اور مصنف اور ان کی اہلیہ کو ہر صورت اس متبرک قافلے کا حصہ بننا ہے۔ مصنف نے اللہ کے حضور شکر ادا کیا اور بھٹی صاحب سے عرض کی کہ انشاء اللہ وہ ضرور ان کے شانہ بشانہ اس سعادت میں شریک ہوں گے۔
چنانچہ چند مخصوص اور بااعتماد دوستوں کا ایک پروقار گروپ تشکیل دیا گیا۔ اس مبارک قافلے میں مصنف اور ان کی اہلیہ رشید بیگم، ان کی بڑی ہمشیرہ محترمہ تاج بیگم، ان کے مخلص اور دیرینہ رفیق چوہدری محمد اعظم اور ان کی اہلیہ محترمہ رفتاج بیگم، برادرم عبدالحمید بمعہ اہلیہ، چوہان صاحب بمعہ اہلیہ، چوہدری محمد عباس، موضع دَلو کے چوہدری اصغر علی اور چند دیگر احباب شامل تھے۔
12 اپریل 1997ء کو یہ قافلہ الحاج راجہ مقبول حسین بھٹی صاحب کی زیرِ قیادت کوپن ہیگن ایئرپورٹ سے مصر ایئر کی پرواز کے ذریعے قاہرہ کے لیے روانہ ہوا۔ قاہرہ میں کچھ دیر قیام کے دوران انہوں نے غسل کیا، عمرے کے نفل ادا کیے اور احرام باندھ لیے۔ وہاں سے پرواز کے ذریعے جدہ ایئرپورٹ پہنچے۔ امیگریشن اور دیگر سفری دستاویزات کی جانچ پڑتال کے بعد وہ مخصوص بسوں پر سوار ہو کر مکہ مکرمہ کی جانب روانہ ہوئے۔ جیسے ہی مکہ مکرمہ کی حدود میں داخل ہوئے، دلوں کی دھڑکنیں تیز ہو گئیں۔ گروپ لیڈر نے جائے رہائش کا پہلے ہی معقول انتظام کر رکھا تھا۔ ہوٹل میں سامان رکھا اور وضو تازہ کر کے حرم شریف کی جانب چل پڑے۔ جب پہلی بار نگاہ کعبۃ اللہ کے جلال و جمال پر پڑی تو وجود پر لرزہ طاری ہو گیا اور دل کی دنیا ہی بدل گئی۔ آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگ گئی اور زبان پر جو بھی دعائیں اور التجائیں آئیں، گڑگڑا کر مانگتے رہے اور طوافِ کعبہ میں مصروف ہو گئے۔ عمرے کے ارکان ادا کرنے کے بعد ہوٹل واپس آئے۔
سانحہ منیٰ — 15 اپریل 1997ء
اگلے دن 8 ذوالحجہ کو تمام حجاج نے حج کا پہلا پڑاؤ ڈالنے کے لیے وادیِ منیٰ کی طرف کوچ کرنا تھا۔ مصنف کا گروپ بسوں کے ذریعے منیٰ پہنچا اور الاٹ شدہ خیموں میں اپنا سامان رکھ کر رہائش کو سنبھالنے لگا۔ ظہر کی نماز کا وقت قریب آ رہا تھا تو مصنف نے اپنے رفیق چوہدری محمد اعظم سے کہا کہ آئیں ہم دونوں ذرا مارکیٹ چل کر تمام ساتھیوں کے لیے کھانے پینے اور دیگر ضروری سامان کا بندوبست کر لائیں، تب تک باقی اہلِ قافلہ خیموں میں بستر وغیرہ درست کر لیتے ہیں۔
وہ دونوں خیمے سے نکل کر قریبی مارکیٹ کی طرف چلے گئے۔ انہیں گئے ہوئے بمشکل آدھا گھنٹہ ہی گزرا تھا کہ جب وہ دونوں سودا سلف لے کر واپس پلٹے تو اپنے کیمپ کا منظر دیکھ کر ان کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ ان کے خیمے بالکل سنسان اور خالی پڑے تھے، چاروں طرف بستر اور ذاتی سامان بکھرا ہوا تھا، اور ان کے ساتھیوں — مرد و خواتین — میں سے وہاں ایک متنفس بھی موجود نہ تھا۔

دونوں نے سخت تشویش کے عالم میں دائیں بائیں نگاہ دوڑائی تو پوری وادی میں شدید افراتفری، بھگدڑ اور چیخ و پکار مچی ہوئی تھی۔ لوگ اپنے سروں پر سامان اور بچوں کو اٹھائے دیوانہ وار ایک سمت سے دوسری سمت بھاگ رہے تھے۔ دور سے شور اور دھواں اٹھتا دکھائی دیا اور کانوں میں آوازیں گونجیں کہ «آگ لگ گئی ہے! آگ لگ گئی ہے! بھاگو!»
