میڈرڈ: اسپین میں بے دخلی کا شکار ایک 87 سالہ معمر خاتون، جو ملک کے ہاؤسنگ بحران کی علامت بن گئی ہیں، اپنے گھر واپس جا سکیں گی۔ ان کے وکیل نے بتایا ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان مفاہمت ہو گئی ہے اور وہ نئے معاہدے کے تحت پرانے کرائے کے برابر رقم ادا کریں گی۔
ماریا کارمین اباسکال کی بے دخلی
ماریا کارمین اباسکال، جو 87 سال کی ہیں، کو 23 ستمبر کو ان کے 70 سال سے زائد پرانے اپارٹمنٹ سے زبردستی باہر نکالا گیا تھا۔ بے دخلی کے بعد انہیں اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ ان کی بے دخلی نے پورے اسپین میں شدید غم و غصے کو جنم دیا، جس کے باعث وزیر اعظم پیڈرو سانچیز کی کابینہ نے ہاؤسنگ ریلیف کے اقدامات پر اتفاق کیا۔
- ماریا کارمین اباسکال 87 سالہ معمر خاتون ہیں۔
- انہیں 23 ستمبر کو ان کے آبائی گھر سے بے دخل کیا گیا تھا۔
- ان کی بے دخلی نے ملک گیر احتجاج کو جنم دیا۔
- حکومت نے ہاؤسنگ ریلیف کے اقدامات پر اتفاق کیا ہے۔
مفاہمت اور نئے معاہدے کی تفصیلات
اباسکال کی وکیل بیاتریز ڈورو نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ دونوں فریقوں کے درمیان نیک نیتی موجود تھی اور وہ ایک نئے معاہدے کے تحت پرانے کرائے کے برابر رقم ادا کریں گی، جس سے کرائے میں نمایاں اضافہ روکا جا سکے گا۔ ڈورو نے پیر کو اپارٹمنٹ کی مالک کمپنی Urbagestión کے ساتھ کئی گھنٹے ملاقات کی تھی۔
معاہدے کی منظوری باقی
اس معاہدے کو اب بھی ماریا کارمین اباسکال کی منظوری درکار ہے، کیونکہ وہ میٹنگ میں شرکت سے قاصر تھیں۔ ان کی تھکاوٹ کے علاج کے دوران، وہ بہتر محسوس کرنے پر معاہدے پر دستخط کریں گی۔
ملک گیر احتجاج اور مطالبات
میڈرڈ کے Puerta del Sol میں 1,000 سے زائد مظاہرین نے اس معاہدے کا خیرمقدم کیا۔ یہاں سینکڑوں خیمے نصب کیے گئے ہیں۔ تاہم، شہر کی Tenants Union نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ہاؤسنگ میں گہری اصلاحات منظور کرے تاکہ مزید کوئی ‘ماریا کارمین’ اس صورتحال کا شکار نہ ہو۔
- Puerta del Sol میں 1,000 سے زائد افراد نے معاہدے کا استقبال کیا۔
- مظاہرین نے سینکڑوں خیمے نصب کیے ہیں۔
- Tenants Union نے گہری ہاؤسنگ اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔
- حکومت کے نئے ہاؤسنگ معاہدے کی تفصیلات منگل کو متوقع ہیں۔
حکومتی اقدامات اور تنقید
حکومت کے نئے ہاؤسنگ معاہدے کی تفصیلات منگل کو جاری ہونے کی توقع ہے اور اسے پارلیمنٹ سے منظور کرانا ہوگا۔ میڈرڈ کی علاقائی رہنما Isabel Díaz Ayuso نے خیموں کے احتجاج پر تنقید کی ہے۔ انہوں نے حکومت پر الزام لگایا ہے کہ وہ اسپین کی ہاؤسنگ کی قلت کا بروقت جواب دینے میں ناکام رہی ہے اور اب فرقہ وارانہ اور گہری نظریاتی تجاویز پیش کر رہی ہے۔
رہائشیوں کے خدشات
Ayuso نے کہا کہ وہ صرف یہ جاننا چاہتی ہیں کہ کس عمر میں وہ اپنے مکان مالکان کو کرایہ دینا بند کر سکتی ہیں تاکہ وہ اپنی جگہ پر رہ سکیں، اور شاید وہ اگلے کرایہ داروں کے احتجاج میں بھی شامل ہو جائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسپین کو آبادی میں اضافے کو پورا کرنے کے لیے ایک ملین مزید گھروں کی ضرورت ہے، جو خود سانچیز حکومت کی حوصلہ افزائی سے ہوا ہے۔
