کیف: پیر کے روز یوکرین کے دارالحکومت کیف میں روسی ڈرون حملے میں کم از کم ایک شخص ہلاک اور تین زخمی ہو گئے۔ یہ حملہ نیشنل اکیڈمی آف سائنسز کی عمارت پر کیا گیا، جس سے عمارت کو شدید نقصان پہنچا۔ حکام نے اس حملے کو ‘دہشت گردی’ قرار دیا ہے۔
حملے کی تفصیلات
کیف میں پیر کی صبح ایک بار پھر روسی ڈرون حملوں کی زد میں آیا۔ اس بار نشانہ نیشنل اکیڈمی آف سائنسز کی مرکزی عمارت بنی، جو شہر کے وسط میں واقع ہے۔
- 29 ستمبر 2026 کو ہونے والے اس حملے میں ایک شخص کی موت اور تین افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔
- زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
- حملے کے وقت عمارت میں عملے کے کئی افراد موجود تھے، جنہیں نکالنے کی کوششیں کی گئیں۔
سائنس پر حملہ، اکیڈمی صدر کا ردعمل
نیشنل اکیڈمی آف سائنسز کے صدر، اناطولی زاگورودنی، نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ سائنس پر حملہ ہے۔
- انہوں نے کہا کہ اکیڈمی کا فوج سے کوئی تعلق نہیں اور یہ حملہ سائنس کے مراکز کو نشانہ بنانے کی کوشش ہے۔
- انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ عمارت میں اب بھی کچھ ساتھی پھنسے ہو سکتے ہیں۔
- حملے کا وقت پیر کی صبح تھا، جب زیادہ تر عملہ عمارت میں موجود تھا۔
نشانہ بننے والی عمارت کی اہمیت
نیشنل اکیڈمی آف سائنسز کی 19ویں صدی کی یہ تاریخی عمارت جرمن سفارت خانے، نیشنل اوپیرا، سینٹ ولادیمیر کیتھیڈرل اور کئی سرکاری عمارتوں کے قریب واقع ہے۔
- اگرچہ یہ ایک شہری تحقیقی ادارہ ہے، لیکن اس کے یوکرین کے دفاعی شعبے سے بھی تعلقات رہے ہیں۔
- زخمیوں میں اکیڈمی کے نائب صدر ولودیمیر ہوربولن بھی شامل ہیں، جو ایک سابق سیکیورٹی اہلکار ہیں۔
قریبی طبی مرکز پر بھی حملہ
اسی دوران، ایک اور روسی ڈرون نے قریبی نجی طبی مرکز کو بھی نشانہ بنایا، جس میں کم از کم ایک شخص ہلاک ہوا۔
- یوکرین کے وزیر خارجہ آندری سیبیہا نے اس حملے کو ‘دن کے اجالے میں’ ایک سائنسی ادارے کو نشانہ بنانے کی روسی ‘عینیت پسندی’ قرار دیا۔
- انہوں نے کہا کہ ایسے حملے بغیر کسی مضبوط ردعمل کے روس کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔
جدید ڈرونز اور بڑھتا ہوا خطرہ
گزشتہ ہفتے سے روس کی جانب سے میزائلوں اور جدید جیٹ سے چلنے والے ڈرونز کا استعمال بڑھ گیا ہے۔
- یہ ڈرونز پرانے ماڈلز کے مقابلے میں تیز رفتار اور انہیں روکنا زیادہ مشکل ہے۔
- یہ حملے دارالحکومت کے رہائشی علاقوں، دفاتر اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
- ان حملوں کا مقصد یوکرین کے عوام کی مزاحمت کو توڑنا اور معیشت کو نقصان پہنچانا ہے۔
- یوکرین ان ڈرونز کو مار گرانے کے لیے اپنی دفاعی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
عالمی ردعمل اور تشویش
اس حملے نے یوکرین کے دارالحکومت کے محفوظ ترین حصوں کے تحفظ کی صلاحیت کے بارے میں نئی تشویش کو جنم دیا ہے۔
- بین الاقوامی برادری نے حملے کی مذمت کی ہے اور یوکرین کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔
- یہ واقعہ اس وقت پیش آیا ہے جب روس اور یوکرین کے درمیان تنازعہ شدت اختیار کر رہا ہے۔
نتیجہ
کیف میں نیشنل اکیڈمی آف سائنسز پر روسی ڈرون حملہ ایک انتہائی افسوسناک واقعہ ہے جس نے یوکرین کے دارالحکومت میں سائنسی اور شہری تنصیبات کی حفاظت پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ اس حملے میں ہونے والی ہلاکتیں اور زخمی ہونے والے افراد اس تنازعے کی انسانی قیمت کو اجاگر کرتے ہیں۔ حکام کی جانب سے اسے ‘دہشت گردی’ قرار دینا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کس طرح شہری اہداف کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
جدید اور تیز رفتار ڈرونز کا استعمال یوکرین کے دفاعی نظام کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ بین الاقوامی برادری کی جانب سے اس طرح کے حملوں کی مذمت اور یوکرین کے لیے حمایت جاری رہنا ضروری ہے تاکہ تنازعے کے پرامن حل کی طرف بڑھا جا سکے۔ اس حملے نے ایک بار پھر دنیا کو یاد دلایا ہے کہ تنازعات میں سائنسی اور انسانی تنصیبات کو محفوظ رکھنا کتنا اہم ہے۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
نیشنل اکیڈمی آف سائنسز پر حملہ کس نے کیا؟
حکام کے مطابق، نیشنل اکیڈمی آف سائنسز پر روسی ڈرون نے حملہ کیا تھا۔
حملے میں کتنے افراد ہلاک اور زخمی ہوئے؟
اس حملے میں کم از کم ایک شخص ہلاک اور تین دیگر زخمی ہوئے۔
کیا یہ کیف میں پہلا روسی حملہ تھا؟
نہیں، یہ کیف میں حالیہ دنوں میں ہونے والے متعدد روسی حملوں میں سے ایک ہے، جس میں شہری تنصیبات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
اکیڈمی کے صدر نے حملے کو کیا قرار دیا؟
اکیڈمی کے صدر، اناطولی زاگورودنی، نے اس حملے کو ‘سائنس پر حملہ’ اور ‘دہشت گردی’ قرار دیا۔
