بعد میں معلوم ہوا کہ منیٰ کے جنوبی حصے میں کسی خیمے کے اندر گیس کا چولہا یا چھوٹا سلنڈر پھٹنے سے آگ بھڑک اٹھی تھی۔ اس دن یعنی منگل 15 اپریل 1997ء کو منیٰ کے صحرا میں تقریباً 65 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز جھکڑ چل رہے تھے۔ تیز ہوا کے دوش پر سوار ہو کر وہ آگ اتنی خوفناک اور بے قابو رفتار سے شمال کی طرف پھیلی کہ لمحوں میں کپڑے اور نائلون کے خیموں کو نگلتی چلی گئی۔
آگ کے شعلے اتنی تیزی سے ان کی طرف لپکے کہ قریبی خیمے بھی اس کی زد میں آنے لگے۔ اس وقت انہیں ہوش آیا کہ اگر وہ یہاں رکے رہے تو خود بھی لقمہءِ اجل بن جائیں گے اور اپنے بچھڑے ہوئے ساتھیوں کو بھی نہ پا سکیں گے۔ مصنف نے چوہدری محمد اعظم سے کہا کہ فوراً نکلیں یہاں سے، اس قیامت میں یہاں کھڑے ہو کر کسی کو تلاش نہیں کر سکتے۔
فضا میں ہیلی کاپٹرز منڈلا رہے تھے جو آگ بجھانے والے کیمیکلز اور پانی پھینک کر آگ کی دیوار کو روکنے کی تگ و دو میں مصروف تھے۔ دونوں نے ایک دوسرے کا ہاتھ مضبوطی سے تھاما اور جدھر راستہ نظر آیا، اندھا دھند دوڑ پڑے۔ ہر طرف الامان والحفیظ کا عالم تھا۔ بزرگ، بچے، عورتیں خاک میں اٹے، روتے بلبلاتے اپنی جانیں بچانے کے لیے گرتے پڑتے جا رہے تھے۔ کسی کو اپنی خبر تھی نہ کسی اور کی۔ ہر کوئی صرف زندگی کی بھیک مانگتا ہوا بھاگ رہا تھا۔
ان کے اپنے ہوش و حواس اڑ چکے تھے، کچھ خبر نہیں تھی کہ وہ کس سمت جا رہے ہیں، اور اس سے بھی بڑا صدمہ یہ تھا کہ انہیں یہ تک معلوم نہ تھا کہ ان کی شریکِ حیات، ان کی ہمشیرہ تاج بیگم اور دیگر رفقاء کس حال میں ہیں، زندہ بھی ہیں یا آگ کی نذر ہو چکے ہیں۔ راستے میں بھگدڑ اور دم گھٹنے سے گرنے والے بے گناہ حجاج کی بکھری ہوئی لاشوں اور ادھ جلے سامان کو پھلانگتے ہوئے، وہ گرتے پڑتے کسی نہ کسی طرح آگ کے گھیراؤ سے باہر کھلے پہاڑی علاقے کی طرف نکلنے میں کامیاب ہوئے۔
بہن کی تلاش، بازیابی اور مناسک کی تکمیل
جب آگ کی شدت کچھ مدہم پڑی تو انہوں نے حواس سنبھال کر اپنے بچھڑے ہوئے ساتھیوں کی تلاش شروع کی۔ ایک محفوظ کھلے میدان میں جہاں بہت سے حجاج جمع تھے، اللہ کے کرم سے انہیں اپنی فیملی اور قافلے کے دیگر افراد مل گئے۔ ان کی اہلیہ رشید بیگم اور دیگر خواتین کو صحیح سلامت دیکھ کر جان میں جان آئی۔ لیکن جب سب کی گنتی کی تو ان کے دل پر ایک اور پہاڑ ٹوٹ پڑا — ان کی اپنی سگی بڑی بہن، ہمشیرہ تاج بیگم غائب تھیں!
