’’لارنس آف عریبیا‘‘ کی پرخفیہ سر گرمیاں

لارنس آف عریبیا کون تھا؟
مسلمانوں کی ابھرتی ہوئی طاقت سے پریشان برطانیہ نے اسلامی ممالک میں تخریب کاری اور سبوتاژ کے لئے جاسوس روانہ کئے،تھامس ایڈوڈ لارنس ان میں سب سے نمایاں تھا۔برطانوی انٹیلی جنس کا یہ خفیہ کارندہ عرب باشندوں کا بہروپ بدل کر عرب ممالک ،بالخصوص سعودی عرب اور اس کے سرحدی ممالک میں پلوں،سڑکوں اور دوسرے انفرا سٹرکچر کو تباہ کر کے تاج برطانیہ کے لئے آسانیاں پیدا کرتا رہا،پہلی جنگ عظیم کے دوران اور ان ممالک میں گوریلہ جنگ کوہو دیتا رہا۔
اس کی اولین کوشش تھی کہ اسلامی ممالک آپس میں ملنے نہ پائیں ،انہیں اپنے داخلی مسائل میں اس قدر الجھا دیا جائے کہ بین الممالک اتحاد کا سوچنے کی مہلت بھی نہ ملے۔ ”لارنس آف عریبیا ‘‘ ان سرگرمیوں میں اپنا لوہا منوانے میں کامیاب رہا۔
گوریلہ جنگ یعنی پلوں او سڑکوں کی برباد کرنے کے ماہر لارنس آف عریبیا نے 1888ء میں شمالی ویلز کے علاقے ٹریماڈاچ (Tremadoc)میں آنکھ کھولی۔کہتے ہیں کہ نوجوانی میں فوٹو گرافی کا شوق اسے مشرق وسطیٰ لے آیا۔اس زمانے میں ماہرآکیالوجسٹ بھی بنا پھرتا تھا ،کہتاتھا کہ اسے آثار قدیمہ سے محبت ہے۔ لیکن ، مجھے یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ سچائی کیا تھی؟ فوٹوگرافی کا شوق اسے مشرق وسطیٰ کھینچ لایا ،یا وہ اس وقت بھی انٹیلی جنس اداروں کا تنخواہ دار تھا ،فوٹو گرافی کی آڑ میں ان ممالک کی تمام اہم عمارات اور انفراسٹرکچر کی تصاویر یورپ ارسال کیں جس کے بعد انفراسٹرکچر کو برباد کرنے میں ذرا دقت پیش نہیں آئی۔
ابھی جنگ عظیم اول شروع نہیں ہوئی تھی کہ اس نے مشرق وسطیٰ میں اپنا کام سنبھال لیا تھا۔ یوں اس کی ملاقاتیں اعلیٰ حکام سے بھی ہوتی رہیں اور ماتحتوں سے بھی۔ عربوں کے درمیان میں رہنے کے لئے اس نے عربوں کی ہر بات اپنائی ، ان جیسا چوغہ اور دیگر حرکات و سکنارت بھی ویسی ہی اختیار کیں۔بڑا سا ،خصوصی طور پر بنایا گیا خنجر ہر وقت سینے پر لٹکتا رہتا،عرب لباس کبھی دل میں جگہ نہ بنا سکا لیکن مجبوری تھی، نوکری کا تقاضا تھا ،ترک نہ کر سکا۔ عرب اس کی اصلیت سے ناواقف تھے لیکن وہ خود تو جانتا تھا کہ وہ انفراسٹرکچر تباہ کرنے کی ڈیوٹی پر مامورایک جاسوس ہے۔دل میں چور تھا کسی بھی وقت خنجر کی ضرورت پڑ سکتی تھی۔وہ ان کے رنگ میں رنگا ہوا ایک عربی لارنس تھا ،ایک ایسا لارنس جو عربی بن گیا تھا،کلچر میں رچ بس گیاتھا۔
اس نے چار سال فوج کی نوکری کی۔1914 ء میں بطور سیکنڈ لیفٹیننٹ فوج میں بھرتی کے بعد ایک دن ضائع کئے بغیر وہ ا پنے کام میں مگن رہا،اس کی پہلی تعیناتی قاہرہ (مصر) میں ہوئی،اچھی جگہ تھی، سٹڈی کرنے کے لئے کافی انفرا سٹرکچر موجود تھا۔وہ دو برس قاہر میں رہا۔فرانس میں دوران ملازمت اس کے دو بھائی 1915ء میں مارے گئے۔اسے دکھ تھا کہ بھائی کے ہونے کے باوجود وہ ان کے لئے کچھ نہ کر سکا۔ اسے یہ غم بھی کھائے جا رہا تھا کہ دونوں بھائیوں کی پوسٹنگ غیر محفوظ دفاتر میں کیوں کی گئی تھی۔ بس چلتا تو وہ انہیں واپس بلا لیتا۔لیکن 2016ء میں اسے خود بھی کئی خطرناک مشن سرانجام دینا پڑ گئے ۔
جون 2016ء میں عرب ممالک میں بغاوت کی سی کیفیت پیدا کرنے میں غیر ملکیوں کا بھی ہاتھ تھا،لیکن لارنس کو ہاتھ کے ساتھ ساتھ ٹانگ بھی پھنسانا پڑ گئی،یہ ٹانگ بھی ٹوٹتے ٹوٹتے بچی۔ جنگ عظیم سے پہلے برطانیہ بظاہر خلافت عثمانیہ کی پشت پر تھا،نومبر1914ء میں جرمنی کی جانب دست تعاون بڑھانے کی دیرتھی کہ تمام دوستی اور محبت ملیا میٹ ہو گئی۔اوربرطانیہ خلافت عثمانیہ کا مخالف ہو گیا۔بڑھتے ہوئے عرب نیشنل ازم کو سنہری موقع جانتے ہوئے اس نے بڑھاوا دینے کے لئے جاسوس بھجوا دیئے۔برطانیہ نے خلافت عثمانیہ کا نام و نشان مٹانے کی خواہش رکھنے والے تمام رہنمائوں اور ممالک کی جانب دست تعاون بڑھایا ۔خلافت عثمانیہ کے اندر بغاوت پیدا کرنے والوں کی حمایت کی،ایک حاکم بھی ان میں شامل تھے۔برطانیہ کی حمایت و تعاون سے وہاں حکومت مخالف مظاہرے شروع ہو گئے۔وہاں بغاوت میں ایک اہم شخصیت کے چار بیٹے شریک تھے، بلکہ قیادت بھی ان میں سے ایک نے کی۔ برطانیہ یہ جاننا چاہتا تھا کہ ان چاروں میں سے اگلی قیادت سنبھالنے کا اہل کون ہے؟ کس لیڈر پر سرمایہ کاری کی جائے۔لارنس آف عریبیا کو سعودی عرب بھیجے جانے کی پہلی وجہ بھی یہی تھی۔ وہ جانناچاہتا تھا کہ عرب ممالک میں سب سے زیادہ کون برطانیہ کے کام آ سکتا ہے۔
لارنس خود شاہ آف عراق کی صلاحیتوں کا معترف تھا۔جلد ہی وہ اس کا مشیر بن بیٹھا۔ عرب ممالک میں آنے والی کئی تبدیلیوں میں اسی کا ہاتھ تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں