یمن میں جاری بحران کے پیش نظر، خطے کے تجزیہ کاروں نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پر زور دیا ہے کہ وہ حوثی علیحدگی پسندوں کے خلاف مشترکہ فوجی اتحاد قائم کرنے کے لیے اپنے اختلافات کو ختم کریں۔ حالیہ پیش رفتوں نے خطے کی جیو پولیٹکس کو بدل دیا ہے، جس میں حوثیوں کی جانب سے باب المندب کے اسٹریٹجک راستے پر پیش قدمی شامل ہے۔
خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال
یمن میں حالیہ مہینوں کے دوران صورتحال تیزی سے تبدیل ہوئی ہے۔ جنوری میں، متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ جنوبی عبوری کونسل (STC) کو سعودی عرب نے شکست دی تھی، جس کے بعد متحدہ عرب امارات نے یمن سے اپنی فوجی موجودگی تقریباً ختم کر دی تھی۔ تاہم، ستمبر کے وسط میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کی باب المندب کی جانب غیر متوقع پیش قدمی نے خطے کی صورتحال کو ایک بار پھر پیچیدہ بنا دیا ہے۔
- حوثیوں نے متحدہ عرب امارات کے حمایت یافتہ نیشنل ریزسٹنس فورسز کو شکست دی ہے۔
- اس پیش رفت نے خطے کی جیو پولیٹکس کو دوبارہ تبدیل کر دیا ہے۔
- سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعلقات جنوری میں STC کے معاملے پر کشیدہ ہوئے تھے۔
سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان کشیدگی
جنوری میں جب متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ فورسز کو سعودی عرب نے یمن میں شکست دی تو دونوں ممالک کے تعلقات میں شدید کشیدگی پیدا ہوگئی۔ اس واقعے کے بعد متحدہ عرب امارات نے یمن سے اپنی فوجیں واپس بلا لیں۔ اس وقت سعودی عرب کی جانب سے یمن میں جاری تنازعہ میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے متحدہ عرب امارات کی حمایت کی اشد ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔
حوثیوں کی باب المندب پر پیش قدمی
حوثی باغیوں کی جانب سے باب المندب کے اسٹریٹجک راستے پر پیش قدمی نے خطے کے لیے ایک نیا خطرہ پیدا کر دیا ہے۔ یہ علاقہ سعودی عرب کی تیل کی برآمدات کے لیے انتہائی اہم ہے۔ حوثی اب اسٹریٹجک شہر تعز پر بھی قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
- حوثی فورسز تعز شہر پر بیک وقت حملے کر رہی ہیں۔
- ان کا مقصد شہر کے دفاعی دستوں کو تھکانا ہے۔
- حوثیوں کو پسپا کیا جا رہا ہے، لیکن وہ اگلے روز مختلف محاذوں پر دوبارہ حملہ آور ہوتے ہیں۔
مذاکرات اور ممکنہ اتحاد
حال ہی میں ابوظہبی میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو، متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان اور دیگر عرب ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اس ملاقات میں یمن کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق، نیتن یاہو نے سعودی عرب کو حوثیوں کے خلاف مدد کی پیشکش کی، تاہم سعودی عرب کی جانب سے اس پیشکش پر فوری ردعمل کا اظہار نہیں کیا گیا۔
ریاض میں دفاعی وزراء کی ملاقات
اس کے علاوہ، منگل کو ریاض میں سعودی عرب کے وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان آل سعود اور متحدہ عرب امارات کے نائب صدر شیخ منصور بن زاید آل نہیان کے درمیان بھی ایک ملاقات ہوئی۔ یہ ملاقاتیں اس بات کا عندیہ دے رہی ہیں کہ دونوں ممالک ممکنہ طور پر تعلقات میں بہتری اور مفاہمت کی راہ تلاش کر رہے ہیں۔
مفاہمت کی کوششیں
یمن کے تجزیہ کاروں کے مطابق، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان مفاہمت کی کوششیں جاری ہیں۔ اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں جنوری کے واقعات کے بعد دراڑ پڑی تھی، لیکن حالیہ واقعات نے انہیں دوبارہ قریب لانے کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے۔ خاص طور پر توانائی کے شعبے میں تعاون کے امکانات پر غور کیا جا رہا ہے۔
- دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
- متحدہ عرب امارات نے یمن سے فوجیں واپس بلا لی ہیں۔
- سعودی عرب کی جانب سے متحدہ عرب امارات کو دوبارہ یمن میں شامل کرنے کا امکان کم ہے کیونکہ وہ STC کے ساتھ وابستہ ہیں۔
نتیجہ
یمن میں حوثی باغیوں کی بڑھتی ہوئی طاقت اور باب المندب جیسے اسٹریٹجک مقامات پر ان کی پیش قدمی نے خطے کے لیے ایک سنگین صورتحال پیدا کر دی ہے۔ اس صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان اتحاد ناگزیر نظر آتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان ماضی کے اختلافات کے باوجود، مشترکہ دشمن کے خلاف متحد ہونا خطے کے استحکام کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
یہ اتحاد نہ صرف یمن میں امن بحال کرنے میں مدد دے گا بلکہ خطے میں ایران کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔ اگرچہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے فوری طور پر یمن میں فوجی مداخلت کا امکان کم ہے، لیکن سیاسی اور سفارتی سطح پر تعاون کے ذریعے حوثیوں کو روکنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی وضع کی جا سکتی ہے۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کی بنیادی وجہ کیا تھی؟
جنوری میں، جب متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ جنوبی عبوری کونسل (STC) کو سعودی عرب نے یمن میں شکست دی، تو دونوں ممالک کے تعلقات میں شدید کشیدگی پیدا ہوگئی۔
حوثیوں کی حالیہ پیش قدمی کا سب سے اہم علاقہ کون سا ہے؟
حوثیوں کی حالیہ پیش قدمی کا سب سے اہم علاقہ باب المندب کا اسٹریٹجک راستہ ہے، جو سعودی عرب کی تیل کی برآمدات کے لیے انتہائی اہم ہے۔
کیا سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان دوبارہ فوجی اتحاد قائم ہو سکتا ہے؟
اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری کی کوششیں جاری ہیں، لیکن متحدہ عرب امارات کی جانب سے دوبارہ یمن میں فوجی مداخلت کا امکان کم ہے کیونکہ وہ STC کے ساتھ وابستہ ہیں، جس کے ساتھ سعودی عرب کے تع
یمن میں حوثیوں کی پیش قدمی کے علاقائی اثرات کیا ہیں؟
حوثیوں کی پیش قدمی نے خطے کی جیو پولیٹکس کو تبدیل کر دیا ہے اور ایران کے اثر و رسوخ میں اضافے کا خدشہ پیدا کیا ہے، جس کے باعث سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے علاقائی طاقتوں کے درمیان اتحاد کی ضرور
