اب یہ ایک اور دلدوز امتحان تھا کہ اس قیامت خیز ہجوم میں اپنی بڑی بہن تاج بیگم کو کہاں اور کیسے تلاش کیا جائے؟ مصنف اور اعظم بھائی سمیت پورے قافلے کی حالت غیر ہو رہی تھی۔ وہ باقی تمام خواتین کو ساتھ لے کر ایک عارضی پناہ گاہ میں آ گئے اور پوری رات کھلے آسمان تلے اڑتی ہوئی گرد و غبار اور خاک میں جاگتے ہوئے تسبیح و مناجات میں کاٹ دی۔

رات بھر کی تلاش کے باوجود باجی تاج بیگم کا کوئی سراغ نہ مل سکا۔ اگلی صبح یعنی 9 ذوالحجہ (16 اپریل) کو شیڈول کے مطابق فریضہءِ حج کا سب سے بڑا رکن ادا کرنے کے لیے میدانِ عرفات کی طرف روانہ ہونا تھا۔ ان کا دل خون کے آنسو رو رہا تھا کہ ان کی پیاری بہن بچھڑ چکی ہے، مگر مناسکِ حج کی پابندی لازم تھی۔ چار و ناچار، غم اور اضطراب کی گٹھڑی دل میں سنبھالے، وہ بوجھل قدموں کے ساتھ میدانِ عرفات کی طرف چل پڑے۔
سڑکوں پر بسوں، ویگنوں اور پیدل چلنے والے لاکھوں حجاج کا ایک سمندر ٹھاٹھیں مار رہا تھا۔ عرفات پہنچ کر انہوں نے اپنے گروپ کے لیے ایک جگہ منتخب کی اور اللہ کی بارگاہ میں گر کر دعاؤں میں مصروف ہو گئے۔ مسجدِ نمرہ سے امام کعبہ کا خطبہ سنا گیا اور ایک ہی اذان کے ساتھ نمازِ ظہر اور عصر باجماعت قصر کر کے ادا کی گئی۔ سب حاجی اپنے گناہوں کی معافی اور رب کی رحمت کے طلبگار تھے۔
عرفات میں وقوف کے دوران وہ سب رو رو کر اپنے کردہ و ناکردہ گناہوں کی بخشش مانگتے رہے اور خصوصی طور پر اپنی بچھڑی ہوئی بہن باجی تاج بیگم کی زندگی، سلامتی اور بازیابی کے لیے تڑپ تڑپ کر دعائیں مانگتے رہے۔ غروبِ آفتاب کے فوراً بعد اعلان ہوا کہ تمام حجاج میدانِ مزدلفہ کی طرف روانہ ہو جائیں۔ وہ رات گئے مزدلفہ پہنچے، جہاں مغرب اور عشاء کی نمازیں ایک ساتھ ادا کیں۔ کھلے آسمان تلے رات گزاری اور رمی جمرات کے لیے میدان سے سات سات کنکریاں چنیں۔ فجر کے بعد قافلہ واپس منیٰ کی جانب چل پڑا۔
منیٰ پہنچ کر انہوں نے ترتیب وار تینوں جمرات (بڑے، درمیانے اور چھوٹے شیطان) کو کنکریاں ماریں، پھر قربان گاہ جا کر قربانی کا فریضہ سرانجام دیا۔ اس کے بعد حجاج نے سر کے بال منڈوا کر (حلق کرا کے) احرام کھول دیے۔ اگلے مرحلے میں طوافِ زیارت اور طوافِ وداع کی تیاری تھی۔ اللہ تعالیٰ کی قدرتِ کاملہ کا کرشمہ دیکھیے کہ خیمے کے تمام ساتھی طواف کے لیے نکلنے کی تیاری کر رہے تھے اور مصنف شدید پریشانی کے عالم میں کچھ دیر کے لیے کیمپ کے باہر سڑک کے کنارے آ کھڑے ہوئے۔ نگاہ اچانک دور سے آتی ہوئی دو اجنبی شخصیات پر پڑی، جن کے درمیان ان کی پیاری بڑی بہن، باجی تاج بیگم چلی آ رہی تھیں!
