نئے پاکستان کا نیا قائد ……..عمران خان

محمد اقبال اختر ڈنمارک.
حق تعالی ، اے میرے مولا کریم تو نے دی ارض پاک سے تکریم
دیس اور اس پہ حُسن آزادی دولت دیں ، عظمت تنظیم
راہ امکان تلاش کرتے ہوئے دے گئے راہنما یہ پاک وطن
زندگی کی کھلی فضاؤں میں قائد اعظم کا تابناک وطن
اک مفکر نے دی دلوں کی امنگ روز و شب کو کیا مرے خوش رنگ
اس کے جذبوں کا یہ طلسم رہا بن کے ہیرے میری راہ کے سنگ
وقت کے ساتھ حکمران بدلے رنگ جیسے کہ آسماں بدلے
تنگ دستی عوام کی تقدیر غم نے خوشیوں کے سب نشان بدلے
حکمران سب خواب ہی دکھاتے رہے نت نئے انقلاب لاتے رہے
روٹی ، کپڑا ، مکان اور کیا کیا اپنے منشور میں گناتے رہے
ہر خوشی صبح کی سعید لئے حسرتیں لطف کی امید لئے
دیں گے انصاف وہ بلا تفریق نقد شمس و قمر کی عید لئے
راز کھلنے لگے سیاست کے اور پانامہ کی نجاست کے
یہ تھی جمہوریت کی ہم کو سزا تھے ہدف خود ہی ہم شرافت کے
منزلیں ہو گئیں بہت دشوار قرض تھا بس نوشتہ دیوار
عدلیہ نے دیا جفا کا صلہ چارہ گر چور ، جیل کا حقدار
مہرباں رب سے اجر ملتا ہے تحفہ شکر و صبر ملتا ہے
روئے عالم پہ آ گیا عمران رونما فتح کے ہوئےامکان
وہ مدینہ کی سلطنت کی طرح اب سجائے گا صبح نو کے نشان
ہوئے مساوی حقوق انسانی عدل و انصاف کی فراوانی
خود پرستی کی اک سیاست تھی بد شعاری کسی کی فطرت تھی
عرض کرتا ہوں میں بہ حسن ادب وہ کرپشن کی سب حکومت تھی
معصومیت پہ اپنی غور کریں کچھ معیشت پہ اپنی غور کریں
کیا دیا ہم نے اپنی نسلوں کو کبھی خلوت میں اس پہ غور کریں
طبع روشن ہمیں عطا کر دے ثمر بار ہر دعا کر دے
قائد عمران خان پہ لطف و کرم قوم کے درد کی دعا کر دے

اپنا تبصرہ بھیجیں