دیگر بے دخلی کے کیسز
Esmeralda Tejero، 51 سالہ، ایک اور کرایہ دار تھیں جنہیں منگل کو بے دخلی کا سامنا تھا۔ انہیں اپنی 11 سالہ بیٹی کے ساتھ شمال مشرقی شہر Zaragoza کے ایک اپارٹمنٹ سے بے دخل کیا جانا تھا۔ Tejero، جنہوں نے آٹھ سال سے یہ فلیٹ کرایہ پر لیا ہوا ہے، نے بتایا کہ وہ روزمرہ کے اخراجات کے علاوہ کرایہ ادا کرنے سے قاصر تھیں۔
کرائے اور آمدنی کا فرق
انہوں نے بتایا کہ ان کا کرایہ €320 (تقریباً £274) ماہانہ تھا، جبکہ ان کی آمدنی تقریباً €600 تھی۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر وہ ماہانہ €320 ادا کریں تو وہ اپنی بیٹی کو کیسے کھانا کھلائیں گی؟
ماریا کارمین کا طویل کرایہ داری کا معاملہ
ماریا کارمین اباسکال کے معاملے میں، ان کے والد نے پہلی بار 1956 میں یہ پراپرٹی کرائے پر لی تھی اور ان کے والدین کی وفات کے بعد وہ خود کرایہ دار بن گئیں۔ اس دوران کرائے پر ایک حد مقرر تھی۔ Urbagestión، جس نے 2018 میں یہ پراپرٹی خریدی تھی، نے کرایہ €500 (تقریباً £428) ماہانہ سے بڑھا کر €2,650 (تقریباً £2,280) کر دیا تھا۔
کرائے میں اضافہ اور معاشی مشکلات
کمپنی نے بعد میں اسے کم کرکے €1,650 کرنے کی پیشکش کی، لیکن وہ اپنی ماہانہ €1,350 کی پنشن کے ساتھ یہ رقم بھی ادا کرنے سے قاصر تھیں۔ بے دخلی کی تین سابقہ کوششیں عدالتوں نے ناکام بنا دی تھیں۔ ان کا کیس ملک گیر احتجاج کا باعث بنا اور ہزاروں افراد نے اسپین کے مختلف شہروں میں مارچ کیا۔
نتیجہ
ماریا کارمین اباسکال کا کیس اسپین کے بڑھتے ہوئے ہاؤسنگ بحران اور کرایہ داروں کو درپیش مشکلات کی عکاسی کرتا ہے۔ اگرچہ ان کی گھر واپسی کی خبر ایک مثبت پیش رفت ہے، لیکن یہ ملک گیر سطح پر جاری مسائل کو حل کرنے کے لیے مزید وسیع پیمانے پر اصلاحات کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔ حکومت کی جانب سے ہاؤسنگ ریلیف کے اقدامات اور کرایہ داروں کی تنظیموں کے مطالبات کے درمیان توازن قائم کرنا ایک بڑا چیلنج ہوگا۔
اسپین میں رہائش کی قیمتوں میں اضافہ اور کرایہ داروں کے حقوق کا تحفظ ایک اہم سماجی اور سیاسی مسئلہ بن چکا ہے۔ ماریا کارمین جیسے کیسز عوام کی توجہ اس مسئلے کی طرف مبذول کراتے ہیں اور حکومتی پالیسیوں پر دباؤ بڑھاتے ہیں۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ حکومت ان مطالبات کو کس حد تک پورا کرتی ہے اور کیا وہ واقعی ایسے اقدامات اٹھاتی ہے جو تمام شہریوں کے لیے سستی اور محفوظ رہائش کو یقینی بنا سکیں۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
ماریا کارمین اباسکال کی عمر کیا ہے؟
ماریا کارمین اباسکال 87 سال کی ہیں۔
ان کی بے دخلی کب ہوئی؟
انہیں 23 ستمبر کو ان کے اپارٹمنٹ سے بے دخل کیا گیا تھا۔
اس معاملے میں کون سی کمپنی ملوث ہے؟
اس اپارٹمنٹ کی مالک کمپنی Urbagestión ہے۔
اسپین میں ہاؤسنگ بحران کی کیا وجہ ہے؟
اسپین میں ہاؤسنگ بحران کی وجوہات میں پراپرٹی کی قیمتوں میں اضافہ، رہائشیوں کی بڑھتی ہوئی مانگ اور کرایہ داروں کے حقوق کے تحفظ میں ناکامی شامل ہے۔
حکومت نے ہاؤسنگ کے حوالے سے کیا اقدامات کیے ہیں؟
حکومت نے ہاؤسنگ ریلیف کے اقدامات پر اتفاق کیا ہے جن کی تفصیلات جلد جاری کی جائیں گی اور پارلیمنٹ سے منظوری درکار ہوگی۔