ان کی آنکھوں پر ایک لمحے کو یقین نہ آیا۔ انہوں نے فرطِ جذبات اور خوشی سے دیوانہ وار نعرہ لگایا: «تاج بیگم مل گئی ہیں! باجی تاج بیگم واپس آ گئی ہیں!» ان کی پکار سن کر سارا خیمہ باہر نکل آیا۔ سب کی آنکھوں سے آنسوؤں اور سسکیوں کا سیلاب رواں ہو گیا۔ ہمشیرہ تاج بیگم ان کے اور سب کے گلے لگ کر زار و قطار رونے لگیں اور سب نے سجدہءِ شکر ادا کیا کہ عین آخری لمحات میں بچھڑی ہوئی بہن بازیاب ہو کر دوبارہ اپنے خاندان میں شامل ہو گئی تھی۔ بھائی چوہدری محمد اعظم اور تمام رفقاء کے چہروں کی مسرت اور قلبی سکون دیکھنے کے لائق تھا۔ اللہ پاک نے کڑے امتحان کے بعد پورے گروپ کو ایک بار پھر اکٹھا کر دیا تھا۔
پورے گروپ نے اپنے اپنے اہلِ خانہ اور ہمشیرہ تاج بیگم کے ہمراہ طوافِ وداع کی سعادت حاصل کی، ارکان مکمل کیے اور اپنے ہوٹل واپس آ گئے۔ تمام احباب سجدہ ریز تھے اور گروپ لیڈر الحاج راجہ مقبول حسین بھٹی صاحب کی خوشی اور تشکر کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا کہ ان کی ذمہ داری بحسن و خوبی نبھ گئی تھی۔
اس المناک آتشزدگی کے بارے میں جب بعد میں خبریں سامنے آئیں تو رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ سعودی اور عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق منیٰ کے اس حادثے میں 70 ہزار سے زائد خیمے جل کر راکھ کا ڈھیر بن چکے تھے، اور 343 سے زائد بے گناہ حجاج شہید جبکہ 1500 سے زائد شدید زخمی ہوئے تھے (غیر سرکاری اعداد و شمار میں جانی نقصان اس سے کہیں زیادہ بتایا جاتا تھا)۔ یہ دنیا کی تاریخ میں حج کے دوران پیش آنے والے المناک ترین سانحات میں سے ایک تھا۔
جب آگ ٹھنڈی ہونے پر مصنف کو بعض دیگر کیمپوں کے قریب سے گزرنے کا اتفاق ہوا تو منظر اتنا روح فرسا اور لرزہ خیز تھا کہ کلیجہ منہ کو آتا تھا۔ جلی ہوئی لاشیں جگہ جگہ اس بے بسی کے عالم میں پڑی تھیں کہ دیکھ کر ضبط کا یارا نہ تھا۔ امدادی ادارے بلڈوزرز اور کرینوں کے ذریعے ملبہ ہٹا رہے تھے اور لاشوں کو ٹرکوں میں منتقل کیا جا رہا تھا۔
وطن واپسی اور رفیقوں کی یاد
وہ بسوں کے ذریعے جدہ ایئرپورٹ پہنچے، وہاں سے مصر ایئر کے ذریعے قاہرہ اور پھر بخیریت کوپن ہیگن ایئرپورٹ پر اترے۔ ایئرپورٹ کے لاؤنج میں ان کے بچے اور پیارے شدت سے منتظر کھڑے تھے۔ اپنے عزیزوں سے گلے ملتے ہوئے ہر آنکھ نم تھی کہ اللہ پاک نے انہیں اس جلتی ہوئی آگ اور موت کے منہ سے نکال کر دوبارہ بال بچوں میں صحیح سلامت لا کھڑا کیا تھا۔
اگرچہ 1997ء میں ہی مصنف نے اس جان لیوا واقعے کی ایک مختصر روداد اپنے ماہنامے «وطن نیوز انٹرنیشنل» میں شائع کر دی تھی، لیکن اب اپنی اس کتاب کے دوسرے ایڈیشن میں اسے مستقل طور پر قلمبند کرنا اس لیے ضروری جانا تاکہ آنے والی نسلوں کو یاد رہے کہ ان کے بزرگوں نے پردیس میں کن کن سنگلاخ آزمائشوں، مصیبتوں اور صبر آزما مرحلوں سے گزر کر دین اور دنیا کی منزلیں طے کی تھیں۔
آج جب وہ اپنے پوتوں نواسوں کو گود میں لیے زندگی کے اس ورق کو دوبارہ پلٹ رہے ہیں، تو اس سانحے کو بیتے قریباً ستائیس برس کا طویل عرصہ گزر چکا ہے۔ وقت کا پہیہ کتنی تیزی سے گھومتا ہے اور اس کے ساتھ ہی کتنے پیارے چہرے ایک ایک کر کے منوں مٹی تلے جا سوتے ہیں!
آج جب وہ یہ الفاظ قلمبند کر رہے ہیں تو بفضلِ باری تعالیٰ ان کی عمر کے 86 برس مکمل ہو رہے ہیں۔ جسم اب ساتھ چھوڑ رہا ہے اور وہ ایک جان لیوا موذی مرض — کینسر — کی لپیٹ میں ہیں۔ لیکن یہ ان کے پروردگار کا ان پر بے پایاں فضل و انعام ہے کہ اس موذی مرض کے باوجود اس نے انہیں حواسِ خمسہ، عقل اور سوچنے سمجھنے کی پوری صلاحیت عطا کر رکھی ہے۔
بیماری روز بروز طول پکڑتی جا رہی ہے، درد کے سائے گہرے ہو رہے ہیں، لیکن اس کے بالمقابل ان کے دل کا حوصلہ اور رب کی رحمت پر توکل بھی روز افزوں ہے۔ ان کے مولا نے انہیں بے شمار نعمتوں سے نوازا — صالح اولاد دی، مال و اسباب کی برکتیں دیں، پوتوں، پوتیوں، نواسوں اور نواسیوں کی بہاریں دکھائیں، اور ایسی ایسی عزت بخشی جس کا شمار بھی ان سے ممکن نہیں۔
ان کی وفاشعار رفیقہءِ حیات، زوجہ محترمہ رشید بیگم نے ان کی اس طویل ازدواجی زندگی کو وفا، ایثار اور محبت کے رنگوں سے سجا دیا۔ انہوں نے کبھی کسی موڑ پر انہیں کسی چیز کی کمی محسوس نہیں ہونے دی۔ اب اس عمرِ رفتہ کے آخری لمحات میں، بیماری کے اس کڑے وقت میں بھی وہ سایہ بن کر ان کے ساتھ کھڑی ہیں۔ معلوم نہیں اب ان دونوں کی رفاقت کا سفر دنیا میں اور کتنے دن باقی ہے، مگر ان کی زندگی کی ہر دعا، ہر تمنا اور ہر خوشی انہی رفیقہءِ حیات کے نام ہے۔
اب مناسب معلوم ہوتا ہے کہ قارئین کو ان ہمراہی حاجی ساتھیوں کے بارے میں بھی بتایا جائے جو 1997ء کے اس تاریخی اور آزمائش سے بھرپور سفر میں ان کے قدم بہ قدم ساتھ تھے۔ سب سے پہلے ان کے سب سے مخلص اور سچے رفیق حاجی چوہدری محمد اعظم، جنہوں نے 1997ء میں منیٰ کے اس جان لیوا سانحے کے دوران ان کی بڑی ہمشیرہ تاج بیگم کی گمشدگی پر ان کے ساتھ تڑپتے ہوئے دن رات ایک کر دیے تھے اور ہر گھڑی شانہ بشانہ کھڑے رہے تھے۔ افسوس کہ دو برس قبل اعظم بھائی اس دارِ فانی کو ہمیشہ کے لیے خیرباد کہہ کر راہیِ ملکِ عدم ہو گئے۔ ان کے بچھڑنے سے مصنف کے دل میں جو خلا پیدا ہوا وہ کبھی پُر نہیں ہو سکتا۔ اور ان کے جانے کے بعد ان کی بیوہ اہلیہ، محترمہ رفتاج بیگم اس دنیا میں اکیلے بیوگی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
گروپ لیڈر اور حج فاؤنڈیشن کے بانی الحاج راجہ مقبول حسین بھٹی صاحب، جنہوں نے ڈنمارک میں خدمت کا ایک نیا باب کھولا تھا، وہ بھی اب اس دنیا میں نہیں رہے اور ان کے رخصت ہونے کے ساتھ ہی وہ حج فاؤنڈیشن بھی ماضی کا قصہ بن گئی۔ برادرم حاجی عبدالحمید اور ان کی اہلیہ بھی اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے ہیں۔ محترم چوہان صاحب اور ان کی اہلیہ بھی رختِ سفر باندھ چکے ہیں۔
اس قافلے کے بہت سے دیگر ہمراہی بھی اب لحد کا رزق بن چکے ہیں اور صرف ان کی یادیں اور باتیں باقی رہ گئی ہیں۔ خوش قسمتی سے ان کے پیارے ساتھی حاجی غلام عباس اور موضع دَلو کے حاجی محمد اصغر تاحال حیات ہیں اور ہمارے درمیان موجود ہیں۔ دل کی گہرائیوں سے دعا ہے کہ پروردگارِ عالم ان دونوں بھائیوں کو صحت و عافیت کے ساتھ لمبی زندگی عطا فرمائے۔
زندگی ایک مسافر خانہ ہے جہاں ہر لمحہ کوئی نہ کوئی ساتھی اپنا بستر لپیٹ کر رخصت ہو رہا ہے۔ ہمیں بھی بہرحال ایک دن اس صدائے بازگشت پر لبیک کہنا ہے۔ دعا یہی ہے کہ جب بلاوا آئے تو ایمان کی دولت سلامت ہو اور پروردگار ہمارے اعمال کو اپنی رحمت کی چادر میں چھپا لے۔ (آمین ثم آمین)
امانت علی چوہدری — بانی و چیف ایڈیٹر، وطن نیوز انٹرنیشنل























